شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ حقیقت کے آئینے میں


By Al Noor Softs
Posted on Dec 27, 2024
In Category Worship and matters
Authors ام عدنان بشریٰ قمر
Published By ناشر : مکتبہ کتاب وسنت ریحان چیمہ ڈسکہ
In Year 2021
Key Word فہرست زیر تکمیل
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 114
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
سیدنا حسین ﷜اپنے بھائی سیدنا حسن﷜ سے ایک سال چھوٹے تھے وہ نبی کریم ﷺ کے نواسے،سیدنا فاطمہ بنت رسول کے لخت جگر تھے۔ سیدنا حسین ﷜ ہجرت کے چوتھے سال شعبان کے مہینے میں پیدا ہوئے ۔آپ کی پیدائش پر رسول اللہ ﷺ بہت خوش ہوئے اور آپ کو گھٹی دی ۔رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نام حسین رکھا ۔حسن وحسین کی فضیلت سے متعلق اکثر احادیث دونوں میں مشترک ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے سایہ عاطفت میں اپنے ان نواسوں کی تربیت کی ۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مکہ میں موجود تھے اور حج کے ایام شروع ہو چکے تھے۔ مگر کوفیوں نے دھوکا دیا اور لکھا کہ ہمارا کوئی امیر نہیں۔ ہم سب اہل عراق آپ کو امیر بنانا چاہتے ہیں آپ جلد ہمارے پاس تشریف لے آئیں۔ اگر آپ تشریف نہ لائے تو قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ سے شکایت کریں گے کہ ہمارا کوئی امیر نہیں تھا اور نواسہ رسول نے ہماری بیعت قبول نہ کی تھی۔حضرت حسین ﷜ نے ان باتوں کو سچ سمجھ لیا اور کوفہ روانہ ہو گئے۔روایات کے مطابق سیدنا حسین کو بارہ ہزار خطوط لکھے گئے۔حالات کا جائزہ لینے کے لئے سیدنا حسین نے اپنے عم زاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیجا۔ پہلے ہزاروں کوفیوں نے ان کی بیعت کی پھر بے دردی کے ساتھ ان کو شہید کر دیا۔ حضرت حسین مقام ثعلبہ پہنچے تو مسلم بن عقیل کی شہادت کا علم ہوا۔ آپ نے مسلم بن عقیل کے بیٹوں سے مشورہ کے بعد یزید سے ملاقات کا فیصلہ کر لیا۔ مسلم بن عقیل کے بیٹے ہمراہ تھے ۔کوفہ سے کئی منزل دور مقام ثعلبہ مذکور سے کوفہ کی بجائے شام کا راستہ اختیار فرما لیا۔مسلم بن عقیل کے قتل میں براہ راست شریک اور خطوط بھیجنے والے غدار کوفیوں نے سمجھ لیا کہ اگر حسین یزید کے پاس پہنچ گئے تو اصل سازش فاش ہو جائے گی۔ ہزاروں خطوط ہمارے خلاف گواہ ہوں گے،حکومت کے ساتھ ان کی مفاہمت ہو جائے گی اور ہمیں پھر کوئی نہیں بچا سکے گا۔ لہذا انہوں نے راستہ روکا ۔خطوط تو نہ ہتھا سکے مگر ابن زیاد سے براہ راست بیعت یزید کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ سیدنا حسین ﷜نے تین شرطیں رکھیں کہ مجھے واپس مکہ جانے دو، یا مجھے کسی سرحد پر جانے دو میں کسی جہاد میں شریک ہو جاؤں گا، یا پھر میں یزید کے پاس چلا جاتا ہوں۔وہ میرا ابن عم ہی تو ہے۔مگر ظالمو نے ایک شرط بھی نہ مانی اور شہید کر دیا۔ زیر نظر کتاب’’ شہادت حسین رضی اللہ عنہ حقیقت کے آئینے میں ‘‘ مولانا محمد منیر قمر حفظہ اللہ کی اہلیہ محترمہ الخبر سعودی عرب میں خواتین کےحلقوں میں دئیے گئے ہفتہ وار دروس کی کتابی صورت ہے۔مصنفہ نےاس میں کتاب میں وارد تمام احادیث ومضامین باحوالہ پیش کیے ہیں ۔مولانامحمد منیر قمر صاحب کی نظرثانی اور حافظ شاہد رفیق صاحب کی معاونت سے اس کتاب کی افادیت دو چند ہوگئی ہے۔ (م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   75   17
 
 

سیدنا حسین ﷜اپنے بھائی سیدنا حسن﷜ سے ایک سال چھوٹے تھے وہ نبی کریم ﷺ کے نواسے،سیدنا فاطمہ بنت رسول کے لخت جگر تھے۔ سیدنا حسین ﷜ ہجرت کے چوتھے  سال شعبان کے مہینے میں پیدا ہوئے ۔آپ کی پیدائش پر رسول اللہ ﷺ بہت خوش ہوئے اور آپ کو گھٹی دی ۔رسول اللہ ﷺ نے آپ کا نام حسین رکھا ۔حسن وحسین  کی فضیلت سے متعلق اکثر احادیث  دونوں میں مشترک ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے   اپنے سایہ عاطفت میں اپنے ان نواسوں کی تربیت کی ۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ  مکہ میں موجود تھے اور حج کے ایام شروع ہو چکے تھے۔ مگر کوفیوں نے دھوکا دیا اور لکھا کہ ہمارا کوئی امیر نہیں۔ ہم سب اہل عراق آپ کو امیر بنانا چاہتے ہیں آپ جلد ہمارے پاس تشریف لے آئیں۔ اگر آپ تشریف نہ لائے تو قیامت کے دن ہم اللہ تعالیٰ سے شکایت کریں گے کہ ہمارا کوئی امیر نہیں تھا اور نواسہ رسول نے ہماری بیعت قبول نہ کی تھی۔حضرت حسین ﷜ نے ان باتوں کو سچ سمجھ لیا اور کوفہ روانہ ہو گئے۔روایات کے مطابق سیدنا حسین کو بارہ ہزار خطوط لکھے گئے۔حالات کا جائزہ لینے کے لئے سیدنا حسین نے اپنے عم زاد بھائی مسلم بن عقیل کو بھیجا۔ پہلے ہزاروں کوفیوں نے ان کی بیعت کی پھر بے دردی کے ساتھ ان کو شہید کر دیا۔ حضرت حسین مقام ثعلبہ پہنچے تو مسلم بن عقیل کی شہادت کا علم ہوا۔ آپ نے مسلم بن عقیل کے بیٹوں سے مشورہ کے بعد یزید سے ملاقات کا فیصلہ کر لیا۔ مسلم بن عقیل کے بیٹے ہمراہ تھے ۔کوفہ سے کئی منزل دور مقام ثعلبہ مذکور سے کوفہ کی بجائے شام کا راستہ اختیار فرما لیا۔مسلم بن عقیل کے قتل میں براہ راست شریک اور خطوط بھیجنے والے غدار کوفیوں نے سمجھ لیا کہ اگر حسین یزید کے پاس پہنچ گئے تو اصل سازش فاش ہو جائے گی۔ ہزاروں خطوط ہمارے خلاف گواہ ہوں گے،حکومت کے ساتھ ان کی مفاہمت ہو جائے گی اور ہمیں پھر کوئی نہیں بچا سکے گا۔ لہذا انہوں نے راستہ روکا ۔خطوط تو نہ ہتھا سکے مگر ابن زیاد سے براہ راست  بیعت یزید کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ سیدنا حسین  ﷜نے تین شرطیں رکھیں کہ مجھے واپس مکہ جانے دو، یا مجھے کسی سرحد پر جانے دو میں کسی جہاد میں شریک ہو جاؤں گا، یا پھر میں یزید کے پاس چلا جاتا ہوں۔وہ میرا ابن عم ہی تو ہے۔مگر ظالمو نے ایک شرط بھی نہ مانی اور شہید کر دیا۔ زیر نظر کتاب’’ شہادت حسین رضی اللہ عنہ حقیقت کے آئینے میں ‘‘ مولانا محمد منیر قمر حفظہ اللہ کی اہلیہ محترمہ الخبر سعودی عرب میں  خواتین  کےحلقوں میں دئیے   گئے  ہفتہ وار دروس کی کتابی صورت  ہے۔مصنفہ  نےاس میں کتاب میں  وارد تمام احادیث  ومضامین باحوالہ پیش کیے ہیں ۔مولانامحمد منیر قمر    صاحب کی نظرثانی اور حافظ شاہد رفیق صاحب  کی معاونت  سے اس  کتاب کی افادیت دو چند ہوگئی ہے۔ (م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks