حقیقت صاعِ نبوی


By Al Noor Softs
Posted on Jan 20, 2025
In Category Knowledge
Authors عبد الرشید حنیف
Published By ناشر : ادارہ علوم اسلامی، جھنگ
In Year 2015
Key Word اس کتاب کی فہرست مرتب نہیں کی گئی۔
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 48
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
زکوۃ کی ادائیگی کے وقت اناج کو تولنا ایک فطری ضرورت ہے۔کیونکہ زکوۃ اس وقت واجب ہو گی جب غلہ یا اناج نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے گا۔گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ ان غلہ جات میں زکوۃ کا نصاب پانچ وسق ہے، اور وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے،اگر اناج اس مقدار کو پہنچ جائے تو زکوۃ واجب ہے ورنہ نہیں۔زکوۃ نکالنے کی مقدار مجموعی پیداوار کا دسواں حصہ ہے اگر آبپاشی بارش، نہروں اور چشموں وغیرہ کے پانی سے ہوئی ہے، اور اس شکل میں بیسواں حصہ ہے جب کہ آبپاشی مشینوں اور اونٹوں کے رہٹ وغیرہ کے ذریعہ ہوئی ہو۔سیدنا عبداللہ بن زید ؓنبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی اور میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے، جس طرح ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں نے مدینہ کے “ مد” اور صاع میں برکت کی دعا کی جس طرح ابراہیم ؑ نے مکہ کے لیے دعا کی۔ اہل علم نے نبی کریم ﷺ کے صاع کی مقدار کے حوالے سے اختلاف کیا ہے کہ اس کی صحیح مقدار کتنی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب محترم مولانا عبد العزیز حنیف صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کے صاع کی درست مقدار کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔(راسخ)
Ratings Read Downloads
(٠)   74   18
 
 

زکوۃ کی ادائیگی کے وقت اناج کو تولنا ایک فطری ضرورت ہے۔کیونکہ زکوۃ اس وقت واجب ہو گی جب غلہ یا اناج نصاب کی مقدار کو پہنچ جائے گا۔گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ ان غلہ جات میں زکوۃ کا نصاب پانچ وسق ہے، اور وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے،اگر اناج اس مقدار کو پہنچ جائے تو زکوۃ واجب ہے ورنہ نہیں۔زکوۃ نکالنے کی مقدار مجموعی پیداوار کا دسواں حصہ ہے اگر آبپاشی بارش، نہروں اور چشموں وغیرہ کے پانی سے ہوئی ہے، اور اس شکل میں بیسواں حصہ ہے جب کہ آبپاشی مشینوں اور اونٹوں کے رہٹ وغیرہ کے ذریعہ ہوئی ہو۔سیدنا عبداللہ بن زید ؓنبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور اس کے لیے برکت کی دعا کی اور میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے، جس طرح ابراہیم ؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں نے مدینہ کے “ مد” اور صاع میں برکت کی دعا کی جس طرح ابراہیم ؑ نے مکہ کے لیے دعا کی۔ اہل علم نے نبی کریم ﷺ کے صاع کی مقدار کے حوالے سے اختلاف کیا ہے کہ اس کی صحیح مقدار کتنی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب محترم مولانا عبد العزیز حنیف صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کے صاع کی درست مقدار کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف ومترجم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔(راسخ)

 

There are no reviews for this eBook.

٠
٠ out of 5 (٠ User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks