ایمان کے لیے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے: دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور دیگر اعضا سے التزام عمل ۔ ان تین چیزوں کے اجتماع کا نام ایمان ہے۔ تصدیق میں کوتاہی کا مرتکب منافق، اقرار سے پہلو تہی باعث کفر اور عملاً کوتاہی کا مرتکب فاسق ہے اگر انکار کی وجہ سے بدعملی کا شکار ہے تو ایسے شخص کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے۔ علمائے سلف مسئلہ ایمان و کفر کو بالبداہت بیان کرتے آئے ہیں۔ امام بخاری نے اپنی تالیف الجامع الصحیح کے کتاب الایمان میں ایمان کے عملی اور اخلاقی پہلوؤں پر بالتفصیل روشنی ڈالی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں مولانا عبدالستار حماد نے بھی ایمان کے فکری اورعملی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تالیف دراصل ماہنمامہ شہادت میں ایمان و عقیدہ کے نام سے شائع ہونے والے سلسلہ وار مضامین کا مجموعہ ہے جسے معمولی حک و اضافہ کے بعد کتابی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مولانا موصوف نے مسئلہ تکفیر، جو موجودہ جہادی تناظر میں بہت زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، پر بھی شرح و وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے اور اس حوالے پائے جانے والے اشکالات کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ یہ بحث صرف 35 کے قریب صفحات پر محیط ہے جو دوسری کتاب کے مقابلہ میں کافی کم ہیں، لیکن پھر بھی افادیت کے اعتبار سےبہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ کتاب کے آخر میں ’امام بخاری اور فتنہ تکفیر‘ کے عنوان سے تکفیر سے متعلق امام بخاری کے موقف کو ان کی تالیف الجامع الصحیح کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔(ع۔م)
There are no reviews for this eBook.
٠
٠ out of 5
(٠ User reviews )