احادیث میں یوم عرفہ کی بڑی فضیلت آئی ہے ایک طرف حجاج کے لئے وقوف عرفات کا دن ہےجس دن اللہ تعالیٰ عرفات میں وقوف کرنے والوں پر فخر کرتاہے اور کثرت سے انہیں جہنم سےآزادی دیتا ہے تود وسری طرف عام مسلمانوں کے لئے اس دن روزہ رکھنے کا حکم ملاہے جو ایک سال گذشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے ۔ اس روزے سے متعلق پہلے کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا تھا مگر آج گلوبلائزیشن کی وجہ سے لوگوں کے درمیان یہ اختلاف پیداہوگیا کہ عرفہ کا روزہ کب رکھاجائے؟ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ روزہ سعودی عرب کے حساب سے وقوف عرفہ والے دن رکھنا ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ ہرملک والا اپنے یہاں کی تاریخ سے 9؍ذی الحجہ کا روزہ رکھے گا۔ زیر نظر کتابچہ’’عرفہ کا روزہ احکام وفضائل اور بعض شبہات ک ازالہ‘‘فضیلۃ الشیخ عبد العلیم عبد الحفیظ سلفی(مترجم : مکتب تعاونی برائے اسلامی دعوت ،نجران ،سعودی عرب) کی علمی کاوش ہے۔ فاضل مصنف نے عصر حاضر میں اختلاف مطالع اور اس سے پیدہ شدہ بعض مسائل کی بنیاد پر عرفہ کے دن روزہ کی تاریخ کی تعیین میں کچھ علماء پائے جانے والے بعض شبہات کو اس مختصر کتاب میں مختلف دلائل اور براہین کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کی تعیین میں پیش کردہ اشکالات اوراشتباہات کا جائزہ لیا ہے تاکہ حق وصواب واضح ہو اور امت کےافراد کو کتاب وسنت کےمطابق عمل کی راہ ملے ۔( م۔ا )