eBooks
2,841 Results Found
تبصیر الرحمن فی تفسیر القرآن پارہ سوم
Authors: محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
سرزمین سیالکوٹ نے بہت سی عظیم علمی شخصیات کو جنم دیا ہے جن میں مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،علامہ محمد اقبال، شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر سرفہرست ہیں مولانا ابراہیم میر 1874ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے سیالکوٹ مرے کالج میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ہم جماعت رہے مولاناکا گھرانہ دینی تھا لہذا والدین کی خواہش پر کالج کوخیر آباد کہہ دیا اور دینی تعلیم کے حصول کے لیے کمر بستہ ہوگے ۔ شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے حضور زانوے تلمذ طے کیا مولانا میر سیالکوٹی سید صاحب کے آخری دور کےشاگرد ہیں اور انہیں ایک ماہ میں قرآن مجید کو حفظ کرنےکااعزاز حاصل ہے ۔مولانا سیالکوٹی نے جنوری1956ء میں وفات پائی نماز جنازہ حافظ عبد اللہ محدث روپڑی نے پڑہائی اللہ ان کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے ۔(آمین )مولانا مرحوم نے درس تدریس تصنیف وتالیف دعوت ومناظرہ وعظ وتذکیر غرض ہر محاذ پر کام کیا۔ ردّقادیانیت میں مولانا نےنمایاں کردار اداکیا مرزائیوں سے بیسیوں مناظرے ومباحثے کیے اور مولانا ثناء اللہ امرتسری کے دست وبازوبنے رہے مرزائیت کے خلا ف انھوں نے17 ؍کتابیں تصنیف کیں ۔مولانا کی تصانیف میں تفسیر’’ تبصیر الرحمن‘‘ بھی شامل ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ تبصیر الرحمٰن فی تفسیر القرآن ‘‘پارہ سوم کی تفسیر پر مشتمل ہے ۔ مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی نے طریقِ تفسیر کے مسالک خمسہ(مسلک محدثین،مسلک متکلمین،مسلک صوفیائے کرام ،مسلک فقہائے مجتہدین،مسلک اہل ادب ومعانی ) کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ تفسیر مرتب کی ہے۔ اور مفسّر نےاپنی تفسیر میں جگہ جگہ تفسیر رحمانی کا حوالہ دیا ہے ۔ پارہ سوم میں سے آخری 56 آیات کی تفسیر اس میں نہیں ہے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 35 تک تفسیر موجود ہے۔تفسیر تبصیر الرحمن کاپارہ سوم مسلمان کمپنی ،سوہدرہ نے شائع کیاتھا جواب نایاب ہے ۔ استاد گرامی شیخ الحدیث مولانا ابو عمارعمرفاروق سعیدی﷾ (مترجم ومصنف کتب کثیرہ ) سے حاصل کر کے اسے کتاب وسنت پر سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے تاکہ یہ نایاب تفسیر محفوظ ہوجائے اور دنیا بھر میں کتاب وسنت سائٹ کے ہزاروں قارئین اس سے مستفید ہوسکیں ۔اگر کسی کے پاس پارہ اول ،پارہ ،سوم اورتفسیر سورۃ کہف کے علاوہ مولانا میر سیالکوٹی کی تفسیر کے اجزاءہوں ہمیں عنائت کریں سکین کرنے کے بعد قابل واپسی ہونگے ۔ ان شاء اللہ ۔(م۔ا)
تبصیر الرحمن فی تفسیر القرآن جلد اول
Authors: محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
سرزمین سیالکوٹ نے بہت سی عظیم علمی شخصیات کو جنم دیا ہے جن میں مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،علامہ محمد اقبال، شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر سرفہرست ہیں مولانا ابراہیم میر 1874ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے سیالکوٹ مرے کالج میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ہم جماعت رہے مولاناکا گھرانہ دینی تھا لہذا والدین کی خواہش پر کالج کوخیر آباد کہہ دیا اور دینی تعلیم کے حصول کے لیے کمر بستہ ہوگے ۔ شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے حضور زانوے تلمذ طے کیا مولانا میر سیالکوٹی سید صاحب کے آخری دور کےشاگرد ہیں اور انہیں ایک ماہ میں قرآن مجید کو حفظ کرنےکااعزاز حاصل ہے ۔مولانا سیالکوٹی نے جنوری1956ء میں وفات پائی نماز جنازہ حافظ عبد اللہ محدث روپڑی نے پڑہائی اللہ ان کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے ۔(آمین )مولانا مرحوم نے درس تدریس تصنیف وتالیف دعوت ومناظرہ وعظ وتذکیر غرض ہر محاذ پر کام کیا۔ ردّقادیانیت میں مولانا نےنمایاں کردار اداکیا مرزائیوں سے بیسیوں مناظرے ومباحثے کیے اور مولانا ثناء اللہ امرتسری کے دست وبازوبنے رہے مرزائیت کے خلا ف انھوں نے17 ؍کتابیں تصنیف کیں ۔مولانا کی تصانیف میں تفسیر’’ تبصیر الرحمن‘‘ بھی شامل ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ تبصیر الرحمٰن فی تفسیر القرآن ‘‘ کی پہلی جلد ہے جو کہ پارہ اول کی تفسیر پر مشتمل ہے ۔سورۃ فاتحہ کی الگ تفسیر ’ واضح البیان فی تفسیر ام القرآن ‘‘ کے نام سے بھی مطبوع ہے۔ مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی نے طریقِ تفسیر کے مسالک خمسہ(مسلک محدثین،مسلک متکلمین،مسلک صوفیائے کرام ،مسلک فقہائے مجتہدین،مسلک اہل ادب ومعانی ) کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ تفسیر مرتب کی ہے ۔ اور مفسّر نےاپنی تفسیر میں جگہ جگہ تفسیر رحمانی کا حوالہ دیا ہے ۔تفسیر تبصیر الرحمن کی یہ جلد اول تقریباً ستر سال قبل 1949ء میں مسلمان کمپنی ،سوہدرہ نے شائع کی تھی جواب نایاب ہے ۔ استاد گرامی شیخ الحدیث مولانا ابو عمارعمرفاروق سعید ی﷾ (مترجم ومصنف کتب کثیرہ ) سے حاصل کر کے کتاب وسنت پر سائٹ پر پبلش کی گئی ہے تاکہ یہ نایاب تفسیر محفوظ ہوجائے اور دنیا بھر میں کتاب وسنت سائٹ کے ہزاروں قارئین اس سے مستفید ہوسکیں ۔اگر کسی کے پاس پارہ اول ،پارہ ،سوم اورتفسیر سورۃ کہف کے علاوہ مولانا میر سیالکوٹی کی تفسیر کے اجزاءہوں ہمیں عنائت کریں سکین کرنے کے بعد قابل واپسی ہونگے ۔ ان شاء اللہ ۔(م۔ا) تفاسیر قرآن ۔(م۔ا)
تاریخ اہل حدیث
Authors: محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
In History
برصغیر پاک وہند میں اہل حدیث کے متعلق مختلف غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ۔ مخالفین ان کے عقائد مسخ کر کے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ جب کہ تاریخ کے حوالے سےبھی ان کے متعلق گمراہ کن باتیں کی جاتی ہیں ۔عقائد میں جہاں ان کو (معاذ اللہ ) گستاخ رسول، درود کا منکر اور نہ جانے کن کن خرافات کا حامل ٹھرایا جاتا ہے۔وہاں تاریخی اعتبار سے ان کو ڈیڑھ سوبرس کی پیداوار کہا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’تاریخ اہل حدیث ‘‘ امام العصر مولانامحمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی عظیم تصنیف ہے جس میں نہوں نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اہل حدیث نہ تو گستاخ رسول اور درود کےمنکر ہیں اور نہ ہی یہ کل کی پیداوار ہیں۔ اور اہل حدیث مروجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں ،نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت او رایک تحریک کا نام ہے زندگی کےہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا او ردوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا یا یو ں کہہ لیجیئے کہ اہل حدیث کانصب العین کتاب وسنت کی دعوت او ر اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور دعوت اہل حدیث سوڈیڑھ سوبرس کی بات نہیں بلکہ چودہ سو برس پرانی فکر ہے جب ہدایت کی شمع حجازِمقدس میں روشن ہوئی۔ اس کے طویل عرصے بعد لوگوں نےضرورت محسوس کی کہ ہمارے لیے شاید قول ِنبی کافی نہیں اس لیے انہوں نے قول امام کو بھی اپنے لیے ضروری سمجھا۔اسی وقت امت میں دو مستقل مکاتب فکر وجود میں آگئے۔ ایک کواہل حدیث کالقب دیا گیا اور دوسرے کو اہل الرائے کے نام سے جانا گیا۔ اس کتاب میں قارئین اس گروہی تفریق کے متعلق تفصیلات ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنف کتاب مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کی مرقد پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے اور اشاعت ِاسلام کے لیے ان کی محنتوں کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)
واضح البیان فی تفسیر ام القرآن
Authors: محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی ﷺ کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں کوئی باقاعدہ تفسیر نہیں لکھی گئی، لہٰذا ان کے کام کا بڑا حصہ ہمارے سامنے نہیں آ سکا اور جو کچھ موجود ہے، وہ بھی آثار او رتفسیری اقوال کی صورت میں، حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں بکھرا ہوا ہے۔قرآن مجید کی خدمت کو ہر مسلمان اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ واضح البیان فی تفسیر ام القرآن‘‘ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی ہے۔ جس میں تفسیر کی تاریخ و تحریک، طرق، تفسیر بسم اللہ شریف اور سورۃ الفاتحہ کی مفصل تفسیر کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)
صلاۃ النبی ﷺ
Authors: محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
In History
نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ نماز دین کاستون ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے ترک کردیا ہے اس نے دین کی عمارت کوڈھادیا۔ نماز مسلمان کے افضل اعمال میں سے ہے۔نماز ایک ایسا صاف ستھرا سرچشمہ ہے جس کےشفاف پانی سے نمازی اپنے گناہوں اور خطاؤں کودھوتا ہے ۔کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ اور نمازکی عدم ادائیگی پر وعید کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی۔ او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب’’صلوٰۃ النبی ﷺ‘‘ امام العصر مولانا حافظ محمدابراہیم سیالکوٹی کی نماز کے موضوع پر ایک مختصر مگر جامع کتاب ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے فلسفہ واسرار نماز کے سلسلے میں بہت ہی مفید باتیں جمع کردی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی کی مرقد کو جنت کا باغ بنائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین)
ریاض الحسنات
Authors: محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
In Arguments
دعاء کا مؤمن کاہتھیار ہے جس طرح ایک مجاہد اپنے ہتھیار کواستعمال کرکے دشمن سےاپنادفاع کرتا ہے اسی طرح مؤمن کوجب کسی پریشانی مصیبت اور آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ فوراً اللہ کےحضو ر دعا گو ہوتا ہے دعا ہماری پریشانیوں کے ازالے کےلیے مؤثر ترین ہتھیارہے انسان اس دنیا کی زندگی میں جہاں ان گنت ولاتعداد نعمتوں سےفائدہ اٹھاتا ہے وہاں اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے بیمار وسقیم ہو جاتاہے اس دنیاکی زندگی میں ہر آدمی کے مشاہد ےمیں ہےکہ بعض انسان فالج ،کینسر،یرقان،بخاروغیرہ اوراسی طرح کئی اقسام کی بیماریوں میں مبتلاہیں ان تمام بیماریوں سےنجات وشفا دینےوالا اللہ تعالیٰ ہے ان بیماریوں کے لیے جہاں دواؤں سے کام لیا جاتا ہے دعائیں بھی بڑی مؤثر ہیں۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں تاکہ قارئین ان سے اٹھاتے ہوئے اپنے مالک حقیقی سے تعلق مضبوط کرسکیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ریاض الحسنات ‘‘نامور اہل حدیث عالم دین مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی مرتب شدہ ہے اس میں انہوں نے پنجسورہ، واسماء حسنی ، اسم ااعظم اور بعض اذکار مسنونہ کو جمع کردیا ہے۔اگرچہ اب جدید اور نئی تحقیق شدہ اور خوب صورت بے شمار کتب اس موضوع پر موجود ہیں اور کافی ساری کتب ویب سائٹ پر بھی موجود بھی ہیں لیکن ان کبار علماء کی قدیم کتب کو محفوظ کرنے کی خاطر انہیں بھی ویب سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمار ے علماء اسلاف کی تمام دینی کاوش کو قبول فرمائے ۔ آمین( م۔ا)
عصمت نبوت
Authors: محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
انبیاء کرام ؑ کی عصمت کاعقیدہ رکھنا ضروریات دین میں سے ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی جھول ایمان کے لئے خطرناک ہوسکتی ہے۔شاہ اسماعیل شہید عصمت کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔:عصمت کامعنیٰ یہ ہے کہ انبیاء کرام کے اقوال وافعال، عبادات وعادات، معاملات ومقامات اوراخلاق واحوال میں حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کی بدولت اُن کومداخلتِ نفس وشیطان اورخطاونسیان سے محفوظ رکھتا ہے اورمحافظ ملائکہ کو ان پر متعین کردیتا ہے تاکہ بشریت کاغُبار اُن کے پاک دامن کو آلودہ نہ کردے اورنفس بہیمیہ اپنے بعض اموراُن پر مسلّط نہ کردے اور اگر قانون رضائے الٰہی کے خلاف اُن سے شاذ ونادر کوئی امرواقع ہو بھی جائے تو فی الفور حافظ حقیقی(اللہ تعالیٰ)اس سے انہیں آگاہ کردیتا ہے اور جس طرح بھی ہوسکے غیبی عصمت ان کوراہ راست کی طرف کھینچ لاتی ہے‘‘(منصب امامت:۷۱) زیر تبصرہ کتاب "عصمت انبیاء"جماعت اہل حدیث کے مایہ ناز داعی اور معروف عالم دین مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی کاوش ہے ،جو انہوں نے عیسائی پادری مسٹر جیمس منرو کی کتاب "عدم معصومیت محمد" کے جواب میں لکھی ہے۔عیسائی پادری نے اپنے عیسائی مذہب کے مطابق اس کتاب میں نبی کریمﷺسمیت تمام انبیاء کی عصمت کا انکار کیا ہے،اور اپنے اس عیسائی مذہب کی تائید میں قرآن مجید کی بعض آیات مبارکہ اور احادیث نبویہ سے استدلال کیا ہے ،چنانچہ مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی نے اس کا ایک مدلل اور مسکت جواب لکھ کر اس کا منہ بند کر دیا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)
اربعین ابراہیمی
Authors: محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
جمع حفاظت قرآن مجید کے بعد احادیث نبویہ اور سنن رسول اللہﷺ کے جمع و ضبط، حفاظت و صیانت پر جن احوال و ظروف اور ارشادات خاتم الانبیا نے صحابہ کرام اور تابعین عظام کو آمادہ کیا ہے ان میں ان بشارتوں کا بھی ایک خاص مقام ہے جن کی وجہ سے علمائے امت کےلیے صحرائے احادیث کے سنگ پاروں اور بحر آثار کے قطروں کو محفوظ کرنا ایک اہم علمی وظیفہ اور دینی خدمت بن گیا۔ نبی کریمﷺ نے چالیس حدیثوں کے حفظ و نقل پر جو عظیم بشارت دی ہے ا سکے پیش نظر خیر القرون سے اب تک بے شمار لوگوں نے حدیث کی حفاظت کی اور زبانی یا تحریری طریقہ سے دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔ صاحب کشف الظنون علامہ مصطفٰی بن عبداللہ معروف بکاتب چلپی نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے اپنے زمانے کے مشاہیرعلما میں سے تقریباً 75 علما کی 90 سے زائد اربعینات کا تذکرہ کیا ہے۔ حافظ ابراہیم میرسیالکوٹی کسی تعارف کےمحتاج نہیں ہیں انھوں نے بھی ’اربعین ابراہیمی‘ کے نام سے چالیس احادیث جمع کیں۔ مولانا محمد علی جانباز نے ان چالیس احادیث کی مختصر شرح کر دی جس کے بعد یہ کتاب افادہ قارئین کے لیے حاضر ہے۔(ع۔م)
شہادۃ القرآن
Authors: محمد ابراہیم میر سیالکوٹی
In History
سرزمین سیالکوٹ نے بہت سی عظیم علمی شخصیات کو جنم دیا ہے جن میں مولانا ابراہیم سیالکوٹی ،علامہ محمد اقبال، علامہ احسان الٰہی ظہیر سرفہرست ہیں مولانا ابراہیم میر 1874ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ سیالکوٹ مرے کالج میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ہم جماعت رہے ۔مولاناکا گھرانہ دینی تھا ۔لہذا والدین کی خواہش پر کالج کوخیر آباد کہہ دیا اور دینی تعلیم کے حصول کے لیے کمر بستہ ہوگے ۔اور شیخ الکل سید نذیر حسین محدث دہلوی کے حضور زانوے تلمذ طے کیا۔ مولانا میر سیالکوٹی سید صاحب کے آخری دور کےشاگرد ہیں اور انہیں ایک ماہ میں قرآن مجید کو حفظ کرنےکااعزاز حاصل ہے ۔مولانا سیالکوٹی نے جنوری1956ء میں وفات پائی نماز جنازہ حافظ عبد اللہ محدث روپڑی نے پڑہائی اللہ ان کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے ۔(آمین ) مولانا مرحوم نے درس وتدریس ،تصنیف وتالیف، دعوت ومناظرہ، وعظ وتذکیر غرض ہر محاذ پر کام کیا۔ ردّقادیانیت میں مولانا نےنمایاں کردار اداکیا مرزائیوں سے بیسیوں مناظرے ومباحثے کیے اور مولانا ثناء اللہ امرتسری کے دست وبازوبنے رہے۔ مرزائیت کے خلا ف انھوں نے17 کتابیں تصنیف فرمائیں۔ شہادۃ القرآن قادیانیت کے رد میں ان کی ایک اہم ترین کتاب ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہے۔ جس میں حیاۃ عیسی علیہ لسلام پر بحث کی گئی ہے اور قر آن مجیدکی روشنی میں مرزائیوں کے دلائل واعتراضات کا مکمل رد کیا گیا ہے اس کتاب کی افادیت کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ اس کتا ب کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبو ت کے مرکزی دفتر ،ملتان نے بارہا شائع کیااور بعض مدارس نے اس کو شامل بھی نصاب کیا ہے۔(م۔ا)