خصائص النبی ﷺ میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کے لیے چار سے زائد شادیوں کی اجازت تھی، اور اس کی بہت ساری حکمتیں اور مصلحتیں تھیں، پس آپ ﷺ کا چار سے زائد شادیاں کرنا خلاف شریعت نہیں تھا بلکہ یہ مشیت خداوندی کے عین مطابق تھا۔مستشرقین نے نبی ﷺ کی چار زائد شادیوں پر اعتراضات کیے ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’ رسول کریمﷺ کی متعدد شادیوں کی حکمتیں اور اس کے متعلق شکوک وشبہات کا ازالہ‘‘ مفسر قرآن محمد علی صابونی رحمہ اللہ کےایک محاضرہ کی کتابی صورت بعنوان شبهات واباطيل حول تعدد زوجات الرسول ﷺ کا اردور ترجمہ ہے یہ ترجمہ مولانا جمشید عالم عبد السلام سلفی صاحب نے کیا ہے ۔اس رسالے میں نبی کریم ﷺ کی متعدد شادیوں کے تعلق سے دشمنان اسلام کی جانب سے پھیلائے گئے شبہات واباطیل کا بڑے اختصار کے ساتھ نہایت عمدہ اور جامع انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔ پہلے عمومی طور پر تعدد زوجات الرسول ﷺ کی تعلیمی وتشریعی اوراجتماعی وسیاسی حکمتوں اور مصلحتوں پر پُرمغز گفتگو کی گئی ہے اور پھر اس کے بعد مستقل طور پر تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے ہر بیوی کے ساتھ نبی کریمﷺ کی شادی کی حکمت ومصلحت کو جداگانہ طور پر بیان کیاگیا ہے ۔یادر ہے اس رسالے شبهات واباطيل حول تعدد زوجات الرسول ﷺ کا ترجمہ ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر محمد اسلم صدیق (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،سابق رکن اسلامک ریسرچ کونسل ،لاہور) نے بھی 21؍سال قبل کیا تھا جو مجلہ محدث ستمبر،اکتوبر 2000ء میں شائع ہوا تھا۔(م۔ا)