Al Noor Softs

( Joined ایک سال قبل )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
لوامع النشر فی اجراء العشر

Authors: محمد تقی الاسلام دہلوی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب '' لوامع النشر فی اجراء العشر ''استاذ القراء قاری محمد تقی الاسلام دہلوی کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے مذکورہ قراءات عشرہ کے عملی اجراء کا طریقہ بتلایا ہے۔اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

معلم الاداء فی الوقف والابتداء

Authors: محمد تقی الاسلام دہلوی

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنی ہیں کہ"کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو، عام ہے کہ وقف کرنے کے بعد مابعد سے ابتداء کریں یا ماقبل سےاعادہ" (النشر:۱؍۲۴۰) معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کااحساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سےقرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اسی طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ۔اوروجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے :’’اورقرآن مجید کوترتیل کے ساتھ پڑھو ۔‘‘(المزمل:4) سیدنا علی ؓسے ترتیل کا معنی پوچھا گیا توآپ نے فرمایا:’’الترتیل ہو تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف‘‘(الإتقان فی علوم القرآ ن:۱؍۸۵) اس تفسیر میں ترتیل کے دوجز بیان کیے گئے ہیں 1۔تجوید الحروف 2۔معرفۃ الوقوف ۔پس تجوید الحروف کی طرح معرفۃ الوقوف بھی ترتیل کا ایک جزء اور اس کا ایک حصہ ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب" معلم الاداء فی الوقف والابتداء "محترم قاری محمد تقی الاسلام صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں علم وقف کی علمی وفنی مباحث کو جمع فرمادیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

تلخیص المعانی من عنایات رحمانی

Authors: محمد تقی الاسلام دہلوی

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

قرآن مجید کتبِ سماویہ میں سے آخری کتاب ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں صحابہ کرام ﷢ کے سامنے قرآن مجید کی مکمل تشریح وتفسیر اپنی عملی زندگی، اقوال وافعال اور اعمال کے ذریعے پیش فرمائی اور صحابہ کرام ﷢کو مختلف قراءات میں اسے پڑھنا بھی سکھایا۔ صحابہ کرام ﷢ اور ان کے بعد آئمہ فن اور قراء نے ان قراءات کو آگے منتقل کیا۔ کتبِ احادیث میں احادیث کی طرح مختلف قراءات کی اسناد بھی موجود ہیں۔ بے شمار اہل علم اور قراء نے علومِ قراءات کے موضو ع پرسینکڑوں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔1173 ؍اشعار پر مشتمل شاطبیہ امام شاطبی  کی قراءات ِ سبعہ میں اہم ترین اساسی اور نصابی کتاب ہے ۔شاطبیہ کا اصل نام حرز الامانی ووجه التهانی ہے لیکن یہ شاطبیہ کےنام سے ہی معروف ہے اور اسے قصیدة لامیة بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کے ہر شعر کا اختتام لام الف پر ہوتا ہے۔ یہ کتاب قراءاتِ سبعہ کی تدریس کے لئے ایک مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بے پناہ مقبولیت سے نوازا ہے۔بڑے بڑے مشائخ اور علماء نے اس قصیدہ کی تشریح کو اپنے لیے اعزاز سمجھا۔ شاطبیہ کے شارحین کی طویل فہرست ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’تلخیص المعانی من عنایات رحمانی شرح حرز الأماني ووجه التهاني المعروف شرح شاطبیه ‘‘شیخ القراء قاری محمدشریف ﷫ کی کاوش ہے ۔یہ پاک وہند میں علم قراءات کے میدان کی معروف شخصیت استاذ القراء والمجودین قاری فتح محمد پانی پتی ﷫شاطبیہ کی معروف شرح عنایات رحمانی کی تلخیص ہے ۔قاری شریف صاحب مرحوم نے نئے ترجمہ کی بجائے قاری فتح محمد پانی پتی کے بامحاورہ ترجمہ کو ہی اس حد تک تحت لفظی اورآسان کردیا ہے کہ طلباء شعر کے مفردات کے معنیٰ ومفہوم کوآسانی سے سمجھ سکیں۔ اور قراءات کی تمام وجوہ کو نفس متن سے اخذ کرسکیں ۔نیز قاری شریف مرحوم نے اصل ترجمہ میں جو نحوی ترکیب کے اشارات ہیں ان کو باقی رکھا ہے البتہ جہاں کہیں نحوی ترکیب یا لغت کے اعتبار سے کئی ترجمے ہیں ان میں عمومًا ایک ہی پر اکتفا کیا ہے۔اور اگر کہیں ترجمہ کو تحت لفظی لانے میں طلباء کے لیے کچھ الجھن محسوس ہوئی تو متن کےمفردات کو بامحاورہ ترجمہ کےتابع کرکے آگے پیچھے کردیا ہے،رمزی کلمات کو بطورِ اسم ترجمہ میں شامل کر کےان کے مرموزین کو قوسین میں اوران کلمات کےلغوی معانی کوقوسین سے باہر رکھا ہے۔قاری صاحب نے اس شرح کا تاریخی نام غزیر المعاني والفضفضة المعاني رکھا ہے ۔(م۔ا)

الیسر شرح طیبۃ النشر فی القراءات العشر

Authors: محمد تقی الاسلام دہلوی

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

قرآن مجید نبی کریم ﷺپر نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے آخری کتاب ہے۔آپﷺ نے اپنی زندگی میں صحابہ کرام ﷢ کے سامنے اس کی مکمل تشریح وتفسیر اپنی عملی زندگی ، اقوال وافعال اور اعمال کے ذریعے پیش فرمائی اور صحابہ کرام ﷢کو مختلف قراءات میں اسے پڑھنا بھی سکھایا۔ صحابہ کرام ﷢ اور ان کے بعد آئمہ فن اور قراء نے ان قراءات کو آگے منتقل کیا۔ کتبِ احادیث میں اسناد احادیث کی طرح مختلف قراءات کی اسنادبھی موجود ہیں ۔ اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالمِ اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ مجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے علوم ِقراءات کے موضوع پرسیکڑوں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔حجیت قراءات وفاع قراءات کےسلسلے میں ’’ جامعہ لاہور الاسلامیہ ، لاہور کے ترجما ن مجلہ ’’ رشد‘‘ کے تین جلدوں میں خاص نمبر گراں قد ر علمی ذخیرہ ہے اور اردو زبان میں اس نوعیت کی اولین علمی کاوش ہے ۔اللہ تعالیٰ قراءات کے موضوع پر اس ضخیم علمی ذخیرہ کےمرتبین وناشرین کی اس عمدہ کاوش کو قبول فرمائے ۔آمین۔ زیر نظرکتاب’’الیسر شرح طیۃ النشر فی القرءات العشر‘‘ قراءات عشرہ کی عظیم القدر درسی کتاب ’’ طبیۃ النشر فی القرءات العشر‘‘ از جزری ﷫ کی عام فہم اور شافی شرح ہے ۔الیسر محمد تقی الاسلام دہلوی کی تالیف ہے موصوف نےاس شرح کا نام النَّضِير البَصَرُ –الضَّبِيعةُ النَّضرُ رکھا لیکن یہ الیُسر کے نام سے معروف ہے ۔چونکہ طیبۃ النشر فن کی آخری درسی کتاب ہےاس لیےشارح نے اس شرح میں انتہائی اختصار سے کام لیا ہے۔شرح کا انداز اس طرح کا رکھا ہے کہ جو ترجمہ ہے وہی شرح ہے یعنی تشریحی ترجمہ ہے ۔ جس سے مقصود ومطلب بآسانی اخذ ہوسکے۔ اسی مقصد کےلیے کلمات رمزیہ کو اسماء کے قائم مقام رکھا ہےا ور ان کو ترجمہ میں بطور ِ اسماء کے لیا ہے۔نیز اختصار کے پیش نظر تکرار سے بچنے کےلیے زیادہ تر ایسا کیا ہے کہ اختلافی کلمہ کا تلفظ پہلے کیاپھر قیود بیان کی ہیں ۔اور اندازِ شرح کو آسان سےآسان تر کرنے کی حتی الوسع کوشش کی ہے ۔ تاکہ طلباء خود نفسِ اشعار سے اختلاف اور وجوہ کو سمجھ کر نکالیں۔شائقین علم تجوید کے لئے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے،جس کا تجوید وقراءات کے ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ مؤلف مرحوم کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزانِ حسنات میں اضافہ فرمائے۔(آمین)(م۔ا)

حیوانات قرآنی

Authors: عبد الماجد دریا بادی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

خدمتِ قرآن مجید کے طریقے بے شمار ہیں ۔۔اہل علم نے مختلف انداز میں قرآن مجید کی خدمت کی ہے ۔ ۔قرآن مجید اصلاً ایک کتاب ہدایت اور دستورالعمل ہے ۔ لیکن ضمناً اس میں بہت سے علمی مسائل پربھی روشنی ڈالی گئی ہے ۔اور عربی زبان وادب کے علاوہ مختلف علوم وفنون کے بھی کتنے ہی عنوانات اس سے منور ہوجاتے ہیں۔یعنی قرآن مجید میں جہاں مختلف علوم وفنون کاذکر موجود ہے وہاں قرآن مجید میں حیوانات کےذکر بھی خاصی تعداد میں آیا ہے ۔زیر تبصرہ کتاب ’’ حیوانات قرآنی‘‘ مولانا عبدالماجد دریاآبادی ﷫ کی قرآن مجید میں بیان گئے جانوروں کے متعلق جامع کتاب ہے ۔ جس میں انہوں نے قرآن مجید میں مذکور تمام جانوروں کے ناموں کو بہ ترتیب حروف تہجی اس میں یکجا کرنے کےساتھ ساتھ عہد قدیم اور عہد جدید میں ان جانوروں کے متعلق جو معلومات مل سکیں انہیں بھی اس میں جمع کردیا ہے۔گویا قرآن مجید میں جن حیوانات کا ذکر آیا ہےان کے اسماء صفات ،افعال ومتعلقات کے حوالے سےیہ کتاب ایک جامع لغت ہے (م۔ا)

سیرۃ نبوی ﷺ قرآن کی روشنی میں

Authors: عبد الماجد دریا بادی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

سیرت سرور کائنات وہ سدا بہار،پاکیزہ ،ہر دلعزیز موضوع ہے جسے شاعر اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گااس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔یہ سلسلۂ خیر ہنوز روز اول کی طرح جاری وساری ہے ۔سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب’’سیرۃ نبوی ﷺ قرآن مجید کی روشنی میں ‘‘جنوری1958ء میں مفسر قرآن مولانا عبدالماجد دریاآبادی کے سیرت النبی کے موضوع پر سات خطبات کا مجموعہ ہے۔ (م۔ا)

خطوط ماجدی

Authors: عبد الماجد دریا بادی

In Knowledge

By Al Noor Softs

خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا سیدنا سلیمان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد خلفائے راشدین نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ خطوط شائع ہوچکے ہیں اور اہل علم اپنی تحریروں اورتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط چھپے اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’خطوط ماجدی‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔جوکہ معروف ادیب ومفسر مولانا عبد الماجد دریاآبادی کے علمی وادبی خطوط کا مجموعہ ہے۔اس مجموعے میں کچھ خطوط مکتوبات ماجدی سے اور بیشتر خطوط اخبارات ورسائل سے محترم جناب ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہانپوری نےنےجمع کر کے مرتب کیے ہیں۔مولانا دریاآبادی کے خطوط کےمجموعہ ہذا کے علاوہ مکتوبات ماجدی اور رقعات ماجدی کے نام سےبھی دو مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ (م۔ا)

آپ بیتی ( مولانا عبد الماجد دریاآبادی )

Authors: عبد الماجد دریا بادی

In Knowledge

By Al Noor Softs

مولانا عبد الماجد دریابادی 16 مارچ 1892 کو دریاباد،ضلع بارہ بنکی، بھارت قدوائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ اُن کے دادا مفتی مظہر کریم کو انگریز سرکار کے خلاف ایک فتویٰ پر دستخط کرنے کے جرم میں جزائر انڈومان میں بطور سزا کے بھیج دیا گیاتھا۔ آپ ہندوستانی مسلمان محقق اور مفسر قرآن تھے۔آپ بہت سی تنظیموں سے منسلک رہے اور بہت سی اسلامی اور ادبی انجمنوں کے رکن تھے۔ عبدالماجد دریاآبادی نے انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی ایک جامع تفسیر قرآن لکھی ہے۔ اُن کی اردو اور انگریزی تفسیر کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے یہ تفاسیر اسلام پر عیسائیت کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کو سامنے رکھتے ہوئے لکھی ہے۔ آپ نے 6 جنوری 1977 کو وفات پائی۔ان کے حالات وخدمات پر متعدد رسائل وجرائد کے خصوصی شمارے شائع کیے گئے ہیں اور متعدد کتب بھی لکھی گئی ہیں اس کے علاوہ مختلف یونیورسٹیوں میں ان پر تحقیقی مقالہ جات بھی لکھے گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’آپ بیتی‘‘ اردو کے مشہور صاحبِ طرز ادیب اور مفسر قرآن مولانا عبد الماجد دریاآبادی کے قلم سے نکلی ہوئی آپ بیتی او رخودنوشت سوانح عمری ہے جس میں لکھنؤ اور اودہ کی ثقافت وتہذیب ،مشاہیر دین وادب ، اور ممتاز معاصرین واحباب کے تذکرے اور چلتی پھرتی تصویریں بھی موجود ہیں ۔اس آپ بیتی میں مولانا عبد الماجد دریاآباد کے جادونگار قلم نےاپنی زندگی کےعہد رفتہ کو اس طرح آواز دی کہ وہ حال معلوم ہونے لگا۔(م۔ا)

وفیات ماجدی یا نثری مرثیے

Authors: عبد الماجد دریا بادی

In Knowledge

By Al Noor Softs

تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ زیر نظر کتاب’’وفیات ماجدی ؍نثری مرثیے‘‘ مولانا عبد الماجد دریابادی کی اپنے خاندان کے افراد،مختلف علماء،سیاسی لیڈر،شاعر،ادیب وصحافی،ڈاکٹر وطیب حضرات کی وفات پر ان کے متعلق مختلف رسائل وجرائد میں مطبوعہ تحریروں کی کتابی صورت ہے جنہیں حکیم عبدالقوی دریا بادی صاحب نے مرتب کیا ہے ۔(م۔ا)