وجود باری تعالیٰ۔ فلسفہ، سائنس اور مذہب کی روشنی میں


By Al Noor Softs
Posted on Nov 9, 2024
In Category Faith and belief
Authors ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
Published By ناشر : دار الفکر الاسلامی، لاہور
In Year 2017
Key Word باب اول: وجود باری تعالیٰ اور فلسفہ و منطق..نظریہ عرفان
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 224
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
وجود باری تعالی فلسفہ، سائنس اور مذہب تینوں کا موضوع رہا ہے۔ عام طور اصطلاح میں اُس علم کو الہیات (Theology) کا نام دیا جاتا ہےکہ جس میں خدا کے بارے بحث کی گئی ہو۔ اس کتاب میں ہم نے فلسفہ ومنطق، سائنس وکلام اور مذہب وروایت کی روشنی میں وجود باری تعالی کے بارے میں بحث کی ہے۔ وجود باری تعالی کے بارے بڑے نظریات (mega theories) چار ہیں۔ نظریہ فیض، نظریہ عرفان،نظریہ ارتقاء اور نظریہ تخلیق۔ یہ واضح رہے کہ چوتھے نقطہ نظر کو ہم محض اس کی تھیورائزیشن کے عمل کی وجہ سے تھیوری کہہ رہے ہیں کہ اب اس عنوان سے نیچرل اور سوشل سائنسز میں بہت سا علمی اور تحقیقی کام منظم اور مربوط نظریے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جبکہ حقیقت کے اعتبار سے یہ محض تھیوری نہیں بلکہ امر واقعی ہے۔ پہلا اور دوسرا نقطہ نظر فلاسفہ کا ہے کہ جو افلاطونی، نوافلاطونی، مشائین، اشراقین، عرفانیہ اور حکمت متعالیہ میں منقسم ہیں۔ افلاطونی اور مشائین کے علاوہ بقیہ کے ساتھ صوفی ہونے کا ٹیگ بھی لگا ہوا ہے دراں حالانکہ یہ صوفی کی بجائے دراصل افلاطونی، مشائی اور نوافلاطونی ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی گروہ وجود باری تعالی کے مسئلے میں متقدمین اور محققین صوفیاء پر اعتماد نہیں کر رہا بلکہ صحیح معنوں میں افلاطون (348-424 ق م)، ارسطو (348-424 ق م)اور فلاطینوس (205-270ء) کے رستے پر ہیں۔ تیسرا نقطہ نظر دہریوں اور منکرین خدا (Atheists) کا ہے کہ نیچرل سائنسز کے رستے ماہرین حیاتیات (Biologists) اور ماہرین طبیعیات (Physicists) کی ایک جماعت نے اس نظریے کو اختیار کیا ہے۔ وجود کے بارے یہ موقف نظریاتی فزکس اور نظریاتی بائیالوجی کے ماہرین کے ہاں معروف ہے۔ چوتھا نقطہ نظر صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ اربعہ، محدثین عظام، متقدمین صوفیاء اور متکلمین رحمہم اللہ کا ہے۔ دوسرے نقطہ نظر نے صرف خالق کے وجود کو حقیقت جبکہ تیسرے نے صرف مخلوق کو حقیقت جانا۔ اور پہلے اور چوتھے نقطہ نظر میں خالق اور مخلوق دونوں کا وجود الگ الگ حقیقت ہیں۔ اس کتاب میں تین ابواب میں تینوں مکاتب فکر کےچاروں نقطہ ہائے نظر کا عقلی ونقلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
Ratings Read Downloads
(0)   99   59
 
 

وجود باری تعالی فلسفہ، سائنس اور مذہب تینوں کا موضوع رہا ہے۔ عام طور اصطلاح میں اُس علم کو الہیات (Theology) کا نام دیا جاتا ہےکہ جس میں خدا کے بارے بحث کی گئی ہو۔ اس کتاب میں ہم نے فلسفہ ومنطق، سائنس وکلام اور مذہب وروایت کی روشنی میں وجود باری تعالی کے بارے میں بحث کی ہے۔ وجود باری تعالی کے بارے بڑے نظریات (mega theories) چار ہیں۔ نظریہ فیض، نظریہ عرفان،نظریہ ارتقاء اور نظریہ تخلیق۔ یہ واضح رہے کہ چوتھے نقطہ نظر کو ہم محض اس کی تھیورائزیشن کے عمل کی وجہ سے تھیوری کہہ رہے ہیں کہ اب اس عنوان سے نیچرل اور سوشل سائنسز میں بہت سا علمی اور تحقیقی کام منظم اور مربوط نظریے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جبکہ حقیقت کے اعتبار سے یہ محض تھیوری نہیں بلکہ امر واقعی ہے۔ پہلا اور دوسرا نقطہ نظر فلاسفہ کا ہے کہ جو افلاطونی، نوافلاطونی، مشائین، اشراقین، عرفانیہ اور حکمت متعالیہ میں منقسم ہیں۔ افلاطونی اور مشائین کے علاوہ بقیہ کے ساتھ صوفی ہونے کا ٹیگ بھی لگا ہوا ہے دراں حالانکہ یہ صوفی کی بجائے دراصل افلاطونی، مشائی اور نوافلاطونی ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی گروہ وجود باری تعالی کے مسئلے میں متقدمین اور محققین صوفیاء پر اعتماد نہیں کر رہا بلکہ صحیح معنوں میں افلاطون (348-424 ق م)، ارسطو (348-424 ق م)اور فلاطینوس (205-270ء) کے رستے پر ہیں۔ تیسرا نقطہ نظر دہریوں اور منکرین خدا (Atheists) کا ہے کہ نیچرل سائنسز کے رستے ماہرین حیاتیات (Biologists) اور ماہرین طبیعیات (Physicists) کی ایک جماعت نے اس نظریے کو اختیار کیا ہے۔ وجود کے بارے یہ موقف نظریاتی فزکس اور نظریاتی بائیالوجی کے ماہرین کے ہاں معروف ہے۔ چوتھا نقطہ نظر صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ اربعہ، محدثین عظام، متقدمین صوفیاء اور متکلمین رحمہم اللہ کا ہے۔ دوسرے نقطہ نظر نے صرف خالق کے وجود کو حقیقت جبکہ تیسرے نے صرف مخلوق کو حقیقت جانا۔ اور پہلے اور چوتھے نقطہ نظر میں خالق اور مخلوق دونوں کا وجود الگ الگ حقیقت ہیں۔ اس کتاب میں تین ابواب میں تینوں مکاتب فکر کےچاروں نقطہ ہائے نظر کا عقلی ونقلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks