دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں وہ اداس اور بددل نہ ہو۔ انسان کو اس جہاں میں طرح طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہے اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک بندۂ مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ کی ذات ہے ۔ زیر نظر کتاب’’ غم کا علاج‘‘ سعودی عرب کے کبار عالم دین مفسر قرآن شیخ عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ کی تصنیف الوسائل المفيده للحياة السعيدة كا اردوترجمہ ہے فاضل مصنف نےاٰس کتا ب میں دل کےاطمینان وسرور کے لیے ان وسائل وذرائع کو بیان کیا ہے کہ جن کو اختیار کر کے ایک بندۂ مومن انتہائی بابرکت اور مسرت وشادمانی والی پاکیزہ زندگی بسر کرسکتا ہےاور ان ذرائع وسائل سے دور ی انسانی زندگی کےلیے انتہائی شقاوت ،بدنصیبی اور پریشانی کا باعث بن سکتی ہے ۔( آمین) (م۔ا)