Al Noor Softs

( Joined ایک سال قبل )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
عہد نبوی کے میدان جنگ

Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ

In Knowledge

By Al Noor Softs

حالیہ چند صدیوں میں علوم وفنون کی ترقی سے جنگ کے طریقوں اور اصولوں میں اتنا کچھ انقلاب آ گیا ہے کہ قدیم زمانے کی لڑائیاں ،چاہے اپنے زمانے میں کتنی ہی عہد آفرین کیوں نہ رہی ہوں اب بچوں کا کھیل معلوم ہوتی ہیں۔آج کل بڑی بڑی سلطنتوں کے لئے ایک ایک کروڑ کی فوج کو بیک جنبش قلم حرکت میں لانا معمولی سے بات ہے۔اسلحے میں اتنی کچھ ترقی ہو گئی ہے کہ قدیم ہتھیار عجائب خانوں میں رکھنے کے سوا کسی کام کے نہیں ہیں۔ایک عام آدمی یہ خیال کرتا ہوگا کہ قدیم زمانے کی جنگوں کا تذکرہ چاہے مؤرخ کے لئے کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو۔ان کا عملی فائدہ آج کچھ نہیں ہے۔لیکن انگلستان میں طلبائے حربیات کو آج بھی آغاز تعلیم وتربیت پر پہلے ہی دن سنا دیا جاتا ہے کہ:جملہ افسروں کو یہ جان لینا چاہئے کہ ان کی انفرادی تربیت کا سب سے اہم جزو وہ کام ہے جو وہ خود انجام دیں۔عہد نبوی ﷺ کی جنگیں تاریخ انسانی میں غیر معمولی طور سے ممتاز ہیں،جن میں مسلمانوں کا اندازا ماہانہ ایک سپاہی شہید ہوتا رہا۔انسانی خون کی یہ عزت تاریخ عالم میں ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔لیکن عصر حاضر کی جنگوں میں انسانی خون کی کوئی عزت اور مقام باقی نہیں رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" عہد نبوی کے میدان جنگ "عالم اسلام کے معروف سکالر مؤرخ اور دانشور ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے عہد نبوی ﷺ میں وقوع پذیر ہونے والی جنگوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی انسانی ہلاکتوں اور تقصانات کی تفصیلات جمع فرما دی ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

اسلامی ریاست ( ڈاکٹر حمید اللہ )

Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلام ایک کامل دین اور مکمل دستور حیات ہے اسلام جہاں انفرادی زندگی میں فردکی اصلاح پر زور دیتا ہے وہیں اجتماعی زندگی کے زرین اصول وضع کرتا ہے جوزندگی کے تمام شعبوں میں انسانیت کی راہ نمائی کرتا ہے اسلام کا نظامِ سیاست وحکمرانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے، اسلام کا جس طرح اپنا نظامِ معیشت ہے اور اپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنا نظامِ سیاست وحکومت ہےاسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چنانچہ ماوردی کہتے ہیں کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔اسلام نے اپنی پوری تاریخ میں ریاست کی اہمیت کوکبھی بھی نظر انداز نہیں کیا۔انبیاء کرام﷩ وقت کی اجتماعی قوت کواسلام کےتابع کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ ان کی دعوت کا مرکزی تخیل ہی یہ تھا کہ اقتدار صرف اللہ تعالیٰ کےلیے خالص ہو جائے اور شرک اپنی ہر جلی اور خفی شکل میں ختم کردیا جائے ۔قرآن کےمطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف ،حضرت موسی، حضرت داؤد،﷩ اور نبی کریم ﷺ نے باقاعدہ اسلامی ریاست قائم بھی کی اور اسے معیاری شکل میں چلایا بھی۔اسلامی فکر میں دین اورسیاست کی دوری کاکوئی تصور نہیں پایا جاتا اور کا اسی کانتیجہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ اپنی ریاست کواسلامی اصولوں پر قائم کرنے کی جدوجہد کرتے رہے۔ یہ جدوجہد ان کے دین وایمان کاتقاضہ ہے ۔قرآن پاک اور احادیث نبویہ میں جس طرح اخلاق اور حسنِ کردار کی تعلیمات موجود ہیں۔اسی طرح معاشرت،تمدن اور سیاست کے بارے میں واضح احکامات بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلامی ریاست ‘‘ معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ﷫ کی تصنیف ہے اس کتاب میں مملکت کےنظم ونسق ، مالیاتی نظام ، قانون سازی عدالتی نظام، نظام تعلیم، تبلیغ اور بین الاقوامی قانون سے تعلق رکھنے والے متعدد مسائل پرعہد رسالت کےطرز عمل سے استشہاد کیا گیا ۔اس کتاب کے بعض مضامین مصنف موصوف کےبعض فی البدیہہ خطبات اور ان کےضمن میں اٹھنے والے فکر انگیز سوالوں کے عالمانہ جوابات پر مشمتل ہیں۔(آمین)(م۔ا)

رسول اللہ ﷺ کی سیاسی زندگی

Authors: عبد المجید سوہدروی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اللہ کے پاک نبی کریم حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیؐ شب اسریٰ کے مہمان تمام دنیا کے انسانوں اور انبیاء کرام علیھم السلام کے سردار مکمل ضابطہ حیات لے کر اس جہان رنگ و بو میں تشریف لائے۔ سرکار دوجہاںﷺ نے انفرادی و اجتماعی زندگی کا مکمل نمونہ بن کر دکھایا۔ آپؐ کی اپنی مبارک حیات کے پہلے سانس سے لے کر آخری سانس تک کے وہ تمام نشیب و فراز ایک ہی سیرت میں یکجا ،مکمل اور قابل اتباع ہیں اور اللہ کا یہ احسان اعظم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے حضرت محمد ؐ کو مبعوث فرمایا۔ جب آقائے نامدار ؐکو مبعوث کیا گیا تو اس وقت دنیا تاریکی، جہالت، ابتری و ذلت کے انتہائی پر آشوب دور سے گز رہی تھی۔ یونانی فلسفہ اپنی نا پائیدار اقدار کا ماتم کر رہا تھا، رومی سلطنت روبہ زوال تھی، ایران اور چین اپنی اپنی ثقافت و تہذیب کو خانہ جنگی کے ہاتھوں رسوا ہوتا دیکھ رہے تھے۔ ہندوستان میں آریہ قبائل اور گوتم بدھ کی تحریک آخری ہچکیاں لے رہی تھی۔ ترکستان اور حبشہ میں بھی ساری دنیا کی طرح اخلاقی پستی کا دور دورہ تھا اور عرب کی حالت زار تو اس سے بھی دگرگوں تھی ۔سیاسی تہذیب و تمدن کا تو شعور ہی نہ تھا عرب وحدت مرکزیت سے آشنا نہیں تھے، وہاں ہمیشہ لا قانونیت ،باہمی جنگ و جدل کا دور دورہ رہا۔ اتحاد ،تنظیم ،قومیت کا شعور حکم و اطاعت وغیرہ جن پر اجتماعی اور سیاسی زندگی کی راہیں استوار ہوتی ہیں ان کے ہاں کہیں بھی نہ پائی جاتی تھیں۔ قبائل بھی اپنے اندرونی خلفشار کے ہاتھوں تہذیب و تمدن سے نا آشنا تھے۔ سیاسی وحدت یا بیرونی تہذیبوں سے آشنائی و رابطہ دور کی بات تھی۔ نبی پاک ؐ کی الہامی تعلیمات سے عرب ایک رشتہ وحدت میں پرو دئیے گئے اور وہ قوم جو باہمی جنگ و جدل ،ظلم و زیادتی کے علاوہ کسی تہذیب سے آشنا نہ تھی جہاں بانی کے مرتبے پر فائز کر دی گئی یہ سب اس بناء پر تھا کہ اسلام نے دنیاوی بادشاہت کے برعکس حاکمیت اقتدار اعلیٰ کا ایک نیا تصور پیش کیا جس کی بنیاد خدائے لم یزل کی حاکمیت اور جمہور کی خلافت تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رسول اللہﷺ کی سیاسی زندگی‘‘ڈاکٹر محمدحمیداللہ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے رسولﷺ کی سیرت طیبہ کونہایت ہی احسن انداز سے بیانن کیا ہے۔ اللہ رب العزت ان کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے بہرا مند فرمائے۔ آمین(شعیب خان)

دعوت و ارشاد

Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ

In Knowledge

By Al Noor Softs

دعوت سے مراد علماء اور دینی رہنماؤں کا عام لوگوں کی تعلیم وتربیت اس طرح کرنا کہ وہ حتی المقدور دین اور دنیا کے معاملات میں شعور اور بصیرت سے سرفراز ہوں۔یعنی لوگوں کو خیر وبھلائی، ہدایت، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی ترغیب دینا تاکہ وہ دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں سعادت کے حصول میں کامیاب ہو جائیں۔دین کا عملی زندگی میں اطلاق صرف یہی تقاضانہیں کرتا کہ اس پر خود عمل کیا جائے بلکہ یہ بات بھی دین کے تقاضے میں شامل ہے کہ اس دین کو دوسروں تک پہنچایا بھی جائے اور ایک دوسرے کی اصلاح کی جائے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شرعی یا اخلاقی خرابی نظر آئے، ا س کی اصلاح کرنے کی کوشش کی جائے۔ امت مسلمہ کے اس عمومی رویے کے علاوہ اس میں ایک گروہ ایسا ضرور ہونا چاہئے جو دعوت دین ہی کو اپنا فل ٹائم مشغلہ بنائیں ، دین میں پوری طرح تفقہ حاصل کریں اور پھر عوام الناس کو اللہ کے دین کی دعوت دیتے ہوئے آخرت کی زندگی کے بارے میں خبردار کریں ۔ارشاد باری تعالی ہے: اور سب مسلمانوں کے لئے تو یہ ممکن نہ تھاکہ وہ اس کام کے لئے نکل کھڑے ہوتے، لیکن ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے تاکہ دین میں بصیرت حاصل کرتے اورجب (علم حاصل کرلینے کے بعد) اپنی قوم کی طرف لوٹتے تو ان لوگوں کو انذار کرتے، تاکہ وہ (گناہوں سے ) بچتے۔ ‘‘(توبہ:122) زیر تبصرہ کتاب" دعوت وارشاد "پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے دعوت وارشاد کا مفہوم، اہمیت وضرورت ، داعی کی صفات اور انبیاء کرام کے دعوتی واقعات کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

اسلام کیا ہے

Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اسلام اللہ کے آخری نبی سیدنا محمد مصطفیﷺ کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین یعنی نظام زندگی ہے جس کا آئین قرآن حکیم ہے، اُس پر مکمل ایمان اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اس کے مطابق زندگی بسر کرنا اسلام ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں اسلام مسلمانوں کا دین یا نظام زندگی ہے جس میں اللہ کی توحید کا اقرار کرتے ہوئے اس کی حاکمیت اعلیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کو آخری نبی ماننا ہے۔ اسلام وہ دین یا نظام حیات ہے جس میں حضور ختم المرسلینﷺ کی وساطت سے انسانیت کے نام اللہ کے آخری پیغام یعنی قرآن مجید کی روشنی میں زندگی بسر کی جائے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام اللہ کی طرف سے آخری اور مکمل دین ہے جو انسانیت کے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے اور آج کی سسکتی ہوئی انسانیت کو امن اور سکون کی دولت عطا کرتے ہوئے دنیاوی کامیابی کے ساتھ اخروی نجات کا باعث بن سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام کیا ہے؟‘‘ عالم اسلام کے معروف بین الاقوامی مفکر ڈاکٹر محمدحمید اللہ کی انگریزی زبان میں تحریرشدہ کتاب INTRODUCTION TO ISLAM کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے پیغمبر اسلام، اسلام کی حقیقی تعلیمات کا تحفظ، اسلام کا نظریۂ زندگی، عقیدہ اور ایمان، اسلامی زندگی اور عبادات، اسلام اور روحانیت، اسلام کا نظام اخلاقیات، اسلام کا سیاسی نظام، اسلام کا عدالتی نظام، اسلام کا معاشی نظام، مسلمان عورت، اسلام میں غیر مسلموں کی حیثیت، علوم وفنون کی ترقی کے لیے مسلمانوں کی خدمات، اسلام کی عمومی تاریخ، مسلمان کی روزمرہ زندگی جیسے 15 اہم عنوانات کو قائم کرکے اسلامی تعلیمات اوراسلام کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ اس انگریزی کتاب کو جناب سید خالد جاوید مشہدی نے اردو دان طبقہ کے لیے اردوقالب میں ڈھالا ہے۔ (م۔ا)

امام ابو حنیفہ کی تدوین قانون اسلامی

Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ

In Knowledge

By Al Noor Softs

امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی﷫ بغیر کسی اختلاف کے معروف ائمہ اربعہ میں شمار کئے جاتے ہیں، تمام اہل علم کا آپکی جلالتِ قدر، اور امامت پر اتفاق ہے۔ علی بن عاصم کہتے ہیں: "اگر ابو حنیفہ کے علم کا انکے زمانے کے لوگوں کے علم سے وزن کیا جائے تو ان پر بھاری ہو جائے گا" آپ کا نام نعمان بن ثابت بن زوطا اور کنیت ابوحنیفہ تھی۔ بالعموم امام اعظم کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آپ بڑے مقام و مرتبے پر فائز ہیں۔ اسلامی فقہ میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا پایہ بہت بلند ہے۔ آپ نسلاً عجمی تھے۔ آپ کی پیدائش کوفہ میں 80 ہجری بمطابق 699ء میں ہوئی سن وفات 150ہجری ہے۔ ابتدائی ذوق والد ماجد کے تتبع میں تجارت تھا۔ لیکن اللہ نے ان سے دین کی خدمت کا کام لینا تھا، لٰہذا تجارت کا شغل اختیار کرنے سے پہلے آپ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے بیس سال کی عمر میں اعلٰی علوم کی تحصیل کی ابتدا کی۔ آپ نہایت ذہین اور قوی حافظہ کے مالک تھے۔ آپ کا زہد و تقویٰ فہم و فراست اور حکمت و دانائی بہت مشہور تھی۔ اس مقام و مرتبے کے باوجود محدثین کرام نے بیان حق کے لئے آپ پر جرح اور تعدیل بھی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "امام ابو حنیفہ﷫ کی تدوین قانون اسلامی" محترم ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے امام ابو حنیفہ﷫ کی قانون اسلامی کی تدوین کے حوالے سے سرانجام دی جانے والی خدمات کا تذکرہ کیا ہے۔ (راسخ)

نگارشات ڈاکٹر محمد حمید اللہ جلد اول

Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ

In Arguments

By Al Noor Softs

ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: 9فروری 1908ء، انتقال: 17 دسمبر 2002ء) ڈاکٹر حمید اللہ ﷫ ایک بلند پایا عالم دین ، مایہ ناز محقق، دانشور اور مصنف تھے جن کے قلم سے علوم قرآنیہ ، سیرت نبویہ اور فقہ اسلام پر 195 وقیع کتابیں اور 937 کے قریب مقالات نکلے ۔ڈاکٹر صاحب قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ ،حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔ آپ جامعہ عثمانیہ سے ایم۔اے، ایل ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے یورپ پہنچے۔ بون یونیورسٹی (جرمنی) سے ڈی فل اور سوربون یونیورسٹی (پیرس)سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ ڈاکٹر صاحب کچھ عرصے تک جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں پروفیسررہے۔ یورپ جانے کے بعد جرمنی اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ فرانس کے نیشنل سنٹر آف سائینٹیفک ریسرچ سے تقریباً بیس سال تک وابستہ رہے۔ علاوہ ازیں یورپ اور ایشیا کی کئی یونیورسٹیوں میں آپ کے توسیعی خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ڈاکٹر مرحوم نے اپنی پوری زندگی تصنیف وتالیف کے کاموں کے لیے وقف کیے رکھی بالآخر 95 برس کی عمر پاکر 17؍دسمبر 2002ء کو فلوریڈا (امریکہ) میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کے سانحۂ ارتحال کے بعد اہل دانش نے ان کی خدمت میں گلہائے عقیدت نچھاور کیے اور موصوف کی زندگی کی مختلف جہتوں پر اپنی اپنی بساط کےمطابق داد تحقیقی دی ۔ بعض علمی اداروں کی طرف سے ان کی خدمات کےاعتراف میں رسائل وجرائد کے خاص نمبر بھی شائع کیے ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے ۔آمین زیر نظر کتاب ’’ نگارشاتِ ڈاکٹر محمد حمید اللہ ‘‘ محمد عالم مختارِ حق کی مرتب شدہ ہیں مرتب موصوف نے ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کےمضامین ومقالات کو موضوعات کے حساب سے مرتب کر کے دو دجلد میں تقسیم کیا ہے موضوعاتی عناوین حسب ذیل ہیں۔قرآن،سیرت،فقہ،اکابرین، تاریخ، قانون، خطۂ عرب، مستشرقین، ادب، سود وغیرہ۔ (م۔ا)

صحیفہ ہمام بن منبہ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ (دنیا کا قدیم ترین مجموعہ حدیث)

Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ

In Arguments

By Al Noor Softs

سیدنا ابو ہریرۃ ﷜کی ان138؍139 روایات کا مجموعہ ہےجوانہوں نے اپنے شاگرد ہمام بن منبہ بن کامل الصنعانی کو لکھوائی تھیں اسے ’صحیفہ ہمام بن منبہ‘ کہا جاتا ہے۔ صحیفہ ہمام بن منبہ اگرچہ کتِب احادیث میں متعدد جگہوں میں بکھرا ہوا تھا لیکن اصل صحیفہ مفقود تھا۔ ڈاکٹر حمیداللہ مرحوم نے دمشق اور برلن کی لائبریری سے مکمل صحیفے کو دریافت کیا اور 1953ء میں پہلی بار اسے شائع کیا جس میں احادیث کی تعداد 138 ہے ۔بعدازاں مصر کے ڈاکٹر رفعت فوزی کومصر کی ایک لائبریری’ دار الکتب المصریہ ‘‘ سے اس صحیفہ کا ایک مخطوطہ ملا۔اس میں احادیث کی تعداد 139 ہے ۔اسے المکتبہ الخانجی ،مصر نے ’’صحیفہ ہمام بن منبہ عن ابی ہریرہ﷜‘ ‘ کے نام سے 1985ء میں شائع کیا۔مختلف اہل علم نے صحیفہ ہمام بن منبہ کے اردو تراجم وحواشی بھی تحریر کیے ہیں ۔زیر نظر صحیفہ ہما م بن منبہ میں موجود 138 ؍احادیث کو بمع عربی متن اردو وانگریزی ترجمہ کےساتھ بیکن ہاؤس ،لاہور نے شائع کیا ہے ۔ آخر میں احادیث کی تخریج اوراختلاف روایات کو بھی درج کردیا ہے(آمین)( م۔ ا)

Le-Prophet-De-Islam کا اردو ترجمہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم

Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اس روئے ارضی پر انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے بعد حضرت محمد ﷺ ہی ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پورا سامان رکھتی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیےبہترین نمونہ ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر نظر کتاب’’پیغمبر اسلام ﷺ‘‘ ڈاکٹر حمید اللہ رحمہ اللہ کی انگریزی کتاب Le Prophete De Islam کا اردو ترجمہ ہے۔مصنف نے اس کتاب کو 51ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔(م۔ا)