Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
اسلام اور انسانی حقوق
Authors: سید جلال الدین انصر عمری
نبی کریمﷺ نے مختلف قدغنوں اور پابندیوں زنجیروں میں گرفتار دنیا کو انسانی حقوق سے آشنائی بخشی اور انہیں انسانیت کی قدر و قیمت سے آگاہ کیا۔رسول اللہﷺ نے حقوق کی دو قسمیں بتائیں۔حقوق اللہ اور حقوق العباد حقوق اللہ سے مراد عبادات ہیں یعنی اللہ کے فرائض اور حقوق العباد باہم انسانوں کے معاملات اور تعلقات کا نام ہے۔اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت حقوق اللہ سے بھی کئی لحاظ سے زیادہ ہے۔اسلام میں ہر انسان پر دوسرے انسانوں بلکہ حیوانوں اور بےجان چیزوں تک کے حقوق رکھے گئے ہیں جنہیں ہر انسان کو اپنے امکان کے مطابق ادا کرنا ازحد ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے حقوق کو بہت وسعت دی ہے کہ نہ صرف کائنات ارضی کے حقوق انسان کے ذمہ ہیں بلکہ خود انسان کے وجود کے ہر عضو کا حق بھی اس کے ذمہ رکھا گیا ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’اسلام اور انسانی حقوق‘‘انڈیا کے ممتاز عالم دین محترم مولانا سید جلال الدین عمری حفظہ اللہ کے ایک لیکچر کی کتابی صورت ہے۔موصوف نے اس میں بڑے عالمانہ انداز میں انسانی حقوق اور اس کے تاریخی پس منظر کا معروضی مطالعہ کر کے اس کے بنیادی تصورات کو واضح کیا ہے۔یہ کتابچہ اسی مصنف کی تفصیلی کتاب ’’اسلام انسانی حقوق کا پاسبان‘‘کا خلاصہ ہے۔ (م۔ا)
سیف محمدی
Authors: محمد جونا گڑھی
دنیا میں کوئی ایسا مسلمان نہیں جو اس حقیقت سے نا آشنا ہو کہ زمانہ رسالت مآب ﷺ میں مسلمانوں کے پاس عقیدے اور عمل کے لیے صرف وحی الہی تھی جس کے دو حصے تھے:قرآن وحدیث،صحابہ کرام ؓ صرف انہی د و چیزوں پر عمل کرتے رہے۔دین ودنیا کی تمام ضرورتوں کے احکام اسی سے لیتے رہے۔صحابہ وتابعین کے زمانہ میں وحی الہیٰ ہی ماخذ ومصدر مسائل تھا۔بعد ازاں بعض لوگوں نے تقلید شخصی کو بھی داخل دین کر لیا اور ائمہ اربعہ سے منسوب فتاوی واجتہادات کو بھی مستقل ماخذ سمجھ کر ان سے مسائل کا استنباط کرنے لگے۔اہل حدیث کی دعوت یہ ہے کہ پھر سے صحابہ وتابعین کی روش کی جانب پلٹا جائے اور صرف قرآن وحدیث ہی سے رہنمائی لی جائے۔حضرات مقلدین کو یہ روش پسند نہیں چنانچہ وہ اہل حدیث کی جانب غلط مسائل منسوب کر کے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،حالانکہ اہل حدیث کا دامن ان سے بالکل بری ہے۔دوسری طرف خود ان کے فقہی ذخیرے میں ایسے مسائل ہیں جو کتاب وسنت کے بالکل خلاف اور شرم وحیا سے عاری ہیں ۔زیر نظر کتاب میں خطیب الہند مولانا محمد جونا گڑھی رحمتہ اللہ نے اسی کو موضوع بحث بنایا ہے اور انتہائی مدلل انداز سے فقہ حنفی کے مسائل کو کتاب وسنت کے مخالف ثابت کیا ہے ۔امید ہے مقلد شیان حق کھلے دل سے اس کا مطالعہ کریں گے ،جس سے حق پہچاننے میں یقیناً مدد ملے گی۔(ط۔ا)
شمع محمدی ﷺ
Authors: محمد جونا گڑھی
ہمارے ہاں کے ارباب تقلید حضرات احناف نے یہ مشہور ےکر رکھا ہے کہ فقہ حنفی کی کتابوں کا ایک مسئلہ بھی خلاف حدیث نہیں بلکہ یہ فقہ قرآن وحدیث کا مغز،گودا اور عطر ہے۔بہ کھٹکے اس پر عمل کرنا نجات کا سبب ہے کیونکہ یہ فقہ درجنوں ائمہ اجتہاد کا نتیجہ ہے ۔حقیقت حال اس کے بالکل برعکس ہے ۔فقہ حنفی کے بے شمار مسائل کتاب وسنت سے صریح متصادم ہیں ،جن کا صحابہ کرام ؓ سے بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا۔مولانا محمد جونا گڑھی رحمتہ اللہ نے زیر نظر کتاب میں با حوالہ اس امر کو ثابت کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایک مسلمان کو محض کتاب وسنت اور اجماع امت ہی کی پیروی کرنی چاہیے نہ کہ کسی مخصوص مسلک ومذہب کی۔چونکہ کئی صدیوں سے فقہ حنفی کو قرآن وحدیث کا نچوڑ بتایا جا رہا ہے ،اس لیے حنفی حضرات کے دل پر یہ بات نقش ہو چکی ہے۔زیر نظر کتاب کے منصفانہ مطالعہ سے اس کی قلعی کھل جائے گی اور ایک سچا مسلمان کبھی بھی کتاب وسنت کے خلاف کسی مسئلہ کو تسلیم کرنا تو گوارہ نہیں کرے گا۔خدا کرے کہ اس کتاب سے طالبین حق کو رہنمائی میسر آئے اور مسلمانوں میں وحی الہی کی طرف لوٹنے کا جذبہ بیدار ہو تاکہ اتحاد امت کی راہ ہموار ہو سکے۔(ط۔ا)
درایت محمدی
Authors: محمد جونا گڑھی
اس کتاب میں حنفی مذہب کی اعلی کتاب ہدایہ کی پوری چھان بین کی گئی ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ ہدایہ میں امام ابوحنیفہ ،امام ابو یوسف ، امام شافعی اور امام مالک وغیرہ کے مذاہب بیان کرنے ،تاریخی واقعات،موقوف اور مرفوع حدیث کی تمیز ،خلفاء اور صحابہ کے مسئال اور رایوں کےناموں میں مصنف ہدایہ نے فاش غلطیاں کی ہیں ۔ہدایہ میں بہت سی ایسی احادیث ہیں جوبالکل لاپتہ اور بے اصل ہیں اکثر صحیح احادیث کا انکار ہے ار احادیث میں کمی وزیادتی بھی ہے ۔اغلاط ہدایہ یعنی درایت محمدی جس کے مطالعہ سے معلوم ہوگا کہ ہدایہ وغیرہ فقہ کی کتابوں کی احادیث ناقابل اعتبار ہیں۔فقہ کی کتابوں کے تمام مسائل امام ابوحنیفہ کے نہیں ۔ہدایہ کے ایک سوخلاف عقل ونقل مسائل ،ہدایہ کے امام صاحب اوران کے شاگردوں کےایک سواختلافی مسائل،ہدایہ میں خود امام صاحب کے اقوال میں حلال وحرام کااختلاف وغیرہ درج ہے۔ہدایہ کی اصلیت پر ایک اہم کتاب درایت محمدی۔(ک۔م)
خطبات محمدی
Authors: محمد جونا گڑھی
جمعہ کے خطبات پر دنیا کی مختلف زبانوں میں بے شمار کتابیں موجود ہیں اور ان میں اب بھی مسلسل اضافہ ہورہاہے اسلامی خطبات ، خطبات جمعہ از عبد السلام بستوی ، زاد الخطیب از ڈاکر حافظ محمد اسحا ق زاہد وغیرہ قابل ذکر ہیں اور ان کے علاوہ اہل علم او ر خطباء حضرات کے ذاتی خطابات کے بے شمار مجموعےموجود ہیں لیکن اب تک نبیﷺ کے جملہ خطبات کو جمع وترتیب کا کام کسی نےنہیں کیا اس لحاظ سے خطبات محمدی اپنے موضوع پر ایک منفرد اور مثالی کتاب اور خطباتِ نبوی کامستند ترین مجموعہ ہے مولانامحمد جوناگڑھی خود ایک سحربیان خطیب تھے خطابت کاملکہ فطری طور پر ان کے اندر قدرت نے بڑی فیاضی سے کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا کہ وہ خطیب الہند کے نام سے معروف ہیں احادیث پر ان کی گہری اور وسیع نظر تھی خطبات محمدی میں انہوں نے صحیح احادیث اور معتبر دینی کتبِ تفسیر وحدیث سے چن چن کر خطبات ِ نبوی ﷺ کے موتیوں کو جمع کردیا ہے خطبات محمدی کے اس مجموعہ میں رسول اللہﷺ کے ایک ہزار(1000) سے زائد خطبات موجود ہیں مولانا موصوف اس کتاب کے علاوہ بیسیوں علمی وتحقیقی کتب کےمؤلف ہیں اور مشہور زمانہ تفسیر کی معتبرکتاب تفسیر ابن کثیر کے مترجم بھی ہیں اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کے درجات بلند فرمائے او رعوام الناس کے لیے ان کی کوششوں کو نفع بخشش بنائے(آمین)(م۔ا)
امام محمدی امام ابو حنیفہ تاریخ بغداد کے آئینے میں
Authors: محمد جونا گڑھی
ہر مسلمان پرواجب اورضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کے علماء، مجتہدین اور اولیاء صالحین کی محبت اختیار کرے، خاص کر وہ ائمہ اور علماء جو پیغمبروں کےوارث ہیں، آسمان کے ستاروں کی طرح خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ دیکھاتے ہیں، مخلوق کے سامنے ہدایت کے راستے کھولتے ہیں۔ خاتم الرسل ﷺ کی بعثت سے پہلے جو امتیں تھیں ان کے علماء بد ترین لوگ تھے، مگر ملت اسلامیہ کے علماء بہترین لوگ ہیں۔ جب کبھی رسول اللہ ﷺ کی سنت مطہرہ مردہ ہونے لگتی ہے تو اس کو یہ علماء ہی زندہ کرتے ہیں، اوراسلام کے جسم میں ایک تازہ روح پھونکتے ہیں۔ اسی طرح چاروں ائمہ مجتہدین اور دوسرے علماء حدیث جن کی مقبولیت کے آگے امت سرنگوں رہتی ہے، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی کسی حدیث اور سنت کی مخالفت کا اعتقاد دل میں رکھتا ہو۔ ائمہ اربعہ میں سے ہر کوئی منفرد خصوصیات و صلاحیتوں کے مالک اور علم وعرفان کے بحر بیکراں تھے۔ بشری تقاضوں کے پیش نظر ائمہ، مجتہدین سے لغزشیں اور اخطاء بھی سرزد ہوئیں مگر اس کا مطلب ہرگزیہ نا ہو گا کہ ان کو شب و شتم کا نشانہ بنایا جائے۔ ائمہ اربعہ میں سے جو مقام امام ابو حنیفہؒ کو فقہ و اجتہاد میں حاصل ہوا وہ کسی اور کو نا مل سکا۔ امام ابو حنیفہؒ کی شخصیت کے بارے امت مسلمہ تین طبقوں میں منقسم ہے۔ زیر نظر کتاب"امام محمدی امام ابو حنیفہؒ تاریخ بغداد کے آئینے میں"مشہور محدث و امام خطیب البغدادیؒ کی مایہ ناز کتاب"تاریخ بغداد" کے ایک جزء کا ترجمہ ہے جس کو مصنف مولانا محمد محدث جونا گڑھیؒ نے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ خطیب البغدادیؒ نے اپنی تصنیف میں امام ابو حنیفہؒ کی مختلف فیہ شخصیت ہونے کی بناء پران کے مناقب و مثالب کو پوری دیانت داری کے ساتھ مع سند ذکر کیا ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین (عمیر)
مشکوٰۃ محمدی
Authors: محمد جونا گڑھی
In Arguments
مولانا محمد جوناگڑھی صوبہ گجرات میں ضلع کاٹھیاوار کے شہرت یافتہ شہر جوناگڑھ میں 1890ء میں پیدا ہوئے، جو متحدہ ہندوستان میں اسلامی ریاست کے نام سے معروف تھا،مولانا جوناگڑھی نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن مالوف میں مولانا محمد عبداللہ صاحب جوناگڑھی سے حاصل کی۔اس کے بعد 1913ء میں 22 سال کی عمر میں اپنے مادر وطن کی محبت و کشش سے خود کو آزاد کر کے بڑے خفیہ طریقہ سے دہلی پہنچے اور “مدرسہ امینیہ” میں داخلہ لے کر یکسوئی کے ساتھ حصول تعلیم میں مشغول ہو گئے، اس کےبعد مولانا عبدالوہاب ملتانی کے مدرسہ دارالکتاب والسنہ میں چلے گئے۔ مولانا جوناگڑھی کا دہلی میں شیخ عبدالرحمان شیخ عطاء الرحمان اور ان کے قائم کردہ جامعہ رحمانیہ سے والہانہ لگاوٴ اور حقیقی تعلق تھا مولانا کی ہمدردیاں ہمہ وقت دارالحدیث رحمانیہ کے ساتھ رہتیں۔ دارالحدیث رحمانیہ کے اجلاس اور خصوصی پروگرام میں بھی مولانا جوناگڑھی شریک ہوا کرتے تھے، چنانچہ رحمانیہ کے سترھویں سالانہ اجلاس میں بحیثیت صدر ایک جامع خطاب کیا جو بعد میں “مقالہٴ محمدی” کے نام سے طبع ہوا۔تعلیمی مراحل کے بعد عملی زندگی میں اپنے خیالات کو کارگر بنانے کی نیت سے سب سے پہلے ایک دینی مدرسہ کے قیام کی بابت سوچا اور آخر اجمیری گیٹ اہل حدیث مسجد کو مذاکرہٴ علمیہ کا مرکز اور مثالی تعلیم گاہ قرار دیا اور اس ادارہ کا نام بھی آپ نے مدرسہ محمدیہ رکھا، اس میں دیگر اساتذہ کے ساتھ ساتھ آپ خود بنفس نفیس بیرونی طلبہ کی علمی تشنگی بجھانے کی سعی بلیغ فرماتے۔اجمیری گیٹ میں قیام کے دوران مولانا مرحوم نے تصنیف و تالیف کا کام جاری رکھا، تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے مقصد سے ایک ماہنامہ “گلدستہٴ محمدیہ” کے نام سے جاری کیا، بعد میں اس رسالے نے ایسی مقبولیت حاصل کی کہ 1912ء میں اخبار محمدی کے نام سے پندرہ روزہ ہو گیا ۔آپ کی تصانیف کی خدمات بھی کسی پہلو سے معمولی نہیں ہے، آپ کے تصانیف کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد پہنچتی ہے، ہر کتاب اپنی جگہ پر ایک قیمتی جوہر سے کم درجہ کی نہیں ہے ، مولانا داوٴد راز نے آپ کی تصنیفی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو قلمی میدان کا بے باک مجاہد کہا ہے مولانامحمد جوناگڑھی کی جملہ تصانیف کا مرکزی موضوع تقلید و تعصب کی تردید اور کتاب و سنت کی تائید ہے آپ نے اپنی کتابوں میں راہ حق سے منحرف فرقوں پر اتنے زور کا حملہ کیا ہے کہ مد مقابل حواس باختہ ہے، فقہی موشگافیوں سے پردہ ہٹایا ہے۔مولانا تصنیف وتالیف کے علاوہ ایک سحربیان خطیب تھے خطابت کاملکہ فطری طور پر ان کے اندر قدرت نے بڑی فیاضی سے کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا وہ اپنی خطابت کی وجہ سے خطیب الہند کے نام سے معروف ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’مشکوٰۃ محمدی‘‘ مولانا جوناگڑھی کی ایک اہم تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے ان تمام چھوٹے بڑے عامیانہ اور عالمانہ اعتراضوں کامفصل اور بادلائل جواب دیا ہے جو اس وقت جماعت اہل پر کیے جاتے تھے اوران تہمتوں کابھی ازالہ کیا ہے جو اس جماعت پر لگائی جاتی ہیں ۔ساتھ ہی تقلید اور قیاس اور شرک وبدعت اوررسوم رواج کی بھی مکمل تردید کی ہے اور معترضین کے مخصوص مسائل بیان کر کےان پر ٹھوس اعتراض کیےگئے ہیں ۔(م۔ا)
صلاۃ محمدی (جونا گڑھی)
Authors: محمد جونا گڑھی
نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ نماز دین کاستون ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے ترک کردیا ہے اس نے دین کی عمارت کوڈھادیا۔ نماز مسلمان کے افضل اعمال میں سے ہے۔نماز ایک ایسا صاف ستھرا سرچشمہ ہے جس کےشفاف پانی سے نمازی اپنے گناہوں اور خطاؤں کودھوتا ہے ۔کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش و منکرات سے انسان کو روکتی ہے۔ بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سے نماز کا پابند بنایا جائے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ اور نمازکی عدم ادائیگی پر وعید کی گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرمﷺ کی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صلاۃ محمدی‘‘ علامہ محمد بن ابراہیم جونا گڑھی کی مرتب شدہ ہے۔ اس مختصر کتاب میں انہوں نے وضو، تیمم، نماز پنجگانہ، نماز جمعہ، نماز جنازہ، نماز عیدین، بیمار اور مسافر کی نماز، نماز تراویح، تہجد، چاند اور سورج گرہن، کی نماز، نماز استسقاء وغیرہ کے طریقے، مسنون دعائیں مع ترجمہ حوالوں سمیت آسان اور سلیس انداز میں پیش کیے ہیں۔ (م۔ا)
ہدایت محمدی
Authors: محمد جونا گڑھی
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔لیکن بعد میں آنے والوں نے اسلام کی روشن تعلیمات کو چھوڑ کر اپنے علما کی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور بہت ساری ایسی باتیں تحریر کر دیں جو قرآن وحدیث کے صریح مخالف ہیں۔انہی کتابوں میں سے ایک فقہ حنفی کی معروف ترین کتاب ہدایہ ہے، جس میں متعدد مسائل قرآن وحدیث کے خلاف بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "ہدایت محمدی" خطیب الہند مولانا محمد صاحب محدث جونا گڑھی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے فقہ حنفی کی اعلی ترین کتاب ہدایہ کے 100 مسائل کو قرآن وحدیث کے خلاف ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)