علوم کی دنیا میں جادو ایک پرانا علم ہے۔ ابتدائے افرینش سے انسانی معاشرے میں اس کا وجود اور ثبوت پایا جاتا ہے۔ جناب موسیٰ کلیم اللہ کے مقابلے میں جادو کو فرعونی حکومت کی سرپرستی اور جادوگر کو انتہائی مراعات یافتہ طبقہ شمار کیا جاتا ہے۔ جنہوں نے حاکم وقت فرعون کی نگرانی اور سرپرستی میں حضر کلیم اللہ کا مقابلہ کیا لیکن اصلیت اور حقیقت نہ ہونے کی وجہ سے علم نبوت کے سامنے پسپا اور ناکام ہوئے۔ اسی اثناء حضرت موسیٰؑ نے جادوگروں کو مخاطب کرتے ہوئے جادو کی حقیقت بے نقاب فرمائی تھی کہ جادو گر کبھی بھی حقیقی اور دائمی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ جادو کا اثرات بڑے مہلک ہوتے مگر اس کا مؤثر علاج بھی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب کا موضوع ہی یہی ہے کہ جادو کے اثرات یا نقصانات کیا ہیں اور اس کا قرآن وحدیث کے مطابق حل کیا ہے؟۔ اس کتاب میں چھ ابواب ہیں‘ پہلے میں واقعات اور مشکلات کے بارے میں لوگوں کے تین قسم کے خیالات‘ جادو کے محرکات اور تاریخی وغیرہ رقم ہیں‘ دوسرے میں جادو کا شرعی علاج‘ وظائف وغیرہ‘ تیسرے میں حفاظتی تدابیر‘ چوتھے میں جادوگروں کے متعلق سوالات کے جوابات‘ پانچویں میں جنات کی حقیقت ‘ چھٹے میں نظر بد کے اثرات وغیرہ ‘ ساتویں میں نظام فلکی اور علم نجوم کی حقیقت اور آٹھویں میں پامسٹری اور مسمریزم کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ جادو کی تباہ کاریاں ‘اس کا شرعی حل ‘‘ میاں محمد جمیل ایم اے کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )