eBooks

2,841 Results Found
مجلہ صفدر فتنہ غامدی نمبر 1 ( جون 2015ء )

Authors: مختلف اہل علم

In Arguments

By Al Noor Softs

دورِ حاضر کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ منکرین حدیث کا ہے۔ مغرب کی چکا چوند سے متاثر ، وضع قطع میں اسلامی شعائر سے عاری، نام نہاد روشن خیالی کے سپورٹر، دینی اصولوں میں جدت و ارتقاء کے نام پر تحریف کے قائل و فاعل ، دینی احکام کی عملی تعبیر کو انتہا پسندی اور دقیانوسیت قرار دینے والے، قرآن مجید کی آڑ میں احادیث رسول ﷺ کی تاویل و تحریف کے ساتھ استہزاء کرنے والے اس گروہ کے دور حاضر کے لیڈر جناب جاوید احمد غامدی صاحب ہیں۔ جو میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے باطل افکار و نظریات کو خوب پھیلا رہے ہیں۔ جن میں معتزلہ کی طرح عقل انسانی کے بجائے فطرت انسانی کو کلی اختیارات عطا کرنا، دین اسلام کی تفہیم و تشریح میں انسانی فطرت و عربی محاورات یا دور جاہلیت کے اشعار کو بنیادی حیثیت دینا اور احادیث کو روایات کہہ کر ثانوی یا ثالثی حیثیت دے کر اوربسا اوقات قرآن سے متصادم کا لیبل چسپاں کر کے اسے پس پشت ڈال دینا، مسئلہ تحلیل و تحریم کو شریعت سے خارج کرنا، علاقائی رسومات کو تواتر عملی کا جامہ پہنا کر اسے دین بنا ڈالنا، قرآن کے نام پر مغرب کے تمام ملحدانہ افکار و نظریات کو امپورٹ کرنا ، سنت کی جدید تعریف کر کے اصطلاحات محدثین کو نشانہ ستم بنانا، قرات سبعہ کو فتنہ عجم بتانا وغیرہ وغیرہ۔رد فتنہ غامدیت کےسلسلے میں ماہنامہ محدث ،لاہور نے آغاز کیا ۔ محترم مولانا محمدرفیق چودہری صاحب نے مسلسل غامدیت کے رد میں علمی وتحقیقی مضمون لکھے جومحدث کےصفحات پر شائع ہوتے رہے بعدازاں ان مضامین کو چودہری صاحب نے اپنے ادارہ مکتبہ ’’قرآنیات‘‘ کی طرف سے کتابی صورت میں شائع کیا۔جسے اہل علم کے ہاں بڑا قبول عام حاصل ہوا ۔اور پھر اس کے بعد کئی اہل علم نے غامدیت کے رد میں مضامین وکتب تصنیف کیں حالیہ ایام میں مجلہ ماہنامہ ’’صفدر ‘‘ کی غامدیت کے رد میں جدوجہد بھی انتہائی لائق تحسین ہے۔ زیر تبصرہ مجلہ ماہنامہ کا صفدر کا ’’ فتنہ غامدی نمبر‘‘ ہے جسے ماہنامہ صفدر ک ذمہ داران نے بڑی محنت اور جدوجہد سے مرتب کر کے قارئین کے سامنے پیش کیا ہے ۔یہ فتنہ غامدی نمبر محض صفحات کاایک مجموعہ اورکاغذوں کاایک پلندہ نہیں ہے بلکہ بہت سے اہل علم کی دماغ سوزی ، بہت سے اہل دل کے درد دل اور بہت سےاہل محبت کی محبتوں کی مجسم صورت ہے ۔اور ملک بھر کے نامور قلمکار ،مضمون نگاران اور جید علماء کرام ،مفیانِ عظام کی قیمتی تحریروں کا بیش قیمت مجموعہ ہے ۔یہ خاص نمبر ٹی وی اور میڈیا کے شہرت یافتہ متجدد ،آزادخیالی کے داعی دورِ حاضر کے منکرِحدیث نام نہاد دینی اسکالر جاوید احمد غامدی کے گمراہ کن افکار ونظریات کا تحقیقی وعلمی محاسبہ پر مشتمل علمی دستاویزات ہے ۔اس میں ایک باب جاوید غامدی اور اس کے ہم خیال احباب کے افکار ونظریات کے حامل افراد کے متعلق ملک کے نامور مفیان کے فتاوی ٰ جات پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے دلائل سے جاوید غامدی کوان کےافکار ونظریات کی وجہ سے ملحد وزندیق قرار دیا ہے ۔یقیناً اس کا حق اور اس کی قدر کا طریقہ یہی ہے کہ اس کی دعوت کودل کے نہاں خانوں سے اتار کر اسے گلی گلی، کوچہ کوچہ عام کیا جائے،غامدیت اور ہر باطل کے زہر سے خود کومحفوظ رکھنے کے علاوہ ہر مسلمان کو اس ایمان سوز فتنے سے بچانے اوراس کی ضلالت کو سمجھانے کی کوشش کی جائے۔اللہ تعالیٰ محترم مولانا احسن خدامی ، حمزہ احسانی اور کے معاونین ،اوراس خاص نمبر کو منظر عام پرلانے میں شامل تمام احباب کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور اسے مسلمانوں کےلیے فتنہ غامدیت سے بچنے کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

رہنمائے حجاج ضیوف الرحمن کی خدمت میں

Authors: مختلف اہل علم

In Worship and matters

By Al Noor Softs

حکومت ِسعودی عرب ہر سال لاکھوں کی تعداد میں باہر سے آنے والے حجاج اور لاکھوں داخلی حجاج کا اپنی مادی اور بشری قوتیں بروئے کار لاتے ہوئے استقبال کرتی ہے ۔اور اس سلسلے میں اپنی تمام ترمادی وبشری توانائیاں بروئے کار لاتی ہے کہ منظم انداز میں حجاج بیت اللہ کی خدمت کرسکے اور ان کی رہائش ونقل وحمل کو آسان بناسکے ،نیز دیگر سہولیات بھی ایک محدود وقت اور مخصوص جگہ میں مہیا کرسکے ۔اور اس مملکت سعودی عرب سے اللہ تعالیٰ کی مدد وتوفیق ہی کا نتیجہ ہے کہ یہ اتنے بڑے اجتماع کے معاملات چلاتی ہے جس کی مثال ساری دنیا میں ملنا مشکل ہے ۔ وزارت اسلامی امور واوقاف ودعوت وارشاد اس حکومتی ڈھانچہ کا حصہ ہے جو حج کےامور میں ہر سال شریک رہتاہے’’تربیت اسلامی برائے حج ‘‘ بھی اسی وزارت کی ذمہ دار ی ہے ۔اس لیے اس وزارت اوقاف کے تحت سیکڑوں مبلغین کو مکہ اور دیگر مقدس مقامات اور بری وبحری او رہوائی راستوں سے آنے والے حجاج کےکیمپوں میں متعین کیا جاتاہے۔ اور اسی طرح یہ وزارت ہی تمام میقاتوں کی جہاں پر حجاج احرام باندھتےہیں مسؤل ہے ۔اور یہی وزارت ان میقاتوں پر موجود مساجد کی ذمہ دار ہے۔ان جگہوں پر یہی مختلف طلبہ کو متعین کرتی ہے تاکہ وہ حجاج کرام کی دینی رہنمائی کرسکیں اور حجاج صحیح شرعی طریقے سے حج ادا کرسکیں اور حج کے احکام کے سلسلے میں ان سے مسائل بھی پوچھ سکیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رہنمائے حجاج ضیوف الرحمن کی خدمت میں ‘‘حکومت سعودی کی وزارت اطلاعات ونشریات کی طرف سے شائع کی گئی جس میں حجاج کرام کےلیے حج سے متعلق معلومات اوروزارت حج کے تفصیلی پروگرام اور اس کے دیگر وہ کام جو میقات اور منیٰ وعرفات میں وزارت سرانجام دیتی ہے۔انہیں اس کتاب میں درج کردیا ہے۔نیز سعوی عرب کے اہم مقامات اور میقات کاتعارف ، مناسک وحرمین کی توسیع کے تفصیلی معلومات بھی اس کتاب میں شامل کردی ہیں۔اللہ تعالیٰ سعودی عرب کے حکام کو صراط مستقیم پر قائم رکھے او ر اشاعت ِدین کےلیے ان کی خدمات کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

قرآنی وظائف

Authors: مختلف اہل علم

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ اپنےکلام مجید میں جابجا اپنے بندوں کودربار الٰہی سے مانگنے کی ترغیب دلائی ہے اور ساتھ ہی انہیں اس کا سلیقہ اور ڈھنگ بھی سکھایا ہے۔ قرآن مجید میں انبیاء کرام ﷩ کے واقعات کے ضمن میں انبیاء﷩ کی دعاؤں او ران کے آداب کاتذکرہ ہوا ہے ۔ ان قرآنی دعاؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے سب سے برگزیدہ بندے کن الفاظ سے کیا کیا آداب بجا لاکر کیا کیا مانگا کرتے تھے ۔ انبیاء﷩ کی دعاؤں کو جس خوبصورت انداز سے قرآن مجید نے پیش کیا ہے یہ اسلوب کسی آسمانی کتاب کے حصے میں بھی نہیں آیا ۔ ان دعاؤں میں ندرت کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر قسم کی ضرورت کے بہترین عملی اور واقعاتی نمونے بھی ہماری راہنمائی کے لیے فراہم کردیئے گئے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء ان دعاؤں کو شرف قبولیت سے بھی نوازا۔ زیر تبصرہ کتاب’’ قرآنی وظائف‘‘ مکتبہ اسلامیہ ،لاہورکے مدیر جناب مولانا محمد سرور عاصم ﷾ کی نگرانی میں ان کے ادارے کے ریسرچ سکالرز نے مرتب کی ہے ۔اس کتاب میں دعا کی اہمیت ، فضیلت اورآداب کو ذکرکرنے کےبعد انبیاء﷩ کی دعاؤں کو درج کیا گیا ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں ان کو یاد کرنے اور اللہ تعالیٰ کے حضور مانگنے کی عادت بنانی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے درکا سوالی بنائے رکھے اور دعا کےآداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے دعا کرنے کی توفیق عطار فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

مسئلہ حیات عیسٰی ابن مریم علیہ السلام

Authors: مختلف اہل علم

In Worship and matters

By Al Noor Softs

امت مسلمہ مسئلہ حیات مسیح ؑ پر ہر دور میں متفق رہی ہے ۔لیکن مرزا قادیانی کے کچھ نفس پرستوں نے خود ساختہ عقلی دلائل کا سہارا لے کر مسئلہ حیات مسیح ؑ پر امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اور الحمد اللہ ہمارے بزرگان دین اور علماءکرام نے ایسے فتنوں کا پوری طرح تعاقب کیااور ان کو کیفر کردار تک پہنچایا ہے۔قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جب یہود نے عیسی ؑ کو صلیب دے کر قتل کرنے کی کوشش کی تو قرآن نے جو فرمایا کہ 'اللہ نےانہیں اپنی طرف بلند کردیا 'وہ حقیقت میں انہیں بلند نہیں کیا گیا تھا بلکہ انکے درجات بلند کردیے گئے تھے ، اس جگہ پر درجات کے بلند ی کا یہ فیدہ ہوا کہ صلیب پر وہ زندہ رہے اور یہود کو شبہ لگ گیا کہ وہ وفات پاچکے ہیں اور وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے، عیسی پھر کسی اور علاقہ میں چلے گئے وہاں تقریبا نصف صدی حیات رہے پھر طبعی وفات پائی اور انکی قبر کشمیر میں ہے۔یہی عقیدہ تھوڑی سی کمی پیشی کیساتھ غامدی صاحب کا بھی ہے ، یہ بھی ان قادیانیوں کی طرح وفات عیسی کا عقیدہ رکھتے ہیں لیکن کہانی تھوڑی سی مختلف بیان کرتے ہیں۔ غامدی صاحب فرماتے ہیں کہ عیسی ؑ کو صلیب کے قریب ہی موت دی گئی پھر انہیں کہیں دفن کرنے کے بجائے انکا جسم آسمان پر اٹھا لیا گیااور اب وہ دوبارہ نہیں آئیں گے۔ زیر تبصرہ کتاب" مسئلہ حیات عیسی بن مریم علیہ السلام"میں 24 کبار علماء کرام کے فتاوی کی روشنی میں مسئلہ حیات عیسی بن مریم کو ثابت کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مفتی علماء کرام اورمرتب کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

جدید اقتصادی مسائل شریعت کی نظر میں

Authors: مختلف اہل علم

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

دور جدید کا انسان جن سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔عصر حاضر میں متعدد ایسے اقتصادی مسائل پیدا ہو چکے ہیں جن کے بارے میں شرعی راہنمائی کی اشد ضرورت تھی۔ زیر تبصرہ کتاب " جدید اقتصادی مسائل ، شریعت کی نظر میں"عالم اسلام کے جید علماء اور ماہرین معاشیات کی تحقیقات کا ماحصل ہے جو البرکہ انٹر نیشنل کے زیر اہتمام عالمی سیمینارز میں پیش کیا گیا۔یہ کتاب اپنے موضوع ایک انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مقالات نگار اور مرتبین وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

عصر حاضر میں اجتہاد اور اس کی قابل عمل صورتیں

Authors: مختلف اہل علم

In Faith and belief

By Al Noor Softs

فقہ اسلامی میں اجتہاد کا موضوع بیک وقت نہایت نازک اور نہایت اہم ہے ۔ اجتہاد کی ضرورت ہر دور میں مسلم رہی ہے اوردورِ جدید میں اس ضرورت کے بڑھ جانے کا احساس شدید سے شدید تر ہوتاچلاجارہا ہے ۔ تاہم اس باب میں انتہائی احتیاط کو ملحوظ رکھنا بھی اتناہی ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’عصر حاضر میں اجتہاد اوراس کی قابل عمل صورتیں ‘‘شیخ زاید اسلامک سینٹر،لاہور،کراچی اور پشاور کی بیس سالہ تقریبات کے ضمن میں شیخ زائد اسلامک سینٹر،لاہور کےتحت ’’عصر حاضر میں اجتہاد اور اس کی قابل عمل صورتیں‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا ۔اس سیمینار میں ملک کے نامور علماء اور ارباب فکر نے شرکت فرمائی اور مقالات پیش کیے ۔ ان مقالات میں اجتہاد کے موضوع پر بعض نہایت فکر انگیز نکتے سامنے آئے ۔ان مقالات کی اہمیت کے پیش نظر ڈاکٹر حافظ عبد القیوم صاحب نے محمود احمد غازی،مولانا زاہد الراشدی،ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی اور ڈاکٹر طاہر منصوری کے مقالات کو مرتب کیا اورشیخ زاید اسلامک سینٹرلاہور نے دس سال قبل اسے کتابی صورت میں شائع کیا۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کوطباعت کے لیے تیار کرنے والوں اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

مقالات سیرت النبی ﷺ، قومی سیرت کانفرنس 2001ء (برائے خواتین)

Authors: مختلف اہل علم

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالم اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سالانہ قومی سیرت کانفرنس کاانعقاد کیا جاتا ہے جس میں اہل علم اورمضمون نگار خواتین وحضرات اپنے مقالات پیش کرتے ہیں ۔ جن کوبعد میں کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’مقالات قومی سیرت کانفرنس‘‘ 2001 میں ’’ خواتین کے حقوق وفرائض تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں ‘‘ کےعنوان پر خواتین کی قومی سیرت کانفرنس میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے ۔جس میں مذکورہ موضوع پر میں ملک بھر سے 32 خواتین کے مقالات شامل ہیں جسے وزارت مذہبی امور پاکستان نے مرتب کر کے طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت رسولﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ (آمین) سیرت النبی ﷺ (م۔ا)

مقالات سیرت النبی ﷺ، قومی سیرت کانفرنس 2001ء (برائے خواتین)

Authors: مختلف اہل علم

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالم اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سالانہ قومی سیرت کانفرنس کاانعقاد کیا جاتا ہے جس میں اہل علم اورمضمون نگار خواتین وحضرات اپنے مقالات پیش کرتے ہیں ۔ جن کوبعد میں کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’مقالات قومی سیرت کانفرنس‘‘ 2001 میں ’’ خواتین کے حقوق وفرائض تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں ‘‘ کےعنوان پر خواتین کی قومی سیرت کانفرنس میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے ۔جس میں مذکورہ موضوع پر میں ملک بھر سے 32 خواتین کے مقالات شامل ہیں جسے وزارت مذہبی امور پاکستان نے مرتب کر کے طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت رسولﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ (آمین) سیرت النبی ﷺ (م۔ا)

مقالات سیرت النبی ﷺ، قومی سیرت کانفرنس 2001ء (برائے خواتین)

Authors: مختلف اہل علم

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالم اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سالانہ قومی سیرت کانفرنس کاانعقاد کیا جاتا ہے جس میں اہل علم اورمضمون نگار خواتین وحضرات اپنے مقالات پیش کرتے ہیں ۔ جن کوبعد میں کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’مقالات قومی سیرت کانفرنس‘‘ 2001 میں ’’ خواتین کے حقوق وفرائض تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں ‘‘ کےعنوان پر خواتین کی قومی سیرت کانفرنس میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے ۔جس میں مذکورہ موضوع پر میں ملک بھر سے 32 خواتین کے مقالات شامل ہیں جسے وزارت مذہبی امور پاکستان نے مرتب کر کے طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت رسولﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ (آمین) سیرت النبی ﷺ (م۔ا)