eBooks
2,841 Results Found
معجزات قرآنی
Authors: ہارون یحییٰ
چودہ صدیاں قبل اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کےلیے قرآن نازل فرمایا اور حق کی تلاش کے لیے اس کتاب کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا ۔ اپنے نزول کے دن سے روز قیامت تک یہی مقدس کتاب تمام انسانیت کی رہنمائی کا واحد ذریعہ ہے ۔ قرآن حکیم کا منفرد اندازِ بیان اور عظیم دانائی اس کابین ثبوت ہیں ۔ کہ یہ کلام الٰہی ہے ۔ قرآن کی ایک ایک صفت یہ ثابت کرتی ہے کہ بے شک یہ اللہ عزوجل ہی کاکلام ہے کسی انسان کا کلام نہیں ۔ قرآن عظیم کی ایک نمایاں صفت اس میں بیان کئے گئے وہ سائنسی حقائق ہیں جن کاآج سےپہلے جاننا ممکن نہ تھا ۔مگر قرآن نے چو دہ سو برس پہلے انہیں بیان کردیا۔بلاشبہ قرآن پاک سائنس کی کوئی کتاب نہیں ہے لیکن ا س میں بیان کئے گے بہت سےسائنسی حقائق جوبیسویں صدی کی ترقی اور ٹیکنالوجی ہی کی بدولت دریافت ہوئے ہیں ۔قرآن حکیم کے نزول کے وقت ان سائنسی حقائق کاجاننا اور دریافت کرنا ممکن ہی نہ تھا۔ یہ حقیقت اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ قرآن پاک خدا کاکلام ہے ۔زیر نظر کتاب ’’ معجزات قرآنی ‘‘ترکی کے نامور مصنف جدید اور سائنسی علوم کے ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾ کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے قرآن پاک کے سائنسی حقائق کےساتھ ساتھ قرآن پاک میں بیان کئے گئے ایسے حقائق کوبھی بیان کیا ہے جن کا تعلق تاریخ اور مستقبل سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)
خلیہ اک کائنات
Authors: ہارون یحییٰ
قرآن کریم انسانوں کی رہنمائی کےلیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے آخری کتاب ہے ۔اس میں تمام سابقہ آسمانی کتابوں کا نچوڑ اور لب لباب موجود ہے اس لیے یہ کتاب اس مقام پر اانسان کی رہنمائی کرتی ہے جہاں اس کی عقل اپنی آخری حدوں کو چھولینے کے بعد حیران راہ جاتی ہے ۔اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے انسان کوجگہ جگہ اپنی قدرت کی نشانیوں کےذریعے اپنے آپ کوپہچاننے کی دعوت دی ہے ۔کہیں انسان کو اپنے بدن پر غور کرنے کی دعوت ہے تو کہیں اپنے ماحول پر ۔کہیں آسمانوں پر غور کرنے کو کہا جارہا ہے توکہیں پانی اورآگ پر نظر التفات کرنے کی دعوت دی جاتی ہے ۔اس دعوت کا مقصود صرف اور صرف یہ ہے کہ انسان کی نظر مادے سے ہٹا کرمادے کے خالق کی جانب لگائی جائے ۔زیر نظر کتاب ’’ خلیہ ایک کائنات‘‘ ترکی کے نامور مصنف جدید اور سائنسی علوم کے ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اپنی دیگر تصانیف کی طرح سائنس اور عقل کی بھول بھلیوں میں گم عقل انسانی کو وحی کی روشنی میں چلنے کی دعوت دی ہے ۔اور انہوں نے ہمارے ماحول میں پھیلے لاکھوں اور کروڑوں معجزوں میں سے صرف چند ایک کا تذکرہ اس کتاب میں کیا ہے اوراس بارے میں سائنس کی آخری حد بیان کرنے کے بعد اس جانب توجہ دلائی ہے کہ اس سے آگے کا کام اس خالق کائنات کا ہے جس نے یہ کارخانہ تخلیق کیا ہے انہوں نے جگہ جگہ سائنس کی قلعی کھولی ہے اور بتایا ہے کہ سائنس ابھی تک کائنات کی حقیقت تو کیا اس کے کسی ایک جزو کی پور ری ماہیت کوبھی نہیں سمجھ سکی ۔اللہ تعالیٰ مصنف ِ کتاب کی تمام کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو لوگوں کے لیے خالق کائنات کی صحیح معرفت کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)
خوف خدا
Authors: ڈاکٹر محمود احمد غازی
اللہ تعالیٰ کاخوف ہی دراصل اللہ پرکامل ایمان ہونے کاٹھوس ثبوت اورآخرت کی زندگی میں ملنے والے اجر کی اہم نشانی ہے ۔ آخرت کی زندگی میں خود کو نارِ جہنم سے محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ خوف ِ الٰہی او رپرہیز گار ی کو اختیار کرنے میں ہے ۔روز ِحساب ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے جس سےبچنا ناممکن اور جس کے بارے میں خصوصی طور پر غور وفکر کرنالازم ہے۔ تاہم یہ خوف صرف ایمان والوں کونصیب ہوتاہے اور یہ ایک خاص قسم کاخوف ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات اور نبی کریم ﷺ نےاحادیث میں روزِ قیامت پیش آنے والے مختلف واقعات بیان کردیئے ہیں ۔دنیا کی مختصر سی زندگی میں انسان جوکام بھی کرتا ہے اس کے اعمال نامے میں لکھا جارہا ہے ۔ اورہر انسان اس دن کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے جب انسان کواللہ کےحضور پیش ہوکر اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ چنانچہ اہل ایمان کو یہ امید کرنی چاہیےکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان لوگوں میں شامل کردے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئےاس کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ کا خوف بڑی چیز ہے ۔ جسے یہ دولت حاصل ہوگی وہ بہت بڑا خوش نصیب ہے ۔ جس کےدل میں خوف الٰہی ہوگا وہ گناہوں سے دور رہے گا اوراس کےلیے بڑے برے درجات ہیں ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ(سورۃ الرحمن:46) یعنی جو شخص قیامت کےدن اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کاڈر اپنے دل میں رکھتا ہے اوراپنے تئیں نفس کی خواہشوں سےپچاتا ہے اور سرکشی نہیں کرتا ہے۔ زندگانی کے پیچھے پڑ کر آخرت سے غفلت نہیں کرتا ،بلکہ آخرت کی فکر زیادہ کرتا ہےاور اسے بہتر اور پائیدار سمجھتا ہے ۔ فرائض بجا لاتا ہے۔محرمات سےرکتا ہے قیامت کےدن اسے ایک نہیں بلکہ دو جنتیں ملیں گی۔اللہ تعالیٰ تمام ایمان اہل کواپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ خوف اور تقویٰ ،پرہیزگاری پیدا کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔زیر نظر کتاب ’’خوف خدا‘‘ ترکی کے نامور مصنف جدید اور سائنسی علوم کے ماہرمحترم ہارون یحییٰ﷾ کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے اپنے منفرد انداز میں خوف الٰہی کی حقیقت اور فوائد وثمرات کو آیات قرآنی کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو لوگوں کےدلوں میں اپنا کاخوف پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے (آمین ) (م۔ا)
کائنات کی تخلیق
Authors: ہارون یحییٰ
یہ لا محدود کائنات ،جس میں ہم رہتے ہیں،کس طرح وجود میں آئی ؟یہ تمام توازن،ہم آہنگی اور نظم وضبط کس طرح سے پیدا ہوئے؟یہ کیونکر ممکن ہوا کہ یہ زمین ہمارے رہنے کے لئے موزوں ترین اور محفوظ قیام گاہ بن گئی؟ایسے سوالات نوع انسانی کے ظہور ہی سے توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ان کے جوابات کی تلاش میں سرگرداں سائنس دان اور فلسفی ،اپنی عقل ودانش اور عقل سلیم کی بدولت اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کائنات کی صورت گری اور اس میں موجود نظم وضبط کسی اعلی ترین خالق مطلق کی موجودگی کی شہادت دے رہے ہیں۔جو اس ساری کائنات کا خالق و مالک ہے۔یہ ایک غیر متنازعہ سچائی ہے ،جس تک ہم اپنی ذہانت استعمال کرتے ہوئے پہنچ سکتے ہیں۔اللہ تعالی نے اس حقیقت کا اعلان اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں واشگاف الفاظ میں کر دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " کائنات کی تخلیق"ہارون یحیی کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ محترم علیم احمد نے کیا ہے ۔مصنف 1956ء میں انقرہ ترکی میں پیدا ہوئے ۔آپ نے آرٹس کی تعلیم میمار سینان یونیورسٹی سے اور فلسفے کی تعلیم استنبول یونیورسٹی سے حاصل کی۔آپ کی سیاست ،سائنس اور اسلامی عقائد پر متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔آپ کا شمار ان معروف مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے ارتقاء پرستی اور ارتقاء پرستوں کے دعووں کو طشت ازبام کیا اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔آپ کی یہ کتب دنیا کی متعدد زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔آپ کی کتب مسلمانوں ،غیر مسلموں سب کو مخاطب کرتی ہیں خواہ ان کا تعلق کسی عمر،نسل اور قوم سے ہو،کیونکہ ان کتب کا مقصد صرف ایک ہے:خدا کے ابدی وجود کی نشانیوں کو قارئین کے سامنے لا کر ان کے شعور کو اجاگر کرنا۔آپ نے ترکی میں "سائنس ریسرچ فاونڈیشن "قائم کی ہے جو اب ایک مضبوط ادارہ بن چکی ہے۔یہ ادارہ نہ صرف ڈارون پرستی کی تردید میں بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کرتا ہے ،بلکہ جدید دور میں اسلام کی درست تصویر پیش کرنے کی بھی سعی کر رہا ہے۔ اس کتاب میں مولف نے عدم سےکائنات کی تخلیق،مادہ پرستی کی سائنسی شکست،دھماکے میں توازن،ایٹموں میں ہم آہنگی آسمانوں میں نظم وضبط،زمین ایک نیلگوں سیارہ اور پانی میں صورت گری جیسے موضوعات بیان کرتے ہوئے غور وفکر کرنے اور ایک اللہ کو ماننے کی دعوت دی ہے۔(راسخ)
اینڈ آف ٹائم قیامت کی نشانیاں اور ظہور امام مہدی
Authors: ہارون یحییٰ
وقوع قیامت کا عقیدہ اسلام کےبنیادی عقائد میں سےہے اور ایک مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ قیامت آثار قیامت کو نبی کریم ﷺ نے احادیث میں وضاحت کےساتھ بیان کیا ہے جیساکہ احادیث میں میں ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تک عیسیٰ بن مریم نازل نہ ہوں گے ۔ وہ دجال اورخنزیہ کو قتل کریں گے ۔ صلیب کو توڑیں گے۔ مال عام ہو جائے گا اور جزیہ کو ساقط کر دیں گے اور اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا، یا پھر تلوار ہوگی۔ آپ کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ اسلام کے سوا سب ادیان کو ختم کر دے گا اور سجدہ صرف وحدہ کے لیے ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عیسٰی کے زمانہ میں تمام روئے زمین پر اسلام کی حکمرانی ہوگی اور اس کے علاوہ کوئی دین باقی نہ رہے گا۔علامات قیامت کے حوالے سے ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں ابواب بندی بھی کی ہے اور بعض اہل علم نے اس موضوع پر کتب لکھی ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’اینڈ آف ٹائم‘‘ بھی اس موضوع پر جدید اور سائنسی علوم کےماہر ترکی کے معروف قلمکار محترم ہارون یحییٰ کی منفرد کتاب ہے ۔ اینڈ آف ٹائم سےمراد آخری دور ہے اور اسلامی نقطۂ نظر سے یہ قرب قیامت کا دور ہے ۔قرآن وحدیث کی رو سےآخری زمانہ دو ادوار پر مشتمل ہے ۔پہلے دور میں لوگ مادی وروحانی مشکلات میں مبتلا ہوجائیں گے جبکہ دوسرا دور سنہری دور ہوگا اس میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت کی فروانی ہوگی ۔ اس دور میں دین حق کی ترویج اور اشاعت ہوگی ۔اسی دور کے اختتام پر معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا اور لوگ قیامت کی گھڑیاں گننا شروع کردیں گے ۔اس کتا ب میں اسی وقت ِ آخر کاجائزہ قرآن وحدیث کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب عوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے اور لوگوں کےعقیدۂ آخرت کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)
اللہ کی نشانیاں عقل والوں کے لیے
Authors: ہارون یحییٰ
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سورۂ بقرہ کی آیت 164 میں فرمایا کہ قرآن کریم کے نزول کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کوسوچنے اور سمجھنے کی دعوت دے۔اسی طرح کی سیکڑوں آیات قرآن حکیم میں جابجا بکھری ہوئی ہیں اور لوگوں کو مخلوقات پر غور وفکر کی دعوت دیتی ہیں ۔زیر نظرکتاب’’ اللہ کی نشانیا ں عقل والوں کے لیے ‘‘ عالمی شہرت یافتہ محترم ہارون یحییٰ صاحب کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب کامقصد بھی یہی کہ لوگوں کو اللہ کی بے شمار نشانیوں میں سے چند کی طرف متوجہ کیا سکے ۔ہارون یحییٰ ترکی کے ایک معروف مصنف ہیں جنہوں نے مادیت اور فری میسزی یہودی تحریکوں کی تردید میں متعددکتابیں لکھی ہیں۔ ہارون یحییٰ اس وقت دنیا میں مادیت پرستی(Materialism) اور ڈاونزم(Darwanism) کا سب سے بڑے ناقد ہیں۔ عموماًہارون یحییٰ کی تحریروں میں اللہ کی قدرتوں، نشانیوں اورتخلیق کے نمونوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔مصنف کی یہ کتاب بھی اس کائنات میں بکھرے ہوئے عجائبات کے ذریعے اپنے خالق و رب کی معرفت حاصل کرنے کی ایک سعی وجہد ہے۔اللہ ان کی سربلندی کےلیے تمام کاوشوں کو قبول فرمائے(آمین) (م۔ا)
تباہ شدہ اقوام
Authors: ہارون یحییٰ
قرآنِ حکیم کابڑا حصہ اممِ سابقہ کے احوال وبیان پرمشتمل ہے جو یقیناً غور وفکر کامتقاضی ہے ۔ان قوموں میں سےاکثر نے اللہ کےبھیجے ہوئے پیغمبروں کی دعوت کو مسترد کردیا اور ان کے ساتھ بغض وعناد اختیارکیا۔ ان کی اسی سرکشی کے باعث ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور وہ صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹادی گئیں۔آج کے دور میں بھی ماہرین آثار قدیمہ کی تحقیقات اوردرفیافتوں کے نتیجے میں قرآنِ حکیم میں بیان کردہ سابقہ اقوام کی تباہی کے حالات قابل ِمشاہدہ ہوچکے ہیں ۔زیر نظرکتاب ’’تباہ شدہ اقوام‘‘ جوکہ معروف رائٹر ہارون یحی کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے احکامِ الٰہی سے انحراف کے سبب ہلاک ہونے والے چند معاشروں اور قوموں کا تذکرہ کیا ہے ۔یہ کتاب بتاتی ہے کہ قرآن مجید میں ذکر کی جانے والی یہ اقوام کس طرح تباہ ہوئیں۔اپنے موضوع پر یہ ایک بےمثال کتاب ہے ۔کتاب ہذا کے فاضل مصنف ہارون یحی نے بہت سی سیاسی اور مذہبی کتب لکھیں جو زیور طباعت سے آراستہ ہو کر قارئین تک پہنچ چکی ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اورناشرین کی اس کوشش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)
توبہ کا دروازہ بند ہونے سے پہلے
Authors: ہارون یحییٰ
غلطی سرزد ہونے پر ایک مؤمن پورے اخلاص کےساتھ توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہوتا ہے یہ چیز جہاں اسے تکلیف و یاسیت سے بچاتی ہے وہیں اس کے مذہبی جوش و جذبے اور عبادت میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔ دوسری طرف کفار کا تاسف انتہائی تکلیف دہ اور مستقل نوعیت کا ہوتا ہے کیونکہ وہ گناہ سرزد ہونے پر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کرتے۔ زیر مطالعہ کتاب میں ہارون یحییٰ اسی موضوع کو زیر بحث لائے ہیں۔محترم ہارون یحییٰ کا تعلق ترکی سے ہے۔ آپ متعدد موضوعات پر بیسیوں کتب کے مصنف ہیں۔ آپ کے مؤثر اور دلنشین انداز بیان نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کو بھی کافی حد تک متاثر کیا ہے۔ کتاب میں جہاں قیامت کے دن احساس پشیمانی اور دوزخ میں پشیمانی جیسے ابواب موجود ہیں وہیں ایک باب ڈارون کے نظریہ ارتقا کی شکست وہزیمت پر بھی مشتمل ہے۔ جس کی وجہ مصنف نے یہ بیان کی ہے کہ اس دنیا میں جتنے روحانیت کش فلسفوں نے جنم لیاہے اس کی بنیاد یہی نظریہ ہے۔ (عین۔ م)
دنیا اور اس کی حقیقت
Authors: ہارون یحییٰ
In Knowledge
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما یا اور آزمائش کے لیے اس دنیا میں بھیج دیا ہے۔ اور اس سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں بن دیکھے اس پر ایمان لائے جسے اصطلاح میں ایمان بالغیب کہا جاتا ہے۔ انسانوں کے ایمان بالغیب اور معرفت الہٰی کی تکمیل کے لیے قرآن مجید میں باربار تذکیر اور یاد ہانی کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے اپنی کتاب ’الفوز الکبیر‘ میں لکھا ہے کہ قرآن مجید میں یاددہانی کے دو طریقے اختیار کیے گئے ہیں ایک تذکیر بآلاء اللہ اور دوسرا تذکیر بایام اللہ۔ تذکر بآلاء اللہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نعمتوں اور فضل کے ذریعے انسانوں کواپنا شکر ادا کرنے کی یاد دہانی کرواتے اور اللہ کا شکر ادا کرنے میں سب سے پہلا درجہ یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ تذکیر بایام اللہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سابقہ اقوام پر بھیجے ہوئے عذابوں کے قصص بیان کر کے انسانوں کو ایمان بالغیب کی دعوت دیتے ہیں اور نہ ماننے والوں کوپچھلی اقوام کے حشر سے سبق حاصل کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ معروف ترکی مصنف ہارون یحی کی اس کتاب کا موضوع بھی تذکیر بایام اللہ ہے اور انہوںنے دنیا پر آنے والے زلزلوں، سیلابوں اور طوفانوں کے ذریعے انسانی تہذیبوں کے مٹنے کی ایک داستان عبرت رقم کی ہے اور عصرحاضر کے مادہ پرست انسان کو اس دنیا کی حقیقت سے روشناس کروایا ہے اور وہ حقیقت اس کا زوال ہے، چاہے انسان کی ذات کا زوال ہو یا قوم و ملککا، تہذیب وتمدن کا ہو یا سلطنت وجاہ کا۔ یہی زوال اس دنیا کی حقیقت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وإنا لجاعلون ما علیھا صعیدا جرزا۔(الکھف : ۸) اور جو کچھ اس زمین پر ہے بلاشبہ ہم اسے چٹیل میدان بنا کر چھوڑنے والے ہیں۔