eBooks
2,841 Results Found
علامہ سید سلیمان ندوی کے چند نادر خطبات و رسائل کا مجموعہ
Authors: سید سلیمان ندوی
In Arguments
برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار اور مؤرخ مولانا سید سلیمان ندوی اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربانگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔ عالمِ اسلام کو جن علماء پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ انکی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔سید سلیمان ندوی نے مستقل تصانیف کے علاوہ مذہبی،علمی وتحقیقی اور ادبی مختلف موضوعات پر سیکڑوں مضامین تحریر کیے جو علوم ومعارف کا گنجینہ ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’ علامہ سید سلیمان ندوی کے چند نادر خطبات وورسائل کا مجموعہ ‘‘ سید سلیمان ندوی کے صاحبزادےڈاکٹر سید سلمان ندوی کی مرتب شدہ ہے اس کتا میں انہوں نے اپنے والد ماجد رحمہ اللہ کے چند منتخب مقالات،خطبات ومضامین ( اشتراکیت اور اسلام ،رسول وحدت،ایمان ،خدا کا آخری پیغام ،سنت ،عرب وامریکہ، سفرگجرات ، تقریر مشرقی پاکستان )کو اس میں کتاب میں یکجا کر دیا ہے ۔یہ مضامین پہلے دار المصنفین اعظم گڑھ کے مجلہ معارف میں شائع ہوئے تھے ۔(م۔ا)
رحمت عالم ﷺ مع اضافات جدیدہ
Authors: سید سلیمان ندوی
محمد ﷺ کی ذات اقدس اور آپ کا پیغام اللہ جل جلالہ کی انسانیت بلکہ جن و انس پر رحمت عظمیٰ ہے جیسا کہ سیرتِ رسول عربی ﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب محفوظ و مامون ہے، اسی طرح آپ کی سیرت اور زندگی کے جملہ افعال و اعمال بھی محفوظ ہیں۔ اس لحاظ سے ہادیان عالم میں محمد رسول اللہ ﷺ کی سیرت اپنی جامعیت، اکملیت، تاریخیت اور محفوظیت میں منفرد اور امتیازی شان کی حامل ہے کوئی بھی سلیم الفطرت انسان جب آپ کی سیرت کے جملہ پہلوؤں پر نظر ڈالتا ہے تو آپ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی حیثیت وہی ہے جو جسم میں روح کی ہے۔ جس طرح سورج سے اس کی شعاعوں کو جدا کرنا ممکن نہیں، اسی طرح رسول اکرم ﷺ کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کیے بغیر اسلام کا تصور محال ہے۔ آپ دین اسلام کا مرکز و محور ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ رحمت عالمﷺ ‘‘علامہ سید سلیمان ندوی کی ہے جس میں محمد عاصم شکیل نے جدید اضافے کر کے شان رسالت میں گل ہائے عقیدت نچھاور کیے ہیں۔ قرآن مجید و احادیث نبویہ اور دیگر کتب کے حوالے بھی دیے گئے ہیں۔ اس مختصر کتاب میں اسلام اور پیغمبر اسلام کےجامع پیغام کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، مزید اس کتاب میں تین موضوعات : سنت کی اہمیت، مقام مصطفیٰ اور حسن معاشرت کو ایک منفرد ترتیب میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔ان موضوعات کا مطالعہ ہر ایک قاری کے لیے بے حد اہمیت کا حامل ہے، تا کہ نبی ﷺ کا رول ماڈل ان کی نظروں کے سامنے رہے۔ اللہ تعالیٰ اس مبارک قلمی کاوش کو علامہ سیدسلیمان ندوی اور محمد عاصم کے لیے خیر و فلاح کا باعث بنائے۔ آمین۔( رفیق الرحمن)
عرب و ہند کے تعلقات
Authors: سید سلیمان ندوی
بعثتِ نبوی ﷺ سے بھی پہلے ہندوستان کے مختلف قبائل کے لوگوں کا وجود بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ میں ملتا ہے۔ چناں چہ ۱۰ ہجری میں نجران سے بنوحارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: ”یہ کون لوگ ہیں جو ہندوستانی معلوم ہوتے ہیں“ (تاریخ طبری ۳/۱۵۶، بحوالہ برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش از محمد اسحق بھٹی) مزید اسحق بھٹی اپنی مذکورہ کتاب میں فرماتے ہیں: ”کتب تاریخ و جغرافیہ سے واضح ہوتا ہے کہ جاٹ برصغیر سے ایران گئے اور وہاں کے مختلف بلاد و قصبات میں آ باد ہوئے اور پھر ایران سے عرب پہنچے اور عرب کے کئی علاقوں میں سکونت اختیار کرلی“نیز تاریخ میں ان قبائل کا۔ بزمانہٴ خلافت شیخین (حضرت ابوبکر وعمر ؓ) حضرت ابوموسیٰ اشعری کے ہاتھ پر مسلمان ہونے کا ثبوت بھی ملتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ قبائل عرب کے ساتھ گھل مل گئے ان قبائل میں سے بعضوں کے بہت سے رشتہ دار تھانہ، بھڑوچ اور اس نواح کے مختلف مقامات میں (جوبحرہند کے ساحل پر تھے) آباد تھے۔بالآخر عرب و ہند کے درمیان شدہ شدہ مراسم بڑھتے گئے یہاں تک کہ برصغیر (متحدہ ہند) اور عرب کا باہم شادی و بیاہ کا سلسلہ بھی چل پڑا، اس ہم آہنگی کی سب سے اہم کڑی عرب و ہند کے تجارتی تعلقات تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عرب وہند کے تعلقات‘‘ علامہ سید سلیمان ندوی 1929ء میں ہندوستانی اکیڈمی الہ آباد میں دئیے گئے خطبات کا مجموعہ ہے جوکہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ باب اول میں تعلقات کا آغاز اور عرب سیاح۔ باب د وم میں تجارتی تعلقات۔ باب سوم میں علمی تعلقات، باب چہارم میں مذہبی تعلقات۔ باب پنجم میں ہندوستان مسلمانوں کی فتوحات سے پہلے کا تذکرہ کیا ہے۔ (م۔ا)
تاریخ ارض القرآن کامل
Authors: سید سلیمان ندوی
ارض قرآن سے مراد وہ سرزمیں مبارکہ ہے جس میں سید الانبیاء امام الانبیاء سیدنا محمد ﷺ پیدا ہوئے اور جس سرزمین پر اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب قرآن مجید نازل ہوا۔اور قرآن مجید نے جسے وادی غیر ذی زرع کا خطاب دیا ہے لیکن جس کی روحانی سیر حاصلی کی فروانی کا یہ عالم ہےکہ آج دنیا میں جہاں بھی روحانی کھیتی کاکوئی سرسبز قطعہ موجود ہے تو وہ اسی کشتِ زاد الٰہی کے آخری کسان کی تخم ریزی وآب سیری کا نتیجہ ہے۔ زیر نظر کتاب ’’تاریخ ارض القرآن ‘‘ برصغیر کے مشہور ومعروف مؤرخ وادیب ، سیر ت نگار مولانا سید سلیمان ندوی کی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب دو جلدوں میں یکجا شائع ہوئی ہے ۔جلداول قرآن مجید کی تاریخی آیات کی تفسیر، سرزمیں قرآن (عرب) کاجغرافیہ، اور قرآن میں جن عرب اقوام وقبائل کا ذکر ہے ان کی تاریخی اور اثری تحقیق اور جلد دوم بنو ابراہم کی تاریخ اور عربوں کی قبل اسلام تجارت زبان اورمذہب پر حسب بیان قرآن مجید وتطبیق آثار وتوراۃ وتاریخ یونان وروم کی تحقیقات ومباحث پر مشتمل ہے ۔(م۔ا)
اہل السنۃ و الجماعۃ ( سید سلیمان ندوی )
Authors: سید سلیمان ندوی
مسلمانوں میں ہر دور میں سینکڑوں فرقے پیدا ہوئے، لیکن وہ نقش بر آب تھے۔ابھرے اور مٹ گئے، لیکن جو فرقہ عموم اور کثرت کے ساتھ باقی ہے اور آج مسلمان آبادی کا کثیر حصہ بن کر اکناف عالم میں پھیلا ہوا ہے وہ فرقہ "اہل سنت والجماعت"ہے۔عام طور پر ہندوستا ن میں اہل سنت کے معنی یہ سمجھے جاتے ہیں کہ جو شیعہ نہ ہو، لیکن یہ کافی نہیں ہے، یہ اس کا اثباتی پہلو نہیں ہے، یہ تو اس کا منفی پہلو ہے، ضرورت ہے کہ اس کی حقیقت کو پوری طرح سمجھا جائے۔اس لئے ہم کو اہل السنہ والجماعہ کے ایک ایک لفظ کے معنی پر غور کرنا ہو گا۔ زیر تبصرہ کتاب اہل السنۃ والجماعۃ ""محترم مولانا سید سلیمان ندوی صاحب کی تصنیف ہے، جو پہلے معارف رسالے میں مضمون کی شکل میں قسط وار شائع ہوتی رہی، پھر احباب کے اصرار پر اسے کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا۔کتاب کے بعض جملوں سے عدم اتفاق کے باوجود ایک علمی وتحقیقی تحریر ہونے کے باعث قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
ہندوؤں کی علمی و تعلیمی ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں
Authors: سید سلیمان ندوی
In Knowledge
سائنس کو مذہب کا حریف سمجھا جاتا ہے،لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔دونوں کا دائرہ کار بالکل مختلف ہے ،مذہب کا مقصد شرف انسانیت کا اثبات اور تحفظ ہے۔وہ انسان کامل کا نمونہ پیش کرتا ہے،سائنس کے دائرہ کار میں یہ باتیں نہیں ہیں،نہ ہی کوئی بڑے سے بڑا سائنس دان انسان کامل کہلانے کا مستحق ہے۔اسی لئے مذہب اور سائنس کا تصادم محض خیالی ہے۔مذہب کی بنیاد عقل وخرد،منطق وفلسفہ اور شہود پر نہیں ہوتی بلکہ ایمان بالغیب پر زیادہ ہوتی ہے۔اسلام نے علم کو کسی خاص گوشے میں محدود نہیں رکھا بلکہ تمام علوم کو سمیٹ کر یک قالب کر دیا ہےاور قرآن مجید میں قیامت تک منصہ شہود پر آنے والے تمام علوم کی بنیاد ڈالی ہے۔چنانچہ مسلمانوں نے تفکر فی الکائنات اور حکمت تکوین میں تامل وتدبر سے کام لیا اور متعددسائنسی اکتشافات سامنے لائے ۔تاریخ میں ایسے بے شمار مسلمان سائنسدانوں کے نام ملتے ہیں،جنہوں نے بے شمار نئی نئی چیزیں ایجاد کیں اور دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کا نام روشن کیا۔مسلم حکمرانوں نے جہاں ساری دنیا کو اپنی ایجادات سے فائدہ پہنچایا وہیں ہندوستان کے مسلم حکمرانوں کے ہندوؤں کی تعلیمی ترقی میں بھی بھر پور حصہ لیا۔ زیر تبصرہ کتاب" ہندوؤں کی علمی وتعلیمی ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں" علامہ سید سلیمان ندوی صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے ہندوؤں کی علمی وتعلیمی ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششوں کا تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)
یاد رفتگاں
Authors: سید سلیمان ندوی
In Arguments
تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’یادرفتگان‘‘ برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار اور مؤرخ مولانا سید سلیمان ندوی کی ان تحریروں اور مضامین کا مجموعہ ہے جو انہوں نےاپنی زندگی میں 1914 ءسے 1953 تک مختلف شخصیات کی وفات پر ان تذکرہ وسوانح کے متعلق تحریر کیے ۔اس کتاب میں 135 شخصیات کی سیرت وسوانح کو جمع کیا گیا ہے یہ مضامین اولاً مختلف رسائل میں شائع ہوئے بعد ازاں کو مرتب کر کے کتابی صورت میں شائع کیاگیا ہے ۔(م۔ا)
حیات شبلی
Authors: سید سلیمان ندوی
In Biography
علامہ شبلی نعمانی اردو کے مایہ ناز علمی و ادبی شخصیات میں سے ہیں۔ خصوصاً اردو سوانح نگاروں کی صف میں ان کی شخصیت سب سے قدآور ہے۔ مولانا شبلی نے مستقل تصنیفات کے علاوہ مختلف عنوانات پر سیکڑوں علمی و تاریخی و ادبی و سیاسی مضامین لکھے جو اخبارات و رسائل کے صفحات میں منتشر ہیں ۔شبلی نعمانی 1857ء اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے ۔۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد شیخ حبیب اللہ سے حاصل کی۔ اس کے بعد مولانا محمد فاروق چڑیا کوٹی سے ریاضی، فلسفہ اور عربی کا مطالعہ کیا۔ اس طرح انیس برس میں علم متدادلہ میں مہارت پیدا کر لی۔ 25 سال کی عمر میں شاعری، ملازمت، مولویت کے ساتھ ہر طرف کوشش جاری رہی،1876ء میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ وکالت کا امتحان بھی پاس کیا مگر اس پیشہ سے دلچسپی نہ تھی۔ علی گڑھ گئے تو سرسید احمد خان سے ملاقات ہوئی، چنانچہ وہاں فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہیں سے شبلی نے علمی و تحقیقی زندگی کا آغاز کیا۔ پروفیسر آرنلڈ سے فرانسیسی سیکھی۔ 1882 میں شبلی نے ’’علی گڑھ کالج‘‘ سے تعلق جوڑ لیا۔ یہاں وہ عربی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ یہاں سر سید سے ملے ان کا کتب خانہ ملا، یہاں تصانیف کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے اردو ادب کے دامن کو تاریخ، سیرت نگاری، فلسفہ ادب تنقید اور شاعری سے مالا مال کردیا، سیرت نگاری، مورخ، محقق کی حیثیت سے کامیابی کے سکے جمائے 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ چلے گئے۔ 1913ء میں دارالمصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ حیات شبلی‘‘ علامہ شبلی نعمانی کے نامور شاگرد اور کی رفاقت میں 8برس گزارنے والے مولانا سید سلیمان ندوی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شمس العلماء علامہ شبلی نعمانی کے سوانح حیات اور ان کےعلمی وعملی کارنوں کو بڑی تفصیل سے پیش کیا ہے ۔مولانا شبلی کی حیات وخدمات پر یہ ایک مستند کتاب ہے ۔(م۔ا)
مختصر سیرت النبی ﷺ
Authors: سید سلیمان ندوی
اردو کی سب سے زیادہ مایہ ناز کتاب سیرت النبیﷺ جو علامہ شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی کی مشترکہ کاوش ہے۔سات ضخیم جلدوں پر مشتمل یہ کتاب نہ صرف اردو زبان بلکہ دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں لکھی جانے والی بہترین کتب سیرت میں شمار کی جاتی ہے۔اس کی تالیف اولاً علامہ شبلی نعمانی نے شروع کی، انہوں نے پہلی دو جلدیں لکھیں تھیں کہ 1914ء ان کا انتقال ہو گیا ۔ وفات سے قبل انہوں نے اپنے شاگرد رشید سید سلیمان ندوی کووصیت کی تھی کہ وہ اس کام کی تکمیل کریں۔چنانچہ باقی پانچ جلدیں سوم تاہفتم سید سلیمان ندوی نےمکمل کی تھیں۔سیرت النبی ﷺ کی پہلی جلد شبلی نعمانی کی وفات کے چار سال بعد 1918ء میں شائع ہوئی اور آخری جلد سید سلیمان ندوی وفات کےبعدہوئی۔پاک وہند میں اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور مسلسل شائع ہورہے ہیں۔انگریزی سمیت کئی غیر ملکی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہوچکے ہیں۔اس کتاب میں واقعات کی تفتیش وتلاش اور مسائل ونظریات کی بحث وتحقیق پر بڑی محنت وکاوش اور دیدہ ریزی کی گئی ہے ۔یہ کتاب سات بڑی جلدوں میں ہے اورایک عام آدمی کے لیے اس کامطالعہ اس تیز رفتا ر اورمصروفیت کے دور میں بہت مشکل ہے۔ لہذا جناب محمد رفیق چودہری صاحب اس ضرورت کے پیش نظر زیرنظر کتاب ’’مختصر سیرت النبی ﷺ‘‘ میں سیرت النبی کی ساتوں جلدوں کا خلاصہ ایک جلد میں پیش کیا ہے۔تاکہ زیادہ ضروری مواد اورمعلومات کوایک عام قاری کم وقت میں حاصل کرسکے ۔اس اختصار میں تمام عبارت اور پورا متن اصل مصنفین یعنی شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی کا ہے ۔رفیق چودہری صاحب نے زیادہ اہم مضامین کا انتخاب کر کے ان کو مناسب تصنیفی ترتیب دی ہےتاکہ قاری کو کتاب میں کہیں خلا محسوس نہ ہو اورکم سے کم وقت میں سیرت النبیﷺ کے اہم مضامین پر اس کی نظر رہے ۔رفیق چودہری صاحب نے اختصار کے ساتھ ساتھ اس کام میں دومعمولی اور مناسب تبدیلیاں کی ہیں۔قرآنی آیات کےحوالے جو پہلے رکوع کی شکل میں تھے اب سورۃ اور آیات کے نمبر کی صورت میں دے دئیے ہیں اور تمام اردو ہندسوں کوانگریزی ہندسوں میں بدل دیا ہے۔(م۔ا)