لفظ رحمت قرآن مجید میں کئی ایک معانی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ عمومی رحمت الٰہی سےدنیا میں ہرمومن وکافر ، فرماں بردار نافرمان مستفید ہور ہے ہیں جبکہ رحمت خاص سے روزِ قیامت صرف مومن ہی مستفید ہوں گے۔ اللہ کی وسیع رحمت دنیا میں ہر نیکو کار اور نافرمان کو پہنچتی ہے جبکہ روزِ قیامت یہ صرف متقین کے لیے خاص ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رحمتِ الٰہی سے محروم لوگ‘‘ محترم جنا ب مولانا محمد عظیم حاصلپوری﷾ (مصنف کتب کثیرہ) کی کاوش ہے۔ انہوں اس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں رحمتِ الٰہی کا معنی ومفہوم، رحمت الٰہی کے اسباب کو بیان کرنے بعد ان اعمال کا ذکر کیا ہے کہ جن کاموں کا ارتکاب کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور لوگوں ایسے اعمال کرنے سے بچائے کہ جو کام انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محرومی کا سبب بنتے ہیں۔ (م۔ا)