جس طرح صالح اعمال کرنے ضروری ہیں اسی طرح اس سے بڑھ کر ان کی حفاظت کرنا بھی لازم ہے کیونکہ انسان بڑی تگ ودو کے بعد اعمال کی لڑی پروتا ہے اور ذراسی بے احتیاطی سےیہ لڑی بکھر بھی سکتی ہے لہذا ایک مسلمان کی اولین کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس سے کوئی ایسا عمل سرزدنہ ہو جس کی وجہ سے اس کی ساری محنت ومشقت اکارت ہوجائے ۔کیونکہ انسان کی خصلت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نادانستہ گناہ کر بیٹھتا ہے ۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے ۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تویہ غلطی اس کے خالق ومالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اس سےاپنے معبود ومالک کی ناراضگی کسی صورت بھی برداشت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ فوری طور پر اللہ کریم کے دربار میں حاضر ہوکر گڑگڑاتا ہے اور وہ آئندہ ایسے گناہ نہ کرنے کا پکا عزم کرتےہوئے توبہ کرتا ہے کہ اے مالک الملک اس مرتبہ معاف کردے آئندہ میں ایسا کبھی نہ کروں گا۔گناہ کے بعد ایسے احساسات اور پھر توبہ کے لیے پشیمانی وندامت پر مبنی یہ عمل ایک خوش نصیب انسان کےحصہ میں آتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نیکیوں کو برباد کرنیوالے اعمال ‘‘ معروف قلمکار اور علم دوست ، مصنف ومترجم مولانا محمد ارشد کمال ﷾کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے نیکیوں کو برباد کرنے والے ان اعمال کو قرآن وسنت کی روشنی میں بیان کیا ہے کہ انسان جنہیں بہتر سمجھ کر اپنا لیتا ہے اور نتیجتاً اس کےثواب برباد اوراعمال ضائع ہوجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ، مصنف و ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)