eBooks
2,841 Results Found
مقام رسالت
Authors: محمد ادریس فاروقی
فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول ﷺ حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔آج بھی بعض لوگ سرسری طور پر حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں اور جب انہیں کسی حدیث کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو وہ جھٹ سے اسے قرآن مجید کے کی خلاف یا دو صحیح احادیث کو متصادم قرار دے کر باطل ہونے کا فتوی دے دیتے ہیں،جو جہالت اور انکار حدیث کی سازش کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " مقالم رسالت " جماعت اہل کے معروف عالم دین مسلم پبلی کیشنز کے مالک محترم نعمان فاروقی صاحب کے والد گرامی محترم مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے مقام رسالت ،مقام حدیث،تدوین حدیث،کتب حدیث،استخفاف حدیث اور فتنہ انکار حدیث پر ایک مختصر ،مدلل اور عام فہم علمی وتحقیقی گفتگو کی ہے۔اللہ تعالی ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
مسئلہ تقلید
Authors: محمد ادریس فاروقی
کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں ۔زمانہ قدیم سے اہل رائے اور اہل الحدیث باہمی رسہ کشی کی بنیاد ’’ تقلید‘‘ رہی ہے موجودہ دور میں بھی عوام وخواص کے درمیان مسئلہ تقلید ہی موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ حالانکہ گزشتہ چندد ہائیوں میں تقلیدی رجحانات کے علاوہ جذبۂ اطاعت کو بھی قدرے فروغ حاصل ہوا ہے ۔امت کا درد رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں۔لیکن تقلیدی افکار ونظریات پر تعب وعناد کی چڑھتی ہوئی دبیز چادر کے سامنے جتنی بھی ہوں وہ کم ہی ہیں۔ تقلید جامد کے رسیا اور قرآن وحدیث کے علمبردار علماء ومصلحین اس موضوع پر سیر حاصل بحث کر کے خو ب خوب داد تحقیق دے چکے ہیں۔خیر القرون کے سیدھے سادھے دور کے مدتوں بعد ایجاد ہونے والے مذاہب اربعہ کے جامد مقلد فقہاء نے اپنے اپنے مذہب کی ترجیح میں کیا کیا گل نہیں کھلائے ۔حتی کہ اپنے مذہب کے جنون میں اپنے مخالف امام تک کو نیچا دکھانے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا جیسا کہ اہل علم اس سے بخوبی واقف ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ مسئلہ تقلید ‘‘محترم مولانا محمد ادریس فاروقی صاحب کی تصنیف ہےجس میں مولف موصوف نے لوگوں کو تقلید شخصی کے بدترین نتائج سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دلائی ہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کتاب وسنت پر زندہ رہنے اوراللہ ا ور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)
ضیائے حدیث (ختم نبوت نمبر)
Authors: محمد ادریس فاروقی
تمام مسلمانوں کا یہ متفق علیہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ تعالی کے سب سے آخری نبی رسول ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو اس جہاں میں بھیج کر بعثت انبیاء کا سلسلہ ختم فرما دیا ہے۔ اب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں ہوگا۔نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کا ذکر قرآن حکیم کی متعدد آیات میں نہایت ہی جامع انداز میں صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔( مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ) محمدﷺ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیاء کے آخر میں (سلسلۂِ نبوت ختم کرنے والے) ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبین کہہ کر یہ اعلان فرما دیا ہےکہ آپﷺہی آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کسی کو نہ منصب نبوت پر فائز کیا جائے گا اور نہ ہی منصب رسالت پر۔ خود نبی کریم ﷺنے اپنی متعدد اور متواتر احادیث میں خاتم النبیین کا یہی معنی متعین فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی زبانِ حق ترجمان سے اپنی ختمِ نبوت کا واضح الفاظ میں اعلان فرمایا۔(اِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدْ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِيْ وَلَا نَبِيَ) اب نبوت اور رسالت کا انقطاع عمل میں آ چکا ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول آئے گا اور نہ کوئی نبی۔اس حدیث پاک سے ثابت ہوگیا کہ آپ ﷺکے بعد جو کوئی بھی نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ جھوٹا ملعون اور ابلیس کے ناپاک عزائم کا ترجمان ہو گا۔ آپ ﷺ نے نبوت کے ان جھوٹے دعویداروں کی نہ صرف نشاندہی کر دی بلکہ ان کی تعداد بھی بیان فرما دی تھی۔سیدنا ثوبان سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:(أنّه سَيَکُوْنُ فِيْ أُمَّتِيْ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ، کُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنّه نَبِیٌّ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ. )میری امت میں تیس (30) اشخاص کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کذاب کو گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اب اگر کوئی شخص نبی کریمﷺ کے بعد نبوت یا رسالت کا دعویٰ کرے (خواہ کسی معنی میں ہو) وہ کافر، کاذب، مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ نیز جو شخص اس کے کفر و ارتداد میں شک کرے یا اسے مومن، مجتہد یا مجدد وغیرہ مانے وہ بھی کافر و مرتد اور جہنمی ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ" ماہنامہ ضیائے حدیث لاہور (ختم نبوت نم ماہنامہ ضیائے حدیث لاہور (ختم نبوت نمبر)"بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں اس اہم موضوع (ختم نبوت) پر مختلف اہل علم کے مضامین جمع کر دئیے گئے ہیں۔یہ رسالہ اپنے اس موضوع پر ایک انتہائی مفید اور شاندار کاوش ہے۔اللہ تعالی تما م مضمون نگاران اور مدیران کی ان محنتوں کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)
سیرت حسین ؓمع سانحہ کربلا
Authors: محمد ادریس فاروقی
صحابہ کرام ؓ اجمعین کے دور میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کے متعلق کچھ لکھنا تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف ہے۔ذرا سا توازن بگڑنے سے انسان کسی گہری کھائی میں گر سکتا ہے۔یہ موضوع جتنا حساس ہے اس میں اتنی ہی بے احتیاطی برتی گئی ہے۔ایک طرف تو لوگ اس حد تک چلے گئے ہیں کہ سیدہ عائشہ ،سیدنا طلحہ،سیدنا زبیر،سیدنا معاویہ،سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ پر تنقید کے نشتر چلاتے ہیں تو دوسری طرف اس حد تک جا پہنچے ہیں کہ سیدنا حسین کو باغی قرار دے دیا ہے۔ان کی دیدہ دلیری دیکھئے کہ وہ یہ کہتے ہوئے بھی نہیں چوکتے کہ سیدنا حسین کا مقصد محض دنیاوی اقتدار کا حصول تھا۔حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جنگ جمل ،جنگ صفین اور واقعہ کربلا ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں اور یہ اسی فتنے کا تسلسل ہے جو سیدنا عمر کی شہادت سے شروع ہوا اور سیدنا عثمان کے عہد خلافت میں پروان چڑھا۔زیر تبصرہ کتاب " سیرت حسین مع سانحہ کربلا "مسلم پبلیکیشنز کے مدیر محترم نعمان فاروقی کے والد گرامی ماہنامہ ضیائے حدیث کے بانی وسابق چیف ایڈیٹر مولانا حکیم محمد ادریس فاروقیکی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے افراط وتفریط سے بچتے ہوئے نہایت اعتدال اور توازن کے ساتھ سیدنا حسین کی سیرت اور واقعہ کربلا کو بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔(آمین) موصوف کے فرزند ارجمند محترم مولانا محمدنعمان فاروقی( فاضل مرکز الدعوہ السلفیہ، ستیانہ بنگلہ) ایک جید عالم دین اور اچھے مضمون نگار ہیں طویل عرصہ سے دارالسلام ،لاہور میں سینئر ریسرچ سکالر کے فرائض انجام دینے کے علاوہ اپنے والدگرامی کے جاری کردہ ماہنامہ ضیائےکے بطور ایڈیٹر اور مسلم پبلی کیشنز کے بطور مدیر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔کتاب ہذا انہوں نے بطور ہدیہ لائبریری کے لیے عنائیت کی ہےیہ کتاب اپنے موضوع پرمنفرد اہمیت کی حامل ہے حالیہ ایام میں ہر ایک کےلیے اس کا مطالعہ کرنا از حد ضروری ہے ۔لہذا افادہ عام کےلیےاسے فوری پبلش کیا گیا ہے۔ ( راسخ)
تاریخ الخلفاء
Authors: جلال الدین سیوطی
In History
قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی اصلاح نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے اسلاف کی تاریخ اور ان کی خدمات کو محفوظ نہ رکھے۔اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔اس کا سب سے برا سبب مسلمانوں کا دین سے دور ہونا اور غیروں کے قریب ہونا ہے۔کافر ہمیں اس لئے مارتے ہیں کہ یہ مسلمان ہیں اور ہم اس لئے مار کھا رہے ہیں کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہیں۔تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں،اور خود بھی اسی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ الخلفاء "علامہ جلال الدین سیوطی کی تصنیف ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا محمد عبد الاحد قادری صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے سیدنا ابو بکر صدیق سے لیکر دولت طبرستان تک کی ایک تاریخ بیان کر دی ہے۔ مولف نے اسلامی تاریخ کو جمع فرما کر مسلمانوں کو اپنے اسلاف سے جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین جلد۔1
Authors: جلال الدین سیوطی
قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی ﷺ کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں کوئی باقاعدہ تفسیر نہیں لکھی گئی، لہٰذا ان کے کام کا بڑا حصہ ہمارے سامنے نہیں آ سکا اور جو کچھ موجود ہے، وہ بھی آثار او رتفسیری اقوال کی صورت میں، حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں بکھرا ہوا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تفسیر کمالین شرح اردو تفسیر جلالین" دسویں صدی ہجری کے امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکر السیوطی اور امام جلال الدین محلی دونوں کی مشترکہ تصنیف ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا محمد نعیم استاذ تفسیر دار العلوم دیو بند نے کیا ہے۔ یہ کتاب سات ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور دار الاشاعت کراچی کی مطبوعہ ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔آمین(راسخ)
تفسیر در منثور جلد اول
Authors: جلال الدین سیوطی
قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی ﷺ کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں کوئی باقاعدہ تفسیر نہیں لکھی گئی، لہٰذا ان کے کام کا بڑا حصہ ہمارے سامنے نہیں آ سکا اور جو کچھ موجود ہے، وہ بھی آثار او رتفسیری اقوال کی صورت میں، حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں بکھرا ہوا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"تفسیر در منثور" دسویں صدی ہجری کے امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابو بکر السیوطی کی تصنیف ہے، جس میں متن قرآن کا اردو ترجمہ محترم پیر محمد کرم شاہ ازہرینے، جبکہ تفسیر کا ترجمہ محترم سید محمد اقبال شاہ صاحب، محترم محمد بوستان صاحب اور محترم محمد انور مگھالوی صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب چھ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور ضیاء القرآن پبلی کیشنز کی مطبوعہ ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور تمام مترجمین کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔۔ آمین(راسخ)
الاتقان فی علوم القرآن جلد۔1
Authors: جلال الدین سیوطی
In Knowledge
جلال الدین سیوطی (849۔911ھ) کا اصل نام عبدالرحمان، کنیت ابو الفضل، لقب جلال الدین ہے ۔ علامہ سیوطی مصر کےقدیم قصبے سیوط میں پیدا ہوئے، اسی نسبت سے آپ کو سیوطی کہا جاتا ہے ۔8سال کی عمر میں شیخ کمال الدین ابن الہمام حنفی کی خدمت میں رہ کر قرآن حفظ کیا۔اس کے بعد شیخ شمس سیرامی اور شمس فرومانی حنفی کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا اور ان دونوں حضرات سے بہت سے کتب پڑحیں۔علامہ سیوطی ممتاز مفسر،محدث،فقیہ اور مورخ تھے۔آپ کثیر التصانیف تھے، آپ کی کتب کی تعداد 500 سےزائد ہے۔تفسیر جلالین اور تفسیر درمنثور کے علاوہ قرآنیات پر الاتقان فی علوم القرآن علماء میں کافی مقبول ہے اس کے علاوہ تاریخ اسلام پر تاریخ الخلفاء مشہور ہے۔قرون وسطیٰ کے مسلمان علماء میں علامہ جلال الدین سیوطی اپنی علمی خدمات کی وجہ سے بہت مشہور و مقبول ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘علامہ جلالالدین سیوطی کی علوم قرآن کے حوالے سے عظیم کتاب ہے ۔اس کتاب کو علوم قرآن پر مشتمل ایک دستاویز کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس میں امام صاحب نے علوم قرآن کی اسی(۸۰)اَقسام کا تفصیلی تذکرہ قلمبند کیاہے جن میں سے ۲۰؍ اَقسام علم قراء ات کا اِحاطہ کیے ہوئے ہیں۔علامہ موصوف نے یہ کتاب التحبیر کے بعد لکھی اور اس میں التحبیر کے جملہ مضامین کے علاوہ علامہ زرکشی کی ’’البرہان فی علوم القرآن‘‘ اور علامہ بلقینی کی’’ مواقع العلوم ‘‘کے منتخب مضامین کوبھی حسن ترتیب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اور یہ کتاب فہم قرآن کےلیے۔ اہم اور بنیادی کتاب ہے۔ ’’الاتقان ‘‘کا زیر تبصرہ اردو ترجمہ دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ ۔(م۔ا)
تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم ( اردو ) جلد اول
Authors: امام مسلم بن الحجاج
اللہ رب العزت کے ہم پر اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد کریمﷺ ہیں۔ نبیﷺ کے بعد شریعت محمدی کا عَلَم امت کے علماء کے ہاتھ میں ہے لہٰذا اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں کچھ خاص لوگوں کو چُنا جو شریعت محمدیﷺ کو لوگوں تک پہنچاتے رہے اور مسلمانوں تک احادیث رسولﷺ کا گراں قدر سرمایہ پہنچانے کےلیے ائمہ حدیث نے بڑی محنتیں کیں اور بہت مشقت اُٹھا کر لمبے لمبے اسفار کیے ہیں اور کئی کتب حدیث کے کئی مجموعے مرتب کیے جن میں سے ایک کتاب ’’صحیح مسلم‘‘ کے نام سے معروف ہے جس کی کئی شروح لکھی گئی ہیں۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی صحیح مسلم کی شرح پر مشتمل ہے جس میں سب سے پہلے امام مسلم کے مقدمہ کی تشریح وتوضیح کی گئی ہے‘ پھر اپنی کتاب کی احادیث کو انتہائی عمدہ اور مضامین کی ترتیب کے لحاظ سے لکھا ہے اور پھر سند کا ترجمہ کیا گیا ہے ‘ اگر کہیں اس میں کوئی اشکال ہو تو فوائد میں اس کو حل کیا ہے‘ متن کا مکمل ترجمہ کیا ہے اور لفظی ترجمہ کو نظر انداز نہیں کیا گیا‘ فوائد کے عنوان کے تحت حدیث کی مکمل تشریح کی ہے اور تشریح وتوضیح میں بہت طوالت سے گریز کر کے فہم وتفہیم میں اگر کوئی اشکال ہو تو اس کو بھی حل کیا ہے‘ احادیث میں بیان کردہ احکام ومسائل کی ضروری توضیح وتفصیل بیان کر دی ہے‘ احکام ومسائل میں شہسوار ائمہ کی آراء کو بھی بیان کر کے راحج مؤقف کی نشاندہی بھی کی گئی ہے‘ جن شارحین نے صحیح احادیث سے غلط مسائل کے استنباط کی کوشش کی ہے ان کا مناسب انداز میں جواب دیتے ہوئے ان کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ یہ کتاب ’’ تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم ‘‘ مولانا عبد العزیز علوی﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )