Al Noor Softs

( Joined ایک سال قبل )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

2,840 Books found
ہفت روزہ اہلحدیث لاہور

Authors: مختلف اہل علم

In Biography

By Al Noor Softs

شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ﷫ ۱۸؍ مارچ ۱۹۲۰ء بمطابق ۲۶/جمادی الثانی ۱۳۳۸ھ بروز جمعرات، سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے نواحی گاؤں چک نمبر ۱۶ جنوبی میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد گرامی مولانا عبدالرحمن نے آپ کا نام محمد عبداللہ رکھا۔ بعدازاں آپ ’شیخ الحدیث‘ کے لقب کے ساتھ مشہور ہوئے۔ اکثر و بیشتر علماء و طلباء آپ کو شیخ الحدیث کے نام سے ہی یادکیا کرتے تھے۔مولانا موصوف نے ۱۹۳۳ء میں مقامی گورنمنٹ سکول سے مڈل کا امتحان پاس کیا، پھردینی تعلیم کی طرف رغبت کی وجہ سے ۱۹۳۴ء میں مدرسہ محمدیہ، چوک اہلحدیث، گوجرانوالہ میں داخلہ لیا۔ اسی مدرسہ سے دینی تعلیم عرصہ آٹھ سال میں مکمل کرکے ۱۹۴۱ء میں سند ِفراغت حاصل کی۔ مدرسہٴ محمدیہ کے جن اساتذہ سے آپ نے اکتسابِ فیض کیا، ان میں سرفہرست اُستاذ الاساتذہ حضرت مولانا حافظ محمد گوندلوی، شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ﷭ کے اسماء گرامی شامل ہیں۔آپ دورانِ تعلیم سے ہی خطابت میں دلچسپی رکھتے تھے اور گاہے بگاہے منبر خطابت پر اپنے جوہر دکھاتے رہتے تھے۔لیکن ۱۹۴۲ء میں تعلیم سے فراغت کے بعد مستقلاً تدریس اور خطابت اور مدرسہ محمدیہ چوک اہلحدیث میں تدریس کا آغاز کیا۔ حضرت مولانا اسماعیل سلفی  کی وفات بعد کے گوجرانوالہ کی جماعت اہلحدیث نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کا جانشین مقرر کردیا ۔ آپ نے نے 1968 ء سے اپنی وفات تک جامعہ محمدیہ کے مہتمم کے منصب کی ذمہ داری نبھائی ۔ آپ تقریباً دس سال تک مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے امیر رہے۔حضرت مولانا محمد عبداللہ جماعت اہلحدیث کی صف ِاول کے ایک نامور رہنما، کہنہ مشق مدرّس، ممتاز اور قدآور علمی شخصیت تھے۔ اللہ نے آپ کو ذہن رسا اور کمال استحضارِ علمی سے نوازا تھا، علمی دسترس کی وجہ سے آپ علمی مکالمہ میں خصوصی ملکہ رکھتے تھے۔ مولاناموصوف کو تدریس وخطابت کا فن اپنے اساتذہ خصوصاً مولانا اسماعیل سلفی سے ملا تھا۔ آپ نے عرصہ ۳۱ سال تک اپنے استادِ گرامی کے جاری کردہ درسِ قرآن اور خطبہ جمعہ کو بالاہتمام نبھایا۔ منفرد اور اعلیٰ تدریسی مہارت کے ساتھ ساتھ آپ ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے۔ بیان کرنے کا انداز عام فہم، پرمغز، مدلل، موٴثر اور دلنشین ہوتا تھا۔ مولانا عبداللہ مرحوم کو جب علامہ احسان الٰہی ظہیرشہید ﷫نے اپنی جمعیت اہلحدیث کا امیر بنایا جبکہ اس وقت مرکزی جمعیت اہلحدیث موجود تھی تو ان کا تعارف گوجرانوالہ ضلع سے باہر بھی پھیلنے لگا، لیکن مولانا ہمیشہ کی طرح اپنے دورِ امارت میں بھی مثبت اور تعمیری رویہ کے حامل رہے، اور باہم اتفاق و اتحاد کے لئے کوششیں جاری رکھیں۔ چنانچہ علامہ ظہیر کی وفات کے بعد جب دونوں جمعیتیں، مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان اور جمعیت اہلحدیث پاکستان باہم ضم ہوگئیں اور متفقہ نام "مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان" ہی قرار پایا تو متفقہ طورپر آخری لمحات تک اس کی سرپرستی فرماتے رہے۔ مولانا کی علمی اور جماعتی خدمات کی وجہ سے آپ کو انگلستان، سعودی عرب، کویت، عراق، متحدہ عرب امارات، اردن، شام اور دوسرے ممالک کے تبلیغی دورے بھی کروائے گئے چنانچہ ہر جگہ پر علم و فضل کے ساتھ فصیح و بلیغ خطابت کا لوہا بھی منوایا۔مولانا مرحوم زہد و تقویٰ، تہجد گزاری، دیانتدارانہ اور کریمانہ اخلا ق واوصاف کے حامل تھے۔ زیر تبصرہ مجلہ ’’ہفت روزہ اہل حدیث ‘‘ کی شیخ الحدیث مولانا عبد اللہ کی وفات پر ان کی حیات وخدمات کےمتعلق اشاعت خاص ہے ۔اس مجلہ میں مولانا موصوف کی پیدائش ، تعلیم ، خطابت ، اساتذہ ،تلامذہ ،جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں تدریسی و انتطامی خدمات ،جماعت اہل حدیث کی امارت وسرپرستی ، اور ان کی زند گی کےحالات واقعات کےمتعلق وطن عزیز کے معروف سوانح نگار وں اور قلماکاروں کے مضامین اس اشاعت خاص میں شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی مرقد پراپنی رحمت کی برکھا برسائے اور اسے جنت کا باغیچہ بنائے ۔(آمین)

’’ترجمان الحدیث اپریل تا جون 2016ء

Authors: مختلف اہل علم

In History

By Al Noor Softs

مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں ۔ ان کا شمارعصر حاضر کے ان گنتی کےچند مصنفین میں کیا جاتا ہے جن کے قلم کی روانی کاتذکرہ زبان زدِعام وخاص رہتا ہے تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع تھا او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷫ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے تھے مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی انتھک مساعی اور کوششیں تھیں ۔مولانا مرحوم نے تحریر وتصنیف کے میدان میں بھرپور زندگی بسر کی ۔آپ اپنی زندگی کی 91برس کی بہاریں دیکھ کر مختصر علالت میں مبتلا رہ کر 22 دسمبر 2015ء بروز منگل لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔(انا للہ وانا الیہ راجعون ) محترم جناب ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ نے ناصر باغ لاہور میں ان کانماز جنازہ کی امامت کی اور پھر انکے آبائی گاؤں ڈھیسیاں فیصل آباد میں میں بعد نماز عشاء شیخ الحدیث حافظ مسعود عالم ﷾ نے نماز جنازہ پڑہائی۔ہرجگہ ایک جم غفیر نماز جنازہ میں شریک ہوا اور ہر جگہ اہل علم اوردیندار طبقہ کی کثرت تھی۔ اللہ تعالیٰ مولانامرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی وارفع مقام عطافرمائے ۔(آمین) زیر تبصرہ مجلہ ’’ترجمان الحدیث اپریل تا جون 2016ء‘‘ مورخ اہل حدیث کی حیات وخدمات کے متعلق 356 صفحات پر مشتمل اشاعت خاص ہے۔اس مجلہ میں مولانا اسحاق بھٹی ﷫ کی حیات وخدمات کے متعلق ملک بھر کے نامور مضمون نگاروں کے قیمتی 45 مضامین شامل ہیں ۔ا ن مضامین میں مولانا کی پیدائش سے لے کر موت تک کے مکمل حالات و واقعات ، تعلیم، ملازمت،صحافتی وتصنیفی خدمات کا تفصیلی تذکرہ ہے۔جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے ذمہ دران کی یہ کاوش انتہائی لائق تحسین ہے کہ انہوں نے مورخ اہل کی حیات وخدمات کو جمع کرکے اسے خوبصورت ضخیم کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ انہیں اجر عظیم سے نوازے ۔(م۔ا)

ہفت روزہ اہلحدیث لاہور خدمت اہلحدیث نمبر

Authors: مختلف اہل علم

In Fiqha

By Al Noor Softs

مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔ زیر تبصرہ رسالہ " ہفت روزہ اہلحدیث لاہور، خدمات اہل حدیث نمبر " مرکزی جمعیت اہل حدیث کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے، جس میں قیام پاکستان کے 50 سالوں کے حوالے سے پاک وہند میں اھلحدیث کی ہمہ جہت خدمات کا حسین ودلآویز تذکرہ اور ایک تاریخی دستاویز کو جمع کر دیا گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کی اس کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

فتاویٰ برائے کہانت ، جنات ، آسیب

Authors: مختلف اہل علم

In Arguments

By Al Noor Softs

فال نکالنے پیش گوئی کرنے ، قیافہ شناس، نجومی غیب کی خبر بتانے والے کو کاہن کہتے ہیں ۔اور کاہن کے عمل کو کہانت کہتے ہیں۔ کاہن کا ذکربائبل میں بکثرت پیشن گوئی کرنے والےکے طور پر آیا ہے، عام زندگی میں اس سے جادوگر مراد بھی لیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں بھی کاہن دو دفعہ جادوگر کے معنوں میں ہی آیا ہے۔کاہن، عربی زبان میں جیوتشی، غیب گو، اور سیانے کے معنیٰ میں بولا جاتا تھا، زمانہ جاہلیت میں یہ ایک مستقل پیشہ تھا، ضعیف الاعتقاد لوگ یہ سمجھتے تھے کہ ارواح اور شیاطین سے ان کا خاص تعلق ہے جن کے ذریعہ یہ غیب کے خبریں معلوم کرسکتے ہیں، کوئی چیز کھو گئی ہو تو بتا سکتے ہیں اگر چوری ہوگئی ہو تو چور اور مسروقہ مال کی نشاندہی کرسکتے ہیں اگر کوئی اپنی قسمت پوچھے تو بتا سکتے ہیں ان ہی اغراض و مقاصد کے لئے لوگ ان کے پاس جاتے تھے اور وہ کچھ نذرانہ لیکر بزعم خویش غیب کی باتیں بتاتے تھے اور ایسے گول مول فقرے استعمال کرتے تھے جن کے مختلف مطلب ہو سکتے تھے تاکہ ہر شخص اپنے مطلب کی بات نکال لے۔دین اسلام نے اس کام کوکرنےکی سختی سے تردید کی ہے اور کہانت کا عمل کرنے کروانے کے متعلق سخت وعید بیان کی ہے۔حدیث نبوی ہے : جو شخص عراف (قسمت کا حال اورگمشدہ چیزوں کا پتہ بتانے والے پامسٹ اورنجومی وغیرہ) یا کاہن (علم رمل، علم جعفر اورجادوگر وغیرہ) کے پاس گیا تواس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں کی جائے گی۔ایک اور فرمان نبوی ہے کہ جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس آیا اوراس کی باتوں کو سچ مانا تو اس نے وحی جو نبی ﷺپر نازل ہوئی اس کا انکار کیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ فتاویٰ برائےکہانت جنات ، آسیب ‘‘ سعودی عرب کے جید مفتیا ن وعلمائے عزام کے جادو، جنات، کہانت کے متعلق جاری کردہ فتاوی جات پر مشتمل کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ اس کتاب میں جنات او ران کے متعلقہ بعض عقدی وعلمی پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے اوراس کی مختلف مباحث میں جنات وشیطان سےمحفوظ رہنے کے لیے شرعی اور اد وظائف اور طریقہ ہائے علاج کا بھی تذکرہ کیاگیاہے اورساتھ ہی جادو کے علاج کےلیے اختیار کردہ شیطانی طریقوں سےمنع بھی کیاگیا ہے۔ نیر اس کتاب میں کہانت کی شرعی حیثیت بھی بیان کی گئی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کے مؤلف ، مترجم وناشرین کو جزائےخیر عطافرمائے اوراس کتاب کی تکمیل میں حصہ لینے والے تمام حضرات کے لیے اسے بلندیِ درجات کاسبب بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

ڈی این اے ٹیسٹ اور جنیٹک سائنس سے متعلق شرعی مسائل

Authors: مختلف اہل علم

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

انسانی تخلیق میں اللہ تعالی کی جو حکمت، قدرت، تدبیر اور مناسبت کار فرما ہے سائنس کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کی نئی نئی جہتیں سامنے آ رہی ہیں۔ایسے ہی مظاہر قدرت میں جنیٹک سائنس سے حاصل ہونے والی معلومات بھی ہیں۔انسان کے جسم کا بے شمار خلیات سے مرکب ہونا، ہر خلیہ پر جین کی ایک بہت بڑی تعداد کا قیام پذیر ہونا اور ان جینوں کا انسان کی مختلف صلاحیتوں اور قوتوں پر اثر انداز ہونا کارخانہ قدرت کا ایسا اعجاز ہے کہ جس کا رمز آشنا ایک مسلمان ڈاکٹر کے بہ قول دو ہی صورتوں میں ایمان سے محروم رہ سکتا ہے، یا تو اس کے دماغ میں خلل ہو یا وہ توفیق خداوندی سے محروم ہو۔جنیٹک سائنس جہاں خدا کی بے پناہ قدرت اور اس کی حکمت و تدبیر سے پردہ اٹھاتی ہےاور علاج کے باب میں ایک چراغ امید بن کر آئی ہے، وہاں بہت سارے شرعی مسائل بھی ان تحقیقات کے پس منظر میں پیدا ہو گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" ڈی این اے ٹسٹ اور جنیٹک سائنس سے متعلق شرعی مسائل" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں انہوں نے پندرہویں فقہی سیمینار منعقدہ میسور مؤرخہ 11 تا 13 مارچ 2006ء میں ڈی این اے ٹسٹ اور جنیٹک سائنس سے متعلق شرعی مسائل کے موضوع پر اہل علم کی طرف سے پیش کئے گئے تحقیقی مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)آمین(راسخ)

اسلام کا سیاسی نظام

Authors: مختلف اہل علم

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالی کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی ‏کے نظریہ کومغربی اصطلاح میں سیکولرازم بھی کہا جاتا ہے، جو کلیسا کے منحرف دین کے خلاف یورپ کی الحادی بغاوت کا نتیجہ ہے۔اس نظریے نے ایک جانب اگر یورپیوں کو ‏کلیسا کے استبداد کے مقابلے کے لیے کھڑا کیا تو دوسری جانب یورپی استعماروں نے اسلامی دنیا میں اپنے نظریے کی اشاعت اور پھیلاؤ کے لیے مسلمانوں کو بھی اسلامی نظام کی ‏حاکمیت سے محروم کر دیا۔اردو زبان میں تقریبا تمام اسلامی علوم پر کتب لکھی جا چکی ہیں لیکن سیاسیات پر کما حقہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا سیاسی نظام" مفتی محمد سراج الدین قاسمی کی مرتب کردہ اور ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں انہوں نے اسلام کے سیاسی نظام کے موضوع پر متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)آمین(راسخ)

ھبہ سے متعلق بعض مسائل

Authors: مختلف اہل علم

In Knowledge

By Al Noor Softs

دور جدید کا انسان جن سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ان دونوں کے بر عکس اسلام کا معاشی نظام ایک زبر دست نظام ہے۔جس میں انسان کو ملکیت بھی دی گئی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں پر خرچ کرنے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔اسلام کے مالی نظام میں ایک اہم باب 'ہبہ' کا ہے، ہبہ اسلام میں انفرادی ملکیت اور اپنی املاک میں تصرف کے بنیادی حق کا مظہر ہے۔حاکم ہو یا محکوم، آجر ہو یا مزدور، عالم ہو یا جاہل، مرد ہو یا عورت، شریعت نے ہر ایک کو اپنی ملکیت میں تصرف کا آزانہ حق دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ھبہ سے متعلق بعض مسائل "ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے 23 ویں فقہی سیمینار منعقدہ جمبوسر (گجرات) بتاریخ 28،29 ربیع الثانی ویکم جمادی الاولی 1435ھ بمطابق 1تا 3 مارچ 2014ء میں ھبہ کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

میراث و وصیت سے متعلق بعض مسائل

Authors: مختلف اہل علم

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

دور جدید کا انسان جن سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ان دونوں کے بر عکس اسلام کا معاشی نظام ایک زبر دست نظام ہے۔جس میں انسان کو ملکیت بھی دی گئی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں پر خرچ کرنے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔اسلام کے مالی نظام میں ایک اہم باب وصیت ووراثت کا ہے ، جس کے مطابق وارث اپنے موروث کی موت کے بعد اس کے ترکے کا وارث بن جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" میراث ووصیت سے متعلق بعض مسائل "ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے 23 ویں فقہی سیمینار منعقدہ جمبوسر (گجرات) بتاریخ 28،29 ربیع الثانی ویکم جمادی الاولی 1435ھ بمطابق 1تا 3 مارچ 2014ء میں وراثت اور ہبہ کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

پلاسٹک سرجری فقہ اسلامی کی روشنی میں

Authors: مختلف اہل علم

In Knowledge

By Al Noor Softs

اللہ تعالی نے انسان کو بہترین قالب اور شکل وصورت میں پیدا فرمایا ہے۔ اور پھر اس کے حسن کو دوبالا کرنے کے لئے اس میں جذبہ آرائش بھی ودیعت فرمایا ہے۔نیز اپنے آپ کو آراستہ کرنے کا ایک سے ایک سلیقہ بھی دیا ہے۔چنانچہ انسان شروع ہی سے زینت وآرائش کے مختلف طریقے استعمال کرتا رہا ہے۔جب سیدنا آدم اوراماں حوا کو جنت سے نکالا گیا اور وہ جنتی لباس سے محروم ہو گئے تو انہوں نے بے ساختہ اپنے جسموں پر درختوں کے پتے لپیٹنا شروع کر دئے۔یہ واقعہ جہاں اس بات کو واضح کرتا ہے کہ شرم وحیا انسان کی فطرت کا بنیادی عنصر ہے، وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی کی فطرت میں لباس وپوشاک کی خواہش رکھی گئی ہے۔اور لباس صرف جسم کو چھپاتا ہی نہیں بلکہ انسان کے لئے باعث زینت بھی ہے۔عصر حاضر میں خوبصورتی میں اضافے کے لئے بے شمار مصنوعات سامنے آ چکی ہیں۔ان میں سے ایک "پلاسٹک سرجری" ہے، جس میں جسم کے ایک حصے سے چمڑہ، گوشت یا ہڈی لے کر جسم کے دوسرے حصے میں پیوست کر دیا جاتا ہے۔اس کا مقصد کبھی اپنی شناخت کو چھپانا، کبھی کسی عیب کو دور کرنا، کبھی جسمانی تکلیف کا ازالہ کرنا اور کبھی خوبصورتی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے اٹھارہویں فقہی سیمینار منعقدہ 28 فروری تا 2 مارچ 2009ء میں پلاسٹک سرجری کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)