حضرت ابوبکر صدیق ؓکے سرکاری خطوط


By Al Noor Softs
Posted on Jan 16, 2025
In Category Worship and matters
Authors خورشید احمد فاروق
Published By ناشر : ادارہ اسلامیات انار کلی ،لاہور
In Year 2018
Key Word سپہ سالاروں کوہدایت نامہ خالد بن ولیدؓ کوہدایت نامہ
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 218
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد خلفائے راشدین﷢ اور اموی وعباسی خلفاء نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے جو مختلف کتب سیر میں موجود ہیں ان میں سے کچھ مکاتیب تو کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں ۔اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط کتابی صورت میں مطبوع ہیں اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ابتدائے اسلام کے خطوط میں سے کسی ایک کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ کنہا مشکل ہے کہ و ہ اپنی لفظی ومعنوی شکل میں ویسا ہی ہے کہ جیسا ان کو لکھا گیا تھا۔اس میں شک نہیں کہ یہ خطوط ہمارے پاس مکتوب ومدون شکل میں آئے ہیں لیکن قید تحریر میں آنے سے پہلے بہت عرصہ تک وہ سینہ بہ سینہ اور زبان بہ زبان نقل ہوتے رہے ۔سینہ بہ سینہ انتقال کے دوران بعض خطوط کے مضمون بڑھ گئے اور بعض کے گھٹ گے اور بعض کے بدل گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت ابوبکر صدیق ﷜ کے سرکاری خطوط‘‘ ڈاکٹر خورشید احمد فاروق کی مرتب شدہ ہے اس میں حضرت ابو بکر صدیق﷜کے 70 خطوط ہیں۔ اولاً ان میں سے پنتالیس خطوط برہان دہلی میں شائع ہوئے بعد ازاں ان میں اضافہ کرکے ان کو کتابی صورت میں شائع کیا گیا فاضل مصنف نے ان خطوط کی عربی عبارتیں بھی کتاب کے آخر میں درج کردی ہیں۔ ان خطوط کے سلسلہ میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ جو خط جتنا زیادہ مختصر ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کے اصل سے قریب ہونے کا امکان ہے اور جو خط جنتا بڑا اور طویل ہوگا اس میں اضافہ اور راویوں کے تصرف کا اتنا ہی زیادہ احتمال ہے ۔اوران خطوط کی استنادی حیثیت قوی نہیں ہے ۔نیٹ پر ان کو محفوظ کرنے کی خاطر سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   66   13
 
 

خطوط لکھنے  اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان  ؑ کا  ملکہ سبا کو  لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے  کہ  خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی  خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا  اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے  خود نبیﷺ نے اس  سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے  مختلف بادشاہوں اور  قبائل  کے سرداروں کو خطوط ارسال  فرمائے  پھر  اس کے  بعد   خلفائے راشدین﷢  اور اموی  وعباسی  خلفاء نے  بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے  جو مختلف  کتب سیر میں  موجود ہیں ان میں  سے کچھ مکاتیب تو  کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں ۔اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے   شاہ ولی اللہ  محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام  آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار  حضرات کے خطوط کتابی صورت میں مطبوع  ہیں  اور نہایت دلچسپی سے  پڑ ھےجاتے ہیں۔ابتدائے اسلام کے خطوط  میں سے کسی ایک  کے بارے میں   یقین کے ساتھ یہ کنہا مشکل ہے کہ  و ہ اپنی  لفظی ومعنوی شکل میں ویسا  ہی ہے  کہ جیسا ان کو لکھا گیا تھا۔اس میں شک نہیں  کہ یہ خطوط ہمارے پاس مکتوب ومدون شکل میں آئے  ہیں لیکن قید تحریر میں آنے سے پہلے بہت عرصہ تک وہ سینہ بہ سینہ اور زبان بہ زبان نقل ہوتے رہے  ۔سینہ بہ سینہ انتقال کے دوران بعض خطوط کے مضمون بڑھ گئے اور بعض کے گھٹ گے اور بعض کے بدل گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت ابوبکر صدیق ﷜ کے سرکاری خطوط‘‘  ڈاکٹر خورشید احمد فاروق کی مرتب شدہ ہے اس میں  حضرت ابو بکر صدیق﷜کے 70 خطوط ہیں۔ اولاً  ان میں سے  پنتالیس خطوط برہان  دہلی میں شائع ہوئے  بعد ازاں ان  میں اضافہ کرکے ان کو کتابی صورت میں شائع کیا گیا فاضل مصنف  نے ان خطوط کی عربی عبارتیں بھی کتاب کے آخر میں درج کردی ہیں۔ ان خطوط  کے سلسلہ میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے  کہ   جو خط جتنا  زیادہ مختصر ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کے اصل سے قریب ہونے کا امکان ہے  اور جو خط جنتا بڑا اور طویل ہوگا اس میں اضافہ اور راویوں کے تصرف کا اتنا ہی  زیادہ احتمال ہے ۔اوران  خطوط  کی استنادی حیثیت قوی نہیں ہے ۔نیٹ پر ان   کو محفوظ  کرنے کی  خاطر سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔(م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks