اسلام میں ہر اس چیز کی روک تھام کی گئی ہے جس سے اخلاقی بگاڑ پیدا ہوتا ہو۔ ذہنی انتشار اور اخلاقی بگاڑ پیدا کرنے والی مختلف چیزوں میں سے ایک موسیقی ہے جس کو لوگوں نے جواز بخشنے کے لیے روح کی غذا قرار دے دیا ہے جبکہ اسلام میں موسیقی اور گانے بجانے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے واضح الفاظ میں اس حوالے سے وعید کا تذکرہ کیا ہے۔ فرمانِ رسولﷺ ہے:’’ میرى امت میں سے ایسے لوگ ضرور پیدا ہونگے جو شرمگاہ [زنا] ’ریشم ’شراب اور گانا و موسیقی کو حلال کر لیں گے‘‘یہ دل میں نفاق پیدا کرنے اور انسان کو ذکر الٰہی سے دور کرنے کا سبب ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَرى لَهوَ الحَديثِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ بِغَيرِ عِلمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُوًا ۚ أُولـٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ﴾( سورة القمان)’’ لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو لغو باتوں کو مول لیتے ہیں تاکہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہے‘‘ جمہور صحابہ و تابعین اور ائمہ مفسرین کے نزدیک لهوالحدیث عام ہے جس سے مراد گانا بجانا اور اس کا ساز و سامان ہے اس میں آلات ِ موسیقی اور ہر وہ چیز جو انسان کو خیر اور بھلائی سے غافل اور اللہ کی عبادت سے دور کر دے شامل ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’سماع و قوالی اور گانا و موسیقی‘‘ (کتاب و سنت اور سلف امت کی نظر میں) مولانا ابو عدنان محمد منیر قمرحفظہ اللہ کی تصنیف ہے۔انہوں نے اس کتاب میں گانا و موسیقی کے بارے میں قرآن و سنت کی نصوص اور سلف ِامت کے اقوال کی روشنی میں گانا و موسیقی کی شرعی حیثیت کو واضح کیا ہے۔ مسجد نبوی کے امام و خطیب فضیلۃ الشیخ صلاح البدیر حفظہ اللہ کے گانے بجانے کی شرعی حیثیت کے عنوان پر مشتمل خطبہ کو اس کتاب میں بطور مقدمہ شامل کر دیا ہے۔(م ۔ا)