نمازِ تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد بشمول وتر گیارہ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ زیر کتابچہ’’ مختصر قیام رمضان ‘‘علامہ ناصر الدین البانی کی ’’ صلاۃالتراویح‘‘ کے اختصار کا اردو ترجمہ ہے یہ اختصار بھی علامہ البانی نے خود ہی کیا تھا اختصار میں علامہ مرحو نے اعتکاف وغیرہ سےمتعلق بعض مفید باتوں کا اضافہ بھی کیا ہے ۔علامہ موصوف نے اس کتاب میں نماز تراویح کی آٹھ رکعات کو ثابت کرنے کے علاوہ یہ بھی ثابت کیا ہے جو سیدنا عمرفاروق کے مشہور ہے کہ انہوں نے بیس رکعت تراویح کی بنیاد رکھی وہ بالکل غلط ہے نہ توسیدنا عمرفاروق نے بیس رکعت کا حکم دیا اورنہ آپﷺ نےخود بیس رکعت تراویح پڑھی اورنہ ہی آپ کے زمانے میں بیس رکعت تراویح پڑھی گئی ، بلکہ علامہ مرحوم نے تو یہاں تک ثابت کیا کہ کسی بھی بڑے صحابی سےبیس رکعت پڑھنا ثابت نہیں اور سیدنا عمرفاروقنے نبی کریم ﷺ کی سنت کےمطابق گیارہ رکعت ہی پڑھانے کا حکم دیا تھا ۔اللہ تعالیٰ مترجم وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اورمحدث العصر ناصر الدین البانی کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے ۔(آمین) (م۔ا)