eBooks
2,841 Results Found
دعوت دین کون دے؟
Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی
دعوت دین ایک اہم دین فریضہ ہے ،جو اہل اسلام کی اصلاح ، استحکام دین اور دوام شریعت کا مؤثر ذریعہ ہے۔لہذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسے شریعت کا جتنا علم ہو ،شرعی احکام سے جتنی واقفیت ہو اوردین کے جس قدر احکام سے آگاہی ہو وہ دوسر وں تک پہنچائے۔علماو فضلا اور واعظین و مبلغین پر مزید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ فریضہ دعوت کو دینی وشرعی ذمہ داری سمجھیں اور دعوت دین کے کام کو مزید عمدہ طریقے سے سرانجام دیں۔دین کا پیغام حق ہر فرد تک پنہچانے کے لیے ضروری ہے کہ دعوت کے کام کو متحرک کیا جائے،دعوتی تحریک اور تبلیغی جذبہ پیدا کرنے کےلیے ڈاکٹر فضل الٰہی صاحب کی یہ ایک اچھی کاوش ہے ،جو دعوت دین کا ذوق ،شوق اور دعوتی بیداری پیدا کرنے میں ممد و معاون ہے۔(ف۔ر)
والدین کا احتساب
Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی
عمومی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ والدین کو اپنی اولاد کا احتساب کرنا چاہیے اور ان کی تربیت کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے لیکن یہ سوال بھی ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان اپنے والدین کو کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی کا مرتکب دیکھے تو وہ کیا کرے؟کیا وہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دے کہ وہ شرعی فریضہ ترک کریں اور ناجائز کام میں لگے رہیں یا اپنے ذمے شرعی واجب کوادا کرنے کا حکم دے ارو برائی سے منع کرے ۔یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ والدین کے ادب واحترام اور ان سے حسن سلوک پر انتہائی زور دیا گیا ہے لہذا کسی صورت میں بھی ان کی بے ادبی کی اجازت نہیں۔مزید برآں والدین کی ناراضگی کا بھی اندیشہ ہوتا ہے۔زیر نظر کتاب میں عالم اسلام کے عظیم اسکالر ڈاکٹر فضل الہیٰ حفظہ اللہ نے قرآن وحدیث یک روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت کی ہے جس کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے۔(ط۔ا)
جھوٹ کی سنگینی اور اس کی اقسام
Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی
گناہوں کی دو قسمیں ہیں :صغیرہ اور کبیرہ ،پھر کبیرہ گناہوں میں بعض انتہائی سنگین ہیں ،جن کی بنا پر لوگ شدید اذیت اور مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں ۔ایسے ہی گناہوں میں سے ایک بد ترین گناہ جھوٹ ہے ۔لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جھوت عام ہو چکا ہے ۔بہت سے لوگ دوسرے لوگوں کے جھوٹ پر رنجیدہ ہونے والے اپنے لیے دروغ گوئی کو عقل و دانش کی علامت سمجھتے ہیں ۔کذب بیانی سے بزعم خود دوسروں کو بے وقوف بنانے کا تذکرہ اپنے لیے باعث افتخار گردانتے ہیں ۔عالم اسلام کے عظیم اسکالر ڈاکٹر فضل الہیٰ نے زیر نظر کتاب میں جھوٹ کی ہلاکت خیزی کو واضح کیا ہے اور جھوٹ کی سنگینی ،جھوٹ چھوڑنے کا عظیم الشان صلہ ،جھوٹ کی اقسام اور جھوٹ بولنے کی اجازت کے مواقع جیسے اہم مسائل کو قرآن و حدیث اور علمائے سلف کے اقوال کی روشنی میں اجاگر کیا ہے ۔ہر مسلمان کو یہ کتاب لازماً پڑھنی چاہیے تاکہ معاشرے کو جھوٹ جیسے قبیح جرم سے پاک کیا جا سکے ۔
رزق کی کنجیاں قرآن وسنت کی روشنی میں
Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی
دین اسلام میں حلال ذرائع سے کمائی جانے والی دولت کو معیوب قرار نہیں دیا گیا چاہے اس کی مقدار کتنی ہی ہو۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہےکہ دولت انسان کوبارگاہ ایزد سے دورنہ کرے۔ فی زمانہ جہاں امت مسلمہ کو دیگر لا تعداد مسائل کا سامنا ہے وہیں امت کےسواد اعظم کو فکر معاش بری طرح لاحق ہے۔ پیش نظر کتاب ’رزق کی کنجیاں‘ میں معاشی مسائل کا آزمودہ اور کار آمد حل نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر فضل الہٰی ایک علمی و معتدل تعارف رکھنے کے ساتھ ساتھ دین کی صحیح تعبیر کا بھی علم رکھتے ہیں۔ محترم ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں قرآن و حدیث کی واضح براہین کی روشنی میں رزق کے حصول کے اسباب کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔
قرض کے فضائل ومسائل
Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی
In Biography
بسااوقات انسان اپنےوسائل سےاپنی ضروریات یااپنےکاروباری منصوبےپورےنہیں کرسکتاایسے حالات میں پیدا ہونے والے سوالات میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔کیا وہ قرض لے سکتاہے؟،قرض کی ادائیگی کس حد تک ضروری ہے؟،ادائیگی میں کیساطرزعمل اختیار کرناچاہیے؟،قرض واپس کروانےکےلیے شریعت اسلامیہ میں کون سے اخلاقی اقدامات ہیں ؟قرض لیتے وقت کوئی شرط لگائی جاسکتی ہے؟ اس کتاب میں ان سوالات کےعلاوہ اور بھی بہت سارے سولات کےجوابات سمجھنےسمجھانےکی کوشش کی گئی ہے ۔
بچوں کا احتساب
Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی
اولاد انسان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تحفہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک امانت بھی ہے جس کی کماحقہ حفاظت انسان پر فرض ہے۔اولاد کی تربیت میں اسلامی ماحول کی فراہمی انتہائی ضروری ہے اور اس میں کوتاہی انسان کی پوری زندگی کے لیے وبال بن جاتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹر فضل الہٰی صاحب نے اس موضوع کو کما حقہ ادا کرتے ہوئے بچوں کے احتساب کے نام سے تربیت اولاد کے حوالے سے قیمتی مواد فراہم کیا ہے جس کی روشنی میں کوئی بھی شخص اپنی اولاد کی صحیح نہج پر تربیت کر سکتا ہے۔مصنف نے اپنی کتاب میں جن بنیادی باتوں کو موضوع بنایا ہے وہ درج ذیل ہیں:1۔کیا بچوں کو نیکی کا حکم دینا شرعا ثابت ہے؟کیا نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ بچوں کو نیکی کا حکم دیا کرتے تھے؟2۔کیا بچوں کو برے کاموں سے روکنا ثابت ہے؟کیا ہمارے نبی محترمﷺاور حضرات صحابہ ؓ بچوں کو غلط کاموں سے روکنے کا اہتمام کیا کرتے تھے؟3۔بچوں کا احتساب کرتے ہوئے کون سے درجات،اسالیب اور وسائل استعمال کیے جائیں؟4۔بچوں کا احتساب کون کرے؟ کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بات کی وضاحت کے لیے قرآن وسنت کو بنیاد بنایا گیا ہے،احادیث کو اصلی مراجع ومصادر سے نقل کیا گیا ہے،صحیحین کے علاوہ دیگر کتب حدیث سے بھی استفادہ کرتے ہوئے علمائے امت کے اقوال کے ساتھ بات کو مزین کیا گیا ہے،اسی طرح بچوں کے احتساب سے متعلقہ قرون اولیٰ میں نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے ادوار میں بچوں کے احتساب کے واقعات او راحتساب کے مختلف طریقوں کو بیان کر کے بچوں کے احتساب کے لیے شرعی راہنمائی بھی فراہم کی گئی ہے۔
نیکی کاحکم دینے اور برائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داریاں
Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی
اللہ تعالی نے امت مسلمہ پر امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کو فرض کیا ہے جن باتوں کےساتھ امت کی دنیا وآخرت میں رفعت ومنزلت،شان وعظمت،سعادت اور خوش بختی کو وابسطہ کیا گیا ہے ان میں سے ایک اہم بات امت کےتمام افراد کااس فریضے کو اپنی استعداد کے بقدر ادا کرناہے۔لیکن یہ بات عام دیکھنے میں آتی ہے کہ دین سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ جو کہ (امر بالمعروف ونہی عن المنکر ) کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھتے اور مانتے ہیں اس کو فکری اور عملی طور پر ،یاکم ازکم عملی طور پر مردوں میں محدود کردیتے ہیں کہ یہ مردوں کے کرنے کے کام ہیں خواتین کی اس سلسلے میں کوئی ذمہ داری نہیں اس بھیانک سوچ سے نمٹنے کےلیے (امر بالمعروف او رنہی عن المنکر)کے متعلق خواتین کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے ارادے سے مولائےعلیم وقدیرپر توکل اور بھروسہ کرتے ہوئے کتاب وسنت اور مسلمان عورتوں کی سیرت کی روشنی میں (نیکی کاحکم دینے او ربرائی سے روکنے میں خواتین کی ذمہ داری)کےعنوان سے اس کتاب کی تیاری کا عزم کیا گیاہے ۔
جہاد فرض عین ہے یا کفایہ ؟
Authors: پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری
پروفیسر حافظ عبداللہ بہاولپوری کا شمار مسلک اہل حدیث کے نامور خطبا اور واعظین میں ہوتا ہے۔ موصوف ایک قناعت پسند ،حق گو، سادگی پسند ، ایک صاحب ورع و تقوی شخصیت اور درد دل رکھنے والے انسان تھے ۔آپ نے اپنی زندگی کو سلف صالحین کے ساتھ تمسک اور اس کے پرچار کے لیے وقف کر دیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے خلوص کی وجہ سے ان کی کلام میں ایک بندہءمومن جیسی تاثیررکھی ہوئی تھی ۔ان کی کلام انتہائی سادہ اورسچائی پرمبنی ہوتی تھی۔اسی وجہ سے ان کی تقریروتحریر اپنےاندر ایک خاص قسم کا اثررکھتی ہوتی تھی ۔ان کے خطبات کے اند ر توحید کا اثبات اور موجودہ رسومات کی پرزورتردیدملتی ہے۔ان کی ہرممکن کوشش ہواکرتی تھی کہ اپنامدعا ومقصداپنے سامعین کو منتقل کردوں۔اور اس کے لیے وہ الفاظ کے پیچ وخم میں مبتلا نہیں ہوتے تھے ۔بلکہ مشکل اور پیچیدہ الفاظ سے حتی ٰالوسع گریز ہی کیا کرتےتھےمسلک اہل حدیث کی حقانیت ثابت کرنے کے حوالے سے ان کی بے شمار خدمات ہیں۔ مولانا نے اپنی زندگی میں مختلف رسائل و مضامین لکھے۔ انہی رسائل کو افادہ عام کے لیے یکجا کتابی شکل میں ’’ رسائل بہاولپوری ‘‘ کےنام سے شائع ش کیا گیا ہے۔ جس میں رفع الیدین، قربانی، روزہ اور تراویح کے مسائل کے علاوہ تقلید کے نتائج کے حوالے سے خصوصی مضامین شامل ہیں اس کے علاوہ انہوں نے جمہوریت کے حوالے سے اپنی نگارشات پیش کرتے ہوئے اہل حدیث حضرات کے نام بھی بہت سارے رسائل لکھ کر ان کو دعوت فکر و عمل دی ہے۔حافظ صاحب مرحوم چونکہ ایک مؤثر واعظ و خطیب اور درد دل رکھنے والے مصلح تھے۔ مکتبہ اسلامیہ، فیصل آباد نے ان کے مواعظ ،خطبات و دروس اور محاضرات کو ’’خطبات بہاولپوری‘‘ کےنام سے پانچ جلدوں میں کتابی شکل میں شائع کیا ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’جہاد فرض عین ہے یا کفایہ؟ ‘‘ بھی پروفیسر حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوری کے سرزمین افغانسان صوبہ کنٹر مرکز الدعوۃ والارشاد کے معسکر طیبہ میں علماء کی ایک جماعت سے خطاب اور سوال وجواب کی کتابی صورت ہے ۔اس میں حافظ صاحب مرحوم نے جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے متعلق اپنے دو ٹوک موقف کو پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی دعوتی، تدریسی،تحریری خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے اور انہیں اپنی جوارِ رحمت جگہ دے ۔ (آمین)
اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ (عبد اللہ بہاولپوری)
Authors: پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری
دنیا جہان میں مختلف ذہنیتوں کے اعتبار سے اختلاف کا ہونا ایک فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بہت سارے مسالک و مذاہب پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر کوئی یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ وہ صراط مستقیم پر ہے اور اس کے مخالفین راہ ہدایت سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ حضور نبی کریمﷺ کے فرمان کے مطابق ایسا گروہ حق پر ہے جس کا عمل نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے عمل کے عین مطابق ہے۔ دنیا جہان میں کچھ ایسے بھی فرقے پائے جاتے ہیں جو اللہ رب العزت کی صفات میں افراط و تفریط کا شکار ہونے کی وجہ سے راہ اعتدال سے دور ہو گئے۔ ان میں سے معتزلہ، جہمیہ، اشاعرہ، ماتریدیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں، یہ فرقے اللہ تعالیٰ کا استوا علی العرش، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ،پنڈلی، نزول آسمانِ اول اور وہ تمام صفات الٰہی جو کتاب و سنت سے ثابت ہیں ان میں تلاویلات و تحریفات اور تعطیلات کے قائل ہیں۔ جبکہ فرقہ ناجیہ طائفہ منصورہ اہل سنت و الجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ تمام صفات برحق ہیں اور ان پر ہمارا مکمل ایمان و ایقان ہے۔ ہم بغیر کسی تاویل، تعطیل، تکییف، تشبیہ کے ان پر ایمان لاتے ہیں۔ زیر نظر کتاب "اللہ تعالیٰ کہاں ہیں" حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوریؒ کا خطبہ جمعہ ہے جسے معروف محقق اعجاز احمد تنویر حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔ مولانا بہاولپوریؒ کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا ان کا انداز بیاں سادہ اور قرآن و سنت کے دلائل کے بعد ایسی عقلی توجیہات، سادہ مثالوں سے بات سمجھاتے کہ مخالف کے دل میں اتر جاتی۔ مولانا بہاولپوریؒ نے اپنے اس خطبہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ کا استوا علی العرش ہونا، معجزہ کیا ہے، تقلید اور اتباع میں فرق اور دیگر اہم موضوعات پر قرآن و سنت سے دلائل دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کہ میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)