eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
تربیت ذات
Authors: عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
In Biography
ہمارے ہاں عموماً یہ رویہ پروان چڑھ چکا ہے کہ دوسروں پر تو بہت انگلیاں اٹھتی ہیں لیکن خود اپنی غلطیوں کو درخور اعتناء ہی نہیں جانا جاتا۔ جبکہ ایک بندہ مسلم کو دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر دامن گیر رہنی چاہئے۔ زیر نظر کتاب میں اسی مضمون کو عبداللہ بن عبدالعزیز نے قدرے جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ مولانا نے تربیت ذات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے تربیت سے لاپروائی کے اسباب تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہیں۔ علاوہ ازیں تربیت ذات کےمتعدد طریقوں کی وضاحت کے ساتھ ساتھ تربیت ذات کے آثار و نتائج کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ کتاب یقیناً اہالی اسلام کو اپنی ایمانی حالت بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔ کتاب کا مناسب اردو ترجمہ شمس الحق بن اشفاق اللہ نے کیا ہے۔
ارکان اسلام سے متعلق اہم فتاوے
Authors: عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
In Arguments
ارکان اسلام سے مراد ایسے ستون ہیں جن پر اسلام کی عمارت قائم ہے۔ اس عمارت کی بخوبی حفاظت اسی صورت ہو سکتی ہے جب اس کے ستون مضبوطی کے ساتھ استوار ہوں۔ اس عمارت کے ستون عقیدہ، نماز، زکوۃ، روزہ اور حج پرمشتمل ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے ان اراکین کو حکم خداوندی کے مطابق بجا لانا از بس ضروری ہے۔ اسی امر کو سامنے رکھتے ہوئے مفتی اعظم سعودی عرب شیخ عبداللہ بن باز نے ارکان اسلام سے متعلق تمام اہم فتاوی جات زیر مطالعہ کتاب میں جمع کر کے افادہ عام کے لیے پیش کیے ہیں۔ کتاب کا عام فہم اردو ترجمہ ابو المکرم بن عبدالجلیل اور عتیق الرحمن اثری نے کیاہے۔
دعوت الی اللہ اور مبلغین کے اوصاف
Authors: عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
کائنات کے معرض وجود میں لانے کی غرض وغایت اور حکمت الہیہ یہی ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی کو اس کے اسماء وصفات کےساتھ پہچانا جائے او راس حقیقت کا اعتراف کرلیا جائے کہ وہی ذات ہر چیز پر قادر ہے او رکائنات کی چھوٹی بڑی غرضیکہ ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔دعوت الی اللہ ایک اہم ترین فریضہ ہے اور امت ہردور میں اس کی محتاج رہی ہے اس کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر یہ کتاب پیش کی جارہی ہے جس کو چار نکات میں تقسیم کیا گیا ۔1 دعوت الی اللہ کا حکم اور اس کے فضائل ۔2 دعوت الی اللہ کے آداب اور طریقہ کار۔3 دعوت الی اللہ کا محور اور مرکزی نقطہ۔4 مبلغین کے اوصاف۔کتاب مختصر اورمفید ہے جو ہر داعی الی اللہ کے لیے مشعل راہ کامقام رکھتی ہے ۔
نبی ﷺ کی نماز کا طریقہ
Authors: عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
In History
نماز اللہ تعالی کی طرف سے عائد کردہ ایک ایسا فریضہ ہے جس کی ادائیگی ہر مسلمان پر ایک دن میں پانچ بار ضروری ہے- بہت سے مسلمان ایسے ہیں جو نماز تو ادا کرتے ہیں لیکن اس میں سنت نبوی کو ملحوظ نہیں رکھتے جبکہ یہ فریضہ جتنا اہم ہے اس کی ادائیگی میں احتیاط بھی اتنی ضروری ہے-اس لیے مصنف نے اسی احتیاط کو پیش نظر رکھتے ہوئے نماز کی درست ادائیگی کے لیے یہ کتاب تصنیف فرمائی- زیر نظر کتاب میں مصنف نے بہت سادگی اور۔ آسان انداز میں مسنون نماز کا مکمل طریقہ بیان کیا ہے- اس کتاب کا مطالعہ جہاں آپ کو نماز کے مکمل طریقے سے روشناس کروائے گا وہاں نماز میں پڑھی جانے والی مسنون دعائیں اور دیگر احکامات سے بھی آگاہ کرے گا-مصنف نے نماز کے لیے بنیادی شرط طہارت سے لے کر سلام تک تمام ارکان کو بالتفصیل اور سنت کے مطابق ادا کرنے کا طریقہ بیان کیا ہے۔
بے نماز کا شرعی حکم ونماز باجماعت کی اہمیت وفضیلت مع نماز مسنون
Authors: عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
نماز اركان اسلام ميں سے اہم ترین رکن ہے- اسلام کی بنیاد اور اساس نماز ہے اور اسی پر اسلام کی عمارت قائم ہے- یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے اس کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے بارہا قرآن کریم میں اس کا تذکرہ فرمایا ہے اور کلمہ شہادت کے اقرار کے بعد کسی بھی مسلمان پر جو چیز سب سے پہلے فرض ہے وہ نماز ہے-اور قیامت کے دن بھی رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے طابق بندے کے نامہ اعمال کے متعلق سب سے پہلے نماز کا ہی سوال کیا جائے گا- یہ کتاب تین کتابوں کا مجموعہ ہے-ان میں سے پہلا حصہ جو بے نماز کے شرعی حکم کے بارے میں ہے یہ حصہ الشیخ صالح العثیمین کی تحریر ہے اور نماز باجماعت کی اہمیت وفضیلت والا حصہ الشیخ عبد اللہ بن عبدالعزیز بن باز کا تحریر کردہ ہے اور ان دونوں حصوں کا ترجمہ جناب ابو عبدالرحمن شبیر بن نور صاحب نے کیا ہے-اور اس کا تیسرا حصہ نماز مسنون کےنام سے ہے جو کہ مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کی تحریر ہے-زیرنظرکتاب میں مصنف نے شیخ محمد بن صالح العثمین اور شیخ عبدالعزیز عبداللہ بن بازکے فتاوی جات کی روشنی میں نماز کی اہمیت وفضیلت اور تارک نماز کا حکم تفصیلا بیان کیا ہے-اس کے ساتھ ساتھ اس کتاب میں نماز کا مکمل طریقہ، دعائیں ، وظائف اور دعائے قنوت کابھی احاطہ کیا گیا ہے۔
کاروان حدیث
Authors: عبد الرشید عراقی
احادیث کی جانچ پڑتال اور ترتیب دینے والے عالم کو محدث کہا جاتا ہے۔ محدثین کی تعداد تو بلا مبالغہ لاکھوں میں ہے لیکن ان میں سے بعض حضرات ایسے ہیں جنہوں نے اس فن میں اہم ترین کارنامے سر انجام دیے ہیں۔لاکھوں محدثین عظام کے سوانح ؍تذکرے اسماء الرجال کی کتب میں موجود ہیں جو کہ زیادہ عربی زبان میں ہیں ۔بعض اہل قلم نے اسماء الرجال کی امہات الکتب سے استفادہ کے منتخب محدثین کے سوانح کو اردو زبان میں قلمبند کیا ہے۔ معروف مؤرخ وسوانح نگار مولانا عبد الرشید عراقی حفظہ اللہ کی زیر نظر کتاب’’ کاروان حدیث ‘‘بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ مولانا عراقی صاحب نےاس کتاب میں بیالیس (42) نامور محدثین عظام کے حالات او ران کی علمی خدمات کا تذکرہ پیش کیا ہے ۔شروع میں ایک جامع علمی مقدمہ بھی لکھا ہے جس میں حجیت حدیث، تدوین حدیث، اور کتابت حدیث پر مختصر روشنی ڈالی ہے ۔نیز ستاون(57) جامعین حدیث کی فہرست دی ہےجنہوں نے احادیث کےمجموعے مرتب فرمائے ہیں ۔اللہ تعالیٰ عراقی صاحب کو ایمان وسلامتی اور صحت وتندرستی والی زندگی دے اور ان کی تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے ۔ آمین(م۔ا)
عظمت و رفعت کے مینار
Authors: عبد الرشید عراقی
استقامت فی الدین بڑا اہم موضوع ہے بلکہ دین اسلام کی ابتدائی تاریخ اسی استقامت فی الدین سے ہی تعبیر ہے۔استقامت سے مراد اسلام کو عقیدہ ،عمل اورمنہج قرار دے کر مضبوطی سے تھام لینا ہے۔اور استقامت اللہ اوراس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو لازم پکڑنے اوراس پر دوام اختیار کرنے کا نام ہے۔اہل علم نے استقامت کی مختلف تعریفیں کی ہیں ۔ سیدنا حضرت عمرفاروق ر فرماتےہیں کہ استقامت کامطلب احکامات اور منہیات پر ثابت قدم رہنا اور لومڑی کی طرح مکر وفریب سے کام نہ لینا یعنی اوامر کےبجالانے اور نواہی کے ترک پراستمرار بجالانا ہے۔امام ابن قیم استقامت کے متعلق تمام اقوال میں تطبیق دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ استقامت ایک ایسا جامع کلمہ ہے جو توحید اور اوامر ونواہی پر استقامت ،اسی طرح فرائض کی ادائیگی اللہ تعالیٰ کی محبت اس کی اطاعت وفرماں برداری لازم پکڑنے ،معصیت کوچھوڑدینے اور اللہ تعالیٰ کی حقیقی بندگی اختیار کرنے کا نام ہے ۔اللہ تعالیٰ نےنبی کریم ﷺ اور آپ کی امت کو استقامت اختیار کرنے کاحکم بھی دیا ہے ۔ارشادباری تعالیٰ ہے : فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(11؍112)اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نبیﷺ اور ان کے ساتھیوں کویہ حکم دیا ہےکہ وہ ویسی ہی استقامت اختیار کریں جیسی استقامت کا انہیں حکم دیاگیا ہے اور اس سے دائیں بائیں نہ ہٹیں اور نہ ہی اللہ کی شریعت سے تجاوز کریں۔استقامت فی الدین کی ضرورت مسلمان کوزندگی کے ہر موقع پر پڑتی ہے ۔ خصوصاً غمی، خوشی کے موقع پر جب کہ دین کومحفوظ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔بالخصوص زندگی کے مختلف نامساعد حالات میں استقامت ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے ان حالات میں دین پر قائم رہنا او رصبر وسکون سے رضائے الٰہی کےمطابق زندگی بسر کرنا ہی استقامت ہے ۔انبیاء کرام ، صحابہ کرام اور مصلحین امت کےمحمدیہ کےجلیل القدر افراد نےبڑی جانقشانی ، ہمت ، جرأت سے یہ فریضہ سرانجام دیا۔اس سلسلہ میں ان کوقید وبند کی سزائیں بھی ہوئیں، کوڑے بھی مارے گئے، ذلیل ورسوا بھی کیاگیا، شہروں میں تشہیر بھی کی گئی مگر انہوں نے کلمہ حق بلند رکھا اور صبر کو اپنے دامن سے علیحدہ نہ کیا۔ یہ لوگ عزم واستقلال کا کوہ گراں تھے ۔ اور ان کے اس عزم واستقلال نےان کو فتح وکامرانی سےہمکنار کیا اور انہوں نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے ۔ان کی وجہ سے ان کا نام ان شاء اللہ رہتی دنیا تک تابندہ ودرخشندہ رہےگا۔اور جن لوگوں نے ان حضرات کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا ان کو تاریخ نے حرف غلط کی طرح مٹادیا آج ان کو کوئی بھی یاد نہیں کرتا۔ زیر نظر کتاب’’عظمت ورفعت کےمینار ‘‘ وطن کے عزیز کے نامور مؤرخ وسوانح نگار محتر م جناب عبد الرشید عراقی ﷾کی کاوش ہے یہ ان کے 1957ء میں جرید ہ اہلحدیث سوہدرہ میں ’’ استقامت فی الدین ‘‘ کےعنوان سے چودہ اقساط میں شائع ہونے والے مضمون اور ہفت روزہ اہل حدیث ،لاہور میں جولائی 1974ء تا مئی 1975ء کو ’’ مصلحین امت محمدیہ کی حق گوئی وبیباکی ‘‘ کے عنوان سے 21 قسطوں میں شائع ہونے والے مضمون کی کتابی صورت ہے ۔جس میں مصائب وآلام استقامت دکھانے والے انبیاء کرام ، صحابہ کرام ، تابعین عظام ، تبع تابعین ، آئمہ اربعہ ، محدثین، اور عزم واستقلال کے پیکر علماء وخادمین دین کےدلآویز اور دلکش تذکروں کو بیان کیاگیا ہے ۔(م۔ا)
عمر بن عبد العزیز منہج خلافت راشدہ کا یک روشن باب
Authors: عبد الرشید عراقی
امیر المومنین سیدنا عمر بن عبد العزیز کوپانچواں خلیفہ راشد تسلیم کیا گیا ہے ۔ حضرت عمربن عبد العزیز عمرثانی کی حیثیت سےابھرکر سامنے آئے ۔جیسے سیدنا عمرفاروق اعظم نےاپنے 10 سالہ عہد خلافت میں ہزاروں مربع میل پر فتح حاصل کی۔حضرت عمر بن عبد العزیز نےگو اڑھائی سال خلافت کوسنبھالا مگر انہوں نے بھی متعدد علاقوں کو فتح کر کے اسلامی حدود میں شامل کیا۔ انہوں نے جہاد کے علاوہ دعوت الی اللہ پر بھی خاصہ زور دیا اور کفر کےدلوں کو اسلام کی برکات سےآراستہ کر کے ان کو دین اسلام میں داخل کیا ۔حضرت عمر بن عبدالعزیز عہد ولید بن عبد الملک میں مدینہ کے گورنر رہے تھے جب آپ بحیثیت گورنر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو 30 خچروں پر آپ کا ذاتی سامان لدا ہوا تھا لیکن جب مسند خلافت پر متمکن ہوئے توسارا سامان فروخت کر کے اس کی رقم بیت المال میں جمع کرادی خلافت کابار سر پر آتے ہی ان کی زندگی بدل گئی۔حدیث وسیراور تاریخ ورجال کی کتب میں ان کے عدل انصاف ،خشیت وللہیت،زہد وتقوٰی ،فہم وفراست اور قضا وسیاست کے بے شمار واقعات محفوظ ہیں اور آپ کی سیرت پر عربی اردو زبان میں متعدد کتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’عمر بن عبد العزیز منہج خلافت راشدہ کا یک روشن باب ‘‘ وطن عزیز کے معروف سوانح نگار مولانا عبد الرشید عراقی (مصنف کتب کثیرہ) کی کاوش ہے ۔ عراقی صاحب نے اس کتاب میں عمر بن عبد العزیز کی سوانح حیات اور ان کے علمی ودینی ، قومی، ملی اور سیاسی کارناموں کی تفصیل اس کتاب میں بیان کردی ہے ۔(م۔ا)
اہل حدیث کے چار مراکز
Authors: عبد الرشید عراقی
In Fiqha
مسلک اہل حدیث ایک نکھرا ہوا اور نترا ہوا مسلک ہے۔ جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔ اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔ مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔ اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ "اہل" ہے۔ جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ "حدیث" ہے۔ حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔ قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔ اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔ ”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔ اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔ مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔ اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اھل حدیث کے چار مراکز"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین اور مورخ مولانا عبد الرشید عراقی صاحب﷾ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اہل حدیث کے چار معروف مراکز: سیاسی مرکز(پٹنہ)، علمی مرکز(بھوپال)، تدریسی مرکز(دہلی) اور روحانی مرکز (امرتسر) کا تعارف بیان فرمایا ہے اور ان مراکز کی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)