1997ء میں جب صائمہ ارشد کیس منظر عام پر آیا اور عدالتوں نے شرعی تقاضوں کے منافی یہ فیصلہ دے دیا کہ بالغ لڑکی از خود اپنا نکاح کر سکتی ہے تو اسے اخبارات اور اسلام بیزار ذرائع ابلاغ نے خوب اچھالا۔کیونکہ اس کیس سے اسلام بیزار ،مغرب زدہ طبقے کو اپنے موقف کو مزید ابھارنے میں بہت بڑی کمک حاصل ہوئی تھی۔اس کیس نے دینی ،رفاہی اور معاشرتی حلقوں کے علاوہ قانونی ماہرین ،غیر ملکی این جی اوز اور عوام میں بھی ہلچل پیدا کر دی۔ معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے محترمہ باجی مریم خنساء نے قلم اٹھایا اور اخباری بیانات کو سامنے رکھ کر اس کیس کے مختلف پہلووں پر لکھنا شروع کر دیا ۔ان کے یہ قابل فخر مضامین ماہنامہ بتول،طیبات اور الحسنات میں شائع ہوتے رہے۔ان مضامین میں لو میرج کے داخلی اسباب ،لو میرج کے خارجی اسباب،ولی اور فقہ حنفی،عورتوں کے حقوق کی بازیابی یا حق تلفی،کیا ہر گھر میں صائمہ موجود ہے؟اور پسند یا عشق جیسے مضامین قابل ذکر ہیں۔محترمہ مریم خنساء کے ان مضامین میں محترمہ ام عبد منیب نے بھی چند دیگر مفید اور موضوع سے متعلقہ مضامین کا اضافہ کیا ہے ۔اور پھر ان تمام مضامین کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کر دیا ہے۔جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں موجود ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان دونوں بہنوں کے اس نیک عمل کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)