eBooks
2,841 Results Found
آئینہ پرویزیت معتزلہ سے طلوع اسلام تک حصہ اول
Authors: عبدالرحمن کیلانی
انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔ دور ِجدید میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشار پیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔ دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔یورپ کے مستشرقین کی نقالی میں برصغیر پاک وہند میں ماضی قریب میں بہت سے ایسے متجددین پیدا ہوئے جو حدیث وسنت کی تاریخیت ،حفاظت اور اس کی حجیت کو مشکوک اور مشتبہ قرار دے کر اس سے انحراف کی راہ نکالنے میں ہمہ تن گوش رہے۔ اس فتنے کی آبیاری کرنے والے بہت سے حضرات ہیں جن میں سے مولوی چراغ علی، سرسیداحمدخان، عبداللہ چکڑالوی، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، احمددین امرتسری اور مسٹرغلام احمدپرویز، جاوید غامدی وغیرہ نمایاں ہیں۔ غلام احمد پرویز پاکستان میں فتنہ انکار حدیث کے سرغنہ اور سرخیل تھے۔ان کی ساری زندگی حدیث رسول ﷺ کی صحت وثبوت میں تشکیک ابھارنے میں بسر ہوئی اور لطف کی بات یہ ہے کہ وہ تردید حدیث کا کام قرآن حکیم کے حقائق ومعارف اجاگر کرتے ہوئے سرانجام دیتے تھے۔ ہردور میں فتنوں کی سرکوبی میں علمائے حق کی خدمات نمایاں نظر آتی ہیں ۔برصغیر پاک وہند میں فتنہ انکار کے رد میں جید علماء کرام بالخصوص اہل حدیث علماء کی کاوش ناقابل فراموش ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’آئینہ پرویزیت‘‘ کتاب وسنت ڈاٹ کام کے مدیر جناب ڈاکٹر حافظ انس نضر﷾ کے نانا جان مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کی پرویزیت کے رد میں لاجواب تصنیف ہے۔ مولانا کیلانی مرحوم نے اپنے خالص علمی، معلومات اور قدرے فلسفیانہ رنگ میں یہ کتاب تحریر کی ہے۔ اس ضخیم کتاب میں پرویزیت کا جامع انداز میں پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ اور مدلل طریقے سے فتنہٴ انکارِ حدیث کی سرکوبی کی ہے، اور مبرہن انداز میں پرویزی اعتراضات کے جوابات پیش کئے گئے ہیں۔ حصہ اَول: معتزلہ سے طلوعِ اسلام تک...حصہ دوم :طلوع اسلام کے مخصوص نظریات... حصہ سوم : قرآنی مسائل...حصہ چہارم : دوامِ حدیث...حصہ پنجم: دفاعِ حدیث...حصہ ششم :طلوعِ اسلام کا اسلام۔ یہ کتاب اپنے موضوع میں ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1987ء میں چھ الگ الگ حصوں میں شائع ہوئی ۔بعدازاں اس کویکجا کر کے شائع کیا گیا۔بعد والا ایڈیشن ویب سائٹ پر موجود ہے۔ زیرتبصرہ پہلے ایڈیشن کوبھی محفوظ کر نےکی خاطر پبلش کردیاگیاہے۔ مصنف کتاب مولانا عبد الرحمٰن کیلانی کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کر دیتے ہیں، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے۔ کتب کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات ملک کے معروف علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان الحدیث، سہ ماہی منہاج لاہور وغیرہ) میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ا ن کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے۔ (آمین)(م۔ا)
اسلام میں ضابطہ تجارت
Authors: عبدالرحمن کیلانی
اسلام میں جس طرح عبادات وفرائض میں زور دیاگیا ہے ۔ اسی طرح اس دین نے کسبِ حلال اورطلب معاش کو بھی اہمیت دی ہے ۔ لہذاہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔نبی کریم ﷺ نے تجارت کو بطور پیشے کے اپنایا او رآپ کے اکثر وبیشتر صحابہ کرام کا محبوب مشغلہ تجارت تھا۔ امت مسلمہ کے لیے حضو ر ﷺ کی حیات طیبہ میں اسوہ حسنہ موجود ہے اورآپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام کی پاک زندگیاں ہمارے لیے معیار حق ہیں۔ یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اکل حلال اور کسبِ معاش کاعمل آج کے دور میں بھی تجارت کےذریعے پوراکیا جاسکتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلام میں ضابطۂ تجارت ‘‘ مفسر قرآن مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کی مرتب شدہ ہے ۔محترم کیلانی مرحوم نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تجارتی مسائل اور ان کے قواعد وضوابط کو اس احسن انداز میں مرتب کیا ہےکہ خواص کےساتھ عوام بھی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔بیان شریں سہل اور جامع ہے او ردورِ حاضر میں جو معاشی مسائل پیدا ہوگئے ان کی لسٹ اگرچہ کافی طویل ہے تاہم اس کتاب کے مطالعہ سے ایسے رہنما اصول دستیاب ہوسکتےہیں جن کےذریعے ان مسائل کوآسانی کے ساتھ حل کیا جاسکتا ہے۔اس کتاب میں کاروباری اور لین دین کےسلسلے جو احکام اوراصول بیان کیے گئے ہیں وہ کثیر الوقوع اور عموماً ہر فرد بشر کوشب وروز پیش آتے رہتےہیں۔کتاب کے شروع میں ایسے امور کاتذکرہ کیا ہے جن کوپڑھ خریدوفروخت کے احکام کی تعمیل کےلیے بھی انسان کےاندر قدرتی استعداد اور سازگاری پیدا ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کوجزائےخیر سےنوازے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی وارفع مقام عطافرمائےاو ر اس کتا ب کوامت مسلمہ کےلیےنفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)
تیسیر القرآن (اردو)
Authors: عبدالرحمن کیلانی
قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی اور آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے اوراس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔آج دنیاکی کم وبیش 103 زبانوں میں قرآن کریم کے مکمل تراجم شائع ہوچکے ہیں۔جن میں سے ایک اہم زبان اردو بھی ہے ۔اردو زبان میں اولین ترجمہ کرنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے دو فرزند شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد القادر ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے ۔زیرنظر ترجمہ قرآن مفسر قرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی کا ہے ۔ اور اس میں حاشیہ وفوائد کا کام مولانا کیلانی مرحوم کے بیٹے حافظ عتیق الرحمن کیلانی ﷾ نے انجام دیا ہے جوکہ درج ذیل خوبیوں کا حامل ہے ۔1۔تقریبا 2000 مقامات پر صحیح حدیث یا قرآنی آیت کو ہی بطور تفسیر پیش کیا گیا ہے ۔2 قرآن کے سائنسی معجزات کی وضاحت کثرت سے کی گئی ہے۔3 مصحف حفاظ کرام کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیااور تمام صفحات آیت کے خاتمہ پر ختم ہوتے ہیں اور اس میں دو تحقیقی مقالے ’’قرآن کیسے حفظ کریں؟،’’ اور احکام ترتیل وتجوید‘‘ بھی شامل کئے گئے ہیں۔ 4 عربی مادوں والے الفاظ کثرت سے استعمال کئے گئے ہیں تاکہ عربی نص(قرآنی آیات) کا مفہوم زیادہ بہتر انداز میں سمجھا جاسکے ۔5 ہر صفحے کا حاشیہ اسی صفحہ پر ختم ہوجاتا ہے ۔6 اس میں قرآنی مضامین کا الف بائی انڈکس شامل ہے۔7 ترجمہ میں آیت کاخاتمہ دائرہ کے نشان سے واضح ہے ۔ 8مغرب سے مرعوب طبقے کے اسلام کے خلاف اعترضات کے رد میں کثرت سے دلائل دئیے گئے ہیں۔ 9 حاشیہ اور صفحات کے نمبرزمیں انگلش ہندسے استعمال کئےگئے ہیں تا کہ نوجوان نسل جو کہ اردو ہندسوں سے ناآشنا ہے بآسانی مستفید ہوسکے۔ 10 خطاط (نص قرآنی) اور مترجم ایک ہی ہےجوکہ مولانا عبدالرحمن کیلانی کے ہاتھ کاہے ۔اللہ تعالیٰ مولانا کیلانی مرحوم کےدرجات بلند فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنے رحمتوں کانزول فرمائے۔ان کی اور ان کے خاندان کی دینی،تبلیغی واصلاحی اورتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)
آئینہ پرویزیت
Authors: عبدالرحمن کیلانی
اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں میں یہ بات مسلم رہی ہے کہ حدیث نبوی قرآن کریم کی وہ تشریح اور تفسیر ہے جو صاحب ِقرآن ﷺ سے صادر ہوئی ہے۔ قرآنی اصول واحکام کی تعمیل میں جاری ہونے والے آپ کے اقوال و افعال اور تقریرات کو حدیث سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم ہماری راہنمائی اس طرف کرتا ہے کہ قرآنی اصول و احکام کی تفاصیل و جزئیات کا تعین رسول کریم ﷺ کے منصب ِرسالت میں شامل تھا اور قرآن و حدیث کا مجموعہ ہی اسلام کہلاتا ہے جو آپ نے امت کے سامنے پیش فرمایا ہے، لہٰذا قرآن کریم کی طرح حدیث ِنبوی بھی شرعاً حجت ہے جس سے آج تک کسی مسلمان نے انکار نہیں کیا۔ انکارِ حدیث کے فتنہ نے دوسری صدی میں اس وقت جنم لیا جب غیر اسلامی افکار سے متاثر لوگوں نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا اور غیر مسلموں سے مستعار بیج کو اسلامی سرزمین میں کاشت کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت فتنہ انکار ِ حدیث کے سرغنہ کے طور پر جو دو فریق سامنے آئے وہ خوارج اور معتزلہ تھے۔ خوارج جو اپنے غالی افکار ونظریات کو اہل اسلام میں پھیلانے کا عزم کئے ہوئے تھے، حدیث ِنبوی کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہوئے اس سے فرار کی راہ تلاش کرتے تھے۔ دوسرے معتزلہ تھے جو اسلامی مسلمات کے ردّوقبول کے لئے اپنی ناقص عقل کو ایک معیار اور کسوٹی سمجھ بیٹھے تھے، لہٰذا انکارِحد رجم، انکارِ عذابِ قبر اور انکارِ سحر جیسے عقائد و نظریات اس عقل پرستی کا ہی نتیجہ ہیں جو انکارِ حدیث کا سبب بنتی ہے۔دور ِجدید میں برصغیر پاک و ہند میں فتنہ انکارِ حدیث نے خوب انتشارپیدا کیا اور اسلامی حکومت ناپید ہونے کی وجہ سے جس کے دل میں حدیث ِ نبوی کے خلاف جو کچھ آیا اس نے بے خوف وخطر کھل کر اس کا اظہار کیا۔ دین کے ان نادان دوستوں نے اسلامی نظام کے ایک بازو کو کاٹ پھینکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور لگا رہے ہیں۔ اس فتنے کی آبیاری کرنے والے بہت سے حضرات ہیں جن میں سے مولوی چراغ علی، سرسیداحمدخان، عبداللہ چکڑالوی، حشمت علی لاہوری، رفیع الدین ملتانی، احمددین امرتسری اور مسٹرغلام احمدپرویز وغیرہ نمایاں ہیں۔ ان میں آخر الذکر شخص نے فتنہٴ انکار ِحدیث کی نشرواشاعت میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ انہیں اس فتنہ کے اکابر حضرات کی طرف سے تیارشدہ میدان دستیاب تھا جس میں صرف کسی غیر محتاط قلم کی باگیں ڈھیلی چھوڑنے کی ضرورت تھی۔ چنانچہ اس کام کا بیڑہ مسٹر غلام احمدپرویز نے اٹھا لیا جو کہ فتنوں کی آبیاری میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’آئینہ پرویزیت‘ میں مدلل طریقے سے فتنہٴ انکارِ حدیث کی سرکوبی کی گئی ہے، اور مبرہن انداز میں پرویزی اعتراضات کے جوابات پیش کئے گئے ہیں-
مترادفات القرآن
Authors: عبدالرحمن کیلانی
اسلام کے ابتدائی دور ہی سے علمائے حق نے قرآنی علوم کی ترویج وتبلیغ کاسلسلہ شروع کیا اور عامۃ الناس کی آسانی کے لیے قرآن کے مطالب و مفاہیم کو احسن اور عام فہم انداز سے پیش کیا ،تاکہ قرآن حکیم کی تعلیمات عام ہوں اورلوگوں میں قرآن فہمی کا ذوق اجاگر ہو ۔علماءکرام نے یہ فریضہ بخوبی ادا کیا اور قرآن مقدس کی تفسیر ،تشریح ،لغوی بحث ،شان نزول کے بیان سمیت مختلف تحقیقی وتکنیکی پہلؤوں پرکام کیا،جوقرآن کے ساتھ ان کی شدید محبت ومودت کی واضح علامت ہے،قرآن مجید کا ظاہری حسن یہ بھی ہے کہ یہ ادب و بلاغت کی شاہکار کتاب ہے ،جس ایک ایک معنیٰ کے لیے متعدد الفاظ بیان ہوئے ہیں۔جن کے فرق اوربیان کو سمجھنا اور بیان کرنا بھی ایک اہم فن ہے ،جسے ہمارے ممدوح مولانا عبدالرحمٰن کیلانی پ نے نہایت ذوق ،شوق اور پور ی دلجمعی سے کتاب ہذا میں بہترین انداز سے مرتب کیا ہے ۔زیر نظر کتاب مترادفات القرآن کے موضوع پر اہم تصنیف ہے ،جوقارئین اور محقیقین کی علمی آبیاری کا بہترین سامان اور خدمت قرآن کے ایک شاندار کاوش ہے۔(ف۔ر)
تیسیر القرآن (اردو) - جلد1
Authors: عبدالرحمن کیلانی
مولانا عبدالرحمن کیلانی مرحوم ومغفور بے شمار خوبیوں کے مالک اور علم دوست انسان تھے۔ان کے قلم کی روانی اور سلاست قارئین کے لیے انتہائی سحر انگیز تھی۔یوں ان کا قلم دور حاضر میں اٹھنے والے فتنوں کے قلع قمع کے لیے شمشیر برآں تھا۔مولانا موصوف نے جس بھی موضوع پر قلم اٹھایا امر کا حق دار کر دیا،ان کی تالیفات کا سلسلہ کافی طویل ہے۔لیکن ان کی زیر نظر تالیف ’’تیسیر القرآن‘‘کتاب اللہ کی بہترین تفسیر ہے جو بہت ہی خوبیوں کی حامل ہے۔جس کا ترجمہ نہایت سلیس ہے کہ معمولی لکھا پڑھا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے۔تفسیر کی عبارتوں میں سلاست کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔دور حاضر میں مغربی افکار سے متاثر بلکہ مرعوب طبقہ جس آزاد خیالی میں مبتلا ہے اس تفسیر میں ان کے نظریات جن آیات سے متعلق ہیں وہاں خوب گرفت کی گئی ہے اور نہاین مضبوط دلائل سے ان کے عقائد کی تردید کی گئی ہے۔غزوات وسرایا کا سلسلہ میں جو آیات اور صورتیں ہیں ان کا تاریخی پس منظر تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔نیز یہ ایک بہترین تفسیر ہے جو قرآن فہمی کے لیے اور باطل نظریات کی سرکوبی کے لیے ایک یادگار تالیف ہے جس کا مطالعہ نہایت مفید ہے۔موجودہ دور کے اٹھنے والے فتنوں سے حفاظت کا سامان بھی ۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس شاہکار تفسیر کو قارئین کے لیے مفید اور مؤلف مرحوم کے لیے نوشتہ آخرت بنائے۔(آمین)(فاروق)
نبی اکرم ﷺ بحیثیت سپہ سالار
Authors: عبدالرحمن کیلانی
In History
جہاد اس وقت عالمی ومقامی میڈیا ،مسلم و غیر مسلم حکمرانوں او ر نام نہاد دانشوروں کی بربریت کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ اسلام کے نظریہ جہاد سےجو جتنا ناواقف ہے وہ دانش کی اتنی ہی اعلی معراج پہ براجمان ہے ۔ ہر دانش ور صغرے کبرے ملا کر اسی نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ جہاد دہشت گردی کی نعوذباللہ بد ترین شکل ہے جس سے دنیا کا امن خطرے میں ہے۔ ناقدین جہاد کی ان مغالطہ آرائیو ں کی حقیقت سے پردہ اٹھانے کی غرض سے کی جانے والی مولانا عبدالرحمن کیلانی ؒ علیہ کی یہ کاوش نہایت مفید ہے ۔اور دفاع جہاد یا یوں کہیے کہ دفاع اسلام کی غرض سے کی جانے والی کوششوں میں ایک قابل قدر اضافہ ہے ۔ اس تالیف میں مولانا مرحوم نے نظریہ جہاد کی توضیح اور اعتراضات و شبہات کورفع کر نے کی بھر پور کوشش کی ہے جس میں وہ الحمدللہ کامیاب رہے ہیں۔اس کے علاوہ دارلاسلام او ردار الحرب جیسی پچیدہ بحث کو خوش اسلوبی سے نکھارا گیا ہے ۔ کتاب کے آخر میں آپ ﷺ کی زندگی کے جہادی پہلو کو نشانہ مشق بنانے والوں کو شرعی اورمنطقی دلائل سے شافی جواب دیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ آپ کی عظیم شخصیت پر غیر جانبدار مغربی مفکرین کے اقوال بھی پیش کیے گئے ہیں جو کہ جہاد اور پیغمبر جہاد کے انتہا پسند ناقدین کے منہ پر زور دار طمانچہ ہیں ۔(ناصف)
عقل پرستی انکار معجزات
Authors: عبدالرحمن کیلانی
In History
اسلام عقل ونقل كاايك حسين امتزاج ہے اوراس ضمن میں کمال اعتدال اورتوازن سے کام لیاگیاہے اسلام نے یہ اصول مقررکیاہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے تمام افعال واعمال اورہدایات عقل ومنطق سے کسی طورمتصادم نہیں البتہ یہ ممکن ہے کہ ان کی تفہیم میں عقل انسانی عاجزآجائے ۔معجزات بھی اسی قبیل سے ہیں یعنی ایسے افعال جن کے کرنےسے انسان عاجزوقاصررہ جائیں۔ان پرایمان لاناواجب ہے اس اصولی نکتہ کونظراندازکرنے سے بہت سی خرابیاں جنم لیتی ہیں ۔چنانچہ بعض لوگ جب معجزات کوبظاہرعقل کےخلاف دیکھتے ہیں توان کے انکارکی روش اپنالیتے ہیں جوکہ صریحاً غلط ہے زیرنظرکتاب میں ایسے ہی ایک صاحب کی غلط فہمیوں کاازالہ کیاگیاہے جوعقل پرستی کاشکارہوکرمعجزات کاانکارکربیٹھے ۔اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں معجزات کاثبوت ملے گاوہیں عقل انسانی کے صحیح کردارکی بھی تعیین ہوجائے گی ۔
احکام تجارت اورلین دین کے مسائل
Authors: عبدالرحمن کیلانی
In Knowledge
اسلامی تعلیمات میں حلال و حرام کے مابین تمیز و تفریق کو بہت زیادہ اجاگر کیا گیا ہے ۔تجارت اور لین دین کے باب میں بھی اس پر بہت زور دیا گیا ہے کہ حرام طریقوں سے بچا جائے او رکسب معاش کے حلال ذرائع اختیار کیے جائیں۔فی زمانہ معاشی مسائل کے حوالے سے بہت زیادہ غفلت برتی جارہی ہے اور ایسی بے شمار باتیں مسلمان معاشروں میں رواج پا گئی ہیں جو شرعاً نا جائز ہیں۔زیر نظر کتاب میں کسب حلال ،نا جائز ذرائع آمدنی ،تجارت کے احکام و مسائل،تجارت کی جائز و ناجائز صورتیں اور لین دین کے احکام کو کتاب وسنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے ۔اسی طرح بنک کا سود،بچت اور سرمایہ کاری کا اسلامی نظر ،بینکوں کے شراکتی کھاتوں کی حقیقت ،بلا سود بینکاری،بیمہ کی شرعی حیثیت اور اس کا متبادل حل ،مالک اور مزدور کے مسائل،مسئلہ مزارعت میں جواز اور عدم جواز کی صورتیں،زکوۃ اور ٹیکس میں فرق اور انعامی بانڈز وغیرہ مسائل پر بھی محققانہ بحث کی گئی ہے ۔یہ امر لائق مسرت ہے کہ مفتی جماعت مولانا مبشر احمد ربانی نے کتاب میں مذکور احادیث و آثار کی تحقیق و تخریج او راس پر نظر ثانی کی ہے ۔لہذا بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ معاشی مسائل کے حوالے سے یہ ایک جامع کتاب ہے ،جس کا مطالعہ ہر مسلمان کو لازماً کرنا چاہیے تاکہ وہ حرام سے بچ کر حلال ذرائع اختیار کر سکے اور شرعی احکام سے کما حقہ عہدہ بر آں ہو سکے۔