دیار پورپ میں علم اور علماء


By Al Noor Softs
Posted on Jan 3, 2025
In Category Worship and matters
Authors مقصود الحسن فیضی
Published By ناشر : دار البلاغ، انڈیا
In Year 2018
Key Word خلجی دورمیں علم وعلماء۔۔بقیہ تغلق دورمیں علم وعلماء
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 515
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
مسلم دورِ حکومت میں دہلی کےمشرق میں صوبۂ الہ آباد ، صوبہ او دھ اور صوبۂ عظیم آباد پر مشتمل جو وسیع او رمحدود خطہ ہےاس کو پُورب کہا جاتا ہے۔ہر صوبہ میں دار الامارت ، ہر دار الامارت سے متعلق بڑے بڑے شہر ہر شہر میں متعلق قصبات اور ہر قصبہ کسے متعلق دیہات تھے ۔ملک پُورب کےقصبات شہروں کےحکم میں تھےجن میں عالیشان عمارتیں، شرفاء کےمحلات ، علماء، مشائخ ، مختلف قسم کےپیشہ ور ، مدارس اور مساجد تھیں جو جمعہ وجماعت سے معمور تھیں اسی ملک کو دیار پُورب سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ سلطان محمود غزنوی کی مسلسل فتوحات کےزمانہ میں ہندوستان کا یہ علاقہ(دیار پورب)اسلام او رمسلمانوں سےآشنا ہوچکا تھا۔ خاص طور سے بنارس کی فتوحات نے ان اطراف میں بڑی اہمیت اختیار کر لی تھی۔ ا س کےبعد سالار مسعود غازی علوی اور ان کے رفقاء کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ اسلام اور مسلمانوں کاشہرہوا۔ زیر نظر کتاب ’’ دیارِ پُورب میں علم اور علماء‘‘ مبارکپور کے معروف سیرت نگار ومؤرخ جناب قاضی اطہر مبارکپوری ﷫کی تصنیف ہے۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں شیرازِ ہند پُورب کی سات سوسالہ اسلامی تاریخ کے چار علمی ادوار قائم کر کے ہر دور کی علمی دینی سرگرمی اوراربابِ عمل وفضل وکمال کا اجمالی تعارف کرایا ہے۔اس کےبعد اس دیار کےکئی خانوادہ ہائے علم وفضل کےعلماء ومشائخ، ان کے اساتذہ وتلامذہ معاصرین اور متعلقین کاتذکرہ درج کیا ہے ۔جس سے سر زمین پوُرب میں غلام سلطنت کے قیام سےلے کر نوابئ اَودھ کےخاتمہ تک کی علمی دو دینی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔پُورپ اور علمائے پورپ کےتعارف پر یہ اولین کتاب ہے۔(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(٠)   97   22
 
 

مسلم دورِ حکومت میں دہلی کےمشرق میں صوبۂ الہ آباد ، صوبہ او دھ اور صوبۂ عظیم آباد پر مشتمل جو وسیع او رمحدود خطہ  ہےاس کو  پُورب  کہا جاتا ہے۔ہر صوبہ  میں دار الامارت ، ہر دار الامارت  سے متعلق بڑے بڑے شہر ہر شہر میں متعلق قصبات  اور ہر قصبہ کسے متعلق دیہات تھے ۔ملک پُورب کےقصبات شہروں کےحکم میں تھےجن میں عالیشان عمارتیں، شرفاء کےمحلات  ، علماء، مشائخ ، مختلف قسم کےپیشہ ور ، مدارس اور مساجد تھیں جو جمعہ وجماعت سے  معمور تھیں اسی ملک کو دیار پُورب سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ سلطان محمود غزنوی کی  مسلسل فتوحات  کےزمانہ میں ہندوستان کا یہ علاقہ(دیار پورب)اسلام او رمسلمانوں سےآشنا ہوچکا تھا۔ خاص  طور سے بنارس کی فتوحات نے ان اطراف میں بڑی اہمیت اختیار کر لی تھی۔ ا س کےبعد  سالار مسعود غازی علوی اور ان کے رفقاء کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ اسلام اور مسلمانوں کاشہرہوا۔ زیر نظر کتاب ’’ دیارِ پُورب میں علم اور علماء‘‘ مبارکپور کے معروف سیرت نگار ومؤرخ جناب قاضی اطہر مبارکپوری ﷫کی  تصنیف ہے۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں  شیرازِ ہند پُورب کی سات سوسالہ اسلامی تاریخ کے  چار علمی ادوار قائم کر کے ہر دور  کی علمی دینی سرگرمی اوراربابِ عمل وفضل وکمال کا اجمالی تعارف کرایا ہے۔اس کےبعد اس دیار کےکئی خانوادہ ہائے علم وفضل کےعلماء  ومشائخ، ان کے اساتذہ وتلامذہ معاصرین اور متعلقین کاتذکرہ درج کیا ہے ۔جس سے سر زمین پوُرب میں غلام سلطنت کے قیام سےلے کر نوابئ اَودھ کےخاتمہ تک کی علمی دو دینی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔پُورپ اور علمائے پورپ کےتعارف پر یہ اولین کتاب ہے۔(م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

٠
٠ out of 5 (٠ User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks