eBooks
2,841 Results Found
مقالات قومی سیرت کانفرنس 2004ء ( برائے خواتین)
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
اس روئے ارضی پر انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے بعد حضرت محمد ﷺ ہی ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ، رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیےبہترین نمونہ ہے اور دنیا جہان کے تمام انسانوں کے لیے مکمل اسوۂ حسنہ اور قابل اتباع ہیں ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔پاکستان میں ہر سال وزارت مذہبی امور کے زیر انتظام سیرت کانفرنس منعقد ہوتی ہے کا نفرنس میں خاص موضوع پر پیش کیے جانے والے مقالات کو کتابی صورت میں پیش کیا جاتاہے۔ زیر نظر کتاب ’’ مقالات قومی سیرت کانفرنس 2004ء (برائے خواتین) ‘‘قومی سیرت کانفرنس میں کانفرنس کے خاص موضوع’’دور حاضر میں مذہبی انتہائی پسندی کا رجحان اور اس کا خاتمہ تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں ‘‘ سے متعلق مختلف اہل قلم خواتین کی طرف سے پیش کیے جانے والے 28؍ علمی وتحقیقی مقالات کی کتابی صورت ہے ۔جسے وزارت مذہبی امور پاکستان نے مرتب کر کے طباعت سے آراستہ کیا ہے (م۔ا)
مقالات قومی سیرت کانفرنس 2003ء
Authors: مختلف اہل علم
اس روئے ارضی پر انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے بعد حضرت محمد ﷺ ہی ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ، رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیےبہترین نمونہ ہے اور دنیا جہان کے تمام انسانوں کے لیے مکمل اسوۂ حسنہ اور قابل اتباع ہیں ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔پاکستان میں ہر سال وزارت مذہبی امور کے زیر انتظام سیرت کانفرنس منعقد ہوتی ہے کا نفرنس میں خاص موضوع پر پیش کیے جانے والے مقالات کو کتابی صورت میں پیش کیا جاتاہے۔ زیر نظر کتاب ’’مقالات قومی سیرت کانفرنس 2003ء ‘‘ قومی سیرت کانفرنس میں کانفرنس کے خاص موضوع’’نئے عالمی نظام کی تشکیل اور امت مسلمہ کی ذمہ داریاں تعلیمات نبویﷺ کی روشنی میں ‘‘ سے متعلق پیش کیے جانے والے خطبات ، مقالات ، تقاریر کی کتابی صورت ہے جوکہ تین خطبات دس تقاریر اور کانفرنس میں مختلف اہل قلم کی طرف سے پیش کیے جانے والے 29 مقالات پر مشتمل ہے ۔جسے وزارت مذہبی امور پاکستان نے مرتب کر کے طباعت سے آراستہ کیا ہے (م۔ا)
500 سوال و جواب برائے عبادات
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
پوری کائنات اور کائنات کی ہرہر چیز اللہ رب العزت کی عبادت گزار ہے البتہ عبادت کا طریقہ ہر مخلوق کےلیے الگ الگ ہے ۔عبادت پورے نظام زندگی کانام ہے جس میں تجارت و معیشت بھی ہے اور سیاست ومعاشرت بھی،اخلاقیات بھی ہیں اور معاملات بھی حقوق وفرائض ِ انسانی کی تفیصلات بھی ہیں ۔ اور روح وباطن کی تسکین واصلاح کے لیے عبادات کا سلسلہ بھی ۔جب انسان کی تخلیق عبادت کے لیے ہوئی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی عبادت کا انداز کیا ہو؟ اسے کس طرح اپنے رب کی بندگی کرنی ہے ؟ اور عبادت کہتے کسے ہیں ؟ان سوالات کو کتاب وسنت کے ورشنی میں سمجھنے اور سمجھانے کے لیے قرآن واحادیث کی واضح تعلیمات موجود ہیں ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’500سوال وجواب برائے عبادات ‘‘ سعودی عرب کے نامور مفتیان عظام شیخ ابن باز ، شیخ صالح العثیمین، شیخ صالح الفوزان اور فتاوی کمیٹی کے دیگر مفتیان کے عبادات (طہارت ، نماز ، روزہ ، زکاۃ، حج وعمرہ ) کےمتعلق 500 سوال وجواب پر مشتمل عربی کتاب 500سوال وجواب للعبادات کا اردو ترجمہ ہے ۔ اس کتاب کو عربی سے اردو قالب میں جناب مولانا محمد یاسر صاحب نے ڈھالا ہے ۔ اس میں عوام الناس کے عبادات کےمتعلق پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن وسنت کی روشنی میں میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس کی خصوصیت یہ ہےکہ اس میں عالم اسلام کے نامور علماء کے فتاویٰ کو یکجا کیاگیا ہے جو کسی امتی کے اقوال پر مبنی نہیں بلکہ خالصتاً کتاب وسنت کی بنیاد پر تحریر کیے گئے ہیں۔اس مجموعے کی ایک امیتازی صفت یہ بھی ہے کہ اس میں صرف صحیح اور ثابت احادیث پر اعتماد کیاگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کوعامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)
مجلہ نقوش رسول ﷺ نمبر جلد۔1
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
سیرتِ رسولﷺ پر منثور اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کرنے کا لا متناہی سلسلہ صدیوں سے جاری ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا، بلکہ فرمان الٰہی کے مطابق ہر آنے والے دور میں آپ کا ذکر خیر بڑھتا جائے گا۔دنیا میں ہزار وں سماجی مصلحین ،فلاسفہ و حکماء ،مدبرین و سیاست داں، مقنّنین ومنتظمینِ سلطنت، انسانوں کا بھلا چاہنے والے اور ان کی فلاح و بہبود کے کام کرنے والے آئے، لیکن انسانی سماج پر جتنے ہمہ گیر اثرات خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی ذاتِ گرامی کے مرتب ہوئے، اتنی اثر آفرینی کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔۔ رسول اللہﷺ کی شخصیت اور پیغام کے بارے میں ہر زمانے میں اور دنیا کے ہر خطے میں بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ جاری وساری ہے اور قیامت تک رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ زیرِ تبصرہ’’ نقوش رسول نمبر‘‘کو مصنف نے سیرت کے موضوع پر لکھے گئے جتنے اچھے اچھے مقالات تھے سب کو اس نمبر کی زینت بنایا ہے اور جن موضوعات پر کام کا مواد نہ تھا اُن موضوعات پر نئے سرے سے کام کروایا۔ اور سیرت کی دوسری کتابوں کی نسبت اس میں بہت تفصیل کے ساتھ لکھا گیا ہے. جہاں دوسری کتابوں میں ہر موضوع پر دو یا ایک صفحے ملیں گے تو اس میں آپ کو اُ س موضوع پر بیسیوں صفحات ملیں گے اور اس میں تکنیک اور مصادر پر آٹھ سو سولہ کے قریب صفحات پیش کیے گئے ہیں جو کہ اس سے پہلے ایسا کام نہیں ہوا۔اس نمبر میں سیرت کی جامعیت اور سیرت نگاری کے اصول اور سیرت کا مکمل مواد کہاں کہاں سے ملے گا کو بڑے احسن اور سلیس زبان میں پیش کیا گیا ہے۔ سیرت کا اولین دور اور اولین کتب کی فہرست اور تفصیل بھی دی گئی ہے۔مصنف نے اس رسالے کو ’’نقوش رسول نمبر‘‘ کے نام سے تصنیف کیا ہے۔ جو کہ سیرت پر بہت عمدہ مواد کا حامل ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )
سیرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ
Authors: مختلف اہل علم
بے شک امت اسلامیہ پے در پے زخموں سے چور اپنے بدن پر متواتر تیر سہہ رہی ہے اور ہمیشہ سے اسلام کے اندرونی وبیرونی دشمن اس پر زہریلے تیر برسا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی شریعت اور اس کے عقیدے کو بدنما کر ڈالیں۔دشمنانِ اسلام نے اُمت اسلامیہ کو جن تیروں کا نشانہ بنایا ہوا ہے‘ ان میں سب سے سخت واذیت ناک تیر پیغمبر اسلامﷺ کی عزت پر حملہ ہے۔ جو تمام انسانیت کے قائدہیں‘ ان کا نام نامی اسم گرامی محمد بن عبداللہﷺ ہے۔چونکہ دشمنانِ اسلام نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ بن ابی بکر صدیقؓ کی ذات پر بہتان تراشی کر دی اور کتاب وسنت میں جو کچھ آ چکا ہے‘ سیدہ کے ارد گرد انہوں نے شبہات پھیلا دیے یا ان کی ذات اطہر پر جھوٹا افسانہ چسپاں کرنے کی کوشش کی لیکن الحمد للہ! دشمنوں نے جو چاہا نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور اللہ رب العزت نے اپنا خاص فضل وکرم کیا کہ جب بھی کوئی آزمائش آتی ہے تو ساتھ ہی عطیاتِ رحمانی بھی ہوتے ہیں۔۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص اللہ کے نبیﷺ کی ناموس کی حفاظت پر ہے کیونکہ ازواج مطہرات کی ناموس کی حفاظت ہی ناموس رسالت ہے۔ اس کتاب میں ام المؤمنین کی سیرت کے چھپے گوشوں کو نمایاں کیا گیا ہے اور آلِ بیت عظامؓ کے ساتھ والہانہ شیفتگی ومؤدت کا اظہار کیا گیا ہے اور سیدہ عائشہؓ کی ناموس کے خلاف یا ان پر ہونے والے اعتراضات کو رفع کیا گیا ہے ۔ اس کتاب میں بہت سے مقالہ جات کا نچوڑ موجود ہے‘ علمی وتحقیقی مقالات سے اہم اور مفید مواد کو یکجا کیا گیا ہے اور اس کی بھی کانٹ چھانٹ کر کے کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس میں بے شمار اضافہ جات کر کے نامکمل عبارات ومواد کو مکمل کیا گیا ہے تاکہ ام المؤمنینؓ کی سیرت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔کتاب میں وارد ہونی والی احادیث وآثار کی پہلی مرتبہ مکمل تخریج وتحقیق کی گئی ہے۔ لغت کی کتابوں سے مشکل الفاظ کے معانی اور احادیث وغیرہ کی شرح کی گئی ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ ‘‘ علماء مشائخ کمیٹی سعوی عرب کی مرتب کردہ ہے۔یہ کمیٹی تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتی ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ بھی اس کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
سہ ماہی ’’العاصم‘‘، 2016 (قراءات نمبر)
Authors: مختلف اہل علم
اللہ رب العزت نے اپنے نبیﷺ کو عظیم نعمت قرآن مجید سےنوازا اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود لیا۔ اور اس کتاب کو پڑھنے اور پڑھانے والے کو نبی آخر الزماں نے بہترین لوگ قرار دیا ہے۔قراءت اور علوم قراءت دینی علوم میں بنیادی اور ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ حالات میں دینی علوم کی نئی نئی تشریحات اور توضیحات ہو رہی ہیں۔ علوم قراءت میں بھی نت نئی تالیفات اور تصنیفات منظر عام پر آرہی ہیں اور دینی علوم پڑھنے اور پڑھانے والوں کے لیے قراءات اور دیگر علوم کا جاننا ازحد ضروری ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب ایک سہ ماہی مجلہ ہے جو خاص علم قراءت نمبر ہے۔ اور کسی بھی علم کو محفوظ کرنا اس کی کتابت کے ذریعے ممکن ہے اور کتابت کے بعد پھر خاص کسی ایک موضوع پر کسی مجلہ کا شائع ہونا اس کی اہمیت وفوقیت پردال ہوتا ہے۔ اس مجلہ میں طویل ابحاث سے گریز کرتے ہوئے اسے اختصار کی زینت دی گئی ہے اور اس میں دیے جانے تمام مضامین خاص طور پر قراءت کی اہمیت اور قواعد وغیرہ سے متعلقہ ہی ہیں۔ یہ کتاب’’ مجلہ العاصم’قراءت نمبر‘‘‘ قاری عبد الواحد ان کے مدیر ہیں اور المدرسۃ العالیہ تجوید القرآن ادارہ ہے۔ ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے اوروجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
14 اگست 1947ء وہ تاریخ ساز دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کا ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا خواب حقیقت سے شناسا ہوا ور دنیا کے نقشے پر اپنے وقت کی سب سے بڑی مملکت معرض وجود میں آئی۔انسانی تاریخ میں ہجرت مدینہ کے بعد ہجرت پاکستان غالبا سب سے بڑی ہجرت تھی، جس میں مسلمانوں نے ایک نظریہ اور مقصد کی خاطر بننے والی مملکت کے لئے اپنے آبائی گھر چھوڑے اور جان ومال اور عزتوں کی لازوال قربانیاں دیں۔پاکستان کی آئندہ تمام نسلیں اپنے ان اسلاف کی احسان مند اور مقروض رہیں گی جن کی مساعی اور بے پناہ قربانیوں کے نتیجہ میں پاکستان وجود میں آیا۔مسلمان ایک الگ مسلم قومیت کے حامل تھے۔اسی مسلم قومیت کے تصور نے ایک اسلامی مملکت پاکستان کی خواہش پیدا کی۔جب برصغیر کے مسلمان حصول پاکستان کے لئے جدوجہد کر رہے تھے تو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ان کے اغراض ومقاصد واضح اور اہداف متعین تھے۔قائدین وبانیان پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال،نواب بہادر یار جنگ، علامہ شبیر احمد عثمانی، نواب زادہ لیاقت علی خان اور چوہدری رحمت علی وغیرہ نے متعدد مواقع پر پاکستان کے اسلامی تشخص کا برملاء اظہار فرمایا۔ زیر تبصرہ کتاب" تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں"شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی شائع کردہ ہے۔جس میں بانیان پاکستان کی نظر میں پاکستان کے تصور کو اجاگر کیا گیا ہے، تاکہ پاکستان کی نئی نسل کو مقاصد پاکستان سے روشناس کروایا جا سکے۔(راسخ)
سیرت الصحابیات مع اسوہ صحابیات
Authors: مختلف اہل علم
اسلام کی قدیم تاریخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے اور آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے دور حاضر میں مغربی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزید خواتین کوچھوڑ کر راہِ راست سے ہٹی ہوئی خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں اسلام کے ہردور میں اگرچہ عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے لیکن ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہمار ی عورتوں کے لیے انہی کے دینی ،اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے اسوۂ حسنہ بن سکتے ہیں اور موجودہ دور کےتمام معاشرتی او رتمدنی خطرات سے ان کو محفوظ رکھ سکتےہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’سیر الصحابیات مع اسوۂ صحابیات ‘‘ صحابیات کے حوالے سے تین مختلف کتابوں کا مجموعہ ہے ۔ اسوۂ صحابیات مولانا سعید انصاری ، سیر الصحابیات مولانا عبدالسلام ندوی اور مسلمان عورتوں کی بہادری علامہ سید سلیمان ندوی کی مشترکہ تصنیف ہے انہوں نے اس کتاب میںدور حاضر کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے ازواج مطہرا ت طیباتؓ ، اکابر صحابیات ؓاو ر نامور مسلمان بہادرخواتین کے مستند اور مؤثر واقعات کا ایک مجموعہ مرتب کردیا ہے تاکہ دور حاضرین کی خواتین اورلڑکیاں صحابیا ت ؓ کی اخلاقی،معاشرتی اوربہادری کے واقعات کو اپنے لیے نموہ بنا سکیں۔(م۔ا )
صرف پانچ منٹ کا مدرسہ جلد اول
Authors: مختلف اہل علم
خطابت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے، جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات کودوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے۔ زیرتبصرہ کتاب"صرف پانچ منٹ کا مدرسہ" مختلف علماء کرام کی مشترکہ کاوش ہے، جس میں انہوں نے خطباء اور واعظین کے لئے پورے عربی سال کے حساب سے تین سو ساٹھ دروس اکٹھے کر دئیے ہیں اور ان میں طریقہ کار یہ اختیار کیا ہے کہ ہر درس میں دس عنوانات بنائے ہیں،جنہیں آدمی پانچ منٹ میں مقتدیوں، طلبہ اور بچوں کے سامنے پڑھ سکتا ہے۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد محرم تا جمادی الثانی تک جبکہ دوسری جلد رجب سے ذی الحجہ تک مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)