Al Noor Softs

( Joined منذ سنة )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

٢٬٨٤٠ Books found
اللہ کہاں ہے ؟ ( امن پوری )

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اللہ کہاں ہے؟ یہ ایک محض ایک سوال ہی نہیں بلکہ اسلامی عقائد میں سے ایک اہم ترین عقیدہ ہے،جو براہ راست اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات مبارک سے متعلق ہے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہیں اور یہی اہل سنت والجماعت (سلف صالحین) کا عقیدہ ہے لیکن اﷲ تعالیٰ کے عرش پر مستو ی ہو نے کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے جس طرح اﷲتعالیٰ کی شان کے لا ئق ہے اسی طرح وہ عرش پر مستوی ہے ہماری عقلیں اْس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور اﷲ تعالیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ ہرجگہ موجود ہے کیونکہ وہ مکان سے پاک اور مبرا ہے البتہ اْس کا علمِ اور اس کی قدرت ہر چیز کو محیط ہے، اْس کی معیت ہر کسی کو حا صل ہے جس کی وضاحت کتب عقائد میں موجود ہے ۔محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری ﷾ نے زیر نظرکتاب ’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘ میں قرآن وسنت ، اقوال صحابہ وائمہ محدثین کی روشنی اسی عقیدے کو علمی انداز میں ثابت کیا ہے۔شاید یہ کتاب ابھی مطبوع نہیں ہے ہمیں پی ڈی ایف فارمیٹ موصول ہوئی تواسے کتاب وسنت سائٹ کے قارئین لیےپبلش کردیا ہے ۔اللہ تعالیٰ علامہ امن پوری ﷾ کی تدرسی، دعوتی ،تحقیقی وتصنیفی مساعی کوقبول فرمائے ۔آمین)(م۔ا)

مسنون نفلی نمازیں

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

وتر کےمعنیٰ طاق کے ہیں ۔ احادیث نبویہ کی روشنی میں امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ ہمیں نمازِ وتر کی خاص پابندی کرنی چاہیے؛ کیونکہ نبی اکرم ﷺ سفر و حضر میں ہمیشہ نمازِ وتر کا اہتمام فرماتے تھے، نیز نبیِ اکرم ﷺ نے نماز ِوتر پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے حتی کہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص وقت پر وتر نہ پڑھ سکے تو وہ بعد میں اس کی قضا کرے ۔ آپ ﷺ نے امت مسلمہ کو وتر کی ادائیگی کا حکم متعدد مرتبہ دیا ہے ۔ نمازِ وتر کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبح ہونے تک رہتا ہے ۔ رات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد پڑھ کر نماز ِوتر کی ادائیگی افضل ہے ، نبی اکرم ﷺ کا مستقل معمول بھی یہی تھا ۔ البتہ وہ حضرات جو رات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد اور نمازِ وتر کا اہتمام نہیں کر سکتے ہیں تو وہ سونے سے قبل ہی وتر ادا کر لیں ۔ آپ کی قولی و فعلی احادیث سے ایک، تین، پانچ ،سات اور نو رکعات کے ساتھ نماز وتر کی ادائیگی ثابت ہے ۔ کتب احادیث وفقہ میں نماز کے ضمن میں صلاۃ وتر کے احکام و مسائل موجود ہیں ۔ نماز کے موضوع پر الگ سے لکھی گئی کتب میں بھی نماز وتر کے احکام موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’مسنون نفلی نمازیں‘‘ محقق دوراں علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری﷾ کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب کا ٹائٹل تو ’’ مسنون نفلی نمازیں‘‘ کے نام سے ہے لیکن اس میں صرف نماز وتر کے ہی جملہ تفصیلی احکام ہیں ۔ نماز وتر کے علاوہ نفلی نمازوں کا تذکرہ نہیں ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ادارہ منہاج السنۃ النبویۃ لائبریری ،حیدرآباد ،دکن نے اس کا ٹائٹل پیج مسنون نفلی نمازیں کے نام سے بنا دیا ہے جبکہ اس میں صرف نماز وتر کے احکام و مسائل ہیں ۔ (م۔ا)

مقالات السنہ

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا اب دعوت و تبلیغ کا ایک مستقل پلیٹ فارم بن چکا ہے، اور اس میدان کے بھی کچھ شہسوار ایسے ہیں، جن کی دعوت و تبلیغ سرحدی حدود قیود سے ماورا ہو کر روشنی کی طرح اطراف و اکنافِ عالم میں ہم زبانوں کی آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے، مولانا غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب(مدیر ماہنامہ السنۃ،جہلم) بھی انہیں نوجوان علمائے کرام میں سے ایک ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے دین کی ترویج اور نشر واشاعت کے لیے جدید وسائل و ذرائع کو استعمال کرنے کا سلیقہ عطا فرمایا ہوا ہے، فیس بک، واٹس ایپ، اردو فورمز وغیرہ پر علمی و دعوتی مضامین تحریر کرنا، صارفین کے سوالات کو سننا، اور اہتمام سے جواب لکھنا آپ کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے،مولانا امن پوری صاحب ماہنامہ السنہ میں بیسیوں علمی وتحقیقی مضامین لکھنے کےعلاوہ تقریبا دس اہم علمی کتابوں پر تحقیق وتخریج کا کام کرچکے ہیں اور 20 کےقریب مستقل کتب تصنیف کرچکے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ مقالات السنۃ‘‘ مولانا غلام مصطفی ظہیر امن پوری ﷾ کے تحریر کردہ 37 ؍علمی و تحقیقی مضامین کامجموعہ ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے اصول محدثین کی روشنی میں بعض خودساختہ نظریات کی حقیقت کو آشکار کیا ہے۔مولاناامن پوری صاحب نے صرف دلیل پر تبصرہ کیا ہے کیونکہ جب دلیل کی بنیاد نہ ہو تواس پر کھڑی کی گئی عمارت خودبہ خود زمین بوس ہوجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ مولانا کی تحقیق وتصنیفی ،تدریسی وتبلیغی اورصحافتی جہود کو قبول فرمائے اور ان کی زندگی میں خیر وبرکت فرمائے ۔(آمین) ( م۔ا )

آمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

متنازعہ مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانےکاہے بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن میلاد مناتے ہیں ۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرونِ اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دلائی ، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین،تبع تابعین﷭ کا زمانہ جنہیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اورنہ وہ جشن مناتے تھے اور اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ۔عید میلاد النبی ؍جشن میلاد کی حقیقت کو جاننے ک لیے اہل علم نےبیسیوں کتب تصنیف کی ہیں ۔ محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے زیر نظرکتاب ’’ آمد مصطفیٰﷺ‘‘ میں اسلاف امت کے طرز عمل کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہےکہ کسی کایوم ولادت بہ طور عید منایا جاسکتا ہے کہ نہیں؟ پھر اس سوال کا جواب قرآن وسنت ، اقوال صحابہ وائمہ محدثین کی روشنی میں نوک قلم سے گزار دیا ہے نیز یہ ثابت کیا ہے کہ نبی کریمﷺ کا ذکر سن کر درود پڑھنے کے لیے کھڑا ہونا یا آپﷺ کے میلاد کے ذکر پر تعظیما کھڑا ہونا بدعت ہے۔کیونکہ اگر یہ نیکی کا کام ہوتا ،توصحابہ وتابعین اور ائمہ دین اس سے قعطاً غافل نہ رہتے۔ (آمین) یہ کتاب شاید ابھی غیر مطبوع ہے ۔اس کتاب کی پی ڈیف فائل ایک واٹس گروپ سے حاصل کر کےکتاب وسنت سائٹ کےقارئین کےلیے پبلش کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ علامہ امن پوری ﷾ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے مسلمہ کی اصلاح کا ذریعہ بنائے اور ان کی تدرسی، دعوتی ،تحقیقی وتصنیفی مساعی کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

اقامۃ البرہان علٰی نور العرفان

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Knowledge

By Al Noor Softs

قرآن کریم ہی وہ واحد کتاب ہے جو تاقیامت انسانیت کے لیے ذریعہ ہدایت ہے ۔ اسی پر عمل پیرا ہو کر دنیا میں سربلند ی او ر آخرت میں نجات کا حصول ممکن ہے لہذا ضروری ہے اس کے معانی ومفاہیم کوسمجھا جائے ،اس کی تفہیم کے لیے درس وتدریس کا اہتمام کیا جائے او راس کی تعلیم کے مراکز قائم کئے جائیں۔ قرٖآن فہمی کے لیے ترجمہ قرآن اساس کی حیثیت رکھتا ہے ۔بہت سارے مکاتب ہائے فکر نے قرآن مجید کی تفاسیر وحواشی لکھے ہیں ۔اس حوالے سے ہرمکتب فکر کا ایک الگ مزاج ہے۔بعض لوگ تفسیر باالرائے پر دھیان دیتے ہیں اور بعضوں نے قرآن مجید میں تحریف کا نیا باب کھولا ہے ۔ کجھ فلاسفہ کے طریق پر تفسیر کرتے ہیں ۔اہل سنت کا مزاج سب سے ہٹ کر ہے ۔اہل سنت نے تفسیر کے لیے قرآن وحدیث اور فہم سلف کو مقدم رکھا ہے ۔یہی طریقہ اسلم اور احکم ہے ۔جو بھی اس رستے سے ہٹ جاتا ہے گمراہی والحاد کا شکار ہوجاتا ہے۔ محترم جناب غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے کتاب ہذا میں بریلوی مکتب فکرکےعالم مفتی احمد یارخان نعیمی کے ’’نور العرفان‘‘ کے نام سے قرآن کریم پر لکھے گئے حاشیہ سے متعلق چند گزارشات پیش کی ہیں کہ آیا یہ مفتی احمد یار خان نعیمی کا تفسیری حاشیہ اہل سنت کے مزاج کے مطابق ہے یا ہٹ کر ہے ۔ امن پوری صاحب نے کتاب ہذا میں نور العرفان سے کچھ عبارات لے کر اس پر اپنا علمی وتحقیقی تبصرہ پیش کیا ہے۔(م۔ا)

امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Biography

By Al Noor Softs

امام ابن جریر طبری عہد عباسی کے معروف مورخ و مفسر گزرے ہیں ۔اسلامی علوم کے زمانہ تدوین سے تعلق رکھنے کی وجہ سے علوم اسلامیہ پر گہرے اثرات ڈالنے والوں میں سر فہرست ہیں ۔گرانقدر تصنیفات چھوڑیں ،جن میں خاص طور پر صحابہ و تابعین کے اقوال سے مزین ایک ضخیم تفسیر "جامع البیان عن تاویل آی القران "المعروف تفسیر طبری اور حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لیکر اپنے زمانے تک کی مبسوط تاریخ "تاریخ الا مم و الملوک" اپنے موضوع پر بنیادی کتب کی حیثیت رکھتی ہیں ،حنابلہ کے ایک گروہ کے ساتھ طویل مخالفت رہی ،جس کے متعدد اسباب تراجم کی کتب میں مذکور ہیں ۔اس طویل کشمکش کا اثر یہ ہوا کہ حنابلہ کے علاوہ دوسرے طبقات بھی ابن جریر کے مخالف ہوگئے ، منکرین حدیث نے امام طبری کو اہل تشیع میں شمار کیا ہے ۔ علامہ غلام مصفطیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے زیر نظر مضمون ’’ امام محمد بن جریر طبری رحمہ اللہ ‘‘ میں اسی مغالطہ کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔(م۔ا)

سید ابو الاعلٰی مودودی ( عقائد و نظریات )

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Biography

By Al Noor Softs

سید ابو الاعلیٰ مودودی (1903ء – 1979ء) مشہور عالم دین اور مفسر قرآن اور جماعت اسلامی کے بانی تھے۔ بیسوی صدی کے موثر ترین اسلامی مفکرین میں سے ایک تھے۔ ان کی فکر، سوچ اور ان کی تصانیف نے پوری دنیا کی اسلامی تحریکات کے ارتقا میں گہرا اثر ڈالا ۔ تاہم ان کی عبارات میں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام ،صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی عنہم اجمعین پر تنقید کی گئی ہے جس کا انہیں یا کسی اور کو اختیار حاصل نہیں؛ لہٰذا اکابر نے ان کے جادہٴ حق سے ہٹے ہوئے ہونے کا حکم لگایا ہے۔مولانا مودودی ایسے افکار ونظریات کی وجہ سے کئی اہل علم اور مفتیان عظام نے ان پر نقد کیا ہے جیسا کہ ’’ دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن‘‘کے مفتی احمد الرحمٰن اپنے ایک فتوی میں لکھتے ہیں ’’ مولانا مودودی پر علماء نے کفر کا فتویٰ نہیں لگایا، البتہ ان کی تحریر میں بے شمار ایسی گم راہ کن باتیں پائی جاتی ہیں جو سراسر اسلام کے خلاف ہیں، اور علماءِ فن نے اس کی گرفت کی ہے، اور علماء پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مودودی کی گم راہیوں سے عامۃ المسلمین کو آگاہ کریں۔‘‘( https://www.banuri.edu.pk/readquestion/modoodi-sahib-ke-aqaid-or-un-ka-hukum-144109202551/17-05-2020)معروف عالم دین ومحقق مولانا غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے زیر نظر کتابچہ ’’سید ابو الاعلیٰ مودودی(عقائد ونظریات)‘‘ میں مولانا مودودی رحمہ اللہ کے سلف صالحین سے ہٹے ہوئے افکار ونظریات کا محققانہ جائزہ پیش کیا ہے ۔(م۔ا)

حدیث مصراۃ

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

”مُصَرَّاۃٌ ”سے مراد وہ جانور ہے ، جس کا دودھ اس کے تھنوں میں روک دیا گیا ہو تاکہ دودھ زیادہ نظر آئے۔ اگر کوئی شخص بکری یا اونٹ وغیر ہ کو بیچنے کے ارادے سے خریدار کو دودھ زیادہ باور کروانے کے لیے ایک دو دن تھنوں میں دودھ روکے رکھے تو یہ کام ناجائزو حرام اور دھوکا ہے ، یہ اقدام اس جانور کو عیب دار بنا دیتاہے ، اگر کوئی غلطی سے ایسا جانور خرید لے اور بعد میں اسے پتا چل جائے تو تین دن کے اندر واپس لوٹانے کا مجاز ہے ، لیکن جب جانور واپس لوٹائے گاتو جو دودھ پیا ہے ، اس کے عوض ایک صاع (دو سیر چار چھٹانک) کھجور دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جو شخص دودھ چڑھی ہوئی بکری خریدے تو اس کو تین روز تک اختیار ہے چاہے ،تو اس کو رکھ لے یا واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجور کاا یک صاع بھی دے۔‘‘ (صحیح مسلم : 928) ۔ زیر نظر کتابچہ ’’ حدیث مصراۃ‘‘علامہ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے انہوں نے اس مضمون میں ’’ بیع مصراۃ کی حدیثِ مصراۃ کی روشنی میں تشریح کردی ہے اور حدیث مصراۃ کی اور مکمل تحقیق وتخریج کوبھی پیش کیا ہے۔نیز بیع مصراۃ کے تفصیلا ًاحکام بیان کردیے ہیں افادۂ عام کے لیے اسے کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔(م۔ا)

دفاع صحابہ رضی اللہ عنہم

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

صحابہ کرا م رضی اللہ عنہم ناقلین شریعت ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی اکرم محمد ﷺ کی صحبت ورفاقت کے لیے منتخب فرمایا ۔انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام ﷢ کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام﷢ کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔اللہ اور رسول ﷺ کی شہادت اور تعدیل کےبعد کسی اور شہادت کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ۔ اور نہ ہی کسی بدبخت منکوس القلب کی ہرزہ سرائی ان کی شان کو کم کرسکتی ہے۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ زیرنظر کتاب ’’دفاع صحابہ رضی اللہ عنہم ‘‘۔ محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے انہوں نے اس کتاب میں محققانہ اندازن میں اصحاب رسول ﷺکا دفاع پیش کیا ہے ۔ یہ کتاب شاید ابھی غیر مطبوع ہے ۔اس کتاب کی پی ڈیف فائل ایک واٹس گروپ سے حاصل کر کےکتاب وسنت سائٹ کےقارئین کےلیے پبلش کی گئی ہے اللہ تعالیٰ علامہ امن پوری ﷾ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے مسلمہ کی اصلاح کا ذریعہ بنائے اور ان کی تدرسی، دعوتی ،تحقیقی وتصنیفی مساعی کوقبول فرمائے ۔آمین)(م۔ا)