eBooks

2,841 Results Found
تفسیر امام ابن تیمیہؒ

Authors: امام ابن تیمیہ

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ (661۔728ھ) کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے، آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی، آپ نے جس طر ح اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا۔ او رباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعد رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت، کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت کی تردید وتوضیح میں بسرکی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔تفسیر، حدیث، فقہ، علم فقہ، علم کلام، منطق، فلسلفہ، مذاہب وفرق اورعربی زبان وادب کاگوشہ ایسا نہیں ہے جس پر آب نےگراں قدر علمی سرمایہ نہ چھوڑا ہو۔ آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے۔شیخ الاسلام کو قرآن سے گہرا لگاؤ تھا۔ فتاوی کی 37 جلدوں میں سے جلد 15،16،17 قرآن مجید کی مختلف آیات وسور کی تفسیر پر مشتمل ہیں ۔تفسیرآیت کریمہ ، تفسیر سورت اخلاص، تفسیرمعوذتین الگ کتابی صورت میں شائع ہوئی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر امام ابن تیمیہ‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے تفسیری اجزاء پر مشتمل ہے ۔اس مجموعہ میں اصول تفسیر، تفسیر آیت کریمہ، تفسیر سورۃ الکوثر، تفسیر سورۂ اخلاص، تفسیر سورۃ الفلق والناس کے نام سے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کے تفسیری اجزاء شامل ہیں۔ ان سب اجزاء کاترجمہ مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی، مولاناعبدالرحیم پشاوری، اور مولانا غلام ربانی ﷭ نے کیا ہے۔ اصول تفسیر پر گراں قدر اور مفید حواشی مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی ﷫ کےقلم سے ہیں۔ شیخ الاسلام کے یہ تفسیری اجزاء اگرچہ اس پہلے الگ الگ شائع ہوئے ہیں لیکن مولانا رفیق اخمد رئیس سلفی نے ان کو ایک جگہ مرتب کر کے ان کی نظر ثانی کہ ہے۔ اور ان کی قدیم اردو کو سنوارنے کے ساتھ ساتھ آیات قرآنی کے مکمل حوالہ جات لگادئیے ہیں۔ (م۔ا)

اسلام اور غیر اسلامی تہذیب

Authors: امام ابن تیمیہ

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اس کی اپنی تہذیب اور اپنی ثقافت ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ انہیں برملا اعتراف کرنا پڑا کہ مسلمانوں نے یورپ کو تہذیب کی شائستگی کی دولت ہی سے نہیں نوازا بلکہ شخصیت کی تعمیر و کردار کے لئے بنیادیں فراہم کیں ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام اور غیر اسلامی تہذیب‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم میں سے اسلامی تہذیب وثقافت پر مشتمل حصہ کا اختصار وترجمہ ہے ۔اس میں امام ابن تیمیہ ﷫ نے اسلامی تہذیب کے اصول ومبادی اسلامی وغیراسلامی تہذیبوں کے حدود، غیر مسلم قوموں سے مشابہت اوربدعات پر کتاب وسنت کی روشنی میں حکیمانہ اور ایمان افروز انداز میں گفتگو کی ہے ۔ اقتضاء الصراط المستقیم کی اس بحث کی تلخیص وترجمہ مجلس تحقیقات ونشریات اسلام ،لکھنؤ کے رفیق جناب مولوی شمس تبریزخاں نےکیا ہے ۔(م۔ا)

تفسیر سورہ اخلاص

Authors: امام ابن تیمیہ

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

سورۂ اخلاص قرآن کریم کی مختصر اور اہم ترین سورتوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ ایک تہائی قرآنی موضوعات کا احاطہ کرتی ہے اور توحید کا محکم انداز میں اثبات کرتی ہے۔ اس کےشان نزول کے سلسلے میں مسنداحمدمیں روایت ہے کہ مشرکین نے حضورﷺ سے کہا اپنے رب کے اوصاف بیان کرو، اس پر یہ سورۃ نازل ہوئی ۔اور اس سورۃسے محبت جنت میں جانے کا باعث ہے اسی لیے بعض ائمہ کرام نماز میں کوئی سورۃ پڑھ کر اس کے ساتھ سورۃ اخلاص کو ملاکرپڑھتے ہیں صحیح بخاری میں ہے کہ حضورﷺنے ایک لشکر کو کہیں بھیجا جس وقت وہ پلٹے تو انہوں نے آپ ﷺ سے کہا کہ آپ نے ہم پر جسے سردار بنایا تھا وہ ہر نماز کی قرات کے خاتمہ پر سورۃ قل ھواللہ پڑھا کرتے تھے، آپ نے فرمایا ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے تھے؟ پوچھنے پر انہوں نے کہا یہ سورۃ اللہ کی صفت ہے مجھے اس کا پڑھنا بہت ہی پسند ہے ،حضورﷺنے فرمایا انہیں خبر دو کہ اللہ بھی اس سے محبت رکھتا ہے۔اور اسی طر ح ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک انصاری مسجد قبا کے امام تھے،ان کی عادت تھی کہ الحمد ختم کرکے پھر اس سورۃ کو پڑھتے، پھر جونسی سورۃ پڑھنی ہوتی یا جہاں سے چاہتے قرآن پڑھتے۔ایک دن مقتدیوں نے کہا آپ اس سورۃ کو پڑھتے ہیں پھر دوسری سورۃ ملاتے ہیں یہ کیا ہے؟ یاتو آپ صرف اسی کو پڑھئے یا چھوڑ دیجئے دوسری سورۃ ہی پڑھ لیاکریں ،انہوں نے جواب دیا کہ میں تو جس طرح کرتا ہوں کرتا رہوں گا تم چاہو مجھے امام رکھو، کہو تو میں تمہاری امامت چھوڑ دوں..۔ ایک دن حضورﷺان کے پاس تشریف لائے تو ان لوگو ں نے آپ سے یہ واقعہ بیان کیا۔ آپ نے امام صاحب سے کہا تم کیوں اپنے ساتھیوں کی بات نہیں مانتے اور ہر رکعت میں اس سورت کو کیوں پڑھتے ہو؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہﷺمجھے اس سورت سے بڑی محبت ہے۔آپ نے فرمایا اس کی محبت نے تجھے جنت میں پہنچا دیا۔اور یہ سورت ایک تہائی قرآن کی تلاوت کے برابر ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا تم سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لو... تو صحابہ کہنے لگے بھلا اتنی طاقت تو ہر ایک میں نہیں آپ نے فرمایا قل ھو اللہ احد تہائی قرآن ہے۔اور اسی طرح جامع ترمذی میں ہے کہ رسول مقبول ﷺنے صحابہ سے فرمایا جمع ہو جاؤ میں تمہیں آج تہائی قرآن سناؤں گا، لوگ جمع ہو کر بیٹھ گئے آپ گھر سے آئے سورۃ قل اللہ احد پڑھی اور پھر گھر چلے گئے اب صحابہ میں باتیں ہونے لگیں کہ وعدہ تو حضورﷺکا یہ تھا کہ تہائی قرآن سنائیں گے شاید آسمان سے کوئی وحی آگئی ہو اتنے میں آپ پھر واپس آئے اور فرمایا میں نے تم سے تہائی قرآن سنانے کا وعدہ کیا تھا، سنو یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر سورۃ اخلاص‘‘شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی سورۃ اخلاص کی عربی تفسیر کا ترجمہ ہے اس کے ترجمہ کی سعادت محترم جناب مولانا غلام ربانی نے حاصل کی ہے ۔اس سورۃ اخلاص کی تفسیر میں خالص توحید کومدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔اور اس میں عیسائیت، مادہ پرستی، ہندوازم، قدریت، جہمیت اور رافضیت جیسے باطل نظریات پر کڑی تنقید بھی ہے۔چند آیات کی تفسیر میں قرآن وسنت کے بے شمار نئے نئے نکات ومعارف کا انکشاف ہے۔یہ کتاب اہل علم کے لیے ایک بے نظیر علمی خزانہ ہے ۔مکتبہ نذریہ ،لاہور نے اسے 1979ء میں اسے حسن طباعت سے آراستہ کیاتھا۔(م۔ا)

مومنات کا پردہ اور لباس

Authors: امام ابن تیمیہ

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے۔ اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے ۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے ۔کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب’’مومنات کاپردہ اورلباس‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب کا ترجمہ ہے۔اس کتاب میں انہوں نے عورت کا نمازمیں لباس کیسا ہونا چاہیے اور عورت کے گھر وگھر سے باہر پردہ کےاحکام کومختصر مگرجامع انداز میں بیان کیا ہے۔ اگرچہ اس کتاب کو کئی اداروں نے شائع کیا ہے۔لیکن کتاب ہذاپر دارالابلاغ کی ٹیم نے خصوصی محنت کر کے اس کوایک نئے انداز میں پیش کیا ہے۔اس کی تحقیق وتدقیق اور تخریج نئے سرے سے کی۔ فٹ

راہ حق کے تقاضے تلخیص اقتضاء الصراط المستقیم

Authors: امام ابن تیمیہ

In Biography

By Al Noor Softs

شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔فکر وعقیدہ کی گمراہیوں میں سے شرک اور بدعت دو بڑی گمراہیاں ہیں۔ امام ابن تیمیہ ؒ کی کتب میں ان دونوں گمراہیوں پر مفصل کلام موجود ہے۔آپ کی کتابوں میں سے ’’اقتضاء الصراط المستقیم فی مخالفۃ اصحاب لجحیم‘‘ایک ممتاز مقام رکھتی ہے ۔اس کتاب کا موضوع بدعات ہیں ۔ شیخ الاسلام نے اپنی اس کتاب میں اپنے زمانے میں پائی جانے والی متعدد بدعات کی نشاندہی کی ہے اور ان کا رد کیا ہے۔اور غیر مسلموں سےمشابہت او ران کےخاص دن، رسوم اور رواج اپنانے یا ان میں شرکت کرنے پر بحث فرمائی ہے۔اصل کتاب عربی زبان میں بڑی ضخیم کتاب ہے عام لوگوں کے لیے اس سے استفادہ کرنا مشکل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’راہ حق کےتقاضے ‘‘اسی کتاب کی تلخیص کا اردو ترجمہ ہے ۔تلخیص کا کام جامعۃ الامام محمد بن سعود کے پروفیسر جناب ڈاکٹر عبدالرحمٰن عبد الجبار فریوائی نے کیا اور اس تلخیص کو اردو قالب میں ڈھالنےکی ذمہ داری انڈیا کے ممتاز سلفی عالم دین ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری نے انجام دی۔ المکتبۃ السلفیۃ ،لاہورکےمدیرجناب احمد شاکر ﷾ نے تقریباً بیس سال قبل اسے حسن طباعت سےآراستہ کیا ۔اللہ تعالیٰ بدعات و خرافات میں گھرے لوگوں کےلیے اس کتاب کو نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

الجواب الباہر فی زوار المقابر (اردو)

Authors: امام ابن تیمیہ

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اللہ اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ابتدائے اسلام میں شرک کے اندیشے کے پیش نظر قبروں کی زیارت سے منع کردیا گیا تھا اور پھر عقیدہ توحید پختہ ہوجانے کے بعد اس کی اجازت دے دی گئی۔زیارتِ قبور ایک جائز ومستحب بلکہ مسنون عمل ہے۔ نبی کریم ﷺبھی قبروں کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے اور اہل قبور کے لیےدعا کرتے اور فرماتے تم قبروں کی زیارت کیاکرو، وہ دنیا سے بے رغبتی کا سبب بنتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ زیارتِ قبور یادِ آخرت کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء ؑ مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔ لیکن قبروں کی یہ زیارت چند آداب کو ملحوظ رکھ کر کی جاتی ہے،تاکہ کسی بھی مومن سے کوئی شرکیہ فعل سرزد نہ ہوجائے۔ موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا وغیرہ ایسے اعمال جو شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں زیر تبصرہ کتاب "الجواب الباھر فی زوار المقابر"شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ ترجمہ محترم عطاء اللہ ثاقب صاحب نے کیا ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں زیارت قبورکے آداب کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے زیارت قبر نبوی ﷺ کے آداب کو بھی بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷫کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

عقیدہ اہل سنت و الجماعت ترجمہ عقیدہ واسطیہ

Authors: امام ابن تیمیہ

In Fiqha

By Al Noor Softs

عقیدے کی بنیاد توحید باری تعالیٰ ہے اور اسی دعوت توحید کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انبیاء کو مبعوث کیا حتی کہ ختم المرسلین محمدﷺ کی بعثت ہوئی ۔عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علماء اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔گزشتہ صدیوں میں عقیدۂ توحید کو واضح کرنے کے لیے بہت سی جید کتب ورسائل تحریر کیے گئے ہیں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی کتاب ’’عقیدہ واسطیہ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے امام ابن تیمیہ﷫ کی اس کتاب کے مفہوم ومطلب کو واضح کرنے کے لیے الشیخ محمد خلیل ہراس،الشیخ صالح الفوزان، الشیخ صالح العثیمین کی شروح قابل ذکر ہیں ۔ وفاق المدارس السلفیہ میں الشیخ خلیل ہراس کی شرح شامل نصاب ہے۔ زیرتبصرہ کتاب’’ عقیدہ اہل سنت الجماعت ‘‘شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ کی شہرہ آفاق تالیف عقیدہ واسطیہ کی شرح کاترجمہ ہے ۔یہ شرح وتوضیح فضیلۃ الشیخ محمد ہراس کی ہے۔ شیخ موصوف نے نہایت سلیس شگفتہ انداز میں عقیدہ واسطیہ کی شرح فرمائی ہے۔ اس شرح کا یہ سلیس و آسان فہم ترجمہ معروف عالم دین مصنف ومترجم کتب کثیرہ مولانا محمد صادق خلیل ﷫ نے عقیدہ اہل سنت والجماعت کےنام سے کیا ۔ جسے مدارس کے اساتذہ وطلباء کے ہاں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور ان کےمیزان حسنات میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا)

اردو ترجمہ کتاب الوسیلہ

Authors: امام ابن تیمیہ

In Faith and belief

By Al Noor Softs

شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علومِ اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاویٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے زیر تبصرہ کتاب’’ اردو ترجمہ کتاب الوسیلہ‘‘امام ابن تیمیہ ﷫ کی ان معرکۂ آراء تصنیفات میں سے ایک ہےجن میں امام  نے بڑی تفصیل کے ساتھ بدعات اور عوام میں مروجہ افکار ونظریات کی تردید وابطال کیا ہے۔ مسئلہ وسیلہ ان مسائل میں سے ہے جن پر اہل بدعت بہت زیادہ زور دیتے ہیں ۔ امام ﷫ نے کتاب وسنت کی روشنی میں بڑے دل نشیں اور مؤثر انداز میں اس کی نقاب کشی کی اور حق کی راہ دکھلائی ہے۔یہ کتاب اگر چہ پہلے ویب سائٹ پر موجود تھی لیکن کتاب ہذا کا ترجمہ چونکہ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫ کا ہے اس لیے اسے بھی پبلش کردیاگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں راہ حق پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

منہاج السنہ جلد اول

Authors: امام ابن تیمیہ

In Faith and belief

By Al Noor Softs

شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علوم اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاوی ٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے زیرنظر کتاب '' مختصر منہاج السنۃ'' شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ﷫ کی ایک شہرۂ آفاق کتاب’’ منہاج السنۃ‘‘ کا اختصار و اردو ترجمہ ہے۔ منہاج السنۃ ایک مشہور رافضی شیعہ عالم حسن بن یوسف بن علی بن المطہر الحلی کے جواب میں لکھی گئی۔ رافضی مصنف نے المنہاج الکرامۃ فی معرفۃ الامامۃ‘‘ کےنام سے ایک کتاب تصنیف کی ‘‘ ۔یہ کتاب اہل سنت وشیعہ کےمابین متنازع مسائل ومباحث سےلبریز اور من گھڑت و موضوع روایات کا پلندہ تھی ۔ اور اس میں سابقین اولین صحابہ کوجی بھر کرگالیاں دی گئی تھیں ۔امت مسلمہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ﷫ کے عظیم احسان سے کبھی سبکدوس نہیں ہوسکتی کہ انہوں نے کتاب مذکور کے جواب میں ’’منہاج الاعتدال فی نقض کلام اہل الرفض والاعتدال‘‘ کے نام سےایک کبیر الحجم کتاب لکھی جوکہ لوگوں میں ’’منہاج السنۃ‘‘ کے نام سےمعروف ہوئی ۔امام ابن تیمیہ ﷫ نے رافضی مؤلف کے اٹھائے ہوئے تمام اعتراضات واشکالات اورمطاعن ومصائب کامدلل ومسکت جوابات دیے ۔شیخ الاسلام کی ہر بات عقل ونقل کی دلیل سے مزین اور محکم استدلال پرمبنی ہے آپ نے روافض کے تمام افکارونظریات کےتاروبود بکھیر کر رکھ دیئے ہیں۔امام موصوف شیعہ مصنف ابن المطہر کی کتاب سےعبارت نقل کر کے اس کا رد کرتے ہیں۔ فریقین کےدلائل کی موجودگی میں ایک باانصاف اور سلیم العقل انسان کےلیے فیصلہ صادر کرنا کچھ مشکل نہیں رہتا۔اس کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت کھل کے سامنےآتی ہےکہ شیعہ مصنف کی پیش کردہ احادیث جھوٹ کاپلندہ ہیں او روہ اکثرجھوٹی روایات سے احتجاج کرنے کاخوگر تھا۔ردّ رافضیت پر یہ ایک مستند کتاب ہے۔کبار علماء کے بقول ’’ نیلے آسمان کےنیچے اور فرشِ زمین کے اوپر ردّ رافضیت پر اس سےبہترین کتاب آج تک نہیں لکھی گئی ‘‘منہاج السنہ کےاختصار وترجمہ اور احادیث کی مکمل تخریج کا اہم کام محترم جناب پیر زادہ شفیق الرحمن شاہ الدراوی ﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی )نےکیا ہے۔اور اس میں العواصم من القواصم اور المنتقیٰ سے استفادہ کر کے اہم ترین حواشی بھی شامل کردیے ہیں ۔ المنتقی ٰ کےنام سے امام ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی نے منہاج السنۃ کا اختصار کیا تھا۔اس کا ترجمہ معروف مترجم محترم غلام احمد حریری ﷫ نے کیا یہ ترجمہ بھی ویب سائب پر موجود ہے۔اللہ تعالیٰ عقیدہ اور صحابہ کے دفاع میں مترجم کی یہ محنت قبول فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)