اسلامی معاشرے میں نامحرم مردوں اور عورتوں کا ایک دوسرے سے حجاب میں رہنا ایک جانا پہچانا طریقہ ہے جس کا مقصد مرد وعورت کےدرمیان ناجائز خواہشات کےہر داعیے کو روکنا ہے۔ان میں سب سے پہلے خطرناک چیز نظر ہے جونامحرم مرد عورت پر پڑتے ہی اپنے صاحب کےدل میں ایک طوفان بپا کردیتی ہے ۔ ناجائز تعلقات کاآخری فعل زنا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کلیۃً حرام قرار دیا اورلاتقربوا الزنا فرماکر اسی فعل بد سے بچانے کےلیے محرم پر نظر اٹھانے سے لے کر اس آخری فعل تک جو جو مرحلے آتے ہیں ۔جو چیزیں اسباب بنتی ہیں ۔ان سب کوحرام قرار دیا گیا۔اس لیے نامحرم مرد اورعورت کے درمیان حجاب اسلامی معاشرے کا معروف طریقہ ہے اور حجاب کےاحکام نازل ہونے کے ساتھ ہی اس پر صحابیات اور صحابہ نے فوری عمل کرنا شروع کردیا تھا۔لیکن دور ِ حاضر میں اکثریت اس بات پر اڑی ہوئی ہے کہ اجنبی مرد اورعورت کے درمیان کسی درمیان کسی دیوار کپڑے یا کسی اور چیزکی آڑ ہونا یا عورت کا اپنے چہرے کوڈھانپ کر اجنبی مرد کے سامنے آنا اسلامی طریقہ نہیں بلکہ ایجا ملا ہے۔ پردے کی شرعی حیثیت ،اہمیت وفرضیت کے سلسلے کئی اہل علم نے اردو وعربی زبان میں مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔زیر نظر کتابچہ ’’پردے کی اوٹ سے ‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اپنے آسان فہم انداز میں مرتب کیا ہے ۔جس میں انہوں نے پردے کے جملہ احکام ومسائل کواحادیث نبویہ اورآیات قرآنیہ کی روشنی میں بیان کیا ۔اللہ اس کتابچہ خواتینِ اسلام کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)