Al Noor Softs

( Joined ایک سال قبل )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
مشکوۃ المصابیح مع الاکمال فی اسماء الرجال جلد اول

Authors: ولی الدین الخطیب التبریزی

In Arguments

By Al Noor Softs

مشکوٰۃ المصابیح حدیث کی ایک معروف کتاب ہے۔ جسے اس کی تالیف کے دور سے ہی اس قدرشرفِ قبولیت حاصل ہے کہ بہت سے لوگوں نے اس کی شروحات ،تعلیقات اور حواشی لکھے حتی خود مصنف کے استاذ محترم نے بھی اپنے لائق شاگرد کی تالیف کی ایک جامع شرح قلمبند فرمائی۔ یہ اعزاز بہت ہی کم لوگوں حاصل ہوا ہوگا۔’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ دراصل دوکتابوں کا مجموعہ ہے ایک کا نام مصابیح السنہ اور دوسری کا نام مشکوٰۃ ہے۔کتبِ حدیث کےمجموعات میں اس کا نام سر فہرست ہے او ربہت سے دینی مدارس میں یہ کتاب شاملِ نصاب ہے ۔اس لیے بہت سے اہل علم نے اس کی عربی ،اردو زبان میں شروحات اور حواشی لکھے ہیں ۔ صاحب مشکوٰۃ نے احادیث مشکوٰۃ کے راویوں اورمخرجین کے علاوہ ااحادیث کےضمن میں آنے والی شخصیات کا بھی ایک الگ کتاب میں بالاختصار تذکرہ کیا ہے جس کا نام ’’ الاکمال فی اسماء الرجال‘‘ہے مدارسِ اسلامیہ میں پڑھائے جانے والے درسی نسخہ کےآخر میں یہ کتاب مطبوع ہے ۔مشکوٰۃ پڑھنے والے ہر شخص کےلیے ’’الاکمال فی اسماء الرجال‘‘ کاپڑھنا از حد ضروری ہے۔زیر تبصرہ ’’مشکوٰۃ المصابیح‘‘ کے ترجمہ کے فرائض پروفیسر ابوانس محمد سرور گوہر نے سرانجام دئیے ہیں۔اور انتہائی سلیس اور رواں ترجمہ پوری احیتاط کےساتھ کیاہے۔اس ترجمہ کی نظر ثانی شارح صحیح بخاری ،مفتی جماعت شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد نے انتہائی ذمہ داری سے ادا کی ہے۔ اور احادیث کی تخریج وتحقیق کا فریضہ عصر ِحاضر کےعظیم محقق علامہ حافظ زبیر علی زئی نے عرق ریزی سے سرانجام دیا ہے ۔اوراس میں شامل اشاعت الاکمال کاترجمہ معروف اسلامی سکالر ومضمون نگار ،مترجم کتب کثیرہ پروفیسر ابو حمزہ سعیدمجتبیٰ السعیدی (سابق استاذ حدیث جامعہ لاہورالاسلامیہ ،ورکن مجلس ادارت ماہنامہ محدث،لاہور) کےقلم ہوا ہے ۔کتاب ہذا پر مذکورہ معروف علمی شخصیات کے کام کی وجہ سے زیر تبصرہ ایڈیشن منفرد خصوصیات کا حامل ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کےمصنف،مترجم، محقق ،ناشرین اور کتاب کو تیار کرنے والے دیگر اہل علم کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

انوار المصابیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد اول

Authors: ولی الدین الخطیب التبریزی

In Arguments

By Al Noor Softs

ادلہ شرعیہ اور مصادر شریعت کے تذکرے میں قرآن کریم کے بعد حدیث رسول ﷺ کا نمبر آتا ہے۔یعنی قرآن کریم کے بعد شریعت اسلامیہ کا یہ دوسرا ماخذ ہے۔حدیث کا اطلاق رسول اللہ ﷺ کے اُمور،افعال اور تقریرات پر ہوتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس منصب کے مطابق (جو اللہ پاک نے عطا کیا) توضیح وتشریح کی اور اس کے اجمالات کی تفصیل بیان فرمائی ،جیسے نماز کی تعداد اور رکعات،اس کے اوقات اور نماز کی وضع وہیت،زکوۃ کا نصاب،اس کی شرح،اس کی ادائیگی کا وقت اور دیگر تفصیلات،قرآن کریم کے بیان کردہ اجمالات کی یہ تفسیر وتوضیح نبوی،امت مسلمہ میں حجت سمجھی گئی اور قرآن کریم ہی کی طرح اسے واجب الاطاعت تسلیم کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ نماز زکوۃ کی یہ شکلیں عہد نبوی ﷺ سے آج تک مسلم ومتواتر چلی آرہی ہیں۔اس میں کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ انوار المصابیح شرح مشکوٰۃ المصابیح‘‘ شیخ الحدیث مولانا عبد السلام بستوی کی ہے ۔مولانا صاحب اس کتاب کو الگ الگ پاروں میں شائع کر رہے تھےجیسے ہی ایک پارہ ہوتا شائع کر دیتے ۔ گیارہ پارے ہوئے تھے کہ اللہ رب العزت کا بلاوا آ گیا اور یہ نا مکمل رہ گیا تھا ۔ تاہم بعد میں کچھ حصے پر فصیلۃ الشیخ مبشر احمد ریانی صاحب نے تحریج و نظر ثانی کا کام کیا۔ اور فصلیۃ الشیخ محمد ناصر الدین البانی کی تین جلد میں شائع شدہ مشکوٰۃالمصابیح کی تحقیق کو بھی اس نسخہ پر اردو قالب میں نقل کر دیا گیا ہے ۔اور ساتھ ساتھ اس کتاب میں احادیث کے عنوانوں کو بھی درج کر دیا گیا ہے تا کہ احادیث کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس کتاب پر جن جن لوگوں نے محنت کی ہے ان کی محنت قبول فرمائے اور ان کے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین

اسلام اور توہین رسالت

Authors: پروفیسر ثریا بتول علوی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اہل مغرب کے اللہ کے رسول ﷺ کی ذات پر شخصی حملوں نے عصر حاضر میں ہر مسلم و غیر مسلم کے دل میں توہین رسالت کی حقیقت اور سزا کے بارے علم حاصل کرنے کا ایک جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مغرب نے اس بات کو جانچ لیا ہے کہ اسلام کی اصل بنیادیں کتاب اللہ اور محمد رسول اللہ ﷺ ہی ہیں۔ لہٰذا کسی نہ کسی طرح ان کے بارے شکوک وشبہات پھیلا کے عام لوگوں کو ان سے متنفر کر دو تو عوام الناس کا بڑے پیمانے پر اسلام کی طرف میلان اور رجحان خود بخود تھم جائے گا۔ اللہ کے رسول ﷺ کی ذات کی حفاظت کے لیے بہت سے اہل علم نے قلم اٹھایا ہے جن میں سب سے پہلے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ نے ’الصارم المسلول‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ نے بھی بہت ہی آسان فہم اسلوب بیان میں توہین رسالت کی سزا کی تاریخ اور اس کے شرعی دلائل پرروشنی ڈالی ہے۔علاوہ ازیں مغرب ان سازشوں کو بھی محترمہ نے بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے کہ جن کی تکمیل کے لیے وہ توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں یا نت نئے ڈرامے رچاتے ہیں۔کتاب اپنے موضوع پر صحافتی انداز میں لکھی گئی ایک عمدہ کتاب ہے اگرچہ ایک جگہ محترمہ نے لکھا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کے لیے نیت کا اعتبار نہیں ہو گا، ہمارے خیال میں محترمہ کا یہ قول محل نظر ہے۔ اسلام میں تو ہر عمل کی بنیاد نیت ہے ، یہاں تک کہ کلمہ کفر کہنے اور نہ کہنے میں بھی نیت کا اعتبار کیا گیا ہے۔

جدید تحریک نسواں اور اسلام

Authors: پروفیسر ثریا بتول علوی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عورت چھپانے کی چیز ہے سو عورت پردہ اور گھر کی چار دیواری تک محصور ہو گی تو اس کی عزت و آبرو محفوظ ،معیار ووقار برقرار رہے گا اور دنیا میں معزز اور آخرت میں محترم ٹھہرے گی۔کتاب وسنت کے بے شمار دلائل عورتوں کو گھروں میں ٹکے رہنے ،اجنبی مردوں سے عدم اختلاط اور غیر محرموں سے پردہ و حجاب کی پر زور تاکید کرتے ہیں اور جاہلی بناؤ وسنگھار ،بے حجابی و بے پردگی اور مخلوط مجالس کی سخت ممانعت کرتے ہیں ۔نیز فحاشی و عریانی ،بے حیائی و بے پردگی،بدکاری و زنا کاری اور بے حیائی و بے غیرتی کے خفیہ و علانیہ جتنے بھی چور دروازے ہیں اسلام نے یہ تمام راستے مسدود کردیے ہیں ۔ اللہ تبارک اسمہ وتعالی ٰ انسانوں کو با عزت و باوقار دیکھنا پسند کرتے ہیں۔اس لیے محرم و غیر محرم رشتہ داروں کی تقسیم ،اجنبی مردوں سے عدم اختلاط ،بامر مجبوری غیر محرم مردوں سے درشت لہجے میں گفتگو اور چار دیواری کا حصارعورت کی عصمت و ناموس کی حفاظت کے مضبوط حفاظتی حصار مقرر کیے ہیں ۔ان پر عمل پیرا ہو کر عورت پرسکون و پرکشش زندگی گزار سکتی ہے۔لیکن یہ عظیم سانحہ ہے کہ اسلامی معیار ی تعلیمات کو قدامت پسندی اور فرسودہ تہذیب کا نام دیکر اور آزادی نسواں کے پرکشش اور رنگین نعرے کی آڑ میں عورتوں کو گھروں سے نکالنے ،مخلوط تقاریب و مجالس میں لتاڑنے ،مساوات مردوزن کی آڑ میں پردہ نشینوں کو ملازمتوں میں دھکیلنے اور آئیڈیل کی تلاش میں عورت کو بے توقیر و غیر معیاری کرنے کی مغربی مہم نے اہل اسلام سے دینی روحانیت ،مذہبی غیرت اور ملی حمیت کا جنازہ نکال دیا ہے ۔پھر اس ننگی مغربی ثقافتی یلغار کے سامنے مضبوط بند ھ باندھنے کے بجائے مسلم حکمران ،طبقہ اشرافیہ ،صحافی و دانشور اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اس زہر ناک گندگی ، جنسی آوارگی کو پروان چڑھانے اور شیطانی مقاصد کی تعمیل میں پیش پیش ہیں۔حق تو یہ تھا کہ اہل یورپ کے آزادی نسواں کے نام پر جنسی آوارگی اور عورت کی بے توقیری کے شرمناک وار کا کتاب وسنت کے دلائل سے پوری مردانگی سے توڑ کیا جاتا اور اسلام کے حقوق مردو زن کے فطرت کے عین موافق ہونے کے سبب اسے منوانے کی سخت سر توڑ کوشش کی جاتی۔لیکن ’’حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے ‘‘کے مصداق یہاں تو آوے کا آوا ہی مغرب کی آوارگی کا معترف و شائق ہے ۔ ایسے سنگین حالات میں معاشرتی استحکام ،مردوزن کی عصمت و ناموس کی حفاظت اور بے حیائی و جنسی آوارگی کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ مسلم دانشور ،علماء کرام اور مذہبی تنظیموں کے سربراہان و کار پردا زان پورا سر درد لیکر فحاشی و عریانی کے اس طوفان بدتمیزی کی روک تھام کریں اور شریعت اسلامیہ میں مردو زن کے حقوق و دائرہ کار کی حقانیت کا پرچار کریں ۔مغربی سفارتی یلغار اور فحاشی و عریانی کے منہ زور سیلاب کی روک تھام کے لیے زیر تبصرہ کتاب ایک اہم کاوش ہے ۔لیکن اسے بارش کا پہلا قطرہ خیال کیا جائے ابھی منزل تک پہنچنے کے لیے بڑی دشوار گزار اور پر پیچ مسافتیں ہیں ۔

ہماری بدلتی قدریں

Authors: پروفیسر ثریا بتول علوی

In Knowledge

By Al Noor Softs

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جن کی اساس ایک نظریہ اور تصور حیات ہے ۔ بلکہ اگر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ ساری دنیا میں صرف یہی ایک واحد ملک ہے جو اپنی ایک اسلامی نظریاتی اساس رکھتا ہے ۔ استعمار نے اولیں کوششوں میں تو اسے سنجیدہ نہیں لیا تھا لیکن انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں اہل پاکستان کی باہمی یگاگنت ، اتحاد و اتفاق اور اخوت وایثار کی بے مثال قربانیاں دیکھیں تو اسے اندازہ ہو گیا کہ مملکت خداد کا انہدام و زوال اتنا آسان نہیں اور لہذا دشمن نے ضروری جاناکہ پہلے ان کے دماغوں سے اسلام کی محبت و تصور کھرچ دیا جائے تو اس کے بعد ان کی تسخیر ممکن ہے ۔ چناچہ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی محاذ نہ چھوڑا اور نظام تعلیم کو بالخصوص اپنا ہدف بنا ڈالا ۔ پاکستانیوں کو اپنی زبان سے بیگانہ کیا جانے لگا۔انہیں اپنے نظریاتی سانچے میں ڈھالا جانے لگا۔آج اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستانی لوگ وہی تہوار اور روایات منارہے ہیں جو کہ غیر مسلم یا یہود و ہنود منا رہے ہیں ۔ مثلا عالمی یوم خواتین ، مزدوروں کا عالمی دن ، ماؤوں کا عالمی دن ، آبادی کا عالمی دن وغیرہ ، اس کتاب میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلامی شریعت سے تصادم کس طرح ہے ۔ اسی طرح میرا تھن ریس ،اپریل فول اور ویلنٹائن ڈے بھی مغربی تہوار ہیں ۔اور بسنت تو خالص تو خالص ہندوانہ تہوار ہے جن کو پاکستان میں سرکاری سطح پر معروف کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ زیرنظر کتاب میں ان موسمی اور شرکیہ تہواروں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔(ع۔ح)

استاد ملت کا محافظ

Authors: پروفیسر ثریا بتول علوی

In Knowledge

By Al Noor Softs

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے ۔ یہاں کے رہنے والے عوام کو اس ملک کے ساتھ جذباتی حد تک وابستگی ہے ۔ لیکن اغیار کی سازشوں سے اس مملکت خداد کی قیادت وسیادت کی باگ دوڑ ان لوگوں کے ہاتھ میں آگئی کہ جو سیکولر ذہنیت کے مالک تھے ۔ وہ نام کی حدتک تو مسلمان ہیں لیکن ان کے طرز و اطوار غیرمسلموں جیسے ہیں ۔ وہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ اس ملک کا نظام تعلیم یا کوئی دیگر شعبہ ہائے حیات اسلام کے مطابق ہو جائے ۔ چناچہ انہوں نے آغاز سے ہی اسے اس خاکے یا نقشے کے مطابق رکھا جو ایک سیکولر قوم نے تشکیل دیا تھا ۔ اور بعض جزوی ترامیم کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ اسلامی بن گیا ہے ۔ تاہم ایک عرصے کے بعد یہ محسوس کیا گیا تو اس وقت کے صدر جناب ضیاءالحق نے نظام تعلیم کو اسلامیت کے مطابق ڈھالنے میں بنیادی تبدیلی کی ۔ لیکن نام نہاد اسی لادین طبقے نے یہ مساعی بارآور نہ ہونے دیں ۔ اور پھر ایک ملحدانہ افکار کے حامل پرویز مشرف جیسے شخص نے اسے خالص سیکولر بنیادیں فراہم کیں ۔ قوم کے وہ حساس حلقے جو اسلامیت کے درد اپنے اندر رکھتے ہیں وہ مسلسل چیخ وپکار کر رہے ہیں لیکن ان کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگتی ۔ کیونکہ وہ تو اسے بنانا ہی غیراسلامی ملک چاہتے ہیں ۔ محترمہ ثریابتول صاحبہ ان درد رکھنے والے لوگوں میں سے ہیں جو پاکستان کو اسلامی ملک دیکھنا چاہتی ہیں ۔ اور یہ کتاب اسی حوالے سے ان کی کاوش ہے ۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔(ع۔ح)

اربعین للنساء من احادیث المصطفیٰ ﷺ

Authors: پروفیسر ثریا بتول علوی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی ﷺ سے ہوا صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم نے ان مجموعات کے اختصار اور شروح ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع ہوچکے ہیں۔نیزبرصغیر میں بھی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ سے لےکر عصر حاضر کے متعدد علماء کرام نے بھی ’’اربعین‘‘ کے نام سے کئی مجموعے مرتب کیے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اربعین للنساء‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اس کتاب کو پروفیسر محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ نے خواتین کے لیے مرتب کیا ہے ۔مصنفہ نےاس میں مجموعہ کو پانچ ابواب اور چالیس ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا ہے ۔ جن میں ایمانیات واخلاق ، ارکان واعمال ،معاملات اور ستروحجاب جیسے اہم موضوعات کا انتہائی پر مغز اور معنی خیر احاطہ کیا ہے ۔خواتین کی انفرادی زندگی سے لے کر عائلی ومعاشرتی سطح تک اہم مسائل سے متعلقہ احادیث مبارکہ کا انتہائی دقت تظری سے انتخاب کیا گیا ہے ۔ اسی وجہ سے یہ مجموعہ مختصر ہونے کے باوجود جامع او رمحیط ہے اور اپنی جامعیت وافادیت کے لحاظ سے اس قابل ہے کہ اسے باقاعدہ سبقاً پڑھا یاجائے ۔اللہ تعالیٰ اس مجموعہ حدیث کو خواتین اسلام کے لیے نفع بخش بنائے اور مصنفہ کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

خواتین کا عالمی دن

Authors: پروفیسر ثریا بتول علوی

In Knowledge

By Al Noor Softs

8مارچ 1907 سے دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین منایا جاتا ہے اور اب کئی سالوں سے پاکستان میں بھی عام ہورہا ہے۔ یہ سلسلہ اس مغربی معاشرے کے ایک شہر نیویارک سے شرو ع ہوا جہاں خواتین نے اپنی ملازمت کی شرائط کو بہتر بنوانے کے لئے مظاہرہ کیا، جلسے جلوس ہوئے، خواتین پر تشدد بھی ہوا اور بالآخر مطالبات مان لئے گئے اسی لئے اس دن کو اقوام متحدہ نے عالمی یوم خواتین قرار دیا اور تمام ملکوں پر یہ ایجنڈا لاگو کردیا جس کی رو سے خواتین اور مردوں میں ہر قسم کا امتیاز ختم کیا گیا۔ صرف اسے دن خواتین کے حقوق پر بات کی جاتی ہے اور سارا سال فراموش کر دیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ’’ خواتین کا عالمی دن ‘‘ معروف دینی سکالر محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ کے ایک مضمون بعنوان ’’ خواتین کا عالمی دن‘‘ اور محترمہ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی صاحبہ کی پی ایچ ڈی کے تحقیقی مقالہ کےلیے تیار کی تیار کی گئی ایک تحقیقی رپورٹ بعنوان’’ عورت پر خاندان کی تباہی کے اثرات ‘‘ پر مشتمل ہے ۔اس مختصر کتابچہ میں خواتین کے عالمی دن کے متعلق چشم کشا رپوٹس پیش کی گئی ہیں اور اس بات کوواضح کیاگیا ہے کہ عورت کی ترقی راز خاندان کےاستحکام اور اس کے ساتھ وابستگی میں پنہاں ہے ۔مغرب اس راز کو اپنے خاندانی نظام کے ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جانےکے بعد جان گیا ہے اب ہمیں اس سے پہلے ہی اس کا ادراک کرلینا چاہیے ۔(م۔ا)

جدید تحریک نسواں اور اسلام ( جدید ایڈیشن )

Authors: پروفیسر ثریا بتول علوی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے عورت کو معظم بنایا لیکن قدیم جاہلیت نے عورت کو پستی کے گھڑے میں پھینک دیا اور جدید جاہلیت نے اسے آزادی کا لالچ دے کر جس ذلت سے دو چار کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، مغرب کی جانب سے ’تحریک آزادی نسواں‘ کے نام پر جو مہم شروع کی گئی تھی اس کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ عورت کو ’چراغ خانہ‘ کے بجائے ’شمع محفل‘ ہونا چاہیے ۔ زیرنظر کتاب’’جدید تحریک نسواں اور اسلام ‘‘پروفسر ثریا بتول علوی بنت عبد الرحمٰن کیلانی مرحوم (سابق ہیڈ شعبہ اسلامیات گورنمنٹ کالج برائے خواتین ، سمن آباد ،لاہور)کی تصنیف ہے ۔ مصنفہ نے یہ کتاب لکھ کر نہ صرف یہ کہ ایک اہم ترین تقاضا پورا کیا ہے بلکہ اسلام کی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے۔ اس کتاب میں شامل موضوعات کو مصنفہ نے حُسنِ ترتیب کےساتھ 24؍ابواب میں تقسیم کر کے اس میں ستروحجاب،نکاح وطلاق، مہر،خلع،شہادت،وراثت،دیت، عورت کی سربراہی وغیرہ مسائل پر قرآن وحدیث کی روشنی میں سیرحاصل بحث کرنے کے علاوہ تحریک آزادئ نسواں کےتقریبا تمام اہم مقدمات کا معروضی اور مفصل جائزہ لے کر واضح کیا ہےکہ صرف اسلام ہی طبقہ نسواں کا حصن وحصین (مضوط قلعہ)ہے ۔موجودہ ایڈیشن اس کتاب کا پانچواں جدید ایڈیشن ہے اس ایڈیشن میں مصنفہ نے ’’غیرت کا قتل‘‘ میں حسب ضرورت اضافہ وتبدیلی کی ہے اور ابواب کے اختتام پر دئیے گئے حوالہ جات کو متعلقہ صفحہ پر ہی لکھنے کا اہتمام کیا ہے،باب کا عنوان ،متعلقہ باب کےہر صفحے پر بھی دے دیا ہےاور ’’ مضبوط مگر باوقار عورت کون؟‘‘ کے عنوان سے ایک نیا باب اس میں شامل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنفہ کی تدریسی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے اور انہیں ایمان وسلامتی اور صحت وعافیت سے رکھے۔آمین (م۔ا)