Books by Al Noor Softs
2,840 Books found
موضوع روایات
Authors: محمد ظفر اقبال
In Arguments
بلاشبہ اسلام کے جملہ عقائد واعمال کی بنیاد کتاب وسنت پر ہے اور حدیث در حقیقت کتاب اللہ کی شارح اور مفسر ہے اور اسی کی عملی تطبیق کا دوسرا نام سنت ہے ۔نبی کریمﷺکو جوامع الکلم دیئے اور آپ کوبلاغت کے اعلیٰ وصف سے نوازہ گیا ۔ جب آپﷺ اپنے بلیغانہ انداز میں کتاب اللہ کے اجمال کی تفسیر فرماتے تو کسی سائل کو اس کے سوال کا فی البدیہہ جواب دیتے۔ تو سامعین اس میں ایک خاص قسم کی لذت محسوس کرتے اوراسلوبِ بیان اس قدر ساحرانہ ہوتا کہ وقت کے شعراء اور بلغاء بھی باوجود قدرت کے اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتے ۔احادیثِ مبارکہ گوآپﷺ کی زندگی میں مدون نہیں ہوئیں تھی تاہم جو لفظ بھی نبیﷺ کی زبانِ مبارکہ سے نکلتا وہ ہزار ہا انسانوں کے قلوب واذہان میں محفوظ ہو جاتا اور نہ صرف محفوظ ہوتا بلکہ صحابہ کرام ا س کے حفظ وابلاغ اور اس پر عمل کے لیے فریفتہ نظر آتے ۔یہی وجہ تھی کہ آنحصرت ﷺ کے سفر وحضر،حرب وسلم، اکل وشرب اور سرور وحزن کے تمام واقعات ہزارہا انسانوں کے پاس آپ کی زندگی میں ہی محفوظ ہوچکے تھے کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی اور نہ ہی آئندہ ایسا ہونا ممکن ہے ۔خیر القرون کے گزر نے تک ایک طرف تو حدیث کی باقاعدہ تدوین نہ ہوسکی اور دوسری طرف حضرت عثمان کی شہادت کے ساتھ ہی دور ِ فتنہ شروع ہوگیا جس کی طرف احادیث میں اشارات پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ فتن کسی ایک جہت سے رونما نہیں ہوئے بلکہ سیاسی اور مذہبی فتنے اس کثرت سے ابھرے کہ ان پر کنٹرول ناممکن ہوگیا۔ان فتنوں میں ایک فتنہ وضع حدیث کا تھا۔اس فتنہ کے سد باب کے لیے گو پہلی صدی ہجری کےاختتام پر ہی بعض علمائے تابعین نے کوششیں شروع کردی تھی۔اور پھر اس کے بعد وضع حدیث کے اس فتہ کوروکنے کےلیے ائمہ محدثین نے صرف احادیث کوجمع کردینے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ سنت کی حفاظت کے لیے علل حدیث، جرح وتعدیل، اور نقد رجال کے قواعد اور معاییر قائم کئے ،اسانید کے درجات مقرر کئے ۔ ثقات اور ضعفاء رواۃ پر مستقل تالیفات مرتب کیں¬۔ اور مجروح رواۃ کے عیوب بیان کئے ۔موضوع احادیث کو الگ جمع کیا او ررواۃ حدیث کےلیے معاجم ترتیب دیں۔جس سے ہر جہت سے صحیح ، ضعیف ،موضوع احادیث کی تمیز امت کے سامنے آگئی۔اس سلسلے میں ماضی قریب میں شیخ البانی کی کاوشیں بھی لائق تحسین ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’موضوع روایات ‘‘ مولانا محمد ظفر اقبال کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب خود ساختہ او رمن گھڑت روایات جنہیں نبی کریم ﷺ کی طرف غلط طور پر منسوب کردیا گیا پر مشتمل ساڑھے تین صد احادیث کا مجموعہ ہے اور ملا علی قاری کی الموضوعات الکبیر کی اردو زبان میں پہلی تلخیص وتشریح ہے ۔ نیز چہل حدیث ، ثلاثیات بخاری اور معلومات صحاح ستہ کے قابل قدر اضافے کے ساتھ ایک بہترین مجموعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اسے عامۃ الناس کےلیے نفع بخش بنائے اور مسلمانوں کو موضوع ،منکر روایات سے بچنے اور صحیح احادیث پرعمل پیراہونے کی توفیق دے ۔ (آمین) (م۔ا)
سیدنا معاویہ ؓگمراہ کن غلط فہمیوں کا ازالہ
Authors: محمد ظفر اقبال
In Biography
سیدنا معاویہ ان جلیل القدر صحابہ کرام میں سے ہیں،جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے کتابت وحی جیسے عظیم الشان فرائض سر انجام دئیے۔سیدنا علی کی وفات کے بعد ان کا دور حکومت تاریخ اسلام کے درخشاں زمانوں میں سے ہے۔جس میں اندرونی طور پر امن اطمینان کا دور دورہ بھی تھا اور ملک سے باہر دشمنوں پر مسلمانوں کی دھاک بھی بیٹھی ہوئی تھی۔لیکن افسوس کہ بعض نادان مسلمان بھائیوں نے ان پر اعتراضات اور الزامات کا کچھ اس انداز سے انبار لگا رکھا ہے کہ تاریخ اسلام کا یہ تابناک زمانہ سبائی پروپیگنڈے کے گردوغبار میں روپوش ہو کر رہ گیاہے۔اور امر کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ تاریخ کی روشنی میں اصل حقیقت کو واضح کیا جائے۔ زیر تبصرہ کتاب" سیدنا معاویہ ، گمراہ کن غلط فہمیوں کا ازالہ" محترم محمد ظفر اقبال صاحب کی تصنیف ہے، جبکہ اس کے شروع میں مسلک دیو بند سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خاں صاحب کی تقریظ موجود ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں صحابی رسول سیدنا معاویہ کی سیرت،آپ کے فضائل ومناقب ،آپ کے عہد حکومت کے حالات کو بیان کرتے ہوئے آپ پر کئے گئے مخالفین کے اعتراضات کا مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
اسعاد العباد بحقوق الوالدین والاولاد
Authors: نواب صدیق الحسن خاں
نواب صدیق حسن خاں صاحب کا شمار ان صاحب ثروت شخصیات میں سے ہوتا ہے جنہوں نے اپنی دولت کو دینی امور اور مصالح کے لیےاستعمال کیا۔ انہوں نے افادہ عام کے لیے بیسیوں کتابیں شائع کروائیں۔ ان کی زیر نظر کتاب جیسا کہ نام سے ظاہر ہے والدین اور اولاد کے حقوق پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حقوق کی تقسیم دو اعتبار سے کی ہے ایک اللہ تعالیٰ کے حقوق ہیں اور دوسرے اس کی مخلوق کے ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے ان دونوں کی بجا آوری انتہائی ناگزیر ہے۔ خصوصاً حقوق العباد کے حوالے سے بندہ مسلم کو انتہائی محتاط رہنا چاہئے کیونکہ حقوق العباد کی معافی اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب صاحب حق خود معاف کر دے۔ مولانا نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ حقوق العباد میں سے والدین اور اولاد کے حقوق پر گفتگو فرمائی ہے۔ ان حقوق کی کامل ادائیگی سے ایک گھرانہ جنت نظیر کا منظر پیش کر سکتا ہے۔ لہٰذا ان حقوق کا مطالعہ کیجئے اور ان کی ادائیگی کو اپنا مطمح نظر بنائیے۔
تفسیر ترجمان القرآن بلطائف البیان
Authors: نواب صدیق الحسن خاں
قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے ۔برصغیرِ میں علوم اسلامیہ کی نصرت واشاعت کےسلسلے میں نواب صدیق حسن خاںکی مساعی جمیلہ روزِروشن کی طرح عیاں ہیں او ر انہوں نے دوسرے علماء کو بھی تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ کیا،ان کے لیے خصوصی وظائف کا بندوبست کیا او راسلامی علوم وفنون کے اصل مصادر ومآخذ کی از سرنو طباعت واشاعت کاوسیع اہتمام کیا۔نواب محمدصدیق حسن خان نے علوم اسلامیہ کے تقریبا تمام گوشوں سے متعلق مستقل تالیفات رقم کی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا دینی وعلمی موضوع ہو جس پر نواب صاحب نے کوئی مستقبل رسالہ یا کتاب نہ لکھی ہو آپ عرب وعجم کا سرمایۂ افتخار ہیں دنیا کی کوئی اہم لائبریری آپ کی تالیفات سے خالی نہیں ۔زیر نظر کتاب '' تفسیر ترجمان القرآن بلطائف البیان'' مفسر القرآن علامہ نواب صدیق حسن خاں کی اردو زبان میں قرآن مجید کی مفصل تفسیر ہےجسے بجا طور پر قرآنی علوم کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاسکتاہے۔ موصوف نے ''فتح البیان فی مقاصد القرآن '' کے نام سے عربی زبان میں بھی قرآن مجید کی ایک تفسیر لکھی ہے۔ نواب صاحب کی اردو تفسیر تقریبا 125 سال قبل 16 ضخیم جلدوں میں شائع ہو ئی تھی جس کی اردو اب پرانی ہوچکی ہے اور یہ کتاب تقریبا ناپید ہوچکی ہے۔ غالباً پاک وہند کے چند مکتبات ہی اس سے مزین ہونگے (الحمد للہ ادارہ محدث کی لائبریری میں یہ عظیم تفسیر موجود ہے ) آج سے 25 سال قبل ماہنامہ ''محدث'' لاہور نے اس کو نئے سرے سے ایڈٹ کروا کر قسط وار شائع کرنا شروع کیا تھا۔ نہ جانے یہ سلسلہ کیوں جاری نہ رہ سکا ۔اور دس سال قبل مکتبہ اصحاب الحدیث نے اس کی صرف پہلی جلد شائع کی جوکہ 3 پاروں پر مشتمل ہے ۔ بہر حال اس تفسیر کی اردو کو سہل اور آسان کرکے شائع کرناناشرین ِکتب اور بالخصوص جماعت اہل حدیث کے ذمے ایک قرض ہے۔ میرے حسنِ ظن کے مطابق اس کی اشاعت کاصحیح حق اشاعتِ کتب کے عالمی ادارے ''دار السلام کے ڈائریکٹر محترم مولانا عبد ا المالک مجاہد حفظہ اللہ ادا کرسکتے ہیں اللہ ان کے علم وعمل اور عمر میں برکت فرمائے (آمین) (م۔ ا)
خود نوشت سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان
Authors: نواب صدیق الحسن خاں
In Biography
برصغیر میں علومِ اسلامیہ،خدمت ِقرآن اور عقیدہ سلف کی نصرت واشاعت کےسلسلے میں نواب صدیق حسن خاں (1832۔1890ء) صدیق حسن خان قنوجی ؒ کی ذات والا صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ علامہ مفتی صدر الدین ، شیخ عبد الحق محدث بنارسی ، شیخ قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی ـ شیخ یحیی بن محمد الحازمی ، قاضی عدن ، علامہ سید خیر الدین آلوسی زادہ جیسے اعلام اور اعیان سے کسب ِفیض کیا۔آپ کی مساعی جمیلہ روزِروشن کی طرح عیاں ہیں ۔ عربی ، فارسی ، اردو تینوں زبانوں میں دو سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں او ردوسرے علماء کو بھی تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ کیا،ان کے لیے خصوصی وظائف کا بندوبست کیا او راسلامی علوم وفنون کے اصل مصادر ومآخذ کی از سرنو طباعت واشاعت کاوسیع اہتمام کیا۔نواب محمدصدیق حسن خان نے علوم ِاسلامیہ کے تقریبا تمام گوشوں سے متعلق مستقل تالیفات رقم کی ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا دینی وعلمی موضوع ہو جس پر نواب صاحب نے کوئی مستقبل رسالہ یا کتاب نہ لکھی ہو۔حدیث پاک کی ترویج کا ایک انوکھا طریقہ یہ اختیار فرمایا کہ کتب ِاحادیث کے حفظ کا اعلان کیا ـ اور اس پر معقول انعام مقرر کیاـ چنانچہ صحیح بخاری کے حفظ کرنے پر ایک ہزار روپیہ اور بلوغ المرام کے کے حفظ کرنے ایک سو روپیہ انعام مقرر کیا ـجہاں نواب صاحب نے خود حدیث اور اس کے متعلقات پر بیش قیمت کتابیں تصنیف کیں وہاں متقدمین کی کتابیں بصرف کثیر چھپوا کر قدردانوں تک مفت پہنچائیں ـدوسری طرف صحاح ستہ بشمول موطا امام مالک کے اردو تراجم و شروح لکھوا کر شائع کرانے کا بھی اہتمام کیا ـ تاکہ عوام براہ راست علوم سنت سے فیض یاب ہوں۔ زیر نظرکتاب’’ابقاء المنن بإلقاء المحن ‘‘ سید نواب صدیق حسن خان قنوجی کی خود نوشت سوانح حیات ہے جسے نواب صاحب نے بعض جليل القدر اسلاف کے تتبع میں مرتب کیا جس کی انہوں نے آغاز میں صراحت کی ہے ۔ مولانا محمد عطاء اللہ حنیف کے ایما پر مولانا خالد سیف ﷾ نے اس کی تسہیل اور قاری نعیم الحق نعیم نے تنقیح وتصحیح اور نظر ثانی کا کام بڑی محنت اور لگن سے سرانجام دیا ۔نواب صاحب کی اس تسہیل شدہ خودنوشت سوانح حیات کو دار الدعوۃ السلفیہ نے تقریبا تیس سال قبل طباعت سے آراستہ کیا ۔ یہ کتاب عوام وخواص ، اہل علم واہل دانش ،اہل دین واہل دنیا، حاکم ومحکوم، علماء وطلباء اور راعی ورعایا سب کےلیے یکساں مفید اورنہایت نصیحت آموز ہے ۔اس کتاب کے حصہ دوم میں میں نواب صاحب سےمتعلق دوسری کئی مفید اوراہم چیزیں بھی شامل اشاعت ہیں۔اللہ تعالیٰ نواب صاحب کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے ، ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے او ر انہیں میں جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطا فرمائے (آمین) (م۔ا)
فصل الخطاب فی فضل الکتاب
Authors: نواب صدیق الحسن خاں
قرآن مجید واحد ایسی کتاب کے جو پوری انسانیت کےلیے رشد وہدایت کا ذریعہ ہے اللہ تعالی نے اس کتاب ِہدایت میں انسان کو پیش آنے والےتما م مسائل کو تفصیل سے بیان کردیا ہے جیسے کہ ارشادگرامی ہے کہ و نزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء قرآن مجید سیکڑوں موضوعا ت پرمشتمل ہے۔مسلمانوں کی دینی زندگی کا انحصار اس مقدس کتاب سے وابستگی پر ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسے پڑ ھا اور سمجھا نہ جائے۔قرآن واحادیث میں قرآن اور حاملین قرآن کے بہت فضائل بیان کے گئے ہیں ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبانِ رسالت سے ارشاد فرمایا: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» صحیح بخاری:5027) اور ایک حدیث مبارکہ میں قوموں کی ترقی اور تنزلی کو بھی قرآن مجید پر عمل کرنے کےساتھ مشروط کیا ہے ۔ارشاد نبو ی ہے : «إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ»صحیح مسلم :817)تاریخ گواہ کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھااور اس پر عمل پیرا رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو غالب رکھا اور جب قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا تو مسلمان تنزلی کاشکار ہوگئے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا : وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر اور تم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر زیر تبصرہ کتاب’’( فصل الخطاب فی فضل الکتاب‘‘ علامہ نواب صدیق حسن خاں کی تصنیف ہے ۔ یہ رسالہ موصوف نے 1305ھ میں تحریر کیا او رمؤلف کی زندگی میں متعد بارطبع ہوا۔علامہ موصوف نے اس رسالہ میں احادیث صحیحہ واقوال صحابہ وائمہ دین کی روشنی میں قرآن مجید فرقان حمید کے فضائل بیان کیے اور آیات کتاب اللہ اور اس کی سورتوں پر مفصل گفتگو کی ہے۔ مولانا عطاء اللہ حنیف اس رسالہ میں مذکور آیات واحادیث وآثار کی تخریج ، اعراب اور ان کےاردو ترجمے کرکے اسے شائع کرنا چاہتےتھے تاکہ اس کی افادیت زیادہ ہوجاجائے ۔لیکن اپنی بیماری کی وجہ سے موصوف یہ کام نہ کرسکے البتہ فصل الخطاب فی فضل االکتاب کا مطبع فاروقی دہلی طبع 1896ء کےنسخے کو قدرے ممکن تنقیح وحواشی کے ساتھ اسے 1984ء میں شائع کیا علامہ نواب صدیق حسن کا یہ رسالہ اب حافظ عبد اللہ سلیم﷾ ، حافظ شاہد محمود﷾ کی تسہیل وتخریج کے ساتھ مجموعہ علوم القرآن میں دار ابی الطیب گوجرانوالہ سے شائع ہوچکا ہے۔اس مجموعہ میں نواب صدیق حسن کی قرآن کےمتعلق مزید تین کتب (تذکیر الکل بتفسیر الفاتحۃ واربع قل،افادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ،اکسیر فی اصول التفسیر) بھی شامل ہیں یہ مجموعہ علوم قرآن بھی ویب سائٹ پر موجود ہے ۔( م ۔ا)
وسیلۃ النجاۃ (بأداء الصوم والصلوة والحج والزكوة)
Authors: نواب صدیق الحسن خاں
ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ شہادتین کا اقرار کرنا۔ پانچ وقت کی نماز آدا کرنا۔زکوٰۃ دینا۔ بیت اللہ کا حج کرنا ۔رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔ (متفق علیہ) اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ان میں سے ہر ایک پر عمل کرنا ضروری جس طرح حضور نبی کریم ﷺ نے بتلایا ہے ان میں سے کسی ایک کا انکار کرنا یا سستی کی وجہ سے ادا نہ کرنا اسلام کی بنیاد کو کمزور کرنے کے متراف ہے کیونکہ ان ارکان اسلام میں سے ہر ایک اپنی جگہ لازم العمل ہے۔ کچھ لوگ ملحدانہ و سیکولر ذہن رکھنے کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے آلہ کار ہیں ہر دور میں اسلام کا لبادہ اوڑ ھ کر شیخ الاسلام اور دیگر اسلامی اصطلاحات کو استعمال کر کے جہالت کی کسوٹی میں خود کو دین کے مبلغ اور اسلام کے داعی ظاہر کر کے اسلام میں نقص ہی پیدا کرنے کی جسارت نہیں کرتے بلکہ اسلام کی اصلی ہائیت اور صورت کو بیگاڑنے کے ساتھ اپنے گمراہ کن عقائد و نظریات کو پھیلانے میں شب و روز لوگوں کے ضمیر خریدنے میں مال و زر کی اس قدر وسیع پیمانے پر فنڈنگ کرتے ہیں جو کسی سے مخفی نہیں ہے۔ مگر وہ دور حاضر میں خاص کر جب کہ بے ضمیر اور بے لگام میڈیا اپنے شیطانی ہتھکنڈوں سے ہر خاص و عام کو جکڑے ہوئے ہے اور دن رات بدعت و خرافات کی تشہیر کے لیے ماڈرن قسم کے دین کی ابجد سے نا واقف علماء کے پروگرام نشر کر کے لوگوں کے ایما ن و عقائد کو مسخ کرنے کے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ مگر دین حق کی پہچان اور نام نہاد مسلمانوں کے عزائم و عقائد اور طریقہ واردات کو لوگوں کے سامنے بے نقاب کرنے کے لیے علماء حق کی جماعت جس کا نبی کریمﷺ نے فرمایا: میری امت میں سے ایک جماعت لازمی حق پر قائم رہے گی (جو لوگوں کی رہنمائی کے لیے دن رات جہا د بالقلم ‘ باللسان بالمال) کرتی رہے گی۔ اس مذکورہ موضوع پر علماء حق نے خصوصا اور ہر ابھرتے ہوئے فتنے کے بطلان کے لیےعموماً تحریر تقریر کا سیلاب بہا دیا۔ اگرچہ اس موضوع پر پہلے بہت سی کتب لکھی گئیں مگر ہر کتاب اور رائٹر کا اپنا طریقہ تحریر ہے ہر کسی کی کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب (وسیلۃ النجاۃ باداء الصلوۃ والحج والزکوٰۃ) نواب صدیق الحسن خاں صاحب کی تالیف مولانا کی کثیر العدد تصنیفات میں سے قابل ذکر ہے جس میں مولانا موصوف کا اولین مقصد دین کی خدمت کے ساتھ ساتھ لوگوں کی اصلاح و رہنمائی کا پہلوں تھا۔ جس میں انہوں نے اسلام کی اساسیات کے متعلق بحث کرتے ہوئے بے عمل و سست گام لوگوں کی اصلاح کے لیے ایک جامعہ اور تحقیقی نصاب زندگی کو جمع کرنے کی کوشش میں شب وروز کی محنت سے کفر و نفاق ‘شرک وبدعت ‘عقیدہ وعمل کی گمراہیوں سے نقاب کشائی کی ہے اور اہل باطل کے دجل و فریب کاری کو ہر لمحہ نوک قلم لا کر متلاشیان حق کے لیے ارکان اسلام کی فضیلت و اہمیت اور ان کی ترغیب کے لیے قرآن و سنت ‘اسلاف کی زندگی کے واقعات سے وضاحت کرتے ہوئے عامۃ الناس کی رہنمائی کا سامان کیا ہے۔ اس کتاب کی تصحیح‘ آیات قرآنیہ کے حوالا جات ‘فقرو کی تعیین کا کام ادارۃ البحوث الا سلامیہ کے رکن مولوی عبد الوہاب حجازی صاحب نے سر انجام دیا۔ اس سے قبل اڈیشن میں فہرست موجود نہیں تھی تو اس اڈیشن میں موصوف نے اس خلا کو بھی پر کر دیا ہے۔ اس کی اشاعت ادارۃ البحوث الاسلامیہ والدعوۃ والافتاء الجامعہ السلفیہ بنارس ‘الھند ‘‘نے 1981ء میں حاصل کی۔ اس ادارہ کا مقصد تحقیق و ریسرچ کی غرض سے اسلام کے اہم موضوعات اور اسلام کے خلاف اعتراضات کے تسلی بخش جوابات اور فتویٰ نویسی ہے۔ اللہ تعالیٰ نواب صدیق الحسن خاں صاحب اور ان کی اس دینی خدمت کو شرف قبولیت سے نوازے ‘ادارۃ البحوث الاسلامیہ کی خدامات کو متلاشیان حق کے لیے فائدہ مند بنائے۔ آمین(ظفر)
ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع
Authors: نواب صدیق الحسن خاں
ہر مسلمان پرواجب اور ضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کے علماء، مجتہدین اور اولیاء صالحین کی محبت اختیار کرے، خاص کر وہ ائمہ اور علماء جو پیغمبروں کے وارث ہیں، آسمان کے ستاروں کی طرح خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ دیکھاتے ہیں، مخلوق کے سامنے ہدایت کے راستے کھولتے ہیں۔ خاتم الرسلﷺ کی بعثت سے پہلے جو امتیں تھیں ان کے علماء بد ترین لوگ تھے، مگر ملت اسلامیہ کے علماء بہترین لوگ ہیں۔ جب کبھی رسول اللہﷺ کی سنت مطہرہ مردہ ہونے لگتی ہے تو اس کو یہ علماء ہی زندہ کرتے ہیں، اور اسلام کے جسم میں ایک تازہ روح پھونکتے ہیں۔ اسی طرح چاروں ائمہ مجتہدین اور دوسرے علماء حدیث جن کی مقبولیت کے آگے امت سرنگوں رہتی ہے، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ رسول اللہﷺ کی کسی حدیث اور سنت کی مخالفت کا اعتقاد دل میں رکھتا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب"ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع" علامہ نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ کی ایک معرکۃ الاراء کتاب"جلب المنفعۃ فی الذب عن الائمۃ المجتہدین الاربعۃ" فارسی کا اردو ترجمہ ہے، مترجم مولانا محمد اعظمی حفظہ اللہ تعالیٰ نے حتی المقدور کتاب کا ترجمہ سہل انداز میں پیش کیا ہے۔ مولانا خان صاحبؒ کے علمی و دینی خدمات جلیلہ اور ان کے تجدیدی کارنامے تعارف کے محتاج نہیں۔ مولانا خان صاحبؒ نے اپنی اس نایاب تصنیف میں ائمہ اربعہ کے دفاع کے ساتھ ان کے اور جماعت اہل حدیث و محدثین کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں اور مقلدین اور ان کے مخالفین کے درمیان جو لعن طعن، الزام تراشی اور تکفیر و تفسیق کی گرم بازاری رہتی ہے اس پر سخت نکیر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہم دعا گو ہیں کہ وہ امت مسلمہ کو اتفاق و اتحاد سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور مصنف و مترجم کو اجر عظیم سے نوازے۔ آمین (عمیر)
نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام (اردو)
Authors: نواب صدیق الحسن خاں
In Knowledge
لفظ تفسیر در اصل ’’فَسْرٌ‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں: کھولنا،چونکہ اس علم میں قرآن کریم کے مفہوم کو کھول کر بیان کیا جاتا ہے ،اس لئے اس علم کو’’ علم تفسیر ‘‘کہا جاتا ہے، ابتداء لفظ تفسیر کا اطلاق صرف قرآن کریم کی تشریح پر ہی ہوتا تھا،چناں چہ علامہ زر کشی لکھتے ہیں: علم یعرف به فهم کتاب الله المنزل علی نبیه محمدﷺ و بیان معانیه واستخراج احکامه وحکمه (البرہان:۱؍۱۳) یہ کتاب چونکہ خالق کائنات اللہ رب العزت کی کتاب ہے، اس لئے اس کےالفاظ کی تہہ میں معانی ومطالب کے ایسے سمندر موجود ہیں جن کی مکمل غواصی انسان کے بس میں نہیں، اور اس میں اتنے اعجازی پہلو موجود ہیں جن کا مکمل احاطہ بشری قوت وصلاحیت سے ماوراء ہے، کہ اس کتاب کے الفاظ بھی معجز ہیں، تو ترکیب واسلوب ونظم کے اعجاز بھی انسان کو یہ بتاتے ہیں کہ یہ کتاب کسی انسان کی لکھی ہوئی نہیں ہوسکتی، کیونکہ انسان ایسے معجزکلام پر قادر ہی نہیں ہے ۔اس کلام کی یہ بلندی اس بات کی متقاضی ہے کہ انسانی ہدایت کی ضامن اس کتاب سے انسانوں کو جوڑنے اور اس کے معانی ومطالب تک انسانی فکر وشعور کو پہون چانے کے لئے کوئی سہارا اور وسیلہ ہو جس کے ذریعہ انسان اس کتاب کو سمجھ کر اپنے خالق کے اوامر ونواہی سے واقف ہوسکے اور مقصد نزول کی تکمیل کرسکے، علم تفسیر درحقیقت وہی سہارا اور ذریعہ ہے، جوقرآن کے سمجھنے اور اس کے مطالب ومعانی کے صحیح ادراک میں معاون بنتاہے، اور اس کے ذریعہ انسانوں کو اپنے خالق کی مرضی معلوم ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام‘‘ جوعربی زبان میں نواب صدیق حسن خان کی تصنیف کردا ہے، اور اس کا اردو ترجمہ حافظ ابوبکر ظفر نے کیا ہے ۔فاضل مصنف کی یہ کتاب ان آیات کا مجموعہ ہے جن کی پہچان ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو قرآن کے احکام شرعیہ کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور تقریباً دوسو ایسی آیات کو جمع کیا ہے جو احکام پر مشتمل ہیں۔ اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔ آمین (شعیب خان)