قوموں اور ملکوں کی سیاسی تاریخ کی طرح تحریکوں اور جماعتوں کی دینی اور ثقافتی تاریخ بھی ہمیشہ بحث وتحقیق کی محتاج ہوتی ہے۔محققین کی زبان کھلوا کر نتائج اخذ کرنے‘ غلطیوں کی اصلاح کرنے اور محض دعوؤں کی تکذیب وتردید کے لیے پیہم کوششیں کرنی پڑتی ہیں‘ پھر مؤرخین بھی دقتِ نظر‘ رسوخِ بصیرت‘ قوتِ استنتاج اور علمی دیانت کا لحاظ رکھنے میں ایک سے نہیں ہوتے‘ بلکہ بسا اوقات کئی تاریخ دان غلط کو درست کے ساتھ ملا دیتے ہیں‘ واقعات سے اس چیز کی دلیل لیتے ہیں جس پر وہ دلالت ہی نہیں کرتے‘لیکن بعض محققین افراط وتفریط سے بچ کر درست بنیادوں پر تاریخ کی تدوین‘ غلطیوں کی اصلاح ‘ حق کو کار گاہِ شیشہ گری میں محفوظ رکھنے اور قابلِ ذکر چیز کو ذکر کرنے کے لیے اہم قدم اُٹھاتے ہیں۔ ان محققین میں سے ایک زیرِ تبصرہ کتاب کے مصنف ہیں۔ یہ کتاب تحریکِ اہلحدیث کے موضوع پر لکھی گئی ہے‘ جس میں ان مختلف مراحل کا ذکر ہے جن سے یہ تحریک ہندوستان میں گزرتی رہی اور دیگر مذاہب کے پَیروکاروں کا اس کے متعلق کیا مؤقف رہا؟تقلید اور جمود کے خلاف شاہ ولی اللہ کی کوششوں کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور انہوں نے تقلید اور جمود کی بیریوں سے آزاد ہونے اور کتاب وسنت پر عمل کرنے کی دعوت دی؟ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے بحث وتحقیق کا پرچم اٹھایا اور اس کے بعد اعتقادی اور عملی بدعتوں کی مزاحمت کرتے رہے؟یہ کتاب مصنف نے مقلدین اور اہل حدیث لوگوں کے درمیان اختلافی مسائل کو مناظرانہ انداز سے رد کرنے اور دفاع کی غرض سے لکھی گئی ہے جس میں انہوں نے رد کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی دین حالت‘ گروہ بندی‘ فرقے سازی اور ان ارتقائی منازل پر بڑی دقیق اور علمی اسلوب میں بحث کی ہے‘ جن سے کتاب وسنت کی تحریک کو رسولِ کریمﷺ کے زمانے سے لے کڑ آج تک گزرنا پڑا‘ پھر انہوں نے اس اختلاف کی اصل اور بنیاد کی طرف اشارہ بھی کیا ہے اور مکمل تفصیل کی ساتھ تعصب سے ہٹ کر گفتگو کی ہے۔مصنف نے اس کتاب میں گیارہ عنوانات درج کیے ہیں۔تحریک اہل حدیث کے مد و جزر سے متعلق ہے‘ دوسرا تحریک کے تاریخی موقف اور خدمات سے‘ تیسرا برصغیر میں اہل توحید کی سرگرمیوں کے حوالے سے‘ چوتھا اور پانچواں مسئلہ تقلید سے متعلق ہے‘ چھٹا اہل حدیث کی اقتداء سے ‘ ساتواں تحریک ہی سے ‘ نواں زیارت قبور سے‘ دسواں مسلک اہل کے بارے میں سوالات وجوابات سے اور گیارہواں ایک استفسار کے جواب سے متعلق ہے۔یہ کتاب مولانا محمد اسماعیل سلفی﷾ کی عمدہ تحقیق پر مشتمل کتاب ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )