جہاد اسلام کی کوہان ہے ارکان اسلام کو برقرار رکھنے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ کو جاری رکھنا بہت ضروری ہے جہاد جہاں حکم خداوندی ہے وہاں زمین میں امن وشانتی کو قائم رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے اس عظیم کام میں شامل لوگوں کے لیے اخروی زندگی کو بہتر بنانےمیں اس عمل سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں جس میں شامل انسان دنیا میں رب کی رضا اور وح نکلتے ہی جنتی مہمان بن جاتا ہے ۔شہادت فی سبیل اللہ کو وہ مقام حاصل ہے کہ (نبوّت و صدیقیت کے بعد) کوئی بڑے سے بڑا عمل بھی اس کی گرد کو نہیں پاسکتا۔ اسلام کے مثالی دور میں اسلام اور مسلمانوں کو جو ترقی نصیب ہوئی وہ ان شہداء کی جاں نثاری و جانبازی کا فیض تھا، جنھوں نے اللہ رَبّ العزّت کی خوشنودی اور کلمہٴ اِسلام کی سربلندی کے لئے اپنے خون سے اسلام کے سدا بہار چمن کو سیراب کیا۔ شہادت سے ایک ایسی پائیدار زندگی نصیب ہوتی ہے، جس کا نقشِ دوام جریدہٴ عالم پر ثبت رہتا ہے، جسے صدیوں کا گرد و غبار بھی نہیں دُھندلا سکتا، اور جس کے نتائج و ثمرات انسانی معاشرے میں رہتی دُنیا تک قائم و دائم رہتے ہیں۔ کتاب اللہ کی آیات اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں شہادت اور شہید کے اس قدر فضائل بیان ہوئے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے اور شک و شبہ کی ادنیٰ گنجائش باقی نہیں رہتی۔یقیناً شہید کے بہت سے فضائل ہیں اور کتب احادیث میں بہت سی احادیث ان کے مقام ومرتبہ کو واضح کرتی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ شہادت کا اجر پانے والے خوش نصیب‘‘ ڈاکٹر تفضیل احمد ضیغم ﷾(مصنف کتب کثیرہ) کا مرتب کردہ ہے ۔ اس مختصر کتابچہ میں انہوں نے شہید کے فضائل ومناقب اور شہداء کی اقسام کو احادیث کی روشنی میں بیان کرنے کے بعد شہادت کا اجر پانے والے ایسے افراد کا تذکرہ کیا ہےکہ جو میدان قتال میں جائے بغیر شہادت کادرجہ پانے والے ہیں لیکن یہ شہداء کے حکم میں ہیں ۔ان افراد کا ذکر کتب احادیث میں مختلف مقامات پر بکھرا ہوا ہے فاضل مصنف نے کتب احادیث سے ان احادیث کو تلاش کر کے اس کتابچہ بمعہ ترجمہ مکمل حوالہ کے ساتھ درج کردیا ہے ۔آخر میں شہید کیےمتعلق کتب حدیث میں وارد شدہ ایسی دس احادیث کو پیش کیا ہے جو ضعیف اور موضوع ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ مصنف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔(آمین)