بیت اللہ کا حج ارکانِ اسلام میں ایک اہم ترین رکن ہے۔ بیت اللہ کی زیارت اور فریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے۔ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے، اور اس کے انکاری کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اجر و ثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور ایک عظیم عبادت ہے اور کوئی بھی عبادت دعا کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے حج اور عمرہ دعا کرنے اور اللہ سے مانگنے کے مواقع سے بھرے ہوئے۔ حاجی کی دعائیں اللہ کے ساتھ مکالمہ ہیں اس لیے حج و عمرہ پر جانے والے احباب کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو فضول قسم کی باتوں سے دور رکھیں اور ہر وقت،چلتے پھرتے،اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہوئے اللہ تعالیٰ کو یاد کریں۔ محترم خلیل الرحمٰن چشتی صاحب نے زیر نظر مختصر کتابچہ بعنوان ’’حج کے اذکار ‘‘ میں منیٰ، میدان عرفات،عرفات سے مزدلفہ آنے جانے ، رمی،قربانی ،طوافِ زیارت،اور آخری ایام میں منیٰ کے اندر قیام کے اذکار کو پیش کیا ہے۔(م۔ا)