حدیث جبریل ایک مشہور حدیث ہے جس کے روایوں میں عمر ابن الخطاب اور ابوہریرہ جیسے بڑے صحابہ شامل ہیں۔یہ روایت صحیحین کےعلاوہ حدیث کی دیگرکتب میں بھی موجود ہے۔روایت کے مطابق سید الملائکہ جبریل علیہ السلام انسانی صورت میں آئے اور نبی کریمﷺ سے ایمان کیا ہے؟ اور دیگر سوالات کیے،یہ گفتگو کرنے کے بعد وہ چلے گئے تورسول اللہ ﷺنے اپنے اصحاب کو بتایا کہ یہ فرشتہ جبریل تھے، جو تمہیں دین کی تعلیم دینے آئے اسی وجہ سے یہ حدیث ’حدیث جبریل‘کےنام سےمعروف ہے ۔اہل علم نے اس حدیث کی الگ سےشروحات بھی کی ہیں ۔ زیر نظر کتاب’’شرح حدیث جبریل‘‘فضیلۃالشیخ علامہ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔شیخ موصوف نے فتح الباری،جامع العلوم والحکم،شیخ صالح بن عثیمن کی شرح الاربعین اور شیخ عبدالمحسن کی شرح حدیث جبریل فی تعلیم الدین کے علاوہ دیگر مراجع سے استفادہ کر کےاسے اردو دان طبقہ کے لیےمرتب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ شیخ کی دعوتی وتبلیغی،تدریسی وتحقیقی اور تصنیفی خدمات کو قبول فرمائے ۔ آ مین (م۔ا)