Al Noor Softs

( Joined ایک سال قبل )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
انسائیکلو پیڈیا اثبات رفع الیدین

Authors: خالد گھرجاکھی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سےکلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ شب معراج کے موقع پر امت محمدیہ کو اس تحفہ خداوندی سے نوازہ گیا۔ نماز کفر و ایمان کے درمیان ایک امتیاز ہے۔ دن اور رات میں پانچ مرتبہ باجماعت نماز اداکرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ لیکن نماز کی قبولیت کی اول شرط یہ ہےکہ وہ نبی کریمﷺ کی نماز کے موافق ہو۔ آپﷺ نے فرمایا: "تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھو"(الحدیث)۔ نماز پر مواظبت ہر مسلمان مرد عورت پر فرض اور واجب ہے۔ نماز کے مختلف فیہ مسائل میں سے ایک معرکۃ الآراء مسئلہ 'رفع الیدین' بھی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "انسائیکلو پیڈیا اثبات رفع الیدین" جو کہ فضیلۃ الشیخ مولانا خالد گرجاکھیؒ کی ایک تحقیقی تصنیف ہے۔ جس میں 50 راویان صحابہ، 400 احادیث و آثار سے رفع الیدین کو جواز کو ثابت کیا ہے۔ اور اس کے علاوہ مانعین رفع الیدین کے دلائل کا منصفانہ جائزہ بھی لیا ہے کہ ان کے دلائل کس حد تک حجت بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا کو غریق رحمت کرے اور ان کی تصانیف کو صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین(عمیر)

خیرالقرون کی درسگاہیں اور ان کا نظام تعلیم و تربیت

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

وحی الہٰی کے نزول کی ابتداءقراءت،علم اور قلم کے ذکر سے ہوئی۔رسول اللہ ﷺمعلم الکتاب والحکمۃ بنا کر مبعوث ہوئے۔قرآن وحدیث میں علمِ دین پڑھنے پڑھانے کی تاکید ،اس کی ضرورت و اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور عہدِ رسالت سے لے کر آج تک مسلمانوں میں تعلیم و تعلم کا مربوط نظام جاری و ساری ہے۔اسلام کے نظامِ تعلیم و تعلم اور مذہب پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے زیر تبصرہ کتاب ’’ خیر القرو ن کی درسگاہیں اور ان کا نظامِ تعلیم و تربیت ‘‘از قاضی اطہر مبارکپوری اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں فاضل مؤلف نے عہد رسالت میں ہجرت سے قبل اور بعد کی درسگاہوں کا ذکرکرتے ہوئے عہد صحابہ وعہد تابعین کی درسگاہوں اور نظام تعلیم کاتفصیلاً ذکر کرنے بعد مدینہ منورہ کی دینی وعلمی اور ادبی مجالس کا بھی ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ مؤلف کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)( م۔ا)

ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے، جو درحقیقت قرآن مجید کی توضیح وتشریح ہی ہے۔کتاب وسنت یعنی قرآن وحدیث ہمارے دین ومذہب کی اولین اساس وبنیاد ہیں۔ پھر ان میں کتاب الٰہی اصل اصول ہے اور احادیث رسول اس کی تبیین و تفسیر ہیں۔ خدائے علیم وخبیر کا ارشاد ہے ”وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیّن لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ“ (النحل:44) اور ہم نے اتارا آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے خوب واضح کردیں۔اس فرمان الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی رسالت کا مقصد عظیم قرآن محکم کے معانی و مراد کا بیان اور وضاحت ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس فرض کو اپنے قول و فعل وغیرہ سے کس طور پر پورا فرمایا، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے اسے ایک مختصر مگر انتہائی بلیغ جملہ میں یوں بیان کیا ہے ”کان خلقہ القرآن“(مسند احمد:24601)یعنی آپ کی برگزیدہ ہستی مجسم قرآن تھی، لہٰذا اگر قرآن حجت ہے (اور بلا ریب وشک حجت ہے) تو پھر اس میں بھی کوئی تردد و شبہ نہیں ہے کہ اس کا بیان بھی حجت ہوگا، آپ نے جو بھی کہا ہے،جو بھی کیا ہے، وہ حق ہے، دین ہے، ہدایت ہے،اور نیکی ہی نیکی ہے، اس لئے آپ کی زندگی جو مکمل تفسیر کلام ربانی ہے آنکھ بند کرکے قابل اتباع ہے ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَةٌ“ (احزاب:21)خدا کا رسول تمہارے لئے بہترین نمونہٴ عمل ہے، علاوہ ازیں آپ صلى الله عليه وسلم کو خداے علی وعزیز کی بارگاہ بے نہایت سے رفعت وبلندی کا وہ مقام بلند نصیب ہے کہ ساری رفعتیں اس کے آگے سرنگوں ہیں حتی کہ آپ کے چشم وابرو کے اشارے پر بغیر کسی تردد وتوقف کے اپنی مرضی سے دستبردار ہوجانا معیار ایمان و اسلام ٹھہرایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت"مورخ اسلام مولانا قاضی اطہر صاحب مبارکپوری کی تصنیف ہے، جسے محمد صادق مبارک پوری استاذ جامعہ احیاء العلوم مبارک پور اعظم گڑھ یو پی نے مرتب کیا ہے۔اس میں انہوں نے ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت کے حوالے سے تفصیلات نقل کی ہیں۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

شجرہ مبارکہ یعنی تذکرہ علماء مبارکپور

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

مبارک پور ضلع اعظم گڑھ بھارت کا ایک مشہور و معروف قصبہ ہے، ریشمی ساڑیوں اور الجامعۃ الاشرفیہ اور کبار علمائے مبارکپور نے قصبہ مبارک پور کو عالمی سطح پر شہرت دلائی ہے۔ یہ قصبہ شہر اعظم گڑھ سے 16 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ علم و ادب، شعر و سخن، اخلاق و کردار، ایثار و قربانی اور اپنی دست کاری کے باعث یہاں کے لوگوں نے ہندوستان بھر میں اپنی ایک شناخت قائم کی ہے۔سیرۃ البخاری کے مصنف مولانا عبد السلام مبارکپوری، شارح جامع ترمذی مولانا عبد الرحمٰن محدث مبارکپوری ،عالمی مقابلہ سیرت میں اول انعام یافتہ مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری ، مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری ﷭ کا تعلق بھی اسی مبارکپور سے ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شجرۂ مبارکہ یعنی تذکرۂ علماء مبارکپور‘‘مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری﷫ کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں ہدوستان کے مشہور علمی ودینی اور صنعتی قبصہ مبارکپور اور اس کے ملحقات کی ساڑھے چاسوسالہ اجمالی تاریخ اور قصبہ و سوا قصبہ کے مشائخ وبزرگان دین علماء، فقہا ، محدثین ومصنفین، شعراء وادباؤ اور دیگر ارباب علم وفضل کے حالات اور ان کے علمی ودینی کارنامے بیان کیے گئے ۔یہ کتاب پہلی دفعہ 1974ءشائع ہوئی زیر تبصرہ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے اس ایڈیشن میں مزید ان علماء کے حالات شامل کردئیے ہیں جو مصنف کی زندگی میں فوت ہو ئے۔اس کے علاوہ بھی اس ایڈیشن میں مفید اضافہ جات کیے گئے ہیں۔جس سے کتاب کی افادیت اور زیادہ ہوگئی ہے۔ مصنف کتاب قاضی اطہر مبارکپوری﷫ پہلے ایڈیشن کے شائع ہونے کے 23 سال بعد 1996ء میں فوت ہوئے۔ (م۔ا)

مآثر ومعارف یعنی پچیس مقالات کا مجموعہ (سلسلہ ندوۃ المصنفین)

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع و تدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔چنانچہ صحیحین، سنن اربعہ،اصول خمسہ،اور صحاح ستہ وغیرہ اصطلاحات علماء کے ہاں معروف اور متداول چلی آ رہی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’مآثر و معارف‘‘ مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری﷫ کی تصنیف ہے جوکہ ان کے تحریر کردہ مختلف پچیس مقالات کا مجموعہ ہے۔ اولاً یہ مقالات مختلف علمی وتحقیقی رسائل میں شائع ہوچکے ہی۔ ان مقالات میں تدوین حدیث وعلومِ حدیث کی تاریخ ، کتب حدیث وفقہ کاتعارف، اسلامی علوم کاتعلیمی ارتقاء ، مسلمانوں کی علمی سرگرمی، یورپ میں اسلامی علوم وفنون کی ترویج اور کئی اسلامی شخصیات اور علمی کتابوں کا حال وغیرہ مستند طریقے پر درج ہے۔ ان مقالوں میں ہرمقالہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے قیمتی معلومات کا خزانہ ہے۔ (م۔ا)

عرب و ہند عہد رسالت ﷺ میں

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عرب ہند تعلقات انتہائی قدیم ہیں ،قدیم ز مانے سے دونوں کے درمیان مختلف قسم کے تجارتی ،معاشی اور مذہبی تعلقات پائے جاتے تھے ،اہل عرب ہندوستان کے سواحل پر آتے تھے اور ہندوستان کے باشندے عرب سے آمد ورفت رکھتے تھے ، ہندوستانیوں کی مختلف جماعتیں وہاں مستقل طور پر آباد بھی تھی جن کو عرب زط اور مید کے نام سے یاد کرتے تھے ،اسلام سے قبل ہی ہندوستان کی بہت سی چیزیں عرب کی منڈیوں میں فروخت ہوتی تھی ،ہندی تلوار ،مشک ،عود ،کافور ،مرچ ،ساگوان ،ادرک ،سندھی کپڑے عربوں میں بہت متعارف تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت عرب کے مختلف علاقوں میں ہندوستان کے لوگ آتے جاتے تھے اور وہاں مستقل آباد بھی تھے ،خود مکہ میں ہندوستان کے تاجر اور صناع موجود تھے ،آپ ﷺاور حضرات صحابہ ہند اور اہل ہند سے اچھی طرح واقف تھے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ عرب و ہند عہد رسالتﷺ میں ‘‘ قاضی محمد اطہر مبارکپوری صاحب کی ہے۔ اس کتاب میں زمانۂ نبوت کے عرب و ہند سے بحث کی گئی ہے۔ کتاب کے آٹھ بڑے ابواب ہیں جن میں سے آخر کے تین ابواب (1) ’’پیغمبر اسلام اور ہندوستانی باشندے‘‘ (2) ’’عہد رسالت میں ہندو ستانی اشیاء کا استعمال‘‘ (3) ’’اسلام اور مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد‘‘ خاص طور پر پڑھنے کےلائق ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔( رفیق الرحمن)

سیرت ائمہ اربعہ

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

علمائے اسلام نے دین اور کتاب و سنت کی حفاظت و صیانت کے لئے ابتداء میں فن اسماء الرجال سے کام لیا۔ آگے چل کر اس فن میں بڑی وسعت پیدا ہوئی جس کے نتبجہ میں سلف اور خلف کے درمیان واسطۃ العقد کی حیثیت سے طبقات و تراجم کا فن وجود میں آیااور ہر دور میں بے شمار علماء، فقہاء، محدثین، اور ہر علم و فن اور ہر طبقہ کے ارباب فضل و کمال کے حالات زندگی اور دینی و علمی کارناموں سے مسلمانوں کو استفادہ کا موقع ملا۔ اور اس کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر علماء نے بہت سے بلاد و امصار کی تاریخ مرتب کر کے وہاں کے علماء و مشائخ کے حالات بیان کئے۔ اس سلسلہ الذہب کی بدولت آج تک اسلاف و اخلاف میں نہ ٹوٹنے والا رابطہ قائم و دائم ہے۔ زیر تبصرہ کتاب سیرت ائمۂ اربعہ‘‘حضرت مولانا قاضی اطہر مبارک پوری کی ہے۔ جس میںاسلامی فقہ کی ابتدائی تاریخ و ترویج کی تفصیل، ائمہ اربعہ، امام ابو حنیفہ ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل کے معتبر و مستند حالات اختصار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔اس کتاب میں عامۃ المسلمین کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس لئے علمی اور فقہی مسائل و مباحث سے تعریض نہیں کیا گیاہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اس کتاب کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور مؤلف و ناشر کے لیے باعث اجر و ثواب بنائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

محمد ﷺ کے زمانے کا ہندوستان

Authors: قاضی اطہر مبارکپوری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

بعثتِ نبوی ﷺ سے بھی پہلے ہندوستان کے مختلف قبائل: زط (جاٹ)، مید، سیابچہ یا سیابجہ، احامرہ، اساورہ، بیاسرہ اور تکرّی (ٹھاکر) کے لوگوں کا وجود بحرین، بصرہ، مکہ اور مدینہ میں ملتا ہے۔ چناں چہ ۱۰ ہجری میں نجران سے بنوحارث بن کعب کے مسلمانوں کا وفد آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کو دیکھ کر فرمایا: ”یہ کون لوگ ہیں جو ہندوستانی معلوم ہوتے ہیں“ (تاریخ طبری ۳/۱۵۶، بحوالہ برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش از محمد اسحق بھٹی) بالآخر عرب و ہند کے درمیان شدہ شدہ مراسم بڑھتے گئے یہاں تک کہ برصغیر (متحدہ ہند) اور عرب کا باہم شادی و بیاہ کا سلسلہ بھی چل پڑا، اس ہم آہنگی کی سب سے اہم کڑی عرب و ہند کے تجارتی تعلقات تھے، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے نت نئے اشیائے خوردونوش وغیرہ: ناریل، لونگ، صندل، روئی کے مخملی کپڑے، سندھی مرغی، تلواریں، چاول اور گیہوں اور دیگر اشیاء عرب کی منڈیوں میں جاتی تھیں۔جنوبی عرب سے آنے والے تجارتی قافلوں کی ایک منزل مکہ مکرمہ تھا، یہ قافلے ہندوستان اور یمن کا تجارتی سامان شام اور مصر کو لے جاتے تھے، اثنائے سفر میں یہ لوگ مکہ مکرمہ میں قیام کرتے اور وہاں کے مشہور کنوئیں”زمزم“ سے سیراب ہوتے اوراگلے دن کے لیے بقدر ضرورت زمزم کا پانی ساتھ لے جاتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب محمد ؑﷺ کے زمانے کا ہندستان مع ہندستان صحابہ کے زمانہ میں‘‘مورخ اسلام الحاج مولانا عبدالحفیظ صاحب قاضی اطہر مبارکپوری کی ہے جس میں ایک حصہ عہد رسالت میں عرب و ہند کے حالات وقعات،رسوم و رواج ، قدیم تجارتی تعلقلت، عرب میں ہندستانی اقوامیں اور ان کو دعوت اسلام کے بارے میں تفصیلی خاکہ ہے۔ اور دوسرا حصہ خلفائے راشدین اور ہندستان ، غزوات و فتوحات اور دیگر اصحاب پر مشتمل ہے۔امید ہے یہ کتاب طلباء اور ریسرچ کرنے والے کے لئے انتہائی کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو ان کےلئے صدقہ جاریہ بنائے۔آمین۔(رفیق الرحمن)

دیار پورپ میں علم اور علماء

Authors: مقصود الحسن فیضی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

مسلم دورِ حکومت میں دہلی کےمشرق میں صوبۂ الہ آباد ، صوبہ او دھ اور صوبۂ عظیم آباد پر مشتمل جو وسیع او رمحدود خطہ ہےاس کو پُورب کہا جاتا ہے۔ہر صوبہ میں دار الامارت ، ہر دار الامارت سے متعلق بڑے بڑے شہر ہر شہر میں متعلق قصبات اور ہر قصبہ کسے متعلق دیہات تھے ۔ملک پُورب کےقصبات شہروں کےحکم میں تھےجن میں عالیشان عمارتیں، شرفاء کےمحلات ، علماء، مشائخ ، مختلف قسم کےپیشہ ور ، مدارس اور مساجد تھیں جو جمعہ وجماعت سے معمور تھیں اسی ملک کو دیار پُورب سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ سلطان محمود غزنوی کی مسلسل فتوحات کےزمانہ میں ہندوستان کا یہ علاقہ(دیار پورب)اسلام او رمسلمانوں سےآشنا ہوچکا تھا۔ خاص طور سے بنارس کی فتوحات نے ان اطراف میں بڑی اہمیت اختیار کر لی تھی۔ ا س کےبعد سالار مسعود غازی علوی اور ان کے رفقاء کی مجاہدانہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ اسلام اور مسلمانوں کاشہرہوا۔ زیر نظر کتاب ’’ دیارِ پُورب میں علم اور علماء‘‘ مبارکپور کے معروف سیرت نگار ومؤرخ جناب قاضی اطہر مبارکپوری ﷫کی تصنیف ہے۔فاضل مصنف نے اس کتاب میں شیرازِ ہند پُورب کی سات سوسالہ اسلامی تاریخ کے چار علمی ادوار قائم کر کے ہر دور کی علمی دینی سرگرمی اوراربابِ عمل وفضل وکمال کا اجمالی تعارف کرایا ہے۔اس کےبعد اس دیار کےکئی خانوادہ ہائے علم وفضل کےعلماء ومشائخ، ان کے اساتذہ وتلامذہ معاصرین اور متعلقین کاتذکرہ درج کیا ہے ۔جس سے سر زمین پوُرب میں غلام سلطنت کے قیام سےلے کر نوابئ اَودھ کےخاتمہ تک کی علمی دو دینی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔پُورپ اور علمائے پورپ کےتعارف پر یہ اولین کتاب ہے۔(م۔ا)