eBooks

٢٬٨٤١ Results Found
دہکتی جہنم میں لے جانے والے 60 قبیح اعمال

Authors: امان اللہ عاصم

In Worship and matters

By Al Noor Softs

جہنم بہت ہی بری قیام گاہ،بہت ہی برا مقام اور بہت ہی برا ٹھکانہ ہےجسے اللہ تعالیٰ نے کافروں،منافقوں،مشرکوں اور فاسقوں وفاجروں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جنت اور جہنم دونوں کا بار بار تذکرہ فرمایا ہے۔اور جہنم کا تذکرہ نسبتا زیادہ کیا ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ انسانوں کی اکثریت ترغیب سے زیادہ ترہیب کو قبول کرتی ہے۔جہنم وہ ہولناک اور المناک عقوبت خانہ ہے جس کی ہولناکی کا اندازہ لگانا دنیوی زندگی میں محال ہے۔انسان كو اپنی اس عارضی اور دنیاوی زندگی میں جہنم سے آزادی کا سامان کرنا چاہیے اور جہنم کی طرف لے جانے والے راستوں سے اجنتاب کرنا چاہیے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’دہکتی جہنم میں لے جانے والے 60 قبیح اعمال ‘‘ فاضل نوجوان عالم دین محترم جناب امان اللہ عاصم ﷾ کی کاوش ہے ۔اس کتابچہ میں ا نہوں نے جہنم کے خوفناک اور المناک ،رسوا کن ٹھکانے سے بچنے کے لیے ایسے 60 اعمال پیش کیے ہیں جونیکیوں سےمحروم کر کے جہنم میں لے جانے کا باعث اور سبب بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے اوراسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ آمین(م۔ا)

آپ ﷺ کے لیل و نہار

Authors: امان اللہ عاصم

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

رہبرانسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔اسلامی آداب واخلاقیات حسنِ معاشرت کی بنیاد ہیں،ان کے نہ پائے جانے سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے ۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کےاعمال کوصرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیاگیا۔حسن ِاخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کوبہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ آپ ﷺ کے لیل ونہار ‘‘مولانا مشتاق احمد شاکر اور مولانا امان اللہ فیصل کی مشترکہ کاوش ہے ۔جوکہ رسول اکرم ﷺ کی زندگی کے شب وروز کے معمولات مجموعہ پر مشتمل ہے ۔مرتبین نے اس کتاب میں آپ ﷺ کے 23 سالہ دور نبوت میں گزرنے والے اہم لمحموں کو بڑے قرینہ سے حروف تہجی کی ترتیب سے قلمبند کرنےکی کوشش کی ہے ۔زیادہ تر احادیث کا مفہوم پیش کیا ہے کہیں کہیں حدیث کی شرح اور وضاحت بھی کردی ہے۔پیدائش سے موت پیش آنے والےمعاملات کے متعلق اسلامی زندگی گزارنے کےلیے یہ ایک بہترین تربیتی کتاب ہے شیخ الحدیث مولانا محمود احمد حسن ،شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد یوسف قصوری حفظہما اللہ کی نظر ثانی سے کتاب کی اہمیت وافادیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔۔(م۔ا)

مجرم کون؟

Authors: امان اللہ عاصم

In Worship and matters

By Al Noor Softs

نماز میں تکبیرِ تحریمہ کے وقت رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاکر کندھوں یا کانوں کی لو تک قبلہ رخ ہتھیلیاں کر کے ہاتھ اٹھانے کو رفع الیدین کہتے ہیں ۔ رفع الیدین نبی اکرم ﷺ کی دائمی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ کے صحابہ کرام ﷢ بھی ہمیشہ اس سنت پر پر عمل پیرارہے ۔رفع الیدین کا وجود او راس پر نبی اکرم ﷺ کا دائمی عمل اور صحابہ کرام ﷢ کا رفع الیدین کرنا صحیح ومتواتر احادیث اور آثار صحیحہ سے ثابت ہے ۔اور رفع الیدین کا تارک دراصل تارک سنت ہے ۔زیر نظر کتاب ''مجرم کون....؟ مولانا امان اللہ عاصم﷾ کی تصنیف ہے۔مصنف نے اس کتاب میں نبی کریم ﷺ کی محبوب ترین اور دائمی سنت مبارکہ ''رفع الیدین'' سےمنع کرنے والوں کے دلائل کا مسکت او رٹھوس جواب دیاہے ۔مؤلف نے رفع الیدین کوصحیح احادیث او رآثار صحیحہ سے دائمی سنت ثابت کر کے یہ واضح کردیا ہے کہ جن لوگوں کورفع الیدین کرنے کی وجہ سے برا سمجھا جاتاہے اوران پر طرح طرح کےبیہودہ الفاظ بولے جاتے ہیں ۔دراصل یہ لوگ مجرم اورگنہگار نہیں ہیں اصل میں مجرم اور گنہگار تو وہ لوگ ہیں جو نبی اکرم ﷺ کی اس محبوب سنت کی اہمیت سے بے خبر ہو کر اس کوچھوڑ بیٹھے ہیں او رجتنے لوگ اس سنت کے تارک ہوں گے ان سب کے برابر کا گناہ ان علماء کے کھاتے میں بھی جمع ہوتا رہے گا جن کے کہنے پر لوگ اس سنت سےدور ہوئے ۔اللہ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے سنت نبوی کے احیاء کا زریعہ بنائے ۔(آمین)(م۔ا)

صفات نفس یعنی امارہ لوامہ مطمئنہ

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

ایک آیت قرآنی کے مطابق روح اللہ تعالیٰ کا امر ہے ۔قرآن پاک کی آیات میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ انسان ناقابل تذکرہ شئے تھا۔ ہم نے اس کے اندر اپنی روح ڈال دی ہے۔ یہ بولتا، سنتا، سمجھتا، محسوس کرتا انسان بن گیا۔درحقیقت انسان گوشت پوست اور ہڈیوں کے ڈھانچے کے اعتبار سے ناقابل تذکرہ شئے ہے۔ اس کے اندر اللہ کی پھونکی ہوئی روح نے اس کی تمام صلاحیتوں اور زندگی کے تمام اعمال و حرکات کو متحرک کیا ہوا ہے۔جب کوئی مر جاتا ہے تواس کا پورا جسم موجود ہونے کے باوجود اس کی حرکت ختم ہو جاتی ہے۔یعنی حرکت تابع ہے، روح کے۔ درحقیقت روح زندگی ہے اور روح کے اوپر ہی تمام اعمال و حرکات کا انحصار ہے۔ اور جان اور روح آپس میں جُڑی ہوئی ہیں لیکن الگ ہونے کے قابل ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ صفات نفس‘‘ علامہ ابن قیم الجوزیہ کی کتاب ’’ کتاب الروح‘‘ میں سى چند اہم فصلوں کا اردو ترجمہ ہے۔اس رسالہ میں نفس امارہ، نفس لوامہ اور نفس مطمئنہ کی وضاحت اور اس کی حقیقت بیان کی گئی ہے ۔یہ ترجمہ پہلی بار 1950ء میں بمبئی سے شائع ہوا بعد ازاں 2015ء میں اسے تحقیق وتعلیق کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔(م۔ا)

سندھ و ہند کی قدیم شخصیات ترجمہ اردو رجال السند و الہند

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Knowledge

By Al Noor Softs

مورخ اسلام قاضی اطہر مبارکپوری (1916ء - 1996ء) قصبہ مبارکپور ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے نانا مولانا احمد حسین رسولپوری نےآپ کا نام عبد الحفیظ رکھا۔ مگر قاضی اطہر سے مشہور ہوئے۔ اطہر آپ کا تخلص ہے، جوانی میں کچھ دنوں خوب شاعری کی، برجستہ اشعار کہتے تھے، پھر شاعری چھوڑ دی۔ قاضی اس لیے کہے جاتے ہیں کہ آپ کے خاندان میں ایک عرصہ تک نیابت قضا کا عہد قائم رہا۔آپ کے ہاں ابتدا میں بہت تنگی تھی۔ گزر اوقات بہت مشکل تھی۔ اس لیے زمانۂ طالب علمی میں ہی جلد سازی کا کام کرنے لگے۔ جلد سازی کے لوازمات اعظم گڑھ جا کر لاتے تھے۔ اس میں کئی گھنٹے صرف ہوتے تھے۔ لیکن اس کی وجہ سے انہوں نے تعلیم ترک نہ کی۔ کتابوں سے بہت محبت تھی۔ اس لیے پیسہ پیسہ جمع کرتے۔ جب اتنے پیسے جمع ہو جاتے کہ کوئی کتاب خرید لی جائے تو کتاب خرید لیتے۔ زندگی کا بڑا حصہ تنگی و ترشی میں گزرا۔ لیکن اخیر عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر رزق کے دروازے کشادہ کر دیے۔ حتیٰ کہ آپ کا شمار مبارکپور کے امرا میں ہونے لگا۔ بچپن سے ہی آنکھیں کمزور تھیں۔ لیکن ضعفِ بصارت کی وجہ سے کثرتِ مطالعہ سے نہیں رکے۔ اور نہ ہی اس چیز نے کثرت تصنیف و تالیف سے روکا۔ ےآپ نے اپنے شہر مبارکپور میں ایک ادارہ ’’دائرہ حلبیہ‘‘ کے نام سے قائم کیا۔آپ کئی کتب کے مصنف ہیں تاریخ آپ کا خاص موضوع ہے بالخصوص ہندوستان کی اسلامی تاریخ ۔ پاکستانی علما کے پاس آپ کی شخصیت اور تحقیقات کی بڑی قدر و منزلت ہے۔ اسلامی تہذیب و تاریخ پر آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے علماء نے آپ کو ’’محسنِ ہند‘‘ کا لقب دیا۔آپ کی تصنیفات میں ایک اہم کتاب ’’ رجال السند الہند‘‘ عربی زبان میں ہے زیر نظر کتاب’’سندھ وہند کی قدیم شخصیات‘‘ قاضی اظہر مبارکپوری کی معروف کتاب’’رجال السند والہند ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔ قاضی صاحب نے اس کتاب میں پہلی صدی سے ساتویں صدی ہجری سے پہلے تک کی یکصد سے زائد ایسی شخصیات کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے علم وفضل، تحقیق ومطالعہ، تدریس وتعلیم، صلاح وورع، اصلاح وتزکیہ، سیاست وحکومت اور طب وجغرافیہ، نحو وہئیت یا دیگر میدانوں میں قابل قدر خدمات نجام دیں۔قاضی مرحوم نے اصل کتاب سے پہلے مقدمۂ کتاب کے طور پرسندھ و ہند کے بعض مشہور تاریخی مقامات اور شہروں کا تعارف کرایا ہے جو قابل مطالعہ اور لائق تحسین ہے ۔پھر حروف تہجی کی ترتیب پر اعلام وشخصیات کا تذکرہ شامل کتاب ہے۔کتاب کے آخر میں ’’باب الآباء اور’’باب الابناء‘‘ کے عنواں سے ان اعلام کا تذکرہ ہے جو اپنے والد اوبیٹوں کی جانب نسبت وکنیت سے شہرت یافتہ ہیں ۔صاحب کتاب نے کتاب کا اختتام ’’ باب المجاهيل ‘‘ پر کیا ہے یعنی جن کے نام وغیرہ کی بابت تصریح دست یاب نہ ہوسکی اور یہ نہ معلوم ہوسکا کہ ان کا تعلق سندھ وہند کے کس علاقے سے تھا۔ہمیں یہ کتاب پی ڈی ایف فارمیٹ میں موصول ہوئی کتاب وسنت سائٹ کے قارئین کے لیے اسے سائٹ پر پبلش کیا کیا ہے ۔(م۔ا)

دیار پورپ میں علم اور علماء

Authors: مقصود الحسن فیضی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

مسلم دورِ حکومت میں دہلی کےمشرق میں صوبۂ الہ آباد ، صوبہ او دھ اور صوبۂ عظیم آباد پر مشتمل جو وسیع او رمحدود خطہ ہےاس کو پُورب کہا جاتا ہے۔ہر صوبہ میں دار الامارت ، ہر دار الامارت سے متعلق بڑے بڑے شہر ہر شہر میں متعلق قصبات اور ہر قصبہ کسے متعلق دیہات تھے ۔ملک پُورب کےقصبات شہروں کےحکم میں تھےجن میں عالیشان عمارتیں، شرفاء کےمحلات ، علماء، مشائخ ، مختلف قسم کےپیشہ ور ، مدارس اور مساجد تھیں جو جمعہ وجماعت سے معمور تھیں اسی ملک کو دیار پُورب سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ سلطان محمود غزنوی کی مسلسل فتوحات کےزمانہ میں ہندوستان کا یہ علاقہ(دیار پورب)اسلام او رمسلمانوں سےآشنا ہوچکا تھا۔ خاص طور سے بنارس کی فتوحات نے ان اطراف میں بڑی اہمیت اختیار کر لی تھی۔ ا س کےبعد سالار مسعود غازی علوی اور ان کے رفقاء کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ اسلام اور مسلمانوں کاشہرہوا۔ زیر نظر کتاب ’’ دیارِ پُورب میں علم اور علماء‘‘ مبارکپور کے معروف سیرت نگار ومؤرخ جناب قاضی اطہر مبارکپوری ﷫کی تصنیف ہے۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں شیرازِ ہند پُورب کی سات سوسالہ اسلامی تاریخ کے چار علمی ادوار قائم کر کے ہر دور کی علمی دینی سرگرمی اوراربابِ عمل وفضل وکمال کا اجمالی تعارف کرایا ہے۔اس کےبعد اس دیار کےکئی خانوادہ ہائے علم وفضل کےعلماء ومشائخ، ان کے اساتذہ وتلامذہ معاصرین اور متعلقین کاتذکرہ درج کیا ہے ۔جس سے سر زمین پوُرب میں غلام سلطنت کے قیام سےلے کر نوابئ اَودھ کےخاتمہ تک کی علمی دو دینی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔پُورپ اور علمائے پورپ کےتعارف پر یہ اولین کتاب ہے۔(م۔ا)

محمد ﷺ کے زمانے کا ہندوستان

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

بعثتِ نبوی ﷺ سے بھی پہلے ہندوستان کے مختلف قبائل: زط (جاٹ)، مید، سیابچہ یا سیابجہ، احامرہ، اساورہ، بیاسرہ اور تکرّی (ٹھاکر) کے لوگوں کا وجود بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ میں ملتا ہے۔ چناں چہ ۱۰ ہجری میں نجران سے بنوحارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: ”یہ کون لوگ ہیں جو ہندوستانی معلوم ہوتے ہیں“ (تاریخ طبری ۳/۱۵۶، بحوالہ برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش از محمد اسحق بھٹی) بالآخر عرب و ہند کے درمیان شدہ شدہ مراسم بڑھتے گئے یہاں تک کہ برصغیر (متحدہ ہند) اور عرب کا باہم شادی و بیاہ کا سلسلہ بھی چل پڑا، اس ہم آہنگی کی سب سے اہم کڑی عرب و ہند کے تجارتی تعلقات تھے، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے نت نئے اشیائے خوردونوش وغیرہ: ناریل، لونگ، صندل، روئی کے مخملی کپڑے، سندھی مرغی، تلواریں، چاول اور گیہوں اور دیگر اشیاء عرب کی منڈیوں میں جاتی تھیں۔جنوبی عرب سے آنے والے تجارتی قافلوں کی ایک منزل مکہ مکرمہ تھا، یہ قافلے ہندوستان اور یمن کا تجارتی سامان شام اور مصر کو لے جاتے تھے، اثنائے سفر میں یہ لوگ مکہ مکرمہ میں قیام کرتے اور وہاں کے مشہور کنوئیں”زمزم“ سے سیراب ہوتے اوراگلے دن کے لیے بقدر ضرورت زمزم کا پانی ساتھ لے جاتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب محمد ؑﷺ کے زمانے کا ہندستان مع ہندستان صحابہ کے زمانہ میں‘‘مورخ اسلام الحاج مولانا عبدالحفیظ صاحب قاضی اطہر مبارکپوری کی ہے جس میں ایک حصہ عہد رسالت میں عرب و ہند کے حالات وقعات،رسوم و رواج ، قدیم تجارتی تعلقلت، عرب میں ہندستانی اقوامیں اور ان کو دعوت اسلام کے بارے میں تفصیلی خاکہ ہے۔ اور دوسرا حصہ خلفائے راشدین اور ہندستان ، غزوات و فتوحات اور دیگر اصحاب پر مشتمل ہے۔امید ہے یہ کتاب طلباء اور ریسرچ کرنے والے کے لئے انتہائی کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

سیرت ائمہ اربعہ

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

علمائے اسلام نے دین اور کتاب و سنت کی حفاظت و صیانت کے لئے ابتداء میں فن اسماء الرجال سے کام لیا۔ آگے چل کر اس فن میں بڑی وسعت پیدا ہوئی جس کے نتبجہ میں سلف اور خلف کے درمیان واسطۃ العقد کی حیثیت سے طبقات و تراجم کا فن وجود میں آیااور ہر دور میں بے شمار علماء، فقہاء، محدثین، اور ہر علم و فن اور ہر طبقہ کے ارباب فضل و کمال کے حالات زندگی اور دینی و علمی کارناموں سے مسلمانوں کو استفادہ کا موقع ملا۔ اور اس کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر علماء نے بہت سے بلاد و امصار کی تاریخ مرتب کر کے وہاں کے علماء و مشائخ کے حالات بیان کئے۔ اس سلسلہ الذہب کی بدولت آج تک اسلاف و اخلاف میں نہ ٹوٹنے والا رابطہ قائم و دائم ہے۔ زیر تبصرہ کتاب سیرت ائمۂ اربعہ‘‘حضرت مولانا قاضی اطہر مبارک پوری کی ہے۔ جس میںاسلامی فقہ کی ابتدائی تاریخ و ترویج کی تفصیل، ائمہ اربعہ، امام ابو حنیفہ ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل کے معتبر و مستند حالات اختصار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔اس کتاب میں عامۃ المسلمین کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس لئے علمی اور فقہی مسائل و مباحث سے تعریض نہیں کیا گیاہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اس کتاب کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور مؤلف و ناشر کے لیے باعث اجر و ثواب بنائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

عرب و ہند عہد رسالت ﷺ میں

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عرب ہند تعلقات انتہائی قدیم ہیں ،قدیم ز مانے سے دونوں کے درمیان مختلف قسم کے تجارتی ،معاشی اور مذہبی تعلقات پائے جاتے تھے ،اہل عرب ہندوستان کے سواحل پر آتے تھے اور ہندوستان کے باشندے عرب سے آمد ورفت رکھتے تھے ، ہندوستانیوں کی مختلف جماعتیں وہاں مستقل طور پر آباد بھی تھی جن کو عرب زط اور مید کے نام سے یاد کرتے تھے ،اسلام سے قبل ہی ہندوستان کی بہت سی چیزیں عرب کی منڈیوں میں فروخت ہوتی تھی ،ہندی تلوار ،مشک ،عود ،کافور ،مرچ ،ساگوان ،ادرک ،سندھی کپڑے عربوں میں بہت متعارف تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت عرب کے مختلف علاقوں میں ہندوستان کے لوگ آتے جاتے تھے اور وہاں مستقل آباد بھی تھے ،خود مکہ میں ہندوستان کے تاجر اور صناع موجود تھے ،آپ ﷺاور حضرات صحابہ ہند اور اہل ہند سے اچھی طرح واقف تھے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ عرب و ہند عہد رسالتﷺ میں ‘‘ قاضی محمد اطہر مبارکپوری صاحب کی ہے۔ اس کتاب میں زمانۂ نبوت کے عرب و ہند سے بحث کی گئی ہے۔ کتاب کے آٹھ بڑے ابواب ہیں جن میں سے آخر کے تین ابواب (1) ’’پیغمبر اسلام اور ہندوستانی باشندے‘‘ (2) ’’عہد رسالت میں ہندو ستانی اشیاء کا استعمال‘‘ (3) ’’اسلام اور مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد‘‘ خاص طور پر پڑھنے کےلائق ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔( رفیق الرحمن)