eBooks
2,841 Results Found
دین رحمت
Authors: شاہ معین الدین احمد ندوی
اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو صرف ایک ہی دین اختیار کرنے کا حکم دیا توہ سلامتی اور امن کادین اسلام ہے۔ تمام انبیاء اوران کی امتوں کادین یہی تھا ۔ مگر ہر نبی کی امت نے ان کے تشریف لے جانے کے بعد اپنے اپنے دین کوبدل ڈالا اورایسا مسخ کیا کہ ان کا دین اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہ رہا۔سورت آل عمران کی ایت 83 تا 85 میں وضاحت سے بتا دیاگیا ہے کہ دین اسلام ہی واحد دین ہےجو اللہ تعالیٰ کےہاں قابل قبول ہے۔ کیوکہ اس کی تعلیمات صاف ستھری ہر قسم شبہ سے بالاتر ہیں۔ ان کے علاوہ اگر کوئی قوم کوئی اورمذہب یا دین اختیار کرتی ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں کیوں کہ نبیﷺ کی آمد سے تمام سابقہ آسمانی مذہب منسوخ اور ختم ہوگئے۔ دین اسلام دین رحمت ہے جو بلا تفریق مذہب وملت اوردوست،دشمن سارے انسانی طبقوں بلکہ پوری کائنات کے لیے سراسر عدل ورحمت والا دین ہے۔ زیر تبصرہ کتا ب ’’دین رحمت‘‘ کتاب تاریخ اسلام کے مصنف جناب شاہ معین الدین احمدندوی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کو انہوں نے پندرہ ابواب میں تقسیم کیا ہے اور ان میں تفصیل سے اسلام کی امتیازی خصوصیات، توحید اوراس کےاثرات ونتائج، دین ودنیا کی جامعیت ،حقوق العباد، عورتوں کا درجہ اور ان کی حیثیت، عزیزوں اور رشتہ داروں کے حقوق، یتیموں اور مسکینوں کے حقوں، غلامی اور غلاموں کے حقوق، پڑوسیوں اور مہانوں کےحقوق، مسلمانوں کے باہمی حقوق، عام انسانوں کے حقوق، غیر مسلم رعایا یعنی ذمیوں کے حقوق، حوانوں کے حقوق، مسلمانوں کے علمی احسانا ت قدیم علوم کاتحفظ اور ان کی ترقی، مسلمانوں کے علمی کارنامے اور مختلف علوم وفنون میں ان کے ایجادات و اکتشافات کو پیش کیا ہے۔ نیز اسلام اور اسلامی تاریخ پر غیر مصنفین تعصب یا ناواقفیت کی بنا پر جو اعتراضات کرتے ہیں ان کو خاص طور پر پیش نظر رکھا ہے۔ (م۔ا)
حیات سلیمان
Authors: شاہ معین الدین احمد ندوی
In Biography
برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار اور مؤرخ مولانا سید سلیمان ندوی اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربانگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔ عالمِ اسلام کو جن علماء پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ انکی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ اپنے شفیق استاد کی وصیت پر ہی دار المصنفین، اعظم گڑھ قائم کیا اور ایک ماہنامہ معارف جاری کیا جو آج بھی جاری وساری ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ حیات سلیمان‘‘ مدارس دینیہ کے نصاب میں شامل کتاب ’’تاریخ اسلام ‘‘ کے مصنف شاہ معین الدین احمد ندوی کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتا ب کو نو ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔جس میں انہوں نے سید صاحب کے وطن ، خاندان او رتعلیم، دار المصنفین کاقیام اور اس کے کاموں کا آغاز ، قیام بھوپال ، ہجرت اور قیام پاکستان اور ان کے ذاتی حالات کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے سید سلیمان ندوی کی زندگی بھر کے احوال و آثار ، حیات وخدمات کو جاننے کے لیےایک جامع کتاب ہے ۔(م۔ا)
تاریخ اسلام ( معین الدین ندوی ) جلد اول
Authors: شاہ معین الدین احمد ندوی
In History
قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی اصلاح نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے اسلاف کی تاریخ اور ان کی خدمات کو محفوظ نہ رکھے۔اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔اس کا سب سے برا سبب مسلمانوں کا دین سے دور ہونا اور غیروں کے قریب ہونا ہے۔کافر ہمیں اس لئے مارتے ہیں کہ یہ مسلمان ہیں اور ہم اس لئے مار کھا رہے ہیں کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہیں۔تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں،اور خود بھی اسی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ اسلام "شاہ معین الدین احمد ندوی صاحب کی کاوش ہے جو دو ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔اس کی پہلی جلد عہد رسالت،خلافت راشدہ اور عہد بنو امیہ ،جبکہ دوسری جلد خلافت عباسیہ پر مشتمل ہے۔مولف نے اسلامی تاریخ کو جمع فرما کر مسلمانوں کو اپنے اسلاف سے جوڑنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
سیر الصحابہ ؓ جلد۔1
Authors: شاہ معین الدین احمد ندوی
صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیر الصحابۃ‘‘ جو کئی مصنفین کی محنت وکاوش کانتیجہ ہے۔ یہ کتاب 15 حصوں میں نو مجلدات پر مشتمل انبیاء کرام کےدنیا کےمقدس ترین انسانوں کی سرگزشت حیا ت ہے ۔تاریخ اسلام ،اسماء الرجال اور ذخیرۂ احادیث کی گرانقدر کتابوں سے ماخوذ مستند حوالہ جات پر مبنی صحابہ کرام نیز مشہور تابعین وتبع تابعین او رائمۂ کرام کے مفصل حالات زندگی پر اردومیں سب سے جامع کتاب ہے جوکہ طالبان ِعلوم نبوت کےلیے بیش قیمت خزانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنفین،ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین( م۔ا)
خلفائے راشدین ؓ
Authors: شاہ معین الدین احمد ندوی
خلفائے راشدین حضرت ابوبکر، عمر، عثمان اور علی ؓ کے فضائل و مناقب سے متعلق بہت ساری احادیث مروی ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓکی نسبت آپﷺ نے فرمایاکیا تم پہلے شخص نہیں جو میری امت میں سے جنت میں داخل ہوگے۔ حضرت عمر ؓکے متعلق ارشاد فرمایا: گزشتہ امتوں میں محدثین تھے اگر میری امت میں کوئی محدث ہو گا تو وہ عمر ہوں گے۔ حضرت عثمان ؓکے بارے میں فرمایا کہ ہر پیغمبر کے رفیق ہوتے ہیں اور جنت میں میرے رفیق عثمان ہوں گے۔ حضرت علی ؓکی نسبت ارشاد ہوا کہ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ میرے ساتھ تم کووہی نسبت حاصل ہو جو ہارون ؑ کو موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی۔ آخر کیا وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان برگزیدہ شخصیات کو اس قدر مقام و مرتبہ عطا فرمایا۔ اس کے لیے ہمیں ان حضرات کی سیرت کی ورق گردانی کرنا ہوگی۔ زیر تبصرہ کتاب انہی شخصیات کی سیرت پر ایک جامع دستاویز ہے جس میں کسی لگی لپٹی کے بغیر خلفائے راشدین کی زندگی کے تمام گوشوں پر بالتفصیل روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب کے مصنف مولانا معین الدین ندوی سب سے پہلے خلیفہ راشد کے حالات زندگی اور ایمان لانے کے واقعات قلمبند کرتے ہیں اس کے بعد ان کے اخلاق و عادات، فضائل و مناقب اور کارہائے نمایاں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ مصنف نے مذکور حضرات کے خلیفہ راشد بننے کے بعد کے حالات کو خصوصی طور پر موضوع سخن بنایا ہے اور اس سلسلہ میں پائے جانے والے اشکالات کو حتی المقدور دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ (ع۔م)
تسہیل حجۃ اللہ البالغہ
Authors: شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
حجۃ اللہ البالغہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی مشہور و معروف تالیف ہے جس میں آپ نے نہایت شرح و بسط کے ساتھ احکام شرع کی حکمتوں اور مصلحتوں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب انسانوں کے شخصی اور اجتماعی مسائل، اخلاقیات، سماجیات اوراقتصادیات کی روشنی میں فلاح انسانیت کی عظیم دستاویز کا خلاصہ ہے۔ اس کتاب میں تطبیقی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ نیزاس کتاب میں شاہ ولی اللہ نے اسلامی عقائد اور اسلامی تعلیمات کی وضاحت کی ہے اور دلیلیں دے کر اسلامی احکام اور عقائد کی صداقت ثابت کی ہے۔اصل کتاب چونکہ عربی میں ہے کئی اہل علم نے اس کتاب کی افادیت کے پیش نظر اس کو اردو قالب میں ڈھالا ہےاروواس کی شرح ،تسہیل وتخلیص کا کام بھی کیا ہے ۔حجۃ البالغہ کی یہ تسہیل ایم ڈی چوہدری نےکی ہے۔(م۔ا)
اسلامی اصول تعلیم
Authors: شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
عصر حاضر میں مختلف علمی موضوعات پر تحقیقات اور تعلیمی اداروں میں تدریس وتعلیم کے اصول وضوابط ایک مستقل فن کی حیثیت اختیار کر چکا ہے شاہ ولی محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اس موضوع پر ”فن دانشمندی“ کے نام سے فارسی میں ایک مختصر مگر انتہائی مفید وجامع رسالہ تصنیف کیا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اسلامی اصول تعلیم ترجمہ سالہ فن دانشمندی ‘‘شا ہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے فارسی رسالہ ’’ دانشمندی ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس رسالے کے مترجم وشارح مفتی رشید احمد العلوی ہیں ۔یہ رسالہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔حصہ اول میں عام زبان میں اصول تعلیم اور اس کے متعلقہ مسائل کا تذکرہ کیاگیا ہے ۔ دوسرے حصے میں اہل علم اور تعلیم وتعلم کے شبعہ سے وابستہ لوگوں کےلیے راہنمائی پیش کی گئی ہے۔ اور تیسر ا زیادہ وسیع علم اور بین الاقوامی فکر کےحامل افراد کےلیے ہے۔ محقق ومرتب کتاب ہذا نے حسن عسکری کی کتاب’’جدیدیت‘‘ کاخلاصہ بھی اس کتاب کے ساتھ منسلک کردیا ہے۔(م۔ا)
الفوز العظیم اردو شرح الفوز الکبیر
Authors: شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے۔ وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔ آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے۔ ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔ لیکن شاہ ولی اﷲ کا ایک بے مثال کارنامہ ’’الفوز الکبیر فی اصول التفسیر ‘‘ہے۔ شاہ صاحب کی علوم القرآن پر اتنی گرفت ہے کہ ان کی تصنیف لطیف ’’الفوز الکبیر‘‘ سند کا درجہ رکھتی ہےچونکہ اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب تھی اسی لئے اناً فاناً سارے عالمِ اسلام میں اس کی شہرت پھیل گئی۔منیر الدین دمشقی اور مولانا سلمان ندوی نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ مفتی محمد سعید پالن پوری نے بھی اس کا عربی میں ترجمہ کیا، اور اردو و عربی میں شرح بھی لکھی۔ اس کے علاوہ بھی کئی اہل علم نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا۔ زیر نظر کتاب ’’الفوز العظیم شرح اردو الفوز الکبیر‘‘ مولانا خورشید انور قاسمی فیض آبادی کی تصنیف ہے جو کہ پچاس سے زائد اہم کتابوں کے منتخب علوم اور محقق اساتذۂ کرام کے فیوض وافادات سے مزین الفوز الکبیر کی نہایت جامع اردو شرح ہے۔ فوز الکبیر کی یہ شرح طالبانِ علوم نبوت اور مدارس کے اساتذہ و طلباء کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے کیونکہ یہ کتاب اکثر مدارس اسلامیہ میں شامل نصاب ہے۔ (م۔ا)
قصص الانبیاء کے رموز اور ان کی حکمتیں
Authors: شاہ ولی اللہ محدث دہلوی
قرآن مجید میں متعدد انبیاء کرام کے قصے مذکور ہیں۔یہ تمام قصے اجمالا اور تفصیلا ہر سورۃ کے اسلوب کے اقتضاء کے موافق مختلف طریقوں سے بیان کئے گئے ہیں۔ ان میں سے بعض قصے تو بہ تکرار بیان ہوئے ہیں اور بعض قصوں کے واقعات فقط ایک یا دو جگہ بیان ہوئے ہیں۔ ہمارے مفسرین نے جب قرآن مجید کی تفاسیر لکھیں تو ان میں سے بعض نے بنی اسرائیل سے مروی روایات کی مدد سے جو ان کے ہاں ان انبیاء کے متعلق مشہور تھیں، قرآن مجید کی تفسیر میں بیان کردیں۔اور اس طرح بد قسمتی سے اسرائیلیات ہمارے علم تفسیر کا ایک حصہ بن گئیں۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب "الفوز الکبیر" میں لکھتے ہیں کہ اسرائیلی روایات کو نقل کرنا ایک ایسی بلا ہے جو ہمارے دین میں داخل ہو گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "قصص انبیا کے رموز اور ان کی حکمتیں" حجۃ الاسلام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی عربی تصنیف "تاویل الاحادیث فی رموز قصص الانبیاء" کا اردو ترجمہ ہے،اردو ترجمہ محترم غلام مصطفی القاسمی صاحب نے کیا ہے۔ اس کتاب میں مولف موصوف نے انبیاء کرام کے قصص سے مستنبط رموز اور حکمتوں کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)