اموال زکاۃ کی سرمایہ کاری


By Al Noor Softs
Posted on Nov 12, 2024
In Category Worship and matters
Authors مختلف اہل علم
Published By ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
In Year 2014
Key Word پہلا باب تمہید امور...دوسرا باب تفصیلی مقالات
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 284
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل مسلمان اس عظیم الشان فریضے کی ادائیگی سے سے بالکل لا پرواہ ہو چکے ہیں۔اور زکوۃ نکالنے کا اہتمام مفقود نظر آتا ہے۔اس پس منظر میں ایک رجحان یہ بھی ہے کہ اموال زکوۃ کی سرمایہ کاری کی جائے تاکہ زیادہ عرصہ تک اور زیادہ سے زیادہ فقراء کو اس سے استفادہ کرنے کا موقع مل سکے۔موضوع کی اہمیت کے پیش نظر انڈیا کی اسلامک فقہ اکیڈمی نے دیگر موضوعات کی طرح اس پر بھی ایک سیمینار کا انعقاد کیا اور اس میں مختلف اہل علم نے مقالات پیش کئے اور اپنے موقف کا اظہار کیا۔یہ کتاب " اموال زکوۃ کی سرمایہ کاری " اس سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کے مجموعے پر مشتمل ہے،جسے ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی نے طبع کیا ہے۔یہ اہل علم اور طلباء کے لئے ایک گرانقدر علمی وتحقیقی تحفہ ہے۔تمام طالبان علم کو چاہئے کہ وہ اس خاص موضوع پر مطالعہ کے لئے اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔(راسخ)
Ratings Read Downloads
(0)   122   27
 
 

اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا  نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات  بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل مسلمان اس عظیم الشان فریضے کی ادائیگی سے سے بالکل  لا پرواہ ہو چکے ہیں۔اور زکوۃ نکالنے کا اہتمام مفقود نظر آتا ہے۔اس پس منظر میں ایک رجحان یہ بھی ہے کہ اموال زکوۃ کی سرمایہ کاری کی جائے  تاکہ زیادہ عرصہ تک اور زیادہ سے زیادہ فقراء کو اس سے استفادہ کرنے کا موقع مل سکے۔موضوع کی اہمیت کے پیش نظر   انڈیا کی اسلامک فقہ اکیڈمی نے دیگر موضوعات کی طرح  اس پر بھی ایک سیمینار کا انعقاد کیا اور اس میں مختلف اہل علم نے مقالات پیش کئے اور اپنے موقف کا اظہار کیا۔یہ کتاب " اموال زکوۃ کی سرمایہ کاری " اس سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کے مجموعے پر مشتمل ہے،جسے ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی نے طبع کیا ہے۔یہ  اہل علم اور طلباء کے لئے ایک گرانقدر علمی وتحقیقی تحفہ ہے۔تمام طالبان علم کو چاہئے کہ وہ اس خاص موضوع پر مطالعہ کے لئے اس  کتاب کو ضرور پڑھیں۔(راسخ) 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks