eBooks

2,841 Results Found
کاروبار میں اولاد کی شرکت

Authors: مختلف اہل علم

In Biography

By Al Noor Softs

شریعتظ کا مزاج یہ ہے کہ جو بھی معاملہ کیا جائے ،خواہ وہ قریب ترین رشتہ داروں کے درمیان ہو لیکن اسے واضح ہونا چاہیے،اس میں ایسا ابہام نہیں ہونا چاہیے جو آئندہ نزاع کا باعث بن سکتا ہو۔فقہ میں تجارت کے بہت سے احکام اسی اصول پر مبنی ہیں کہ جو معاملات کسی پہلو میں ابہام کی وجہ سے آئندہ نزاع کا سبب بن سکتے ہیں وہ درست نہیں ہوں گے ۔کاروباری اور تجارت کے مسائل میں ایک اہم مسئلہ کاروبار میں میں اولاد کی شرکت کا ہے کہ کاروبار میں والد کے ساتھ اولاد کی شرکت کس حیثیت سے ہے ؟ کیا وہ اس میں پارٹنر ہیں ؟ یا ان کی حیثت ملازم کی ہے ؟یا وہ محض اپنے والد کے معاون و مددگار ہیں ۔ زیر نظرکتاب'' کاروبار میں اولاد کی شرکت'' معاشرے میں پائے جانے والے مذکورہ کاروباری معاملات ومسائل کے حوالے ایک اہم کتاب ہے ۔جوکہ اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام انیسویں فقہی سیمنیار منعقدہ فروری 2010ءمیں پیش کئے گئے علمی،فقہی اورتحقیقی مقالات ومقاقشات کا مجموعہ ہے جس میں تقرییا 31 ممتاز اہل علم او رارباب افتاء نے اس موضوع پراپنے مقالات پیش کئے ۔ سیمینار میں ان مقالات پر کیے جانے والے مناقشات او رتجاویز وغیر ہ اور ان مقالات کاجامع خلاصہ بھی اس کتاب میں شامل اشاعت ہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی ( انڈیا) مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی کوششوں سے 1989ء میں قائم ہوئی ۔مختلف موضوعات پر اب تک بیسیوں کتب شائع کرچکی ہے بالخصوص جدیدفقہی مسائل (کلوننگ،انشورنش، اعضاء کی پیوندکاری ،انٹرنیٹ،مشینی ذبیحہ وغیرہ ) پر کتب کی اشاعت اورموسوعہ فقہیہ کویتیہ کااردو ترجمہ لائق تحسین ہے۔ موسوعہ کی بارہ جلدیں کتاب وسنت ویب سائٹ پرموجود ہیں ۔ ایفا پبلی کیشنز (اسلامک فقہ اکیڈمی ،انڈیا) اگرچہ مسلکِ احناف کا ترجمان ادارہ ہے لیکن علمی افادیت کے پیشِ نظر اور کچھ احباب کی فرمائش پرجدید فقہی موضوعا ت پرمشتمل اکیڈمی کی بعض مطبوعات کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا جا رہا ہے جن کےساتھ ادارہ کا کلّی اتفاق ضروری نہیں۔(م۔ا)

عرف و عادت

Authors: مختلف اہل علم

In Fiqha

By Al Noor Softs

فقہ اسلامی کا ایک اہم ماخذ او رسرچشمہ عرف و عادت ہے ۔عرف سے مراد وہ قول یا فعل ہے جو کسی ایک معاشرہ کےیا تمام معاشروں کے تمام لوگوں میں روا ج پاجائے ۔اور وہ اس کے مطابق چل رہے ہوں۔فقہاء کے نزدیک عرف وعادت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں ۔عرف شریعت اسلامیہ میں معتبر ہے او ر اس پر احکام کی بنیاد رکھنا درست ہے ۔کتب فقہ میں اس کی حجیت اور اقسام وغیرہ کے حوالے سے تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔زیر نظر کتاب ''عرف وعادت '' اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام آٹھویں فقہی سیمنیار منعقدہ اکتوبر 1995ء علی گڑھ میں پیش کئے گئے علمی،فقہی اور تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے جس میں عرف وعادت کی حقیقت،عرف اور اس کی اقسام کااعتبار،عرف وعادت کے معتبر ہونے کی شرطیں، عرف وعادت سے متعلق فقہی قواعد،عرف او ر اقوال فقہاء میں تعارض کے حوالے سے تفصیلی مباحث پیش کی گئی ہیں۔(م۔ا)

مجلہ بحرالعلوم محدث العصر نمبر ( محب اللہ شاہ راشدی)

Authors: مختلف اہل علم

In Knowledge

By Al Noor Softs

فضیلۃ الشیخ ابو القاسم محب اللہ شاہ راشدی ﷫ کی شخصیت او ر ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں آپ سندھ کے سادات گھرانے راشدی خاندان سے تعلق رکھتے تھے سندھ میں راشدی خاندان نہایت اہمیت کا حامل ہے مسلک اہل کو اس علاقے میں صرف ان کی بدولت ہی ترویج وترقی اور فروغ ہوا اس خاندان کی دینی ملی اور مسلکی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں شیخ محب اللہ راشدی اپنے وقت کے ایک عظیم مفکر ومحدث تھے اور صاحبِ قلم عالم دین تھے آپ نے مختلف مسائل پر اردو اور سندھی زبان میں نہایت وقیع تحقیقی کتابیں اور رسائل لکھے ۔ زیر نظرکتاب در اصل جامعہ بحر العلوم السلفیہ سندھ کے سہ ماہی مجلہ بحر العلوم کا شیخ محب اللہ شاہ راشدی کی حیات وخدمات وتاثرات پر مشتمل خاص نمبر ہے جس میں شیخ کے متعلق نامور علماء اور اہل قلم کے مضامین اور اور تاثرات کو مدیر مجلہ جناب افتخار احمد تاج الدین الازہر ی ﷾ او ران کے رفقاء نے بڑی محنت سے جمع کرکے شائع کیا ہے اللہ تعالی شیخ محب اللہ کے درجات بلند فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

انٹرنیشنل فقہ اکیڈمی جدہ کے شرعی فیصلے

Authors: مختلف اہل علم

In Fiqha

By Al Noor Softs

یہ ایک حقیقت ہےکہ موجودہ دور تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں،معاشی انقلابات اور وسائل و ذرائع کی ایجادات کا ہے۔اس لئے اس عہد میں مسائل بھی زیادہ پیش آتےہیں،چنانچہ ماضی قریب میں مختلف اسلامی ممالک میں اس مقصد کے لئے فقہ اکیڈمیوں کاقیام عمل میں آیا، جدید مسائل کو حل کرنے میں ان کی خدمات بہت ہی عظیم الشان اورقابل تحسین ہیں، اس سلسلہ کی ایک کڑی انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی ( جدہ) بھی ہےجوکہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم OIC کے تحت 1983ء میں جدہ میں قائم ہوئی۔اس اکیڈمی کے تحت اب تک مختلف ممالک میں تقریباً 19 سیمینار ہوچکے ہیں ۔ان سیمیناروں میں مجموعی اعتبار سے 133 معاشی ،معاشرتی، طبی اور اجتماعی مسائل پر بحث ہوچکی ہے اور اس کے فیصلے پوری دنیا میں قدر و وقعت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب بھی انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی (جدہ) کے تحت ہونے والا سیمینار زمیں عصر حاضر کے جدید معاشی،طبی،معاشرتی وسیاسی اور سائنسی مسائل کے بارے میں علمائے عالم اسلام کے شرعی فیصلے اور سفارشات پر مشتمل ہے ۔ جسے اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) نے مولانا مفتی محمد فہیم اخترندوی (انچارج علمی امور اسلامک فقہ اکیڈمی ،انڈیا)سے ترجمہ کروا کر شائع کیا۔ اللہ تعالی اسلامک فقہ اکیڈمی ،انڈیا کی جہود کو شرف قبولیت بخشے ۔ (آمین (م۔ا)

الشیخ بدیع الدین راشدی

Authors: مختلف اہل علم

In Biography

By Al Noor Softs

برصغیر پاک و ہند میں بلاشبہ یہ فخر صرف سندھ کو حاصل ہے کہ اسلام کا روشن سورج جب ملک عرب کے خطہ غیرذی ذرع اور ریتلی سرزمین سے طلوع ہوا تو ان کی روشن و شفاف کرنیں سب سے پہلے دیبل (سندھ) کی سرزمین پر جاپڑیں۔ اور اسلام کی روشنی اسی راستہ سے اس ملک میں پھیلی، یہی وہ مقدس سرزمین ہے ۔ جس کو صحابہ کرام ؓ تابعین عظام اور تبع تابعین کے قدم بوسی کا شرف حاصل ہے۔ اور ان کے اجسام اطہر اس سرزمین میں مدفون ہیں۔یہاں لشکر اسلام کے مبارک قدموں کے انمٹ نقوش اب تک قدیم کھنڈرات کی صورت میں دعوت فکر دے رہے ہیں۔ مجاہد اسلام محمد بن قاسم ثقفی ؒ کا پہلا جہادی معرکہ سندھ کی سرزمین میں وقوع پذیر ہوا۔جس کی مناسبت سے سندھ کو باب الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔اسلام کی دعوت و تبلیغ میں سندھی علماء کرام و مشائخ عظام اور محدثین کی بڑی خدمات ہیں۔شخصی یا خاندانی لحاظ سے سندھ کے علماء و محدثین کی ایک طویل فہرست موجود ہے ۔ اسی فہرست میں ‘‘راشدی خاندن’’ کو بہت بڑا مقام و اہمیت حاصل ہے۔اسی خاندان کے معروف چشم و چراغ مولانابدیع الدین راشدی ہیں۔ دنیائے اسلام میں آپ کو شیخ العرب و العجم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔زیرنظرکتاب درحقیقت میرپور خاص سے نکلنے والے ایک جریدہ بحرالعلوم کی اشاعت خاص ہے۔ جس میں مولانا کی سوانح عمری کے مختلف پہلوؤں پر بطریق احسن روشنی ڈالی ہے۔(ع۔ح)

اقلیتوں کےحقوق اور اسلاموفوبیا

Authors: مختلف اہل علم

In Arguments

By Al Noor Softs

چندصدیاں پہلے مختلف مذہبی اور نسلی اکائیاں الگ الگ بود و باش اختیار کرتی تھیں اور ان کے درمیان اختلاط و اشتراک بہت کم پایا جاتا تھا ۔ اس لئے اقلیتوں کا وجود کم ہوتا تھا ۔ سترویں صدی کے انقلاب اور جمہوری نظام حکومت کے ارتقاء کے باعث صورتحال میں تبدیلی آئی ۔ اور کثیر مذہبی ، کثیر لسانی ، کثیر تہذیبی اور کثیر نسلی سماج کو ارتقاء حاصل ہوا ۔ چناچہ آج بحثیت مجموع دنیا میں اقلیتیں زیادہ ہیں ۔ خود مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا میں مسلمان اقلیتوں کا تناسب پچاس فی صد ہے ۔ ان حالات نے عالمی سطح پر اقلیتوں کے حقوق کے مسلہ کو اہم بنا دیا ہے ۔ بین الاقوامی قوانین میں بھی اس کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے ۔ انسانی حقوق کے چارٹ میں اس کو شامل کیا گیا ہے ۔ اور اسی طرح دنیا کے تمام ممالک کے ملکی قوانین میں بھی اس کی رعایت کی گئی ہے ۔ کیونکہ اکثریت کا استبداد بعض اوقات اقلیت کے لئے معاشرہ کو ظلم و جور کی بھٹی بنا دیتا ہے ۔ اسی لئے اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اقتدار اور غلبہ کے دور میں بڑی حد تک اس کو ملحوظ رکھا ہے ۔ درج ذیل کتاب اسی حوالے سے انڈیا میں منعقد کرائے گئے ایک سیمینار میں کئے گئے مختلف خطابات کا مجموعہ ہے ۔ جس میں متعلقہ موضوع کے تمام پہلووں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئ ہے ۔ (ع۔ح)

انسانی حقوق اور اسلامی نقطہ نظر

Authors: مختلف اہل علم

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں ۔اللہ تعالی کی بندگی و اطاعت اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالی کے حقوق ملتے ہیں اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں ۔ اسلام میں انسانی حقوق کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ اسی لیے اسلام نے ان حقوق کو بہت واضح طور پر پیش کیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے ، انسان ایک سانپ کی طرح تنہا کسی بل میں اور ایک شیر کی طرح تنہا کسی غار میں زندگی نہیں گزار سکتا ، وہ سماج اور خاندان کا محتاج ہے اور بہت سے رشتے داروں کے حصار میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ چناچہ اس نسبت سے بھی انسان کے اوپر بہت سے حقوق عائد ہوتے ہیں ۔ والدین اور اولاد کا حق ، بیوی ، بھائیوں اور بہنوں کا حق اور پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ یہ تمام حقوق اصل اسلامی حقوق کے دائرے میں آتے ہیں ۔ اس لئے شریعت میں انسانی حقوق کا دائرہ بہت وسیع ہے اور انہیں بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ زیر مطالعہ کتاب در اصل انڈیا میں منعقد سمینار میں دیے گئے لیکچرز کا مجموعہ ہے ۔ جس میں اس موضوع کے حوالے سے تقریبا تمام پہلو آچکے ہیں ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک جامع اور فکر انگیز کتاب ہے ۔ اللہ ان تمام لوگوں کی محنت کو ان کے لیے ذریعہ نجات بنائے جنہوں نے اس کے لیے کاوش فرمائی ہے۔(ع۔ح)

مقالات تربیت

Authors: مختلف اہل علم

In Knowledge

By Al Noor Softs

مرکز التربیۃ الاسلامیہ نے 2004ء میں پختہ کار علما اور سلیم الفکر مصلحین سے علمی و فکری استفادے کے لیے ایک تربیتی اجتماع کا انعقاد کیا۔ جس میں بہت سے علمائے کرام نے اپنی گہری بصیرت اور علم و فہم کے ساتھ بہت قیمتی دروس ارشاد فرمائے۔ ان علما میں حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی رحمۃ اللہ علیہ، ڈاکٹر عبدالرشید اظہر رحمۃ اللہ علیہ، مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ، پروفیسر عبدالجبار شاکر حفظہ اللہ، حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ، حافظ محمد شریف حفظہ اللہ اور پروفیسر نجیب اللہ طارق حفظہ اللہ جیسے علمانے بھی شرکت کی اور اپنے قیمتی دروس سے عوام و خواص کو مستفید فرمایا۔ حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی ؒ نے ’دعوت کی اہمیت اور داعی کی صفات‘ پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار فرمایا۔ ’عقیدہ، فقہ اور سیاست میں محدثین کا منہج‘ کے موضوع پر حافظ عبدالرشید اظہر ؒ نے تفصیلی اور علمی انداز میں، جو کہ ان کا طرہ امتیاز تھا، خطاب فرمایا۔ دیگر علمائے کرام نے بھی اس علمی اور اصلاحی مجلس میں اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ ڈالا۔ ان قیمتی دروس کو افادہ عام کے لیے کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان مقالات کے عناوین پر ایک نظر ڈالنے سے ان کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ان مقالات میں فکر و نظر کی بہت سی بحثوں کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ تحریک اسلامی کے مخلص کارکنان اور علما و دعاۃ کے لیے کئی نئے ابواب اور میادین عمل کھلتے ہوئے نظر آتے ہیں جن میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں علما کے ان فرمودات میں طلبا و علما میں ایک نیا حوصلہ، ولولہ اور جذبہ عمل پیدا کرنے کی مخلصانہ کاوش کی گئی ہے۔ (ع۔م)

حافظ عبد المنان نورپوری ؒ

Authors: مختلف اہل علم

In Biography

By Al Noor Softs

تاریخ نام ہی اس چیز کا ہے کہ اس دنیا میں زندگی گزارنےوالوں کی زندگیوں کو محفوظ کرنا تاکہ تاریخ ساز زندگیاں آئندہ آنے والی نسلوں کےلیے مشعل راہ بن سکیں اور مقصودومنزل آسان ہوجائے۔اور یہ بات بالکل عیاں ہے کہ کسی طے شدہ پروگرام اور نمونے کےمطابق کام کرنا آسان ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پہلی قوموں کے واقعات کو محفوظ کردیا گیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی تقسیم بھی کچھ اس طرح کی ہے کہ اس میں جنت وجہنم، بعث بعدالموت اور پہلی قوموں انبیاء وصالحین وغیرہ کے تذکرے موجود ہیں۔ لہذا نیک لوگوں کی خوبیوں اور جامع کمالات شخصیتوں کے کارناموں کا ذکر سنت ربانی ہے۔اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئےمحدثین اور اہل علم نے اس فن میں سینکڑوں کتب تصنیف کی ہیں۔جن میں صحابہ کرام﷢، تابعین و تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین اور بہت سے اہل اللہ کی زندگیوں کے کارنامے ثبت اور محفوظ کردیئے گئے ہیں۔جو ہر وقت لوگوں کےلیے جشمۂ ہدایت اور مینارہ نور ہیں۔اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے ادارہ مجلہ المکرم ایک خصوصی شمارہ خاندان سلفیہ کے جشم وچراغ حضرت مولانا اسعد محمود سلفی ﷾ کے حکم سے حافظ عبدالمنان نور پوری ؒ کی سوانح سے متعلق شائع کررہا ہے۔جس میں حافظ صاحب کی زندگی کے مختلف گوشوں پر قارئین کےلیے معلومات پیش کی جارہی ہیں۔ اور آپ کی خدمات علمیہ کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔خصوصی اشاعت کےسلسلہ میں جن احباب نے مجلہ کی ادارتی ٹیم کےساتھ اس کی تیار ی میں تعاون فرمایا ہے تہہ دل سے ان کے شکر گزار ہیں۔اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں دنیا وآخرت کی بھلائیوں سے نوازے۔آمین ثم آمین یا رب العالمین۔