مذاہبِ عالم میں اسلام ایک واحد مذہب ہے جو ہر مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ تمام معاملات میں رواداری اور حسن سلوک کی تعلیم دیتاہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اسلام کی آفاقی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے دنیا بھر کے حکمرانوں کے نام خط لکھے اور انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ رسول اللہ ﷺ نے اہل کتاب سے جو تعلقات قائم کیے انہیں عہد حاضر میں بطور نظیر پیش کیا جاسکتاہے ۔آپ ﷺ نے امت کی رہنمائی فرماتے ہوئے عملی نمونہ پیش کیا۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ نبی ﷺ نے اہل کتاب کودیگر غیر مسلموں پر فوقیت دی اورہر شعبے میں ان کے ساتھ محض اہل ِکتاب ہونے کی بنا پر دوستانہ اور ہمداردانہ رویہ اپنایا۔عہد نبویﷺ میں رسول اللہ ﷺ نے یہود نصاریٰ سے جو تعلقات قائم کیے اسی نمونے کو سامنے رکھتے ہوئے خلفائے راشدین نے اہل ِ کتاب سے مراسم قائم کیے ۔ مجموعی طور پر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے یہود ونصاریٰ کی طرف دوستی کاہاتھ ضرور بڑھایا اوران سے مختلف قسم کے تعلقات قائم کرتے ہوئے باہمی معاہدات بھی کیے۔ مگر ان کی اسلام دشمنی کو کبھی فراموش نہیں کیا اور ہمیشہ ایک حد میں رہتے ہوئے احکام ِ الٰہیہ کی روشنی میں مختاط انداز اختیار کیا ۔ زیر نظر کتاب’’غیر مسلموں سے تعلقات اور ان کےحقوق‘‘ عالم اسلام کےممتاز عالم دین ومحقق مولاناسید جلال الدین عمری صاحب کی تصنیف ہے ۔مولانا کی یہ تصنیف ایک مقبول کتاب ہےموصوف نےاس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں مسلمانوں کے غیر مسلموں سے تعلقات اور حقوق پر نہایت محققانہ او رداعیانہ بحث کی ہے۔نیز تعقات کے ذیل میں خاندانی،سماجی ،معاشرتی اور ہر نوع کےتعلق کو موضوع گفتگو بنایا ہے اور بعض اختلافی مسائل میں معتبر علماء، مفسرین اور فقہاء کی آراء سےتائید حاصل کی ہے۔(م۔ا)