Al Noor Softs

( Joined ایک سال قبل )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
فیہ ذکر کم جلد اول ( پارہ 1 تا 10 )

Authors: نگہت ہاشمی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالی کی وہ آخری کتاب ہے،جسےاس نے اپنے آخری پیغمبر جناب محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمایا۔ یہ کتاب قیامت تک آنے والے لوگوں کےلئے ذریعۂ ہدایت و رُشد اور راہ نجات ہے۔ یہ کتاب ایک ایسی گائیڈ بک ہے ،جو کسی بھی انسان کے لئے ہرقسم کے حالات وواقعات میں شاندار اور کامیاب راہنمائی کرتی ہے۔ یہ کتاب آسمانی وزمینی علوم کا احاطہ کرنے والی ہے۔ اس کائنات میں کیاہوا، کیا ہوچکا اورکیا ہونے والاہے،اس کے بارے میں تمام معلومات اس کتاب میں موجودہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ اس کتاب میں دنیا میں رونما ہونے والے کسی بھی قسم کے حالات وواقعات کے اسباب اور وجوہات کا تذکرہ تفصیلی طور پر گیا ہے۔ اللہ کی نازل کردہ اس کتاب میں اور بھی بہت کچھ ہے،جس کا احاطہ کرنا کسی انسان کے لئے ناممکن ہے۔اس کتاب میں انسان جتنا غور وفکر کرکے پڑھے گا، اتنا ہی اس کتاب سے استفادہ کرکے اس کے اسرار ورموز اور معلومات سے آگاہ ہوسکے گا۔ یہ دنیا کی وہ تنہا معجزاتی کتاب ہے، جسے بار بار پڑھنے سے بوریت اوراکتاہٹ کی جھلک بھی محسوس نہیں ہوتی اور ہر بار پڑھتے وقت اس کلام کی گہرائی کا ادراک ہوکر نئی معلومات انسان کے ذہن کو ملتی ہے۔اس کتاب کی حقانیت کے لئےصرف ایک ہی دلیل کافی ہے کہ اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہے، آج تک اس میں سے ایک حرف کی معلومات کو کوئی غلط ثابت نہیں کرسکا اور نہ ہی کبھی کرسکے گا۔ یہ اس کتاب کاکھلم کھلا چیلنج ہے۔زیر تبصرہ کتاب "فیہ ذکرکم" النور انٹر نیشنل کی مدیرہ محترمہ ڈاکٹر نگہت ہاشمی صاحبہ کی مضامین قرآن پر مشتمل ایک منفردتصنیف ہے جو انہوں نے اپنےادارے کے تحت خواتین کو کروائے جانے والے مختلف کورسز کے لئے تیار کی ہے۔اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے رکوع کی ہیڈنگ قائم کرتی ہیں،پھر اس رکوع کا موضوع متعین کرتی ہیں ،پھر اس کے مضامین ترتیب کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کرنے کے کام اور آخر میں اپنا جائزہ لینے کے حوالے سے چند سوالات پیش کرتی ہیں کہ اس رکوع کی روشنی میں آیا ہم درست سمت پہ جا رہے ہیں یا غلط راستے پر چل رہے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولفہ کی اس عظیم الشان کاوش پر ان کو جزائے خیر دے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

طب نبوی

Authors: نگہت ہاشمی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

انسا ن کو بیماری کا لاحق ہو نا من جانب اللہ ہے اوراللہ تعالی نے ہر بیماری کا علاج بھی نازل فرمایا ہے جیسے کہ ارشاد نبویﷺ ہے ’’ اللہ تعالی نے ہر بیماری کی دواء نازل کی ہے یہ الگ بات ہے کہ کسی نےمعلوم کر لی اور کسی نے نہ کی ‘‘بیماریوں کے علاج کے لیے معروف طریقوں(روحانی علاج،دواء اور غذا کے ساتھ علاج،حجامہ سے علاج) سے علاج کرنا سنت سے ثابت ہے۔ روحانی اور جسمانی بیماریوں سےنجات کے لیے ایمان او ر علاج کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے اگر ایمان کی کیفیت میں پختگی ہو گی تو بیماری سے شفاء بھی اسی قدر تیزی سے ہوگی ۔ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالی ٰ کی دی ہوئی حکمت سے مختلف طرح کی بیماریوں کو فطری اشیاء اور فطری طریقوں سے دور کرنے کی کوششیں کرتے تھے ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں کتاب الطب کے نام سے ابواب بھی قائم کیے اور بعض ائمہ نے طب پر مستقل کتب بھی تصنف کی ہیں امام ابن قیم ﷫ کی الطب النبوی قابل ذکر ہے ۔اور اسی طرح بعض ماہرین طب نے طب نبوی ،جدید سائنس اور عصر ی تحقیقات کو سامنے رکھتے ہوئے کتب تصنیف کی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر خالد غزنوی کی کتب بڑی اہم ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’طب نبوی‘‘ معروف معلمہ ومدرسہ محترمہ نگہت ہاشمی کی کاوش ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے حدیث کی صحیح کتب سے ایسی’’ 198‘‘احادیث کو حوالوں کے ساتھ ایک خاص ترتیب سے پیش کیا ہے جن میں علاج معالجہ او رطب نبوی ﷺ کا ذکر ہے ۔تاکہ عام لوگ بھی اس سے استفادکر کے اپنی روحانی وجسمانی بیماریوں کا علاج کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کوقبول فرماکر ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین (م۔ا)

خواہش سے ارادے تک

Authors: نگہت ہاشمی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

انسان کےاندر خواہش اور عقل کےدرمیان مستقل ایک جنگ جاری ہے ۔ایک طرف عقل ہے اور دوسری طرف خواہش ۔عقل کےپاس اگر علم ہےتو عقل جیت جاتی ہے ۔ لیکن جب علم ہوتا تو خواہش جیت جاتی ہے۔ سب سےمشکل کام خواہش اور ارادے کوپہچاننا ہے ۔ علم نہیں ہوتا تو انسان فرق نہیں کرپاتا اور تھوڑی دیر کے لیے غافل ہو توخواہش غالب آتی ہے۔ اور یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ ارادہ ہمیشہ علم او رانجام کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ارادے ٹوٹتے ہیں کیونکہ انجام یاد نہیں رہتا۔ جوعلم انسان کو اس دنیا میں رہتے ہوئے اپنے رویئے یعنی خلق کو درست کرنے کے لیے چاہیے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت اور آخرت کےحقائق کے انجام کا علم ہے۔ یہ علم ہوناضروری ہےکیونکہ اس کے بغیر اراداہ نہیں ہوگا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’ خواہش سے ارادے تک ‘‘ خواتین کی تعلیم وتربیت کے اصلاحی وتعلیمی ادارے’’ النور انٹر نیشنل‘‘ کی بانی محترمہ نگہت ہاشمی صاحبہ کے ایک لیکچر کی کتابی صورت ہےاس کتابچہ میں انہوں نے بتایا ہےکہ ارادہ کیوں ٹوٹتا ہے؟ نیکی کاارادہ کیوں نہیں بنتا؟ ارادہ کس بنیاد پر ہوتا ہے؟ خواہش اورارادے میں کیسے فرق کیا جاسکتاہے؟ ارادے کو کیسے مضبوط کیاجاسکتاہے۔(م۔ا)

سکون کا رشتہ

Authors: نگہت ہاشمی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلامی نظامِ زندگی کی خصوصیات میں سے ایک امتیازی خصوصیت اسلام کا خاندانی نظام ہے۔ اسلام نے نظام معاشرت کے حوالے سے جس اہتمام کے ساتھ احکام بیان کیے ہیں اگر مسلمان ان سے آگاہ ہو جائیں اور حقیقی طور پر ان کا نفاذ کرلیں تو ایک مضبوط، خوشحال اور باہمی محبت کا خوگر خاندان تشکیل پا سکتا ہے۔ انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کے گھریلوں معاملات پر سکون ہوں، جب وہ گھر جائے تو راحت محسوس کرے، جب وہ اپنے اہل خانہ کو دیکھے تو خوشی ہو مگر یہ سب انعامات اس وقت ہونگے جب اس کی عائلی زندگی اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہو گی۔ دور حاضر میں جس رفتار سے گھر بسانے کا سلسلہ جاری ہے، اعدادو شمار یہ بتاتے ہیں کہ اس زیادہ تیزی کے ساتھ گھر ٹوٹنے کا آغاز ہو چکا ہے۔آج ایک چھت تلے رہنے والے سکون سے محروم نظر آتے ہیں۔ سچ ہے کہ یہ رشتہ سکون والا بن ہی نہیں سکتا جب تک کہ رشتہ بنانے والے سے تعلق مضبوط نہ ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" سکون کا رشتہ" محترمہ نگہت ہاشمی کی ایک اصلاحی تصنیف ہے۔ جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں خاندانی نظام کو پر سکون بنانے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ موصوفہ کو اجر عظیم سے نوازے اور امت مسلمہ کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنے اہل خانہ کی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین (عمیر)

جنت کی تلاش میں ( نگہت ہاشمی )

Authors: نگہت ہاشمی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’جنت کی تلاش ‘‘ خواتین کی تعلیم وتعلم کے لیے کام کرنے والے معروف ادارے النور انٹرنیشنل کی سرابراہ محترمہ استاذہ نگہت ہاشمی صاحبہ کے جنت کے موضوع پر دئیے گیے لیکچر کی کتابی صورت ہے ۔محترمہ نےاس میں دنیا کی عیش وعشرت اور سہولیات اور قیامت کے دن اہل ایمان ، صالحین کو ملنے والی جنت کی نعمتوں کا تقابل کرتے ہوئے اس بات کو واضح کیا ہے کہ دنیا وی حسن اور دنیا کی چمک دھمک اوردنیاوی سہولتوں کی حقیقی جنت کےمقابلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔نیز قرآنی آیات اور احادیث کی روشنی میں جنت کے درجات ، نعمتیں ، اور باغات اورجنتیوں کو ملنے والے انعامات کا اس مختصر کتاب میں آسان فہم انداز میں تذکرہ کیا ہے ۔ (م۔ا)

قرآناً عجباً ( پارہ اول )

Authors: نگہت ہاشمی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل، النور انٹرنیشنل ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،دارالفلاح ،لاہور وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قرآنا عجبا (پارہ اول )‘‘ خواتین کی تعلیم وتربیت کے معروف ادارے النور انٹر نیشنل کی بانی وسرپرست محترمہ نگہت ہاشمی صاحبہ کی مرتب شدہ ہے ۔انہوں نے اسے سوال وجواب کی صورت مرتب کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ہرآیت کے اہم پہلوؤں کو سوال کی صورت میں اٹھایا ہےاور نکات کی صورت میں ان کا جواب قرآن حکیم ہی سے لینے کی کوشش کی ہے ۔کیونکہ سوال وجواب کے انداز میں سیکھنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے ۔ انسان کو سوالوں کے جواب مل جائیں تو اطمینان ہوجاتا ہے اوردل جمتا ہے ۔قرآن کو اس انداز میں پڑھ کر ہروہ شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو قرآن کے راستے کا مسافر بننا چاہتا ہے ۔(م۔ا)

تفسیر سورۃ البقرہ ( قرآناً عجبا)

Authors: نگہت ہاشمی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن تقریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل، النور انٹرنیشنل ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،دارالفلاح ،لاہور وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور )کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تفسیر سورۃ البقرۃ‘‘ خواتین کی تعلیم وتربیت کے معروف ادارے النور انٹر نیشنل کی بانی وسرپرست محترمہ نگہت ہاشمی صاحبہ کی مرتب شدہ ہے ۔انہوں نے اسے سوال وجواب کی صورت مرتب کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ہرآیت کے اہم پہلوؤں کو سوال کی صورت میں اٹھایا ہےاور نکات کی صورت میں ان کا جواب قرآن حکیم ہی سے لینے کی کوشش کی ہے ۔کیونکہ سوال وجواب کے انداز میں سیکھنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے ۔ انسان کو سوالوں کے جواب مل جائیں تو اطمینان ہوجاتا ہے اوردل جمتا ہے ۔قرآن کو اس انداز میں پڑھ کر ہروہ شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو قرآن کے راستے کا مسافر بننا چاہتا ہے ۔(م۔ا)

تفسیر سورۃ آل عمران( قرآناً عجبا)

Authors: نگہت ہاشمی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن تقریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل، النور انٹرنیشنل ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،دارالفلاح ،لاہور وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور )کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تفسیر سورۃ آل عمران‘ خواتین کی تعلیم وتربیت کے معروف ادارے النور انٹر نیشنل کی بانی وسرپرست محترمہ نگہت ہاشمی صاحبہ کی مرتب شدہ ہے ۔انہوں نے اسے سوال وجواب کی صورت مرتب کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ہرآیت کے اہم پہلوؤں کو سوال کی صورت میں اٹھایا ہےاور نکات کی صورت میں ان کا جواب قرآن حکیم ہی سے لینے کی کوشش کی ہے ۔کیونکہ سوال وجواب کے انداز میں سیکھنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے ۔ انسان کو سوالوں کے جواب مل جائیں تو اطمینان ہوجاتا ہے اوردل جمتا ہے ۔قرآن کو اس انداز میں پڑھ کر ہروہ شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو قرآن کے راستے کا مسافر بننا چاہتا ہے ۔(م۔ا)

تفسیر سورۃ یوسف ( قرآناً عجبا)

Authors: نگہت ہاشمی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قرآن کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن تقریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل، النور انٹرنیشنل ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،دارالفلاح ،لاہور وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور )کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تفسیر سورۃ یوسف‘‘ خواتین کی تعلیم وتربیت کے معروف ادارے النور انٹر نیشنل کی بانی وسرپرست محترمہ نگہت ہاشمی صاحبہ کی مرتب شدہ ہے ۔انہوں نے اسے سوال وجواب کی صورت مرتب کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ہرآیت کے اہم پہلوؤں کو سوال کی صورت میں اٹھایا ہےاور نکات کی صورت میں ان کا جواب قرآن حکیم ہی سے لینے کی کوشش کی ہے ۔کیونکہ سوال وجواب کے انداز میں سیکھنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے ۔ انسان کو سوالوں کے جواب مل جائیں تو اطمینان ہوجاتا ہے اوردل جمتا ہے ۔قرآن کو اس انداز میں پڑھ کر ہروہ شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو قرآن کے راستے کا مسافر بننا چاہتا ہے ۔(م۔ا)