eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
مکالمات نور پوری
Authors: عبد المنان نور پوری
In Arguments
زير نظر کتاب میں مولانا عبدالمنان نوری پوری کے ان مناظرات کو جمع کیا گیا ہے جو وقتا فوقتا مختلف عنوانات پر بذریعہ خط وکتابت ہوئے-ان مکالموں میں کیا مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہے؟کیا تقلید واجب ہے؟تعداد التراویح،مسئلہ رفع الیدین اور فاتحہ خلف الامام جیسے مسائل قابل ذکر ہیں-کتاب کے آخر میں حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب کے تین مناظروں کا تذکرہ کیا گیا ہے، جن میں پہلا مناظرہ ایک دین اور چار مذہب کے نام سے ہے،جس کا جواب قاضی حمیداللہ صاحب نے اظہار المرام کے نام سے دیا اس کا جواب بھٹوی صاحب نے کشف الظلام کی صورت میں دیا-جبکہ تیسرا مناظرہ سورۃ فاتحہ اور احناف کے نام سے سپرد قلم کیا گیا ہے-
مراۃ البخاری
Authors: عبد المنان نور پوری
یہ مجموعہ اوراق حافظ عبد المنان نور پوری صاحب کے ان دروس پر مشتمل ہے جو انہوں نے کتاب بخاری پڑھانے سے قبل طلبہ کو لکھوائے تھے۔ ہمارے ہاں زمانہ ماضی میں جہاں فتنہ انکار حدیث پروان چڑھا وہاں اہل الرائے احناف بھی آئمہ کی تقلید کرنے اور اس کی طرف دعوت دینے میں پیچھے نہ رہے۔ ان دونوں قسم کے گروہوں کے باطل افکار و نظریات کااصولی رد کر کے محدثین کرام رحمہم اللہ کے اعتدال پسندانہ مسلک کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نیز اس کتاب میں علوم الحدیث، کتاب البخاری اور امام بخاری کی سیرت پر سیر حاصل گفتگو کے ساتھ علم الحدیث کی تعریف و اقسام، عہد نبوی میں کتابت حدیث اور تدوین حدیث کے دلائل اور ان پر منکرین کے شبہات کا ازالہ، حجیت حدیث کے قرآنی دلائل، بخاری کا صحیح موضوع، امام بخاری پر آئمہ کی تقریظ و تائید جیسی اہم ابحاث شامل ہیں۔
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
Authors: عبد اللہ ناصر رحمانی
In History
فضیلۃ الشیخ علامہ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ بلاشبہ پاکستان کے لئے علمی لحاظ سے سرمایہ اعزاز افتخار ہیں۔ شیخ موصوف ۲۸دسمبر۱۹۵۵ء کو عروس البلاد کراچی میں پیدا ہوئے،آپ کا بچپن اور جوانی اسی شہر میں گزری ۔پرائمری کے بعد آپ کو آپ کے والد گرامی نے دین کے لیے وقف کر دیا اور دار الحدیث رحمانیہ کراچی میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے داخل کروایا۔اس وقت یہ دینی دانشگاہ بڑی شہرت کی حامل تھی۔ جہاں آپ نے آٹھ سال بڑی محنت و لگن سے تعلیم حاصل کی۔ مزید علمی تشنگیٔ دور کرنے کی غرض سے آپ نے جامعہ الامام محمد بن سعود اسلامیہ میں داخلہ لیا، اور وہاں چار سال تعلیم حاصل کی اور پھر وطن واپس آ کر جامعہ رحمانیہ کراچی جیسے باوقار اسلامی ادارہ میں پورے آٹھ سال تک شیخ الحدیث کے منصبِ جلیل پر فائز ہو کر وطن عزیز کے طلبا کو علمی فائدہ پہنچاتے رہے۔ آپ نے دار الحدیث رحمانیہ ، جامعہ ابی بکر میں تدریسی فرائض انجام دینے کے ساتھ دعوت و تبلیغ اور تصنیف و تالیف کا کام بھی بڑی تندہی سے جاری رکھا آپ کی دعوت کا حلقہ بڑا وسیع ہے سامعین آپ کے علمی خطبات کو بڑے ذوق و شوق سے سنتے ہیں دعوت کے سلسلے میں آپ نے کئی بیرونی ممالک کے سفر بھی کیے ہیں۔آپ جمعیت اہل حدیث سندھ کے امیر ہیں اور دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں آپ نے سید بدیع الدین شاہ راشدی کے بعد بڑا نمایاں کام کیا ہے۔نیز آپ معهد السلفى للتعليم و التربية کراچی کے بانی و مدیر بھی ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’محمد رسول اللہﷺ‘‘ فضیلۃ الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کے ’’ماہنامہ ضیائے حدیث،لاہور ‘‘ میں مطبوعہ چار مضامین کا مجموعہ ہے۔ان مضامین میں مقام رسول ﷺ ،محبت رسولﷺ، تعظیم رسول ﷺ کو کتاب و سنت سے دلائل کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔(م۔ا)
توحید اور شرکیہ امور کا تفصیلی بیان
Authors: عبد اللہ ناصر رحمانی
اُخروی نجات ہر مسلمان کا مقصدِ زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں۔ لہذا شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ اورآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظرکتاب’’ توحید اور شرکیہ امور کاتفصیلی بیان ‘‘ مسئلہ توحید وشرک پر فضیلۃالشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی ایک جامع، مدلل،علمی اور مضبوط کتاب ہے۔شیخ نےاس کتاب میں توحید اسماء وصفات تفصیلا بیان کیا گیا ہے۔ اور ’’سعادت نوع بشر‘‘ کےعنوان سے ایک نئے انداز سےتوحید کی اہمیت وضرورت کو اجاکر کر کے بڑے دردمندانہ انداز سے توحید کواپنانے کی تلقین کی ہے۔نیز شرکیہ امور کو الگ سے ذکر کر کےقرآن وحدیث کی نصوص سے ان کی تردید کی ہے۔(م۔ا )
صدارتی خطبات
Authors: عبد اللہ ناصر رحمانی
In Arguments
فضیلۃالشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ بلاشبہ پاکستان کے لئے علمی لحاظ سے سرمایہ اعزاز افتخار ہیں۔ شیخ موصوف ۲۸دسمبر۱۹۵۵ء کو عروس البلاد کراچی میں پیدا ہوئے،آپ کا بچپن اور جوانی اسی شہر میں گزری ۔پرائمری کے بعد آپ کو آپ کے والد گرامی نے دین کے لیے وقف کردیا اور دارالحدیث رحمانیہ کراچی میں دینی تعلیم کےحصول کےلیے داخل کروایا۔اس وقت یہ دینی دانش گاہ بڑی شہرت کی حامل تھی۔ جہاں آپ نے آٹھ سال بڑی محنت ولگن سے تعلیم حاصل کی۔ مزید علمی تشنگیٔ دور کرنے کی غرض سے آپ نے جامعہ الامام محمد بن سعود اسلامیہ میں داخلہ لیا، اور وہاں چار سال تعلیم حاصل کی او رپھر وطن واپس آکر جامعہ رحمانیہ کراچی جیسے باوقار اسلامی ادارہ میں پورے آٹھ سال تک’’شیخ الحدیث‘‘ کے منصب جلیل پر فائزہوکر وطن عزیز کے طلبا کو علمی فائدہ پہنچاتے رہے۔ آپ نے دار الحدیث رحمانیہ ، جامعہ ابی بکر میں تدریسی فرائض انجام دینے کےساتھ دعوت وتبلیغ اور تصنیف وتالیف کا کام بھی تندہی سے جاری رکھا آپ کی دعوت کا حلقہ بڑا وسیع ہے سامعین آپ کے علمی خطبات کو بڑے ذوق وشوق سے سنتے ہیں دعوت کےسلسلے میں آپ نے کئی بیرونی ممالک کے سفربھی کیے ہیں۔آپ جمعیت اہل حدیث سندھ کے امیر ہیں اور دعوت وتبلیغ کے سلسلے میں آپ نے سید بدیع الدین شاہ راشدی کےبعد بڑا نمایاں کام کیا ہے۔نیز آپ معهد السلفى للتعليم والتربية کراچی کے بانی و مدیر بھی ہیں اللہ تعالٰی اشاعت دین کے لیے آپ کی تمام کاوشوں کو شرف فبولیت سے نوازے ۔آمین زیر نظر کتاب ’’ صداتی خطبات ‘‘فضیلۃالشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کےان خطبات کی کتابی صورت ہے جو انہوں نے جمعیت اہل حدیث ،سندھ کےزیر اہتمام نیو سعید آباد میں منعقد ہونے والی سالانہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں صدارتی خطبہ کےطور پر پیش کرتے رہے۔یہ مجموعہ خطبات 1996ء تا2014ء تک کانفرنس میں پیش کیے صدارتی خطبات کامجموعہ ہےاس سے قبل کےخطبات’’ خطبات راشدیہ ‘‘کےنام سےطبع ہوچکے ہیں۔شیخ عبد اللہ ناصر رحمانی کے ان کے ان خطبات کا موضوع مسلک اہل حدیث کی حقانیت،تعارف اوردعوت بالخصوص توحید وسنت کااثبات، شرک وبدعت کا رد اور دعوت وجہاد میں نبوی وسلفی منہج کا بیان ہے۔ (م۔ا)
شرح حدیث جبریل ( عبد اللہ ناصر رحمانی )
Authors: عبد اللہ ناصر رحمانی
حدیث جبریل ایک مشہور حدیث ہے جس کے روایوں میں عمر ابن الخطاب اور ابوہریرہ جیسے بڑے صحابہ شامل ہیں۔یہ روایت صحیحین کےعلاوہ حدیث کی دیگرکتب میں بھی موجود ہے۔روایت کے مطابق سید الملائکہ جبریل علیہ السلام انسانی صورت میں آئے اور نبی کریمﷺ سے ایمان کیا ہے؟ اور دیگر سوالات کیے،یہ گفتگو کرنے کے بعد وہ چلے گئے تورسول اللہ ﷺنے اپنے اصحاب کو بتایا کہ یہ فرشتہ جبریل تھے، جو تمہیں دین کی تعلیم دینے آئے اسی وجہ سے یہ حدیث ’حدیث جبریل‘کےنام سےمعروف ہے ۔اہل علم نے اس حدیث کی الگ سےشروحات بھی کی ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’شرح حدیث جبریل‘‘فضیلۃالشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔شیخ موصوف نے فتح الباری،جامع العلوم والحکم،شیخ صالح بن عثیمن کی شرح الاربعین اور شیخ عبدالمحسن کی شرح حدیث جبریل فی تعلیم الدین کے علاوہ دیگر مراجع سے استفادہ کر کےاسے اردو دان طبقہ کے لیےمرتب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ شیخ کی دعوتی وتبلیغی،تدریسی وتحقیقی اور تصنیفی خدمات کو قبول فرمائے ۔ آ مین (م۔ا)
محبت رسول ﷺ فرضیت اہمیت اور تقاضے
Authors: عبد اللہ ناصر رحمانی
In History
حبِ رسول ﷺ اہل ایمان کے لیے ایک روح افزاءباب کی حیثیت رکھتا ہے۔ حبِ رسول ﷺ کے بروئے شریعت کچھ تقاضے ہیں۔ خود نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنی جان، مال، اولاد، ماں باپ غرض جمیع انسانیت سے بڑھ کر محبوب نہ سمجھے‘‘۔ محبت رسول ﷺ کا مظہر اطاعتِ رسول ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کےبغیر مومن ہونے کا دعویٰ منافقت کی بیّن دلیل ہے اور حب رسول ﷺ ہی وہ پیمانہ ہےجس سے کسی مسلمان کے ایمان کوماپا جاسکتا ہے۔ دعوائے محبت ہو اوراطاعت مفقود ہو تو دعویٰ کی سچائی پر حرف آتاہے۔ حب رسولﷺ کےتقاضوں میں سے ایک تقاضا تو نبی ﷺ کا ادب و احترام کرنا، آپ سے محبت رکھنا ہے۔ ۔پیغمبر اعظم وآخر الزمان ﷺ کا یہ اعجاز بھی منفرد ہے ہک آپ کے جان نثاروں کی زندگیاں جہاں محبتِ رسول کی شاہکار ہیں وہاں ہر ایک کی زندگی سنت رسولﷺ کی آئینہ دار ہے۔ ان نفوس قدسہ نے دونوں جہتوں میں راہنمائی کا عظیم الشان معیار قائم فرمایا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’محبت رسولﷺ کی فرضیت ،اہمیت اور تقاضے ‘‘ دار السلام ،لاہور کے شبعہ تحقیق وتالیف کے ریسرچ سکالر حافظ عبد اللہ ناصر مدنی﷾ کی کاوش ہے ۔انہوں نے نہایت اختصار اور جامعیت سے موضوع کا حق ادا کیا ہے ان کی یہ تحریر اولاً ماہنامہ ضیائے حدیث میں شائع ہوئی تھی بعد ازاں اسے کتابچے کی صورت میں شائع کیا گیا ہے۔(م۔ا)
خطبات رحمانی
Authors: عبد اللہ ناصر رحمانی
In Knowledge
فضیلۃالشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی ﷾بلاشبہ پاکستان کے لئے علمی لحاظ سے سرمایہ اعزاز افتخار ہیں۔آپ کی لِلاہیت،تقویٰ، طہارت، رسوخ فی العلم کے اپنے خواہ غیر سبھی معترف ہیں، آپ ایک اچھے منتظم، بلند پایہ محقق، مثالی مدرس، داعی الی الحق ،بیدارمغز ،صاحب طرز ادیب وانشاءپرداز، اور سنجیدہ خطیب شمار کیے جاتے ہیں۔آپ طلباء کے لئے مشفق ،علماء کرام کے قدردان، اپنے پرائے سبھی کی بات خندہ پیشانی سے سننے کی عادت سے سرفراز ہیں۔ آئے دن آپ کے مقالات ومحاضرات علمیہ، ملکی اور غیر ملکی جرائد کی زینت بنے نظر آتے ہیں، جن سے آپ کی علمی بصارت وبصیرت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔شیخ موصوف۲۸دسمبر۱۹۵۵ء کو عروس البلاد کراچی میں پیدا ہوئے،آپ کا بچپن اور جوانی اسی شہر میں گزری آپ کا ابتدائی اسم گرامی شکیل احمد تجویز ہوا تھا، مگر آپ کے استا د گرامی قدر مولانا کرم الدین سلفی نے تبدیل کرکے عبداللہ رکھا جس سے آپ نے شہرت پائی ،پرائمری کے بعد آپ کو آپ کے والد گرامی نے دین کے لیے وقف کردیا اور دارالحدیث رحمانیہ کراچی میں دینی تعلیم کےحصول کےلیے داخل کروایا۔اس وقت یہ دینی دانش گاہ بڑی شہرت کی حامل تھی۔ جہاں آپ نے آٹھ سال بڑی محنت ولگن سے تعلیم حاصل کی اور امتیازی نمبروں سے سندالفراغ اور دستار بندی سے سرفراز ہوئے۔ مزید علمی تشنگیٔ دور کرنے کی غرض سے آپ نے جامعہ الامام محمد بن سعود اسلامیہ یعنی ریاض یونیورسٹی میں داخلہ لیا، اور وہاں چار سال تعلیم حاصل کی او رپھر وطن واپس آکر جامعہ رحمانیہ کراچی جیسے باوقار اسلامی ادارہ میں پورے آٹھ سال تک’’شیخ الحدیث‘‘ کے منصب جلیل پر فائزہوکر وطن عزیز کے طلبا کو علمی فائدہ پہنچاتے رہے۔ شیخ کو تفسیر،حدیث،اصول حدیث،فقہ،تاریخ ،سیرو فن رجارل پرمکمل دسترس حاصل ہے ۔ آپ نے دار الحدیث رحمانیہ ، جامعہ ابی بکر میں تدریسی فرائض انجام دینے کےساتھ دعوت وتبلیغ اور تصنیف وتالیف کا کام بھی تندہی سے جاری رکھا آپ کی دعوت کا حلقہ بڑا وسیع ہے سامعین آپ کے علمی خطبات کو بڑے ذوق وشوق سے سنتے ہیں دعوت کےسلسلے میں آپ نے کئی بیرونی ممالک کے سفربھی کیے ہیں۔آپ جمعیت اہل حدیث سندھ کے امیر ہیں اور دعوت وتبلیغ کے سلسلے میں آپ سید بدیع الدین شاہ راشدی کےبعد بڑا نمایاں کام کیا ہے۔نیز آپ نے معهد السلفى للتعليم والتربية کراچی کے بانی و مدیر بھی ہیں اللہ تعالٰی اشاعت دین کے لیے آپ کی تمام کاوشوں کو شرف فبولیت سے نوازے ۔آمین زیر تبصرہ کتاب ’’خطبات رحمانی ‘‘ شیخ عبداللہ ناصر حمانی ﷾ کے خطبات کامجموعہ ہے جسے جناب مولانا محمد طیب محمدی﷾ نے شیخ کی اجازت سے ان کےخطبات کو سی ڈیز سے سن کر جمع کر کے حسن ترتیب سےمرتب کیا ہے ۔طیب محمدی صاحب نے ابو الوفا عبداللہ محمدی صاحب کے تعاون سےشیخ عبداللہ ناصرحمانی ﷾ کےدعوت اہل حدیث سندھ میں مطبوعہ خطبات کو بھی اس کتاب میں شامل کردیا ہے ۔مولانا محمد طیب محمدی ﷾ نے فضیلۃ الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی کے خطبات کوجمع ومرتب کے ان کی عصر حاضر کے منہج تخریج کے مطابق بہترین تخریج بھی کی ہے جس سے ان خطبات کی افادیت دو چند ہوگی ہے ۔(م۔ا)
محبت یا عشق
Authors: عبد اللہ ناصر رحمانی
In Arguments
عشق کی بیماری میں شیطان دو طرح کے لوگوں کو مبتلاء کرتا ہے، ایک بے دین طبقہ اور دوسرا دین دار طبقہ۔بے دین طبقے میں لیلی مجنوں، شیریں فرہاد وغیرہ کے نام سننے کو ملتے ہیں۔اور دین دار طبقے میں اس بیماری کا شکار صوفیاء ہوتے ہیں۔کسی سے اپنی عقیدت کو ظاہر کرنے کےلیے ہمارے ہاں زیادہ تر لفظ عشق استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ لفظ ہماری محبت اور عقیدت کو بالکل صحیح انداز سے واضح کردیتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عشق اور محبت وعقیدت میں بہت زیادہ فرق ہے۔ عشق ایک دیوانگی ہے جو عاشق سے عقل و شعور کو ختم کرکے اسے پاگل پن میں مبتلا کردیتی ہے جس کے بعد اسے کسی قسم کے نفع ونقصان کی تمیز نہیں رہتی، بس اپنی خواہش کو پورا کرنے اور معشوق کو حاصل کرنے کا خیال اس پر ہر وقت حاوی رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہر قسم کے کام سے عاجز ہوکر بےکار بن کر معاشرے میں عضو معطل بلکہ ایک بوجھ بن کر رہ جاتا ہے۔قرآن وحدیث میں عقیدت و الفت کو ظاہر کرنے لفظ محبت ہی استعمال ہوا ہے۔ لفظ عشق کا استعمال ہمیں کہیں نظر نہیں آتا۔ عزیز مصر کی بیوی کو یوسف ؑ سے جو تعلق پیدا ہوگیا تھا، وہ تو ہر لحاظ سے عشق ہی تھا، لیکن قرآن مجید میں اس موقع پر بھی عشق کا لفظ لانے کی بجائے ’ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ‘ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسولﷺ اس لفظ کے استعمال سے کس قدر پرہیز کرنے والے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" محبت یا عشق " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا عبد اللہ ناصرر حمانی صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے مقدس ہستیوں کے لئے لفظ عشق استعمال کرنے سے منع کیا ہے اور ان کے ساتھ لفظ محبت استعمال کرنے کو درست قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ تمام اہل علم کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)