eBooks
2,841 Results Found
علم الفواصل
Authors: قاری محمد ابراہیم میر محمدی
In Knowledge
قرآن مجید سے تلاوت سے متعلقہ علوم میں سے ایک اہم ترین علم، جس کا ہر قاری محتاج ہے، علم الفواصل ہے۔ اس علم کی بدولت آیات قرآنیہ کی ابتدا اور فواصل، نیز شمار آیات کے حوالے سے متفق علیہ اور مختلف فیہ آیات کاعلم ہو جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب فضیلۃ الشیخ قاری ابراہیم میر محمدی نے اسی موضوع پر نہایت آسان اور مختصرکتاب ترتیب دی ہے۔ یہ کتاب دو قسموں پر مشتمل ہے۔ پہلی قسم میں علم الفواصل کی سات بنیادی مباحث بیان کی گئی ہیں۔ جبکہ دوسری قسم ’الفرائد الحسان فی عد آی القرآن‘ منظوم قصیدے کے ترجمہ و تشریح پر مبنی ہے۔ جس میں ہر شعر کا ترجمہ و تشریح کرنے کے ساتھ ساتھ وجہ العد اور وجہ عدم العد کو بیان کرنے کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ ہر سورۃ کے اختلافی مقام بیان کرنے سے پہلے اس سورۃ کے مکی یا مدنی ہونے اور علمائے عدد کے ہاں اس کی آیات کی اجمالی تعداد کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کا اردوترجمہ محترم قاری محمد مصطفیٰ راسخ نے کیا ہے۔ ترجمہ کرتے وقت اس امر کا خصوصی خیال رکھا گیا ہے کہ عبارت سلیس اورعام فہم ہو۔ اشعار کی تفہیم کے پیش نظر لفظی ترجمہ کرنے کی بجائے بامحاورہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ (ع۔م)
کتاب الضعفاء والمتروکین
Authors: ابو محمد خرم شہزاد
In Knowledge
علم اسماء الرجال راویانِ حدیث کی سوانحِ عمری اورتاریخ ہے، اس میں راویوں کے نام، حسب ونسب، قوم ووطن، علم وفضل، دیانت وتقویٰ، ذکاوت وحفظ، قوت وضعف اور ان کی ولادت وغیرہ کا بیان ہوتا ہے، بغیراس علم کے حدیث کی جانچ مشکل ہےراویوں کے حالات اور ان کے متعلق جرح و تعدیل کے سلسلہ میں جو کتابیں لکھی گئیں انہیں کتب اسماءالرجال کہتے ہیں۔ ان کتابوں سے راویوں کے حالات, ان کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات, ان کے شیوخ اور تلامذہ, ان کے متعلق ائمہ کی جرح و تعدیل, ان کے عقائد وغیرہ کا علم ہوتا ہے۔ ان کتابوں سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ کونسا راوی ثقہ تھا اور کونسا ضعیف۔ائمہ محدثین نے اس فن پر متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’کتاب الضعاء والمتروکین‘‘امام ابن حجر عسقلانی کی اسماء الرجال پر مشہور کتاب ’’تہذیب التہذیب‘‘ میں سے ضعیف، مجہول ، متروک اور کذاب راویوں کا اردو ترجمہ ہے ۔ فاضل مترجم جناب ابو محمد خرم شہزاد﷾ نے اس میں 100 ؍ راویوں کے متعلق محدثین کی جرج وتعدیل کو ان کی اصل کتابوں سےنقل کیا ہے۔ مترجم نے اکثر راویوں پر محدثین کی صرف جرح نقل کی ہے طوالت کی وجہ سے تعدیل کو حذف کردیا ہے ۔یہ ’’کتاب الضعاء والمتروکین ‘‘کی جلد اول ہے جسے نیٹ سے ڈاؤنلوڈ کیا گیا ہے اس کی باقی جلدیں دستیاب ہونے پر انہیں بھی کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کردیا جائے گا ۔( ان شاء اللہ ) مترجم کے اندازے کےمطابق اس کی 15 ؍جلدیں ہونگی۔اللہ تعالیٰ مترجم وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور طالبان ِحدیث کے لیے تحقیقِ احادیث کے کام مفید بنائے ۔( آمین) (م۔ا)
نماز وتر کا مسنون طریقہ
Authors: ابو محمد خرم شہزاد
وتر کےمعنیٰ طاق کےہیں۔ احادیث نبویہ کی روشنی میں امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ ہمیں نمازِ وتر کی خاص پابندی کرنی چاہیے؛ کیونکہ نبی اکرم ﷺ سفروحضر میں ہمیشہ نمازِ وتر کا اہتمام فرماتے تھے، نیز نبیِ اکرم ﷺ نے نماز ِوتر پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے حتی کہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص وقت پر وتر نہ پڑھ سکے تو وہ بعد میں اس کی قضا کرے۔ آپ ﷺ نے امت مسلمہ کو وتر کی ادائیگی کاحکم متعدد مرتبہ دیا ہے۔ نمازِ وتر کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبح ہونے تک رہتا ہے۔رات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد پڑھ کر نماز ِوتر کی ادائیگی افضل ہے، نبی اکرم ﷺکا مستقل معمول بھی یہی تھا۔ البتہ وہ حضرات جورات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد اور نمازِ وتر کا اہتمام نہیں کرسکتے ہیں تو وہ سونے سے قبل ہی وتر ادا کرلیں ۔آپ کی قولی و فعلی احادیث سے ایک، تین، پانچ ،سات اور نو رکعات کےساتھ نماز وتر کی ادائیگی ثابت ہے۔کتب احادیث وفقہ میں نماز کے ضمن میں صلاۃوتر کےاحکام ومسائل موجود ہیں ۔ نماز کے موضوع پر الگ سے لکھی گئی کتب میں بھی نماز وتر کے احکام موجود ہیں۔ زیرنظر کتاب’’نمازِوتر کامسنون طریقہ‘‘ ابومحمد خرم شہزاد کی تصنیف ہے۔موصو ف نے اس کتاب میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نماز وتر میں دعائے قنوت کے لیےرکوع کے بعد ہاتھ اٹھانا اور تین وتر ایک سلام سے پڑھنا سنت رسول ﷺ نہیں ۔بلکہ وتر پڑھنے کا صحیح سنت طریقہ یہ ہے کہ دورکعت پڑھ کر سلام پھیر دیاجائے اور ا یک رکعت علیحدہ پڑھی جائے ۔(م۔ا)
اصول حدیث و اصول تخریج
Authors: ابو محمد خرم شہزاد
علم حدیث سے مراد ایسے معلوم قاعدوں اور ضابطوں کا علم ہے جن کے ذریعے سے کسی بھی حدیث کے راوی یا متن کے حالات کی اتنی معرفت حاصل ہوجائے کہ آیا راوی یا اس کی حدیث قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اور علم اصولِ حدیث ایک ضروری علم ہے ۔جس کے بغیر حدیث کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے تاکہ وہ اس علم میں کما حقہ درک حاصل کر سکے ، ورنہ اس کے فہم وتفہیم میں بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی حدیث کے اصول وضوابط اور تخریج کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے اختصار مگر جامعیت کے ساتھ مواد پیش کیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ‘سلیس‘ شائستہ وشتہ عمدہ‘ شگفتہ اور عام فہم ہے۔اصول بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی مثالیں بھی دی گئی ہیں تاکہ بات سمجھ میں آئے اور اسماء الرجال کے عظیم فن کی مبادیات‘ سند اور متن کے صحت وسقم کے معیارات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اس کتاب سے ہر عام وخاص یکساں افادہ کر سکتا ہے۔ یہ کتاب’’ اصول حدیث واصول تخریج ‘‘ابو محمد خرم شہزاد کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
کیا خصی جانور کی قربانی سنت ہے ؟
Authors: ابو محمد خرم شہزاد
قربانی کا عمل اگرچہ ہر امت کے لیے رہا ہے، جیساکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ... ﴿٣٤﴾...الحج ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی؛ تاکہ وہ چوپایوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے؛ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ؑ کی اہم وعظیم قربانی کی وجہ سے قربانی کو سنتِ ابراہیمی کہا جاتا ہے اور اسی وقت سے اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی؛ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل ؑ کی عظیم قربانی کی یاد میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضورِ اکرم ﷺ کی اتباع میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے جو قیامت تک جاری رہے گی۔ اس قربانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اپنی جان ومال ووقت ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کیا خصّی جانور کی قربانی سنت ہے؟‘‘ خرم شہزاد کی ہے۔ اس کتاب میں غیر خصی جانور کی قربانی کو احادیث مبارکہ کی روشنی میں فضیلت والی قربانی گردانا ہے مزید اس بارے میں صحابہ کرام اور دیگر محدثین کے اقوال کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ مؤلفِ کتاب کو اجرِ عظیم سے نوازےاور اس دینی لٹریچر کو اخروی توشۂ نجات میں شامل فرمائے اور اس کتاب کے مقاصد کو قبولیت سے نوازے۔ آمین۔(رفیق الرحمن)
الصحیفۃ من کلام ائمۃ الجرح و التعدیل علی ابی حنیفۃ
Authors: ابو محمد خرم شہزاد
امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی بغیر کسی اختلاف کے معروف ائمہ اربعہ میں شمار کئے جاتے ہیں، تمام اہل علم کا آپکی جلالتِ قدر، اور امامت پر اتفاق ہے۔ علی بن عاصم کہتے ہیں: ’’ اگر ابو حنیفہ کے علم کا انکے زمانے کے لوگوں کے علم سےوزن کیا جائے تو ان پر بھاری ہو جائے گا ‘‘ آپ کا نام نعمان بن ثابت بن زوطا اور کنیت ابوحنیفہ تھی۔ بالعموم امام اعظم کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آپ بڑے مقام و مرتبے پر فائز ہیں۔ اسلامی فقہ میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا پایہ بہت بلند ہے۔ آپ نسلاً عجمی تھے۔ آپ کی پیدائش کوفہ میں 80ہجری بمطابق 699ء میں ہوئی سن وفات 150ہجری ہے۔ ابتدائی ذوق والد ماجد کے تتبع میں تجارت تھا۔ لیکن اللہ نے ان سے دین کی خدمت کا کام لینا تھا، لٰہذا تجارت کا شغل اختیار کرنے سے پہلے آپ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے بیس سال کی عمر میں اعلٰی علوم کی تحصیل کی ابتدا کی۔آپ نہایت ذہین اور قوی حافظہ کے مالک تھے۔ آپ کا زہد و تقویٰ فہم و فراست اور حکمت و دانائی بہت مشہور تھی۔اس مقام ومرتبے کے باوجود محدثین کرام نے بیان حق کے لئے آپ پر جرح اور تعدیل بھی کی ہے۔زیر تبصرہ کتاب’’ الصحیفۃ من کلام ائمۃ الجرح والتعدیل علی ابی حنیفۃ ‘‘ محترم ابو محمد خرم شہزاد کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے محدثین کرام کی طرف سے امام ابو حنیفہ پر کی گئی جرح اور تعدیل کو حوالوں کے ساتھ نقل کردیا ہے۔اور تمام مصادر سے اصل عبارتوں کو بھی ترجمہ کے ساتھ ساتھ نقل کر دیا ہے۔تاکہ اہل علم کے لئے اس استفادہ کرنا آسان ہو جائے(راسخ)
الصحیفۃ فی الاحادیث الضعیفۃ
Authors: ابو محمد خرم شہزاد
علوم اسلامیہ میں سےعلم حدیث کی قدرومنزلت اورعزت وشرف کسی بھی اہل علم سے پنہااورمخفی نہیں ہے۔روایات کی صحت وضعف کی پہچان ایک کھٹن مرحلہ ہےجس میں آدمی کو کمال بصیرت کی ضرورت ہے۔اللہ تعالی محدیثن کرام اجمعین پراپنی رحمت اور فضل کی انتہاکردےجنہوں نےدوردراز کےسفرکی صعوبتوں کو طےکیااوربڑی محنت اورجانفشانی سےاس کےاصول وضوابط مقرر فرمائےاورعلل وشذوذ کی گھتیوں کو سلجھایااورجمع مرویات کے رواۃ کی حالات زندگی مرتب کی ان کی تاریخ ولادت ووفات ، علمی رحلات ،اساتذہ ومشائخ اورتلامذہ کاتعین اورثقاہت وضعف،عدالت وضبط وغیرہ جیسے کئی امور منضبط کیےتاکہ طالب حدیث کیلے کسی قسم کی تشنگی باقی نہ رہے۔ان ائیمہ کےاصول وضوابط میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہےکہ جب ایک کمزور روایت کو تعدد طرق حاصل ہوجائےاورضعف شدید نہ ہوتووہ درجہ ءاحتجاج تک پہنچ جاتی ہے۔علامہ البانی نے اسی قاعدےکےتحت اپنےسلسلہء صحیحہ میں کچھ روایات جمع کی تھیں۔جب کہ یہ قاعدہ محدثین کے ہاں مختلف ہے۔متقدمین کی بجائے متاخرین نےاسے زیادہ اہمیت دی ہے۔زیرنظرکتاب میں کچھ ایسی ہی ضعیف روایات کو جمع کیاگیاہے۔اللہ مولف کی کاوش کو ان کی کامیابی کاذریعہ بنائے۔(ع۔ح)
وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
Authors: خاور رشید بٹ
سیرت نبوی ﷺ کامو ضوع ہر دور میں مسلم علماء ومفکرین کی فکر وتوجہ کا مرکز رہا ہے،اور ہر ایک نے اپنی اپنی وسعت وتوفیق کے مطابق اس پر خامہ فرسائی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ہمارے ایمان کا حصہ بھی ہے اور حکم ربانی بھی ہے۔ زیر نظر کتاب’’وہ نبیﷺ ‘‘ادارہ حقوق الناس کے تقابل ادیان و سیرت سیکشن کے انچارچ جناب مولانا خاور رشید بٹ صاحب کی کاوش ہے ۔یہ کتاب سیرت النبیﷺ پر اٹھنے والے غیر مسلم بہن بھائیوں کے بے شمار سوالات ،اعتراضات اور شکوک و شبہات کے محکم اور ٹھوس دلائل فراہم کرتی ہے ۔ صاحب تصنیف نے عبد الوارث گل صاحب ( بانی و چئیرمین ادارہ حقوق الناس ویلفیئر فاؤنڈیشن) کی خصوصی فرمائش پر یہ کتاب مرتب کی ہے ۔اللہ تعالیٰ مرتب و ناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے ۔(م۔ا)
مانند موسیٰ علیہ السلام
Authors: خاور رشید بٹ
کتاب استثناء18:18 کی ایک بشارت ہے کہ جس کی پیش گوئی حضرت موسی ٰ علیہ السلام کے ذریعے کی گئی ہے۔جس میں ہےکہ ’’میں ان کےلیے ان ہی کے بھائیوں میں تیری مانند ایک نبی پیدا کروں گا ۔‘‘اس بشارت کو اہل علم نے ’’مثیل موسیٰ،مانند موسی‘‘ کا عنوان دیا ہے۔تین آسمانی مذاہب کے ماننے والوں کے مابین کئی صدیوں سے یہ مقدمہ چلا آرہا ہے کہ اس پیش گوئی کا مصداق کون ہے ؟یہودی کہتے ہیں کہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام ،عیسائی کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام اور مسلمانوں کا دعویٰ یہ ہےکہ مثیلِ موسیٰ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ماضی میں اس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ذاکر نائیک اور دیدات نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ یہ نبوت محمدﷺ کے بارے میں ہے نہ کہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں محمدﷺاور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان یکساں باتوں کی ایک فہرست(حضرت عیسیٰ المسیح کے برعکس، محمد صلی اللہ علیہ وسلم او رموسیٰ علیہ السلام دونوں ایک جامع قانونی ضابطہ لے کر آئے۔،حضرت عیسیٰ کے برعکس، محمد صلی اللہ علیہ وسلم او رموسیٰ علیہ السلام دونوں ایک فطری باپ سے پیدا ہوئے۔،حضرت عیسیٰ کے برعکس، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام دونوں شادی شدہ تھے۔،حضرت عیسیٰ کے برعکس محمد صلی اللہ علیہ وسلم او رموسیٰ علیہ السلام دونوں اپنے لوگوں کے سیاسی راہنما تھے۔،محمد صلی اللہ علیہ وسلم او رموسیٰ علیہ السلام دونوں سے کہا گیا کہ وہ اُس وقت سے مہینوں کا حساب رکھیں۔،محمد صلی اللہ علیہ وسلم اورموسیٰ دونوں کو اپنے دشمنوں کی وجہ سے بھاگنا پڑا اور اپنے سُسرکے ہاں پناہ لینی پڑی۔،محمد صلی اللہ علیہ وسلم او رموسیٰ علیہ السلام دونوں نے عام انسانوں کی مانند وفات پائی۔) بھی مرتب کی ہے مولانا خاور رشید بٹ صاحب نے زیر نظر کتاب ’’مانند موسیٰ علیہ السلام کون؟‘‘ میں عقلی ونقلی دلائل سے ثابت کیا ہے کہ مانند موسیٰ یا مثیل موسیٰ سے مراد سیدنا محمد ﷺ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کتاب ہذا کی تحقیقی وتصنیفی اور دعوتی وتدریسی جہود کو قبول فرمائے ۔آمین (م۔ا)