یزید بن معاویہ اور جیش مغفورلہم ( جابر دامانوی )


By Al Noor Softs
Posted on Nov 28, 2024
In Category Arguments
Authors ڈاکٹر ابو جابر عبد اللہ دامانوی
Published By ناشر : ابوجابر سلفی لائبریری کیماڑی
In Year 2019
Key Word سب سے پہلا سمندری جہاد..کیا سیدنا معاویہ نے قسطنطنیہ پر پہلا حملہ کیا تھا
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 123
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
کسی بھی مسلمان کی عزت وآبرو کا دفاع کرنا انسان کو جنت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔سیدنا ابو درداء فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص اپنے بھائی کی عزت سے اس چیز کو دور کرے گا جو اسے عیب دار کرتی ہے ، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ کو دور کر دے گا۔(ترمذی:1931)اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی بھی مسلمان کی عزت کا دفاع کرنا ایک مستحب اور بے حدپسندیدہ عمل ہے۔اور اگر ایسی شخصیات کی عزتوں کا دفاع کیا جائے جو صاحب فضیلت ہوں تو اس عمل کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مثلا اگرکسی صحابی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہےاور ان پر غلط الزامات لگائے جاتے ہیں تو ایسے صحابی کی عزت کادفاع کرنا بہت بڑی عبادت اور بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہے۔یزید بن معاویہ ؓ تابعین میں سے ہیں اور صحابی رسول سیدنا امیر معاویہ ﷜کے بیٹے ہیں۔بعض روافض اور مکار سبائیوں نے ان پر بے شمار جھوٹے الزامات لگائے ہیں اور ان کی عزت پر حملہ کیا ہے۔ان کی عزت کا دفاع کرنا بھی اسی حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے۔یزید بن معاویہ کے متعلق بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ وہ قسطنطنیہ کے اس لشکر کا سپہ سالار تھا کہ جس نے سب سے پہلے قسطنطنیہ پر لشکر کشی کی تھی اور حدیث میں اس لشکر کو مغفور لہم کے لیے پروانہ مغفرت کی بشارت سنائی گئی ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’یزید بن معاویہ اور جیش مغفور لہم‘‘ ڈاکٹر ابو جابر دامانوی ﷾ کے ماہنامہ محدث ،لاہور میں جنوری 2010ء شائع شدہ مضمون کی کتابی صورت ہے ۔ڈاکٹر دامانوی مضمون کے جواب میں مولاناعبد الولی حقانی اور ڈاکٹر حافظ شریف شاکر نے مضامیں تحریرکیے جو ماہنامہ محدث ۔لاہور کے شمارہ اپر یل 2010ء اور نومبر 2012ء میں شائع ہوئے ۔ ڈاکٹر دامانوی نے اپنے مضمون میں ناقابل تردید دلائل سے ثابت کیا کہ یزید بن معاویہ قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والوں میں سب سے آخری لشکر میں شریک ہوا تھا سیدنا محمود بن الربیع کے جس قول سے یزید کا پہلے لشکر میں شامل ہونا ثاتب کیا جاتا ہے ڈاکٹر دامانوی نے اسی قول سے اس کا سب سے آخری لشکر میں شامل ہونا ثابت کیا ہے ۔ ڈاکٹر دامانوی صاحب نے ماہنامہ محدث کے مطبوعہ مضامین کو کتابی صور ت میں مرتب وقت اسے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے حصہ اول : جیش مغفور کا سپہ سالار کون تھا؟۔ حصہ دوم : لشکر قسطنطنیہ اور امارت یزید کا مسئلہ اور کیا جیش مغفور لہم کے سالار معاویہ تھا؟ پر تبصرہ ۔ حصہ سوم جیشِ مغفور کے سالار پر تحقیق مزید؟۔ حصہ چہارم : یزید بن معاویہ کی شخصیت قرآن وحدیث ، اقوال صحابہ کرام وسلف صالحین کی روشنی میں ۔ کے عناوین کے نام سے ہے ۔(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   110   19
 
 

کسی بھی مسلمان کی  عزت وآبرو کا دفاع کرنا انسان کو جنت میں لے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔سیدنا ابو درداء فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جو شخص  اپنے بھائی کی عزت سے اس چیز کو دور کرے گا جو اسے عیب دار کرتی ہے ، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ کو دور کر دے گا۔(ترمذی:1931)اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا  کہ  کسی بھی مسلمان کی عزت کا دفاع کرنا ایک مستحب اور بے حدپسندیدہ عمل ہے۔اور اگر ایسی شخصیات کی عزتوں کا دفاع کیا جائے جو صاحب فضیلت ہوں تو اس عمل کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔مثلا اگرکسی صحابی کی شان میں گستاخی کی جاتی ہےاور ان پر غلط الزامات لگائے جاتے ہیں تو ایسے صحابی کی عزت کادفاع کرنا بہت بڑی عبادت اور بہت بڑے اجروثواب کا باعث ہے۔یزید بن معاویہ ؓ تابعین میں سے ہیں اور صحابی رسول سیدنا امیر معاویہ ﷜کے بیٹے ہیں۔بعض روافض اور مکار سبائیوں نے ان پر بے شمار جھوٹے الزامات لگائے ہیں اور ان کی عزت پر حملہ کیا ہے۔ان کی عزت کا دفاع کرنا بھی اسی حدیث پر عمل کرنے میں شامل ہے۔یزید بن معاویہ کے متعلق  بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ وہ قسطنطنیہ کے اس لشکر کا سپہ سالار تھا کہ جس نے سب سے پہلے قسطنطنیہ پر لشکر کشی کی تھی اور حدیث میں  اس  لشکر کو مغفور لہم کے لیے پروانہ مغفرت  کی  بشارت سنائی گئی ہے ۔ زیر نظر   کتاب ’’یزید بن معاویہ اور جیش مغفور لہم‘‘  ڈاکٹر ابو جابر دامانوی ﷾ کے  ماہنامہ محدث  ،لاہور  میں جنوری 2010ء شائع شدہ مضمون کی کتابی صورت ہے ۔ڈاکٹر دامانوی  مضمون کے جواب میں  مولاناعبد الولی حقانی  اور  ڈاکٹر حافظ شریف شاکر نے  مضامیں تحریرکیے     جو  ماہنامہ  محدث ۔لاہور کے شمارہ  اپر یل 2010ء اور نومبر 2012ء  میں شائع ہوئے ۔ ڈاکٹر دامانوی نے اپنے مضمون میں  ناقابل تردید دلائل سے ثابت کیا کہ یزید بن معاویہ  قسطنطنیہ  پر حملہ کرنے والوں میں  سب  سے آخری لشکر میں شریک ہوا تھا  سیدنا محمود بن الربیع  کے جس قول سے یزید کا پہلے لشکر میں شامل ہونا ثاتب کیا جاتا ہے  ڈاکٹر دامانوی نے اسی قول سے اس کا  سب سے آخری لشکر میں شامل ہونا ثابت کیا ہے ۔ ڈاکٹر دامانوی صاحب نے   ماہنامہ محدث کے مطبوعہ مضامین کو  کتابی صور ت میں مرتب وقت  اسے چار  حصوں میں تقسیم کیا ہے  حصہ اول  : جیش مغفور  کا سپہ سالار کون تھا؟۔ حصہ دوم : لشکر قسطنطنیہ اور امارت یزید کا مسئلہ اور کیا جیش مغفور لہم کے سالار معاویہ  تھا؟ پر تبصرہ ۔  حصہ  سوم  جیشِ مغفور کے سالار پر تحقیق مزید؟۔ حصہ چہارم : یزید بن معاویہ کی شخصیت قرآن وحدیث ، اقوال صحابہ کرام وسلف صالحین کی روشنی میں ۔ کے عناوین  کے نام  سے  ہے  ۔(م۔ا) 

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks