مشکوٰۃ محمدی


By Al Noor Softs
Posted on Dec 15, 2024
In Category Arguments
Authors محمد جونا گڑھی
Published By ناشر : مکتبہ محمدیہ،چیچہ وطنی
In Year 2016
Key Word کتاب راہ صواب کی حقیقت..چھٹا جواب
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 227
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
مولانا محمد جوناگڑھی صوبہ گجرات میں ضلع کاٹھیاوار کے شہرت یافتہ شہر جوناگڑھ میں 1890ء میں پیدا ہوئے، جو متحدہ ہندوستان میں اسلامی ریاست کے نام سے معروف تھا،مولانا جوناگڑھی نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن مالوف میں مولانا محمد عبداللہ صاحب جوناگڑھی سے حاصل کی۔اس کے بعد 1913ء میں 22 سال کی عمر میں اپنے مادر وطن کی محبت و کشش سے خود کو آزاد کر کے بڑے خفیہ طریقہ سے دہلی پہنچے اور “مدرسہ امینیہ” میں داخلہ لے کر یکسوئی کے ساتھ حصول تعلیم میں مشغول ہو گئے، اس کےبعد مولانا عبدالوہاب ملتانی ﷫ کے مدرسہ دارالکتاب والسنہ میں چلے گئے۔ مولانا جوناگڑھی ﷫ کا دہلی میں شیخ عبدالرحمان شیخ عطاء الرحمان اور ان کے قائم کردہ جامعہ رحمانیہ سے والہانہ لگاوٴ اور حقیقی تعلق تھا مولانا کی ہمدردیاں ہمہ وقت دارالحدیث رحمانیہ کے ساتھ رہتیں۔ دارالحدیث رحمانیہ کے اجلاس اور خصوصی پروگرام میں بھی مولانا جوناگڑھی شریک ہوا کرتے تھے، چنانچہ رحمانیہ کے سترھویں سالانہ اجلاس میں بحیثیت صدر ایک جامع خطاب کیا جو بعد میں “مقالہٴ محمدی” کے نام سے طبع ہوا۔تعلیمی مراحل کے بعد عملی زندگی میں اپنے خیالات کو کارگر بنانے کی نیت سے سب سے پہلے ایک دینی مدرسہ کے قیام کی بابت سوچا اور آخر اجمیری گیٹ اہل حدیث مسجد کو مذاکرہٴ علمیہ کا مرکز اور مثالی تعلیم گاہ قرار دیا اور اس ادارہ کا نام بھی آپ نے مدرسہ محمدیہ رکھا، اس میں دیگر اساتذہ کے ساتھ ساتھ آپ خود بنفس نفیس بیرونی طلبہ کی علمی تشنگی بجھانے کی سعی بلیغ فرماتے۔اجمیری گیٹ میں قیام کے دوران مولانا مرحوم نے تصنیف و تالیف کا کام جاری رکھا، تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے مقصد سے ایک ماہنامہ “گلدستہٴ محمدیہ” کے نام سے جاری کیا، بعد میں اس رسالے نے ایسی مقبولیت حاصل کی کہ 1912ء میں اخبار محمدی کے نام سے پندرہ روزہ ہو گیا ۔آپ کی تصانیف کی خدمات بھی کسی پہلو سے معمولی نہیں ہے، آپ کے تصانیف کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد پہنچتی ہے، ہر کتاب اپنی جگہ پر ایک قیمتی جوہر سے کم درجہ کی نہیں ہے ، مولانا داوٴد راز﷫ نے آپ کی تصنیفی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو قلمی میدان کا بے باک مجاہد کہا ہے مولانامحمد جوناگڑھی ﷫ کی جملہ تصانیف کا مرکزی موضوع تقلید و تعصب کی تردید اور کتاب و سنت کی تائید ہے آپ نے اپنی کتابوں میں راہ حق سے منحرف فرقوں پر اتنے زور کا حملہ کیا ہے کہ مد مقابل حواس باختہ ہے، فقہی موشگافیوں سے پردہ ہٹایا ہے۔مولانا تصنیف وتالیف کے علاوہ ایک سحربیان خطیب تھے خطابت کاملکہ فطری طور پر ان کے اندر قدرت نے بڑی فیاضی سے کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا وہ اپنی خطابت کی وجہ سے خطیب الہند کے نام سے معروف ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’مشکوٰۃ محمدی‘‘ مولانا جوناگڑھی ﷫ کی ایک اہم تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے ان تمام چھوٹے بڑے عامیانہ اور عالمانہ اعتراضوں کامفصل اور بادلائل جواب دیا ہے جو اس وقت جماعت اہل پر کیے جاتے تھے اوران تہمتوں کابھی ازالہ کیا ہے جو اس جماعت پر لگائی جاتی ہیں ۔ساتھ ہی تقلید اور قیاس اور شرک وبدعت اوررسوم رواج کی بھی مکمل تردید کی ہے اور معترضین کے مخصوص مسائل بیان کر کےان پر ٹھوس اعتراض کیےگئے ہیں ۔(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(٠)   84   18
 
 

مولانا محمد جوناگڑھی صوبہ گجرات میں ضلع کاٹھیاوار کے شہرت یافتہ شہر جوناگڑھ میں 1890ء میں پیدا ہوئے، جو متحدہ ہندوستان میں اسلامی ریاست کے نام سے معروف تھا،مولانا جوناگڑھی نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن مالوف میں مولانا محمد عبداللہ صاحب جوناگڑھی سے حاصل کی۔اس کے بعد 1913ء میں 22 سال کی عمر میں اپنے مادر وطن کی محبت و کشش سے خود کو آزاد کر کے بڑے خفیہ طریقہ سے دہلی پہنچے اور “مدرسہ امینیہ” میں داخلہ لے کر یکسوئی کے ساتھ حصول تعلیم میں مشغول ہو گئے، اس کےبعد مولانا عبدالوہاب ملتانی ﷫ کے مدرسہ دارالکتاب والسنہ میں چلے گئے۔ مولانا جوناگڑھی ﷫ کا دہلی میں شیخ عبدالرحمان شیخ عطاء الرحمان اور ان کے قائم کردہ جامعہ رحمانیہ سے والہانہ لگاوٴ اور حقیقی تعلق تھا مولانا کی ہمدردیاں ہمہ وقت دارالحدیث رحمانیہ کے ساتھ رہتیں۔ دارالحدیث رحمانیہ کے اجلاس اور خصوصی پروگرام میں بھی مولانا جوناگڑھی شریک ہوا کرتے تھے، چنانچہ رحمانیہ کے سترھویں سالانہ اجلاس میں بحیثیت صدر ایک جامع خطاب کیا جو بعد میں “مقالہٴ محمدی” کے نام سے طبع ہوا۔تعلیمی مراحل کے بعد عملی زندگی میں اپنے خیالات کو کارگر بنانے کی نیت سے سب سے پہلے ایک دینی مدرسہ کے قیام کی بابت سوچا اور آخر اجمیری گیٹ اہل حدیث مسجد کو مذاکرہٴ علمیہ کا مرکز اور مثالی تعلیم گاہ قرار دیا اور اس ادارہ کا نام بھی آپ نے مدرسہ محمدیہ رکھا، اس میں دیگر اساتذہ کے ساتھ ساتھ آپ خود بنفس نفیس بیرونی طلبہ کی علمی تشنگی بجھانے کی سعی بلیغ فرماتے۔اجمیری گیٹ میں قیام کے دوران مولانا مرحوم نے تصنیف و تالیف کا کام جاری رکھا، تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے مقصد سے ایک ماہنامہ “گلدستہٴ محمدیہ” کے نام سے جاری کیا، بعد میں اس رسالے نے ایسی مقبولیت حاصل کی کہ 1912ء میں اخبار محمدی کے نام سے پندرہ روزہ ہو گیا ۔آپ کی تصانیف کی خدمات بھی کسی پہلو سے معمولی نہیں ہے، آپ کے تصانیف کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد پہنچتی ہے، ہر کتاب اپنی جگہ پر ایک قیمتی جوہر سے کم درجہ کی نہیں ہے ، مولانا داوٴد راز﷫ نے آپ کی تصنیفی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو قلمی میدان کا بے باک مجاہد کہا ہے مولانامحمد جوناگڑھی ﷫ کی جملہ تصانیف کا مرکزی موضوع تقلید و تعصب کی تردید اور کتاب و سنت کی تائید ہے آپ نے اپنی کتابوں میں راہ حق سے منحرف فرقوں پر اتنے زور کا حملہ کیا ہے کہ مد مقابل حواس باختہ ہے، فقہی موشگافیوں سے پردہ ہٹایا ہے۔مولانا تصنیف وتالیف کے علاوہ ایک سحربیان خطیب تھے خطابت کاملکہ فطری طور پر ان کے اندر قدرت نے بڑی فیاضی سے کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا وہ اپنی خطابت کی وجہ سے خطیب الہند کے نام سے معروف ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’مشکوٰۃ محمدی‘‘ مولانا جوناگڑھی ﷫ کی ایک اہم تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے ان تمام چھوٹے بڑے عامیانہ اور عالمانہ اعتراضوں کامفصل اور بادلائل جواب دیا ہے جو اس وقت جماعت اہل پر کیے جاتے تھے اوران تہمتوں کابھی ازالہ کیا ہے جو اس جماعت پر لگائی جاتی ہیں ۔ساتھ ہی تقلید اور قیاس اور شرک وبدعت اوررسوم رواج کی بھی مکمل تردید کی ہے اور معترضین کے مخصوص مسائل بیان کر کےان پر ٹھوس اعتراض کیےگئے ہیں ۔(م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

٠
٠ out of 5 (٠ User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks