ہر مسلمان پرواجب اور ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کے علماء، مجتہدین اور اولیاء صالحین کی محبت اختیار کرے، خاص کر وہ ائمہ اور علماء جو پیغمبروں کے وارث ہیں، آسمان کے ستاروں کی طرح خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ دیکھاتے ہیں، مخلوق کے سامنے ہدایت کے راستے کھولتے ہیں۔ خاتم الرسلﷺ کی بعثت سے پہلے جو امتیں تھیں ان کے علماء بد ترین لوگ تھے، مگر ملت اسلامیہ کے علماء بہترین لوگ ہیں۔ جب کبھی رسول اللہﷺ کی سنت مطہرہ مردہ ہونے لگتی ہے تو اس کو یہ علماء ہی زندہ کرتے ہیں، اور اسلام کے جسم میں ایک تازہ روح پھونکتے ہیں۔ اسی طرح چاروں ائمہ مجتہدین اور دوسرے علماء حدیث جن کی مقبولیت کے آگے امت سرنگوں رہتی ہے، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ رسول اللہﷺ کی کسی حدیث اور سنت کی مخالفت کا اعتقاد دل میں رکھتا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب"ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع" علامہ نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ کی ایک معرکۃ الاراء کتاب"جلب المنفعۃ فی الذب عن الائمۃ المجتہدین الاربعۃ" فارسی کا اردو ترجمہ ہے، مترجم مولانا محمد اعظمی حفظہ اللہ تعالیٰ نے حتی المقدور کتاب کا ترجمہ سہل انداز میں پیش کیا ہے۔ مولانا خان صاحبؒ کے علمی و دینی خدمات جلیلہ اور ان کے تجدیدی کارنامے تعارف کے محتاج نہیں۔ مولانا خان صاحبؒ نے اپنی اس نایاب تصنیف میں ائمہ اربعہ کے دفاع کے ساتھ ان کے اور جماعت اہل حدیث و محدثین کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں اور مقلدین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو لعن طعن، الزام تراشی اور تکفیر و تفسیق کی گرم بازاری رہتی ہے اس پر سخت نکیر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہم دعا گو ہیں کہ وہ امت مسلمہ کو اتفاق و اتحاد سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور مصنف و مترجم کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (عمیر)