دورِ حاضر میں مخلوط معاشرہ انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکا ہے ۔مخلوط معاشرے کی ابتدا کہاں سے ہوئی ؟ یہ جاننا ایک مشکل امر ہے لیکن اس دعوے میں کوئی اشتباہ اور باک نہیں ہے کہ اس کی ابتدا ان معاشروں میں ہوئی جن میں الہامی تعلیمات سے انتہائی زیادہ روگردانی کے جراثیم پھیل گئے او ر انہوں نے الہامی تعلیمات کے برعکس ہرکام انجام دینا اپنے اورلازم کرلیا۔غیر مسلم معاشرے مشرق کے ہوں یا مغرب کے ان میں نہ تو خوف آخرت پایا جاتا ہے نہ توحید کا اقرار ،ان کی مذہبی رسومات وروایات میں مخلوط معاشرہ کسی نہ کسی سطح پر ضرور پایا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کی زندگی میں مخلوط ،معاشرے کا در آنا ایک المیہ ہے جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ زیر نظر کتابچہ میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے واضح کیا ہے کہ قرآن وحدیث میں مخلوط معاشرے سے بچاؤ کے لیے وسیع پیمانے پر احکامات بیان کیے گئے ہیں اور ان کےایک ایک جزو کی تفصیل بھی موجود ہے تاکہ مخلوط معاشرے کے ایمان پرمسموم اثرات سے فرد اور جماعت دونوں محفوظ رہیں۔اللہ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ (م۔ا)